آپ نےپوچھا ہے

مفتی خالد عمران خالد

ناظم /نگران دارالافتاء جامعہ۔صدیقیہ اسلامیہ راولپنڈی

دینی کتب خریدنا

سوال ۔۔۔دینی کتب خریدناکیا اسراف میں شامل تونہیں ہے؟
جواب۔۔۔تعلیم قرآن کریم یا تحصیل علوم نبوت کی نیت سے قرآن کریم کے مختلف مصاحف یا علمی کتب خریدنا اسراف نہیں ہے بلکہ باعث اجر ہے، یہ انسان کی دینی ضرورت ہے، اس پر ان شاء اللہ آخرت میں بھی ثواب ہوگا۔تاہم اگر کسی کے پاس دینی کتب اضافی ہوجائیں اور وہ کسی بھی استعمال میں نہ رہیں تو ان کو کسی دینی لائبریری میں دیدیں، یہ صدقہ جاریہ ہوگا، اگر کوئی نہ بھی دے تو یہ بخل میں شمار نہیں ہوگا۔
جھوٹی قسم کھانا
سوال ۔۔۔ بات بات پرقسم کھانا اور اس میں صداقت نہ ہوکیاحکم ہے؟
جواب۔۔۔جھوٹی قسم کھانے والاتوبہ و استغفار کرے اور آئندہ جھوٹی قسم کھانے سے گریز کرے !!
معاشرے میں اس وقت جھوٹی قسم کھانے کا عمومی رواج معاشرہ کی ابتری اور زبوں حالی کا ایک اہم سبب ہے، نیز کاروبار میں بے برکتی، خاندان میں جھگڑے اور تعلقات میں دوریاں بھی اس قسم کے غیر شرعی اور غیر اخلاقی رویوں کے سبب ہے۔
: عدالتی خلع کا حکم
سوال ۔۔۔ اگر عدالت کے ذریعے خلُع لیا ہے تو عدت کے احکامات کیا ہوں گے؟ نیز نکاح ثانی ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب۔۔۔اگر شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور اس نے زبانی یا تحریری طور پر خلع کو قبول نہیں کیا تو ایسے یک طرفہ عدالتی فیصلے کو شرعی خلع قرار نہیں دیا جاسکتا؛ کیوں کہ شرعی طور پر خلع کے معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، جب کہ مذکورہ صورت میں خلع کا فیصلہ شوہر کی اجازت و رضامندی سے نہیں ہوتا اور شوہر نے اس خلع نامہ پر دستخط کر کے اس کو قبول ہی نہیں کیا ۔ نیز عمومی احوال میں شوہر کی اجازت اور وکالت کے بغیر کسی اور کو طلاق دینے کا بھی اختیار نہیں ہے۔
جبکہ جدید علماء اس خلع کو جائز مانتے ہیں ان کےنزدیک خاوندکی رضامندی ضروری نہیں ۔اس صورت میں عدالت کی ذمہ داری بنتی وہ شوہرکوطلب کرے، وارنٹ جاری کرے اگروہ نہیں آئے توعدالت تنسخ نکاح کی مجاز ہے۔
سوال ۔۔۔ تنسخ نکاح کی کیا شرائط ہیں؟
جواب۔۔۔فسخ۔نکاح کےلئے چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ یا تو شوہر نامرد ہو (حقوق زوجیت ادانہ کرسکتاہو)، یا مجنون ہو(دیوانہ جس کوہوش وحواس نہ ہوں )، یا مفقود الخبر(لاپتا ہو ) ہو یا متعنت (ظالم) ہو کہ بیوی کا نان نفقہ نہ دیتا ہو اور ظلم کرتا ہو۔ پھر عورت اپنے اس دعویٰ کو شرعی گواہوں کے ذریعے عدالت کے سامنے ثابت بھی کرے۔ نیز متعلقہ صورت میں سے ہر ایک کی شرائطِ معتبرہ کی رعایت رکھی جائے، سو اگر یہ شرائط پائی گئیں تو عدالت کا فیصلہ شرعاً تنسیخِ نکاح ہوگا اور میاں بیوی میں جدائی ہوجائے گی اور اگر یہ شرائط مکمل نہ ہوں تو ایسے یک طرفہ عدالتی فیصلے کو تنسیخِ نکاح بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔لہٰذا مذکورہ لڑکی بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہے۔ اور جب نکاح نہیں ٹوٹا تو عدت بھی نہیں۔
سوال۔۔۔عدالتی خلع میں عدت کب سےہوگی؟
جواب۔۔۔عدالت کسی کوخلع کی ڈگری دے توکیا معتبرہوگا عدت شمارکی جائیگی اور اگر عدالتی خلع میں شوہر کی رضامندی پائی گئی تو وہ خلع معتبر ہوگا، اور اس کی عدت وہی ہوگی جو مطلقہ کی عدت ہوتی ہے، یعنی اگر عورت حاملہ نہ ہو تو تین مرتبہ ایام کا گزرنا، اور اگر اسے ایام نہ آتے ہوں تو تین ماہ، اور اگر وہ حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تک۔ اور عدت کے دوران اس کے لیے وہی احکام ہوں گے جو طلاقِ بائن کی عدت میں ہوتے ہیں، یعنی عدت شوہر کے گھر میں رہ کر گزارنا لازم ہے، اور اس دوران شدید ضرورت کے بغیر گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے، نیز بناؤ سنگھار سے اجتناب بھی لازم ہے۔
سوال۔۔۔دوطلاقیں۔کےبعد رجوع کیسےممکن ہے ۔اگر شوہر ایک ہی وقت میں اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، پھر عدت کے اندر رجوع نہ کرے اور ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ گزر جائے، تو:کیا تیسری طلاق خود بخود واقع ہو جاتی ہے؟کیا میاں بیوی کے درمیان دوبارہ نکاح جائز ہے؟دوبارہ نکاح کا شرعی طریقہ کیا ہے؟
جواب۔۔۔اوّل:
ایک ہی مجلس میں دی گئی دو طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔البتہ طلاقوں کی گنتی میں فقہاء کا اختلاف ہے، مگر تمام مکاتبِ فکر کے نزدیک اس صورت میں تین طلاقیں مکمل نہیں ہوتیں۔
دوم: تیسری طلاق خود بخود واقع نہیں ہوتی۔طلاق صرف واضح الفاظ، تحریر یا نیت کے ساتھ قول سے واقع ہوتی ہے، وقت گزرنے، عدت ختم ہونے یا رجوع نہ کرنے سے نہیں۔
سوم:چونکہ شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا، اس لیےعدت ختم ہونے کے ساتھ پرانا نکاح ختم ہو گیا۔لیکن چونکہ دو (یا اس سے کم) طلاقیں واقع ہوئی ہیں، اس لیےدوبارہ نکاح شرعاً جائز ہے۔
چہارم: دوبارہ نکاح کا شرعی طریقہ
دوبارہ اکٹھا ہونے کے لیے نیا نکاح ضروری ہوگا، جس کی شرائط یہ ہیں:فریقین (خصوصاً عورت) کی واضح رضامندی ۔نیا مہر مقرر کیا جائے۔ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میںکم از کم دو عادل گواہ ولی ۔۔جمہور فقہاء کے نزدیک شرط ۔فقہ حنفی میں مستحب ۔یہ نکاح حلالہ نہیں کہلائے گا، کیونکہ تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی۔

مفتی خالد عمران خالد

مفتی صاحب سے آپ اس نمبر اور ای میل پر رابطہ کرسکتے ہیں

03005259116

Taibahfoundation1@gmail.com