اللہ کی گواہی کافی ہے

خداترس انسانوں کے لیے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال۔ یہ انجام ہے متقی لوگوں کا۔ اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، جن لوگوںکو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ تم صاف کہہ دو کہ’’ مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤ ں۔ لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے ‘‘۔اسی ہدایات کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے ۔ اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جوتمہارے پاس آچکا ہے لو گوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کو ئی تمہار ا حامی و مدد گار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے ۔ تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں اور اُن کو ہم نے بیوی بچوں والاہی بنایا تھا۔ اور کسی رسُول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لادکھاتا۔ ہر دَور کے لیے ایک کتاب ہے ۔اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیزکوچاہتا ہے قائم رکھتا ہے ،اُمُ الکتاب اُسی کے پاس ہے ۔اور اے نبی ؐ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہُور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اُٹھا لیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور اُسے حساب لینا ہمارا کام ہے۔کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اِس سرزمین پر چلے آرہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آرہے ہیں؟ اللہ حکومت کر رہا ہے، کوئی اس کے فیصلوں پر نظرثانی کرنے والانہیں ہے، اور اسےحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔اِن سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں، مگر اصل فیصلہ کُن چال تو پُوری کی پُوری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کر رہا ہے، اور عنقریب یہ منکرینِ حق دیکھ لیں گے کہ انجام کس کا بخیر ہوتا ہے ۔یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ کہو، ’’میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر ہر اُس شخص کی گواہی جو کتابِ آسمانی کا علم رکھتا ہے۔‘‘
سوررۃالرعد34 تا 44تفہیم القرآن سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ہنسی مذاق میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے نکاح، طلاق اور رجعت“
( سنن ابی دائود)
وضاحت: سنجیدگی اور ہنسی مذاق دونوں صورتوں میں ان کا اعتبار ہو گا۔ اور اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ ہنسی مذاق میں طلاق دینے والے کی طلاق جب وہ صراحت کے ساتھ لفظ طلاق کہہ کر طلاق دے تو وہ واقع ہو جائے گی اور اس کا یہ کہنا کہ میں نے بطور کھلواڑ مذاق میں ایسا کہا تھا اس کے لیے کچھ بھی مفید نہ ہو گا کیونکہ اگر اس کی یہ بات مان لی جائے تو احکام شریعت معطل ہو کر رہ جائیں گے اور ہر طلاق دینے والایا نکاح کرنے والایہ کہہ کر کہ میں نے ہنسی مذاق میں یہ کہا تھا اپنا دامن بچا لے گا، اس طرح اس سلسلے کے احکام معطل ہو کر رہ جائیں گے۔

ہرگناہ معاف ہو جائے گا سوائے قرضہ

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے بتلائے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ اور اللہ کی رضا اور ثواب آخرت کی طلب ہی میں جہاد کروں اور مجھے اس حالت میں شہید کردیا جائے کہ میں پیچھے نہ ہٹ رہا ہوں بلکہ پیش قدمی کر رہا ہوں تو کیا میری اس شہادت اور قربانی کی وجہ سے اللہ تعالی میرے سارے گناہ معاف کر دے گا؟ آپ ﷺ نے جواب فرمایا ہاں (اللہ تمھارے سارے گناہ معاف فرما دے گا) پھر جب وہ آدمی آپ سے یہ جواب پاکر) لوٹنے لگا تو آپ ﷺ نے اس کو پھر پکارا اور فرمایا ہاں (تمہارے سب گناہ معاف ہو جائیں گے) سوائے قرضہ کہ یہ بات اللہ کے فرشتہ جبرئیل امین نے اسی طرح بتلائی ہے۔
(صحیح مسلم)