استنبول بین الاقوامی فلسطین کانفرنس

مشاہدات وتاثرات

اسلامی تحریک مزاحمت فلسطین نے عالمی سطح پر سیاسی سفارتی اور ریلیف کے میدان میں کاز کی تقویت کیلئے نت نئے تجربات کیے ان میں سے ایک نمایاں اقدام 2001میں لبنان کے دارلحکومت بیروت میں القدس انٹرنیشنل انسٹیٹیوشن کا قیام بھی ہے۔ الحمدللہ اس کے تاسیسی بورڈ آف ٹریسٹیز کا ممبر ہونے کی سعادت ہمیں حاصل ہوئی۔ اس کے اجلاس تواتر سے بیروت، قطر خرطوم ،یمن، الجزائیر، ملائیشیا وغیرہ میں منعقد ہوتے رہے۔ پاکستان سے ہمارے قائدین جناب قاضی حسین احمد مرحوم ،جناب پروفیسر خورشید احمد مرحوم ،جناب علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم، جناب راجہ ظفرالحق، جناب مظفراحمد ہاشمی مرحوم اور جناب عبدالغفار عزیز مرحوم اور آزاد کشمیر سے میرے ساتھ جناب پروفیسر الیف الدین ترابی مرحوم اور برادر راجہ خالد محمود بھی تاسیسی اجلاس میں شریک ہوتے رہے اور تاسیسی ممبر قرار پا ئے۔اس کے اولین چیئرمین عالم اسلام کے عظیم سکالرجناب علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی منتخب ہو اور تواتر سے تادم واپسیں اس منصب پر فائز رہے۔ ان کے ساتھ نا ئبین میں یمن سینٹ کے چئیر مین عبداللہ الاحمر، لبنان پارلیمنٹ کے ممبر اور جماعت اسلامی کے امیر استاد فیصل مولوی، سوڈان سے نائب صدر اور اسلامک فرنٹ کے صدر ڈاکٹریاسین عثمان طحہٰ، ایران سے سابق اسپیکر آئت اللہ کروبی اور انڈونیشین سینیٹ کے چیئرمین ڈاکٹر ہدائت اللہ نور اور لبنان ہی سے کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی کے لیڈر مائیکل ان کے نائیبن منتخب ہوئے ۔ یوں اس ادارے کے زیر اہتمام ایک طرف عالم اسلام کے تمام مکاتب فکراور خطوں کوباہم مربوط کیا گیا اور دوسری طرف فلسطین کے تمام گروپس اور مسلم کرسچین یکجہتی پیدا کرتے ہوئے فلسطین کاز کی تقویت اور صیہونی اسرائیلی عزائم کے تدارک کا اہتمام کیا گیا، یوں عالمی سطح پر غیر سرکاری سطح پر کاز کا ترجمان ایک ایسا فورم وجود میں لایاگیا جس سے تمام مزاحمتی حلقے باہم مربوط ہوگئے۔ ہمیں ان اجتماعات میں اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کیساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کا مقدمہ بھی پیش کرنے کا موقع ملتا رہا۔

