بنگلہ دیش کا نیا سیاسی منظرنامہ

بنگلہ دیش کا نیا سیاسی منظرنامہ،امکانات، خدشات اور مستقبل کے چیلنجز

ڈاکٹر اسامہ شفیق

سترہ برس بعدجماعت اسلامی بنگلہ دیش ایک بار پھر قومی سیاست کے مرکز میں ہے۔بنگلہ دیش کے انتخابات سے جماعت اسلامی کی پارلیمانی سیاست میں بھرپور واپسی نے بنگلہ دیش میں سیاست کا ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ کئی ایک افراد جن کا جھکاؤ جماعت اسلامی کی جانب ہے وہ ان نتائج پر مطمئن نہیں، لیکن اگر ان نتائج کا موازنہ گزشتہ انتخابات سے کیا جائے تو یہ انتخابی کارکردگی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی تاریخی کارکردگی ہے۔ اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں بشمول اُن انتخابات کے، جن میں جماعت اسلامی پر عوامی لیگ کی شیخ حسینہ کی حکومت کی جانب سے پابندی عائد نہیں کی گئی تھی جماعت اسلامی کی کارکردگی 1991ء کے انتخابات میں سب سے اچھی تھی کہ جب اس نے 17 نشستیں حاصل کیں۔ 1996ء میں جب جماعت اسلامی نے اکیلے انتخاب لڑا تو اسے صرف 3 نشستیں ملیں۔ اسی طرح ووٹ کے تناسب سے گزشتہ انتخابات میں جماعت اسلامی کا کُل ووٹ پانچ تا دس فیصد رہا۔

شیخ حسینہ واجد کی حکومت میں 17 سال بدترین ظلم و ستم، قید، پابندیوں، تشدد اور پھانسیوں کے بعد سمجھا یہ جارہا تھا کہ جماعت اسلامی کی قوت کو مکمل طور پر کچل دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی پوری مرکزی قیادت بشمول مرکزی امیر، نائب امراء، سیکریٹری جنرل، سابق وزراء اور اراکین پارلیمنٹ سب کو پھانسیاں دے دی گئیں تو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ بھارت کی آشیرباد سے اس کے اقتدار کو چیلنج کرنے والا اب کوئی نہیں ہوگا۔ لیکن 2024ء کے عوامی انقلاب نے نہ صرف شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا بلکہ عوامی لیگ کو بھی عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ یہ عوامی ردعمل نوجوانوں کا تھا کہ جن کو تعلیم کے بعد ملازمت کے حصول میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی تھی اور شیخ حسینہ کی حکومت اپنی پارٹی کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں پر بھرتی کررہی تھی اور اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی تک کردی گئی تھی۔ لیکن عوامی ردعمل کے سامنے یہ سب ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ نوجوانوں کی قیادت کرنے والے ناہیدالاسلام نے نہ صرف شیخ حسینہ کا اقتدار ختم کروایا بلکہ اس کے بعد فوجی اقتدار کی راہ میں بھی رکاوٹ ڈالی اور ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ اس انقلاب سے پہلے اور اس کے بعد بھی جماعت اسلامی پر پابندی عائد تھی، اس کے دفاتر 17 سال سے بند تھے لیکن وہ اپنے نظریے اور لٹریچر کی بنیاد پر عوام میں زندہ تھی۔ محمد یونس کی عبوری حکومت کے دور میں بنگلہ دیشی عدالت نے جماعت اسلامی پر پابندی کو کالعدم قرار دیا، اور یوں گزشتہ ایک سال سے جماعت اسلامی نے اپنی سرگرمیاں اپنے نام سے بحال کیں۔

