بھارت:جنگ پر خاموشی کب تک

بھارت:جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

افتخار گیلانی

ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ’باہمی انحصار‘ (Interdependence) کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے اور عالمی معیشت پر بھاری قیمت عائد کر سکتا ہے۔ ’’ایران نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ میں وہ کچھ جھیلا ہے جس کا تصور بھی جدید دنیا نہیں کر سکتی۔ تب پوری دنیا صدام حسین کے ساتھ تھی، لیکن ایران نہیں گرا۔ آج کے پالیسی سازوں کو تاریخ کے ان اوراق کو دوبارہ الٹنا چاہیے۔ گزشتہ ہفتہ وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کو اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ مودی نے مغربی ایشیا میں اہم انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے پیش نظر بحری گزرگاہوں کو ’’کھلا اور محفوظ‘‘ رکھنے پر زور دیا۔ ایران کی طرف سے اس گفتگو کا جو خلاصہ پیش کیا گیا، اس کے مطابق یہ خاصی کشیدہ ماحول میں ہوئی ہے۔

ایرانی صدر نے بھارت وزیر اعظم کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی صدر نے ایک ایسے علاقائی سیکورٹی فریم ورک کی تجویز پیش کی جس میں صرف مغربی ایشیا کے ممالک شامل ہوں اور جو ’’بیرونی مداخلت‘‘ کے بغیر خطے میں امن قائم کرے۔ پزشکیان نے مودی سے مخاطب ہو کر کہا: بھارت کو برکس کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے اپنا ’آزادانہ کردار‘ ادا کرنا چاہیے تاکہ امریکا اور اسرائیل کی اس ننگی جارحیت کو روکا جا سکے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن ہم اپنی خودمختاری پر سمجھوتا بھی نہیں کریں گے‘‘۔ پزشکیان نے واشنگٹن کے ان دعوئوں کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے اور یاد دلایا کہ ایران کے سپریم لیڈر نے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف واضح مذہبی اور انتظامی احکامات جاری کر رکھے تھے۔ ایرانی صدر نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایرانی فضائی حدود کے باہر سے کیا گیا تھا۔بھارت، جس کے ایران کے ساتھ صدیوں پرانے تہذیبی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات ہیں، اس واقعے پر مکمل طور پر خاموش رہا۔اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مودی جی نے تنازع شروع ہونے سے محض 48 گھنٹے پہلے اسرائیل کا ہائی پروفائل دورہ کیا اور اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ سے خطاب کیا۔ وہاں انہیں جس گرمجوشی سے خوش آمدید کہا گیا، اس نے تہران اور دیگر عرب ممالک میں ایک منفی پیغام بھیجا۔ اگرچہ بعد میں جب توانائی کی قیمتیں بڑھیں اور سپلائی چین متاثر ہوئی، تو نئی دہلی نے تہران سے رابطہ کر کے اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کی۔ کانگریس کے سینئررہنما منی شنکر ائیر، جو اپنے کاٹ دار لہجے کے لیے مشہور ہیں، نے اس صورتحال پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’نہرو اور اندرا گاندھی کا بھارت وہ تھا جو فلسطین کے حقوق کے لیے سب سے پہلے آواز اٹھاتا تھا، جو نسل پرست جنوبی افریقا کے خلاف عالمی مہم چلاتا تھا۔ آج کا بھارت محض واشنگٹن کا ایک ’جونیئر پارٹنر‘ بن کر رہ گیا ہے۔ ہم روس سے سستا تیل خریدنے کی اجازت ملنے پر تو خوش ہوتے ہیں، لیکن اسی روس کے اتحادی ایران پر ہونے والے مظالم پر زبان نہیں کھولتے۔ یہ ہماری تزویراتی خود مختاری کا جنازہ ہے‘‘۔ منیش تیواری نے بھی پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا بھارت کی خارجہ پالیسی اب ’کارپوریٹ مفادات‘ اور ’امریکی خوشنودی‘ کے گرد گھوم رہی ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’تاریخ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو حق اور باطل کی جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا ڈھونگ رچاتی ہیں‘‘۔