اس بارادارے کا یہ اجلاس 05 اور 06دسمبر2025 کواستنبول میں گیارہ برس کے تعطل کے بعد منعقد ہوا جس میں ساٹھ ممالک سے تین سو مندبین شریک ہو۔ پہلے دن بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلا س ہوا، جس میں تنظیم نو کی گئی ۔عالم عرب کے مراکش سے معروف دانشور جناب سلیم الحوا چیئرمین منتخب ہوئےجبکہ سکریٹری جنرل حسب سابق فلسطینی رہنما جناب یاسین حمود برقرار رہے۔ اسی طرح ماضی کی ترتیب کے مطابق تمام مسالک ومذاہب اور خطوں کی نمائیدگی پر مشتمل مرکزی عہدیداران منتخب کیے گئے۔ اجلاس میں خطہ کشمیر اور پاکستان سے نمائیدگی کا اعزاز ہمیں حاصل رہا ۔اجلاس میں مختلف خطوں کی بنیاد پر ریجنل کانفرنسیں طے کی گئیں اور پروفیشنل فورمز تشکیل دینے کے اہداف رکھے گی۔
08 دسمبر کو یرو شیلم عزم نو کے عنوان سے عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں بارہ سیشن کاز کی مختلف جہتوں کا احاطہ کرتے ہومنعقد ہو جس میں مقررین نے اظہار خیال کیا۔ اس کانفرنس کا خاص امتیاز یہ تھا کہ اس میں امریکہ سے فاشسٹ اسرائیلی صیہونیت کے خلاف برسر پیکار بین الاقوامی یہودی اتحادفورم کے چیئرمین Rabbi Dovid Feldman کی اپنے ایک بڑے وفد کیساتھ شرکت تھی ۔اپنے خطاب میں انہوں نےنہ صرف اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کی بلکہ اسرائیلی ریاست کے قیام کو بنیادی یہودی تعلیمات سے مغائر قرار دیا۔ انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ مسلم معاشروں میں ہمیشہ یہو دیوں کو تحفظ اور احترام حاصل رہا۔ بدقسمتی سے غاصب اسرائیل کے قیام کے بعد اسرائیلی پالیسیوں کے نتیجے میں باہم بھائی چارے کی فضا دشمنی میں تبدیل ہوگئی اور یہودی مذہب ساری دنیا میں بدنام ہوا اور آج یہودی ساری دنیا میں عدم تحفظ کا شکارہیں۔ انہوں نے واضح طور غزہ اور فلسطین میں اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کی بھرپور حمایت کی۔

اسی طرح مراکش سے تعلق رکھنے والے انٹرنیشنل چرچ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فادر ابراہیم دیور عیسائی سکالرز کے بڑے وفد کے ہمراہ شریک ہو۔ انہوں نے بھی اسرائیلی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں دنیا کے امن کیلئے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ بیت المقدس اور مقامات مقدسہ کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اپنی ایسو سی ایشن کی طرف سے اس معرکہ آرائی میں فلسطین کی تحریک آزادی کی بھرپور حمایت کی۔ اسی طرح امریکہ یورپ اور برطانیہ سے بڑی تعداد میں اس کاز کے چمپئن بشری حقوق کے محافظین، تنظیمیں ،افراد، ممبران پارلیمان اور حالیہ فریڈم فوٹیلا کے ہیروز بھی کانفرنس کے شرکا میں شامل تھے۔ پاکستان اور کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے منتظمین نے کانفرنس کے درمیانی اور اختتامی سیشن میں خطاب کاموقع فراہم کیا، جس میں کشمیری قیادت، مجاہدین کشمیر اور اہل پاکسان اور تحریک اسلامی کی قیادت کی طرف سے سلام عقیدت اور یکجہتی کا پیغام پہنچایا۔ اہل کشمیر، پاکستانی ریاست، اسلامی تحریک کی طرف سے یکجہتی فلسطین کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ آزاد کشمیر پاکستان کی پارلیمانی سطح پر قراردادوں اور قومی یکجہتی کانفرنسوں اور عوامی مظاہروں اور جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام مینار پاکستان میں حالیہ اجتماع عام کے موقع پر بین الاقوامی کانفرنس میں فلسطین ہر ڈیکلئریشن اور الخدمت کے ریلیف آپریشن کا تذکرہ کرتے ہوفلسطین کی آزادی تک بھرپور یکجہتی کا پیغام پہنچایا۔ شرکاء کو باور کرایا کہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کشمیر فلسطین اور پوری امت کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اسرائیلی ماہرین حر ب مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریک کے خلاف قابض بھارتی افواج کےمعاون کاکردار ادا کررہے ہیں اور بھارتی قاتل غزہ میں اسرائیلی افواج کے شانہ بشانہ ہیں۔ مودی دنیا کاواحد لیڈر ہے جو یکجہتی کرنے اسرائیل پہنچا ۔حالیہ معرکہ حق میں اسرائیل نے بھارت کی بھرپور معاونت کرتے ہوئے ثابت کیا کہ مودی اور نیتن یاہو مسلم دشمن ایجنڈے پر یک جان دو قالب ہیں۔ اس لئے ہماری جنگ ایک ہے۔ البتہ محاذ دو ہیں دونوں محاذوں پر یکجہتی حالات کا تقاضہ ہے۔ یہ بھی واضح کیا کہ عرب ممالک کی پسپائی کے باوجود ترغیبات اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کے اپنے اصولی موقف پر کھڑا ہے۔ اس لیے کہ بانی پاکستان نے برملا اسے مغرب کی ناجائز ریاست اور ایک آؤٹ ہوسٹ قرارردیاتھا۔ اسی لیے بھارتی عزائم کے تدارک کیلئے حریت کشمیر کی تحریک بھرپور حمائت کی جائے۔کانفرنس میں وڈیو لنک کے ذریعے عظیم رہنما خالد مشعل کاتاریخی خطاب تھا جس میں انہوں نے عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عظیم جدوجہد کو عالم عرب واسلامی اور انسانیت کی بقا کا ضامن قراردیا اور عوام اور حکمرانوں سے اس کاز کی بھرپور پشتیبانی کرنے کی اپیل کی۔ انہوں غزہ کی بحالی و تعمیر نو اور فلسطین کی حتمی آزادی کیلئے ایک سات نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا۔

