اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے

اور موسیٰ ؑ نے کہاکہ’’اگر تم کُفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قومِ نوح ، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھُلی کھُلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ’’جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘اُن کے رسوُلوں نے کہا’’کیا خُدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بُلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدُتِ مقرر تک مہلت دے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لائو کوئی صریح سند۔‘‘ان کے رسولوں نے ان سے کہا’’واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لادیں۔ سند تو اللہ ہی کے اِذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہلِ ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میںاس نے ہماری رہنمائی کی؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کابھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔ــ آخر کار منکرین نے اپنے رسُولوں سے کہہ دیا کہ ’’یا تو تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔‘‘ تب اُن کے ربّ نے اُن پر وحی بھیجی کہ ’’ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضُور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو۔‘‘اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یُوں اُن کا فیصلہ ہوا)اور ہر جبّاردشمن ِ حق نے منہ کی کھائی۔
تفہیم القرآن (آیت نمبر۸ تا ۱۵سورہ ابراھیم سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ

امارت کی طلب

جریر بن حازم نے کہا : ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ عبدالرحمن ! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے ( امارت ) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے ( اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے ، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی ) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری اعانت ہو گی ۔‘‘

(صحیح مسلم )

اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو

آنحضرت ﷺ نے فرمایا بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) پس ( اس لیے ) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو ۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ ( کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے ) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں ( عبادت سے ) مدد حاصل کرو ۔ ( نماز پانچ وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو ۔ )

( بخاری)

پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ ( کم کرتے کرتے ) پانچ کر دی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ۔

( ترمذی)