ان سرگرمیوں کے بعد جماعت اسلامی مرکزی سیاسی دھارے میں واپس آئی اور اس کے جلسے جلوس عوامی توجہ کا مرکز بن گئے۔ بغیر کسی انتقامی جذبات کے اظہار کے، جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے ترقی، روزگار اور جمہوریت کی بحالی کو اپنا نعرہ قرار دیا۔ جماعت اسلامی وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی حکومت میں حکومت کا حصہ رہی اور عوام کا گہرا تاثر یہ رہا کہ جماعت اسلامی کے وزراء کی کارکردگی نہ صرف اچھی رہی بلکہ ان کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں تھا۔ جماعت اسلامی بظاہر تو پابند تھی لیکن اس پرانی سیاسی ساکھ کے ساتھ عوامی خدمات کے بیش بہا پروگراموں کی وجہ سے وہ عوام کے درمیان موجود رہی۔ جماعت اسلامی کے اسٹوڈنٹ ونگ اسلامی چھاترو شبر نے طلبہ کے درمیان رہ کر ان کی نظریاتی پختگی کا وہ سامان فراہم کیا جو 17 سال میں جماعت اسلامی کو افرادِ کار کی کھیپ مسلسل فراہم کرتا رہا، اس میں کسی ایک سال کی بھی تاخیر نہیں ہوئی۔
ان سب باتوں کے ساتھ گو کہ جماعت اسلامی مرکزی سیاسی دھارے میں نووارد تھی لیکن ایک بھرپور ماضی بھی رکھتی تھی۔ اس پورے تناظر میں کچھ لوگوں کی رائے یہ تھی کہ شاید یہ انقلاب جماعت اسلامی لے کر آئی ہے، لیکن ایسا ہرگز نہ تھا، اس انقلاب کا محرک شیخ حسینہ کا جبرِناروا تھا اور نوجوان اس انقلاب کے قائد تھے۔ جماعت اسلامی گوکہ کسی نہ کسی طور ان کے ساتھ شامل تھی لیکن اس کی اپنی پوری قوت بھی مل کر شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جماعت اسلامی نے اس بیانیے کو مکمل مسترد کیا کہ یہ انقلاب جماعت اسلامی کا ہے، اُس نے ہمیشہ اِس کا سہرا نوجوان قیادت کے سر باندھا، اور اس انقلابی نوجوان قیادت کے نظریاتی رجحانات بھی جماعت اسلامی سے خاصے مختلف تھے۔

انتخابات کے انعقاد کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی کی سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچیں اور عوامی رجوع اس میں نظر آیا۔ تاہم اس سب کے باوجود بھی اس بات کا امکان بہرحال نہیں تھا کہ جماعت اسلامی 300 کے ایوان میں عددی اکثریت حاصل کرکے حکومت سازی کرے گی۔ خود جماعت اسلامی کا اپنا تخمینہ 75 سے 80 نشستوں کے درمیان تھا۔ اتحادی سیاست کا بھی نہ صرف ان کو علم تھا بلکہ وہ اس سیاست کا بھرپور تجربہ بھی رکھتے ہیں، لہٰذا اتحادی سیاست کا اصل مقصد صرف یہ رہا کہ مخالفین کی تعداد کو کم کیا جائے۔ جماعت اسلامی کی قیادت میں موجود اتحاد میں سب سے بڑی جماعت نوجوانوں کی نیشنل سٹیزن پارٹی تھی جس کے قائد اس انقلاب کے مرکزی رہنما ناہید الاسلام ہیں۔ یعنی وہ جو انقلاب کے محرک تھے وہ بھی اب جماعت اسلامی کے ساتھ موجود تھے۔ یہ معرکہ دراصل جماعت اسلامی کی سابق اتحادی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی جس کے سربراہ اب طارق رحمان ہیں، اور جماعت اسلامی کے درمیان تھا۔
طارق رحمان اپنی 17 سال کی خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے الیکشن سے قبل بنگلہ دیش واپس آئے۔ ان 17 سالوں میں اس پارٹی کی قیادت اُن کی والدہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے پاس رہی جوکہ خود بھی پابندِ سلاسل تھیں اور شدید بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔
خالد رحمان کی بنگلہ دیش واپسی اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اُن کی پارٹی حکومت میں آنے کے لیے تیار ہے۔ بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے والے ان اشاروں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں عرب بہار کے بعد ہونے والے انتخابات پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے کہ جہاں عوامی ووٹ کی طاقت سے دایاں بازو، یا اسلام پسند جماعتیں اقتدار میں تو آگئیں لیکن ان کو چلنے نہیں دیا گیا۔ لہٰذا جدید جمہوریت کو چلانے والوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ اگر انقلاب آبھی جائے تو اس کو مینج کیا جائے، یعنی براہِ راست اسلام پسندوں کو آنے سے روکا جائے، بجائے اس کے کہ ان کو اقتدار سے محروم کرنے میں توانائی صرف ہو۔