ایسی کانفرنسوں میں خطابات کے علاوہ اہم وفود سے انفرادی ملاقاتوں میں اپنا موقف پہچانے کا موقع ملتا ہے۔الحمدللہ جس کا بھرپور اہتمام کیا گیا۔ درجنوں وفود بالخصوص عیسائیوں اور یہودیوں کے وفود کے سربراہان اور بین الاقوامی سطح پر سر گرم انسانی حقوق تنظیموں سے وابستہ افراد سے ملاقاتوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارتی عزائم سے آگاہ کیا اور ان سے تعاون کی اپیل کی۔ اسی طرح انڈونیشیا سے لیکر مراکش تک سے وفود جن میں سکالرز، ممبران پارلیمنٹ اور تھنک ٹینکس کے نمائندگان شامل تھے، سے مفید ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ محسوس ہوا کہ معرکہ بنیان مرصوص کے بعد پاکستان کے وقار اور احترام میں بہت اضافہ ہوا اور پاکستان پوری مسلم دنیا میں امیدوں کا مرکز بن کر سامنے آیا۔ اس پس منظر میں پاکستانی قیادت کی ذمہ داریاں بھی دو چند ہوگئی ہیں۔ لہٰذا فلسطین سمیت مسلم ایشوز پر پاکستان کو دلیرانہ موقف کیساتھ قائدانہ کردارادا کرنا چاہیے، جس طرح ترکی کر رہا ہے۔ آج ترکیہ واحد ملک ہے جس میں امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، جنہیں ترکیہ حکومت بھرپور تعاون فراہم کرتی ہے اورخود بھی ایسے مسائل پر قیادت کا ایک واضح موقف ہے ،جس کے نتیجے میں ترکیہ کا بین الاقوامی وقار مزید بلند ہوا اور وہ کئی بین الاقوامی مسائل میں میزبان اور ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کا ایسا ہی کردار80 کی دہائی میں رہا ہے جب افغان جہاد کی وجہ سے پاکستان دنیا کی توجہ کا مرکز بنا اور آئے روز ایسی بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکز اسلام آباد قرار پایا ۔کانفرنس میں وفود سے ملاقاتوں میں جہاں پاکستان سربلند نظر آیا،وہیں مسئلہ کشمیر بطوفلش پوائنٹ اجاگر ہوا جبکہ تقریباََ دو حوالوں سے اہل دانش نے تشویش کا ظہارکیا۔ ایک پاکستان کا داخلی عدم استحکام اور سیاسی خلفشار اور دوسرے پاک افغان کشیدگی۔ ان دونوں حوالوں سے قومی و عسکری قیادت کو تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئےمسائل کا حل نکالنا ہوگا ۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت معرکہ حق میں سر خروی کے نتیجے میں پاکستان کو ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے جس سے بھرپور طور پر استفادہ کرتے ہوئے سرکاری اور پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت پرموثر سفارتی دباؤ کا اہتمام کرنا چاہیے اور اسے کم ازکم مسلم دنیا میں اچھوت بنادینا چاہیے جسکا اس وقت ایک تاریخی موقع ہے۔ نیز ایسی غیر سرکاری بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی بھارت اور ایران کے سفارتکاروں کی طرح ہمارے سفارتی مشنوں کو رسائی حاصل کرتے ہوئےروابط بڑھانے کیلئے متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