ترنگے کے سائے میں کفن: بھارت کا جمہوری فریب، قبریں، قید خانے اور تقریریں
آئین کے نام پر قبضہ، قانون کے سائے میں قتل ،جمہوریت کی وردی میں فاشزم
بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا خونی بیانیہ مگر دنیا خاموش ہے
تقاریر بہت، عمل ندارد،کشمیر کے نام پر سیاست، آزادی کے نام پر تاخیر کیوں؟
بیس کیمپ یا اقتدار کا قلعہ؟ کشمیری قوم سوال کر رہی ہے، مگر قیادت خاموش کیوں؟
سید عمر گردیزی
ریاست جموں و کشمیر ۔۔۔ جہاں زمین روتی ہے اور پہاڑ سسک رہے ہیں، یہاں ہر سانس ایک نوحہ ہے اور ہر آنکھ ایک قبر۔ جمہوریت کے نام پر چھپی آمریت نے حقِ خودارادیت کو دفن کیا، اور کشمیر کی ہر گونجتی خاموشی دنیا کے ضمیر پر سوال ہے۔ اے اقوام عالم ، اے امن کے نام نہاد علمدارو ! آج میں تمہیں ایک کہانی سنانے آیا ہوں، ایک ایسی کہانی جو کتابوں میں نہیں لکھی گئی، جس کے گواہ زندہ ہیں مگر نظر نہیں آتے، اور جس کے قاتل طاقت کے پردے میں چھپے ہیں۔ یہ کہانی کشمیر کی ہے۔ تم دیکھو، تم سنو، مگر سب سے بڑھ کر تم سمجھو کہ یہ محض ایک خطہ نہیں، یہ انسانیت کی روح ہے جو خون میں بھیگی ہوئی ہے۔ یہاں کے بچے ابھی خواب دیکھنا سیکھے تھے کہ ان کی آنکھیں روشنی کھو بیٹھیں، یہاں کی مائیں ہر آہ میں اپنے بیٹوں کی واپسی تلاش کرتی ہیں، اور یہاں کے درخت بھی خون سے ہرے ہوئے ہیں، جیسے زمین خود روتی ہو۔ طاقت نے آئین کے پردے میں چھپا کر سچائی کو دفن کر دیا، اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ مگر یہ خاموشی خود ایک چیخ ہے، ایک زنجیر ہے جو تمہارے ضمیر کو جھنجھوڑے گی۔ سن لو اے دنیا والو! کشمیر میں جمہوریت نہیں، فقط جبر ہے۔ یہاں آزادی صرف لفظوں میں زندہ ہے، حقیقت میں نہیں۔ یہاں ہر گمنام قبر ایک کتاب ہے، ہر لاش ایک سوال، اور ہر زندہ انسان ایک ناقابلِ فراموش گواہی ہے۔ یہ وہ زمین ہے جہاں انصاف کا مطلب لاشوں کے بغیر سمجھا جاتا ہے، اور انسان کی قیمت صرف طاقت کے پیمانے پر ماپی جاتی ہے۔میری یہ تحریر تمہارے کانوں میں نہیں، تمہارے دل میں گونجے گی۔ یہ تمہیں مجبور کرے گی کہ تم نہ صرف دیکھو، بلکہ تم بھی سنو، سمجھو، اور یاد رکھو کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، ایک زندہ سوال ہے، ایک مظلومیت ہے، جو تمہارے ضمیر پر ہمیشہ بھاری رہے گی۔ یہ 26 جنوری کا دن تھا ،دہلی کی سڑکوں پر پھول بکھرے تھے، توپوں کی سلامی گونج رہی تھی، آئین کو ماتھا ٹیکا جا رہا تھا، اور جمہوریت اپنے آپ کو آئین کی چادر میں لپیٹ کر دنیا کے سامنے مسکرا رہی تھی۔مگر اسی لمحے، برف میں لپٹا ہوا کشمیر سسک رہا تھا۔وہاں کوئی سلامی نہیں تھی، صرف چیخیں تھیں۔کوئی آئینی ترانہ نہیں تھا، صرف ماؤں کی آہیں تھیں۔وہاں جمہوریت جشن نہیں منا رہی تھی، وہاں جمہوریت جرم کر رہی تھی۔یہ وہ دن تھا جب آئین نے بندوق سے مصافحہ کیا،جب قانون نے قبر کھودی،جب ووٹ نے گولی کو جائز قرار دیا،اور جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے اپنے ہاتھوں سے انسانیت کا گلا دبایا۔جمہوریت ایک لفظ ہے لیکن کشمیر میں یہ لفظ خون سے لکھا جاتا ہے۔