بنگلہ دیش میں گوکہ اس بات کا امکان موجود نہیں تھا کہ جماعت اسلامی یا اس کا اتحاد عددی اکثریت حاصل کرپائے گا، لیکن اس عددی جیت کو بھی محدود کرنے کی اپنی سی کوششیں ضرور ہوئیں تاکہ آنے والی حکومت کو کم از کم واضح یا دو تہائی اکثریت حاصل ہوپائے۔ تادم تحریر بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (انتخابی نشان ”دھان کی بالی“) نے 49.97 فیصد ووٹ کے ساتھ 209 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی قیادت میں ”ترازو“ کے نشان کے ساتھ میدان میں آنے والی جماعتِ اسلامی نے 31.76 فیصد ووٹ اور 68 نشستیں حاصل کیں۔ جماعت کے 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کی شراکت دار، نو قائم شدہ این سی پی نے ”کنول کی کلی“ کے نشان کے تحت اپنی پہلی قومی شرکت میں 3.05 فیصد ووٹ لے کر حوصلہ افزا آغاز کیا اور 6 نشستیں حاصل کیں۔ اگر مجموعی طور پر اتحادی جماعتوں کے ووٹ کو یکجا کیا جائے تب بھی جماعت اسلامی بمقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ووٹ بینک میں 11 فیصد کا فرق ہے اور نشستوں کا فرق اس سے کہیں زیادہ ہے۔
مجموعی طور پر یہ الیکشن اور اس کے ساتھ ہونے والے ریفرنڈم میں کُل ووٹرز میں سے 60 فیصد نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا، اور یوں یہ بات واضح ہے کہ عوامی لیگ کا ووٹر بھی باہر نکلا اور اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عوامی لیگ کا ووٹر ہے جو کہ ہے، اور یقیناً اس نے اپنے ووٹ کا حق بھی استعمال کیا تو اس کا ووٹ کس کے حق میں گیا؟ نہ صرف سرکاری اعداد و شمار بلکہ نجی سروے بھی اس بات کی عکاسی کررہے ہیں کہ یہ ووٹ بڑی تعداد میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے حق میں گیا، اور اب یہ بات میڈیا پر بھی موجود ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو بھارت نے مکمل طور پر سپورٹ فراہم کی۔ اس کی وجہ بھارت کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے کوئی خاص ہمدردی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کی راہ روکنا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ الیکشن سے چند روز قبل امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کیا گیا اور اس پر خواتین کے خلاف پوسٹیں کی گئیں تاکہ خواتین ووٹرز کو جماعت اسلامی سے دور کیا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خواتین میں سب سے مؤثر کام جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا ہے، کیونکہ دورِ عتاب میں جماعت اسلامی نے خواتین کے حلقہ ہائے درسِ قرآن کو منظم کرکے اپنی راہ ہموار کی، اور یہی ان کی بہت بڑی بنیاد ہے۔ لہٰذا خواتین ووٹرز کو برگشتہ کرنے کے لیے ایسے گھٹیا طریقے استعمال کیے گئے۔ اور بعد از انتخابات اسی قسم کے بیانیے کو نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی پھیلایا گیا۔ جبکہ الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے انگریزی اخبار The Business Standard نے 15 فروری 2026ء کی اشاعت میں تحریر کیا:
جماعت کی انتخابی کارکردگی کا ایک نہایت نمایاں اور کم زیرِ بحث آنے والا پہلو خواتین کا کردار رہا ہے۔باہر سے دیکھنے پر بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کو اکثر مردوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک مرد قیادت والی جماعت ہے، لیکن اس کی صفوں میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔خواتین کارکنان نے ملک بھر میں گھر گھر جا کر مہم چلائی، شہروں اور دیہات دونوں میں سرگرم رہیں۔ کئی علاقوں میں، خصوصاً دیہی برادریوں میں، وہ براہِ راست گھروں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں اور ماؤں اور بیٹیوں سے اس انداز میں گفتگو کی جو مرد کارکنان کے لیے ممکن نہیں تھی۔ ان کی رسائی منظم اور مسلسل تھی۔
انہوں نے متعدد اضلاع میں بڑے عوامی اجتماعات بھی منعقد کیے۔ بعض مقامات پر خواتین کارکنان نے دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کرنے کی اطلاع دی، مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔“

بنگلہ دیش کے انتخابات میں ابھی تک پروپیگنڈے کا بازار گرم ہے اور اس میں بین الاقوامی میڈیا بھارت کی سپورٹ سے یہ سارا کام انجام دے رہا ہے۔ ایک جانب الیکشن میں چند نشستوں پر دھاندلی کا شور ہے تو دوسری جانب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمٰن اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید الاسلام سے اُن کے گھروں پر ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی راہ کو کھوٹا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، تاہم چند نشستوں پر جماعت اسلامی کے اتحاد کو انتخابی نتائج پر شکوہ ہے اور انہوں نے الیکشن کمیشن سے باضابطہ طور پر رجوع کرتے ہوئے 32 پارلیمانی حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک وفد نے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر میں الیکشن کمشنر عبدالرحمنیل مسعود سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا گیا کہ وفد نے مبینہ دھاندلی، نتائج میں ردوبدل اور حتمی گنتی شیٹس میں ”اوور رائٹنگ“ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق 32 حلقے تنازع کا شکار ہیں، جن میں دارالحکومت کے کئی حلقے: ڈھاکہ-7، 8، 10، 13 اور 17۔ اس کے علاوہ کھلنا-3 اور 5، کاکس بازار-4، میمن سنگھ-1 اور 4، اور ٹھاکرگاؤں-2 سمیت دیگر حلقے بھی شامل ہیں۔

