ارض بنگال کی بیداری اور دو قومی نظریہ

مہتاب عزیز

ارض بنگال نے ایک طویل، بوجھل اور پریشان کن خواب کے بعد بالآخر انگڑائی لی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک نظریاتی بیداری ہے جس نے نصف صدی کے گرد و غبار کو ایک ہی جھٹکے میں صاف کر دیا ہے۔ وہ بنگال جو صدیوں سے اسلام کے جیالوں کا مسکن رہا، جہاں حاجی شریعت اللہ کی فرائضی تحریک نے کسانوں کو بیداری کا شعور دیا، جہاں سید میر نثار علی تیتومیر نے آزادی کے لیے بانس کا قلعہ تعمیر کیا، اور جہاں شاہ جلال مجرد یمانی جیسے صوفیا نے جہاد و توحید کی شمع روشن کی تھی—آج وہ بنگال ایک بار پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ رہا ہے۔آج ڈھاکہ کی گلیوں، کھلنا کے بازاروں اور راجشاہی کے میدانوں سے لے کر رنگ پور کی ترائی اور کاکس بازار کے ساحلوں تک ایک ہی صدا گونج رہی ہے۔
یہ صدا کسی مصلحت کی نہیں، بلکہ اس شناخت کی ہے جسے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے وہ نقش جو زبردستی ذہنوں پر مسلط کیے گئے تھے، آج عوام کے ہاتھوں مٹائے جا رہے ہیں۔ بنگال کے طول و عرض میں اب کسی سیکولر نعرے کے لیے گنجائش نہیں بچی ہے۔ صرف “تیرا میرا رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ” کی فلک شگاف صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔یہ وہ بنگالی ہیں جنہوں نے “محسن” کے لبادے میں چھپے اپنے “ازلی دشمن” کو بہت قریب سے دیکھ لیا ہے۔ جنہیں دہائیوں تک نصابِ تعلیم کے ذریعے پاکستان سے نفرت گھٹی میں پلائی گئی۔ جن کے سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور پارلیمنٹ کی دیواریں پاکستان دشمنی کے رنگ سے رنگ دی گئی تھیں۔لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ نام نہاد آزادی کے فریب اور سیکولرازم کے زخم سہنے والے اب مزید دھوکے میں نہیں آئیں گے۔بھارت، جسے آزادی کا پیامبر بنا کر پیش کیا گیا تھا، آج بنگال کے ہر غیرت مند شہری کے لیے نفرت کی علامت بن چکا ہے۔ بھارت نواز اخبارات اور اداروں پر عوام کا غصہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب غلامی کی فکری زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں۔

بنگال کی یہ بیداری ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو آج بھی آزاد بلوچستان، پختونستان یا سندھو دیش کے دلفریب نعروں کے جھانسے میں گرفتار ہیں۔ بنگال کے تجربے نے ثابت کر دیا کہ:دشمن کبھی دوست نہیں ہوتے اور گھر کی غلطیوں کی اصلاح کی جاتی ہے، گھر کو ڈھایا نہیں جاتا۔جو سبق بنگال کے جیالوں نے نصف صدی اور بے پناہ مظالم سہہ کر سیکھا ہے، وہ یہ ہے کہ علیحدگی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ “دوہری غلامی” کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ “اشرافیہ کا نظام” ہے، جسے بدلنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ملک کی سرحدوں کو۔نام نہاد آزادی کی نصف صدی بعد بھی جب “آزادی کے نام نہاد ہیروز” کے کوٹے اور اشرافیہ کی چیرہ دستیوں نے حد عبور کی، تو نوجوان نسل آگ اور خون کے دریا سے گزر کر میدانِ عمل میں اتری۔ تو وہ “بدصورت حسینہ” جو اپنے آقاوں کے اشارے پر سنہرے ریشے کی سرزمین کو لہو لہان کر رہی تھی، تاریخ کا حصہ بن گئی۔شریف عثمان ہادی جیسی الم انگیز شہادتوں نے عوام کے پیمانے کو ایک بار پھر لبریز کر دیا، عوام نے 1971 کا وار میموریل میوزیم نقش غلط کی طرح مٹا دیا۔ شیخ مجیب اور 1971 سے منسوب ہر چیز کو کھرچ کھرچ کر مٹایا جا رہا ہے۔یہ خلیجِ بنگال سے اٹھنے والا یہ طوفان صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا۔یہ دو قومی نظریے کی وہ بازگشت ہے جو پورے برصغیر کی تقدیر بدلنے والی ہے۔ تاریخ کا پہیہ گھوم چکا ہے، مٹائے گئے نقش پھر سے ابھر رہے ہیں اور ہر طرف سے ایک ہی صدا آرہی ہے:
کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