ابو فیضان
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
یکم جنوری2026 سال نو کا سورج بھی حسب دستور طلوع ہو ا ۔ مگر تحریک آزادی کشمیر کے لیے بالعموم اور حزب المجاہدین کے لیے بالخصوص ایک ایسا خلا چھوڑ دیا جس کو پُر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ آج سے73سال پہلےمقبوضہ کشمیر کے بانڈی پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ملک محمد عبداللہ ایم ایچ راولپنڈی میں خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ وانا الیہ راجعون ۔رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جس شخص کی وفات غریب الوطنی میں ہوئی وہ شہید ہے۔ایک دفعہ مدینہ میں ایک شخص کی وفات ہو گئی۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھانے کے بعد فرمایا کہ کاش اس شخص کی موت اس کے گھر سے دور ہوتی، جو شخص اپنے گھر سے دور ہوتا ہے، جو شخص اپنے گھر سے دور وفات پاتا ہے اس کے لیے شہادت کا درجہ لکھ دیا جاتا ہے۔
ملک محمد عبداللہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ تحریک آزادی کشمیر میں عملی جدوجہد سے پہلے بھی جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے ساتھ منسلک تھے وہ جماعت اسلامی کے نہ صرف فعال رکن بلکہ میرے امیرتحصیل بھی رہے ہیں۔ مسلم متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم سے اسمبلی کے الیکشن میں بھی حصہ لیا۔

1990 میں ہجرت کر کے عملاََ جہاد بالسیف میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد تنظیم نے ملک صاحب کی علمی صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہوئے میڈیا کا محاذ سنبھالنے کا حکم دیا اس طرح ملک صاحب نے ریڈیو صدائےحریت سے جہاد کشمیر کو نہ صرف عالمی سطح پر اجاگر کیا بلکہ نوجوانوں کو جذبہ جہاد ابھارنے میںکلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ملک صاحب نے نظم کے حکم پر حریت کانفرنس میں بھی شرکت کی اور سیاسی محاذ پر تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے میں دن رات وقف کیا۔
ملک صاحب کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ بلا ناغہ حزب المجاھدین کی کمانڈ کونسل کے رکن منتخب ہوتے رہےاوروفات کے وقت بھی حزب شوریٰ کےممبر تھے ۔ملک عبداللہ صاحب شعبہ تعلیم و تربیت کے ذمہ دار بھی رہے اور مجاہد ین کی ذہنی اور فکری تربیت کر کے استاد محترم کا درجہ بھی حاصل کیا۔ 2018 سے 2024 تک ملک صاحب شعبہ بحالیات و تعلیم وتربیت کے ذمہ دار ر ہے ہیں ۔ملک صاحب نے ناتوا ں جسم اور جسمانی کمزوری کے باوجود اس ذمہ داری کو باحسن نبھانےکی بھرپور کوشش کی۔ اس دوران خوش قسمتی سے را قم کو ملک صاحب کے ساتھ معاون کی حیثیت سے کام کرنے کی سعادت ملی۔
ملک صاحب کے بارے میں راقم بحواس خمسہ یہ گواہی دینے میں حق بجانب ہے کہ وہ ایک بہترین استاد، ایک شفیق معلم اور امانت داری سے اپنی ذمہ داری نبھانے کی حامل شخصیت کے مالک تھے۔ ملک صاحب اپنا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی خود کر تے تھے حتیٰ کہ چائے کی کیٹل سے چائےانڈیلنے کے لیے بھی وہ خود کرسی سے اٹھتے تھے۔ میں نے کئی بار ملک صاحب کے جوتے اٹھا کر ان کے سامنے رکھنے کی کوشش بھی کی مگر انہوں نےہر بارمنع کیا ۔
2024میں جسمانی کمزوری حد سے بڑھ گئی تو ملک صاحب نے ذمہ داری سے فراغت کی درخواست دی جو مرکز نے قبول کی۔ اس دوران کئی بار ہم خبرگیری کے لئےگئے تو ہمیشہ مومن کی طرح ملک صاحب کسی شکوہ شکایت کے بغیر اللہ کا شکر ادا کرتے رہے اور تمام ساتھیوں کے بارے میں پوچھتے رہے۔ وفات سے کچھ دن پہلے میں ان کے گھرخیریت پوچھنےگیا تو تمام ساتھیوں کا حال احوال پوچھا۔ سب کو سلام دینے کا کہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوںکہ ملک صاحب کو جنت الفردوس میں شہداء کے ساتھ اعلیٰ وارفع مقام نصیب ہو۔ آمین