بھارت کے لیے مغربی ایشیا محض نقشے پر ایک خطہ نہیں ہے۔ بلکہ 50 فی صد سے زائد خام تیل کی درآمدات اور 90 فی صد ایل پی جی اسی خطے سے آتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، وہاں تقریباً ایک کروڑ بھارتی محنت کش مقیم ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو ہندوستان کے دیہی علاقوں میں معیشت کا پہیہ رواں رکھتی ہے۔ اگر یہ خطہ غیر مستحکم ہوتا ہے، تو اس کا اثر ہر چولہے پر پڑے گا۔ جب امریکا نے اپنے بحری بیڑے خلیج فارس کی طرف روانہ کیے تھے، تب ہی یہ واضح تھا کہ ایک بڑا ٹکرائو ہونے والاہے۔ لیکن بھارت کے پاس اس ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی پیشگی منصوبہ نظر نہیں آیا۔ سریناتھ راگھون کے مطابق: ایک ایسے ملک کے لیے جس کے اتنے بڑے مفادات خلیج میں ہوں، تزویراتی پیش بینی کا نہ ہونا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔ اگرچہ تہران نے سرکاری طور پر بھارت کے رویے پر کوئی سخت احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا، لیکن ایرانی میڈیا کی تلخی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ فارسی اخبارات اس بات پر حیران ہیں کہ ہندوستان جیسے ’’قدیم دوست‘‘ نے میناب کے اسکول پر امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والی 168 بچیوں کے لیے ایک تعزیتی جملہ تک ادا نہیں کیا۔ ایران نے چین، ترکیہ اور پاکستان جیسے ممالک کو تو اپنے پانیوں سے گزرنے کی ضمانت دے دی ہے، لیکن بھارت کو تاحال ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔
ایران کا یہ رویہ بتاتا ہے کہ وہ ہندوستان کے ’دوغلے پن‘ سے مایوس ہے۔ آنے والے مہینوں میں بھارت کو ’برکس‘ سربراہ اجلاس کی میزبانی کرنی ہے، جس میں اب ایران بھی ایک مکمل رکن ہے۔ یہ بھارت کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرے۔ لیکن اس کے لیے بھارت کو ’کواڈ‘ (Quad) یعنی چین کو روکنے کے نام پر بنائے گئے اتحاد جس میں امریکا، جاپان، آسٹریلیا شامل ہیں کی زنجیروں سے تھوڑا باہر نکلنا ہوگا۔ جیسا کہ شیو شنکر مینن نے اپنے تجزیے میں کہا کہ ’’سفارت کاری صرف رسی پر چلنے کا نام نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی رسی سے اُتر کر زمین پر کھڑے ہونے اور سچ کہنے کا نام بھی ہے۔ اگر بھارت آج سچ نہیں کہتا، تو کل تاریخ اسے ایک ’’خاموش تماشائی‘‘ کے طور پر یاد رکھے گی‘‘۔ مغربی ایشیا کا یہ آتش فشاں ابھی بجھا نہیں ہے۔ اسرائیل نے ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب اور اب سیکورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ رکنے والا نہیں ہے۔ بھارت کی مسلسل خاموشی اب ’رضامندی‘ کے طور پر پڑھی جا رہی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ نئی دہلی اپنی ’تزویراتی خود مختاری‘ کے دعوئوں کو عمل سے ثابت کرے، ورنہ ’گلوبل سائوتھ‘ کی قیادت کا خواب صرف ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔ اور یاد رہے، تاریخ کے کٹہرے میں خاموشی بھی ایک جرم سمجھی جاتی ہے۔ ہوسکے تو 2003 میں بطور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ممبر ہونے اور امریکا کا حلیف ہوتے ہوئے بھی لاتعداد داخلی مشکلات کے باوجود پاکستان نے جس طرح ایک توازن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی، اسی سے بھارت کو کچھ سبق حاصل کر لینا چاہیے۔ بھارت میں کچھ لوگ کہیں گے کہ پاکستان ایک دشمن ملک ہے اس سے سبق حاصل کرنے کا درس دینے والے تو غداروں اور ملک دشمنوں کی فہرست میں آئیں گے، مگر کبھی کبھی اور کسی وقت دشمن کے طریقہ کار سے بھی سیکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ (بشکریہ: 92 نیوز)