تاہم اس ضمن میں انہوں نے ایک متوازن راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ”ہم حلف اٹھائیں گے، پارلیمنٹ میں شرکت کریں گے اور تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ اسی کے ساتھ ہمارے لیے سڑکوں کا راستہ بھی کھلا رہے گا۔“یعنی جمہوریت کا سفر جاری رہے گا۔بنگلہ دیش کی اس پوری صورتِ حال میں چند نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ہر سنجیدہ سیاسی کارکن اور خاص طور پر اسلامی تحاریک سے وابستہ افراد کو ان پر غور و خوض ضرور کرنا چاہیے۔
حالات کا جبر، تشدد اور راستوں کا مسدود کرنا کبھی کسی نظریاتی جماعت کو جڑ سے نہیں اکھاڑ سکتا، اور اگر یہ جماعت دوبارہ ابھر کر آئے تب بھی وہ توازن کا راستہ اختیار کرتی ہے، یعنی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ افراد کے بجائے نظام کی تبدیلی کی صورت میں لیتی ہے۔ جدید مغربی جمہوریت میں اگر کہیں کوئی اسلام پسند عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کی سطح تک پہنچ جائے تو اس کا راستہ جھوٹ، بہتان اور دشنام سے روکا جاتا ہے، اور اگر پھر بھی وہ کامیاب ہوجائے تو پھر اس کی جیت کو محدود رکھا جائے، لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ اس نظام میں رہتے ہوئے جدوجہد کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طور اپنی جگہ بناتے
ہیں۔ اس پورے جین زی انقلاب کا حاصل یہ بھی ہے کہ وہ جین زی جو بنگلہ دیش کے اس انقلاب کی محرک تھی اس کی جیت بھی کوئی بڑی انقلابی کارکردگی نہیں، لہٰذا کسی نظام کو پلٹ دینے کے باوجود بھی اگر آپ کے پاس محض ہنگامی کارکن ہیں تو وہ نظام کو تو ضرور پلٹ سکتے ہیں لیکن آپ کو اقتدار تک نہیں لاسکتے۔ لہٰذا عوامی طاقت کے ساتھ ایک مضبوط و منظم تنظیمی ڈھانچہ ہی کسی انقلاب کو معنی خیز بنا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کا انقلاب اس حوالے سے ایک بڑا گیم چینجر ہے کہ اب بنگلہ دیشی سیاست میں بھارت حامی و مخالف کی سیاست کا باب بند ہوا۔ اب عددی اکثریت حاصل کرنے والی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بھی پاکستان کے ساتھ اچھے مراسم چاہتی ہے اور دوسری جانب اپوزیشن کی قائد جماعت اسلامی بھی پاکستان حامی جماعت سمجھی جاتی یے۔ ان انتخابات و ریفرنڈم کے بعد اب بنگلہ دیش میں ایک کے بجائے دو ایوان بنائے جائیں گے۔ پہلا ایوان براہِ راست ووٹ و نشست کی بنیاد پر منتخب افراد پر مشتمل ہوگا، جبکہ دوسرا ایوانِ بالا، جس میں ووٹ حاصل کرنے کی بنیاد پر پارٹیوں کو نمائندگی ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی دو مدت سے زائد کوئی فرد وزیراعظم نہیں رہ سکے گا۔ لہٰذا یہ تمام آئینی ترامیم اور انتخابات بنگلہ دیش میں ایک نئے عنوان کا آغاز ہے، اور یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ایک نیا بنگلہ دیش ہے جہاں بھارت کی حامی سیاست کا سورج نصف صدی بعد غروب ہوگیا اور بقول اندرا گاندھی جس دوقومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا تھا وہ وہیں سے اس شان سے ابھرا ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی ایک بڑی سیاسی قوت و حقیقت بن کر ابھری ہے۔لیکن اس راہ میں اب دشواریاں شاید زیادہ ہوں، لہٰذا ہر ایک قدم بہت احتیاط کا متقاضی ہے۔ بنگلہ دیش اور موجودہ مغربی جمہوریت دو پارٹی سسٹم کا کھیل ہے، لہٰذا اب اسلامی نظریاتی جماعتیں اس کھیل میں گیم چینجر بن کر سامنے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح اس چیلنج سے عہدہ برآ ہوں گی، کیونکہ مغربی طرز کی سیاست میں شاید اس کی زیادہ گنجائش موجود نہیں۔