دنیا کے لیے جمہوریت وہ آئینہ ہے جس میں بھارت خود کو روشن خیال، مہذب اور قانون کا پاسدار دکھاتا ہے۔ لیکن کشمیر کے لیے یہی جمہوریت ایک ایسا پردہ ہے، جس کے پیچھے آمریت ننگی، ظلم مسلح، اور بربریت سرکاری مہر کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر جمہوریت عوام کی حکمرانی ہے تو کشمیر میں عوام کہاں ہیں؟ اگر جمہوریت آزادیِ اظہار ہے تو کشمیر میں زبانیں کیوں کاٹی جاتی ہیں؟ اگر جمہوریت قانون کی بالادستی ہے تو کشمیر میں قبریں عدالت کیوں بنی ہوئی ہیں؟کشمیریوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ زندہ ہیں اور زندہ رہ کر اپنی مرضی مانگتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، عالمی قوانین، انسانی حقوق کی دستاویزات سب ایک طرف اور بھارت کی بندوق ایک طرف۔ کشمیریوں نے کبھی بھارت سے روٹی نہیں مانگی، انہوں نے کبھی خیرات نہیں چاہی، انہوں نے صرف یہ کہا کہ ’’ہمیں فیصلہ کرنے دو کہ ہم کون ہیں‘‘۔ لیکن جمہوریت، جب ریاستی مفاد میں ہو، تو سوال کو بغاوت کہتی ہے، اور رائے کو غداری۔ 26 جنوری کو بھارت یومِ جمہوریہ مناتا ہے۔ کشمیر اسی دن یومِ غلامی یاد کرتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب ایک متنازع خطے پر ایک یکطرفہ آئین لاگو کیا گیا، جیسے کسی زندہ جسم پر بغیر اجازت آپریشن کر دیا جائے۔ یہ آئین نہیں تھا، یہ قبضے کا سرٹیفکیٹ تھا۔یہ قانون نہیں تھا،یہ خاموش قتل نامہ تھا۔بندوق اور بیلٹ پیپر کا اتحاد کشمیر میں بیلٹ پیپر ہمیشہ بندوق کے سائے میں رہا۔ وہ ووٹ جو فوجی بوٹوں کے درمیان ڈالا جائے، وہ فیصلہ نہیں، وہ مجبوری ہوتا ہے۔ جمہوریت وہاں دفن ہو جاتی ہے جہاں ووٹ سے پہلے خوف ہوتا ہے اور نتیجے سے پہلے لاش۔ دنیا نے پیلٹ گنز دیکھی ہوں گی، لیکن کشمیر نے انہیں آنکھوں کے جنازے کے طور پر دیکھا ہے۔ وہ بچے جنہوں نے ابھی خواب دیکھنا سیکھا تھا، آج اندھیرے میں رہتے ہیں۔
26 جنوری جب دہلی کی فضا میں توپوں کی گھن گرج گونجتی ہے اور آئین کو سلامی دی جاتی ہے تو یہ دن محض ایک ریاستی جشن نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسے تضاد کی علامت بن جاتا ہے جو پوری انسانیت کے ضمیر پر سوالیہ نشان کھینچ دیتا ہے۔ اسی دن، جب جمہوریت اپنے آپ کو قانون، آزادی اور عوامی اختیار کے استعارے میں پیش کرتی ہے، کشمیر کے پہاڑوں پر خاموشی اتاری جاتی ہے، گلیوں میں خوف بچھایا جاتا ہے اور انسان کے بنیادی حق کو ریاستی طاقت کے بوٹ تلے روند دیا جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں جمہوریت کا لفظ اپنے معنی کھو دیتا ہے اور ایک ایسا چہرہ سامنے آتا ہے جس پر قانون نہیں بلکہ جبر کی لکیریں نقش ہوتی ہیں۔ جمہوریت، اگر واقعی عوام کی مرضی کا نام ہے، تو پھر کشمیر میں عوام کیوں لاپتہ ہیں؟ اگر جمہوریت اظہارِ رائے کی آزادی ہے تو وادی میں زبانیں کیوں سلاخوں کے پیچھے ہیں؟ اگر جمہوریت قانون کی بالادستی ہے تو پھر عدالتوں کے فیصلے بندوق کی نوک پر کیوں لکھے جاتے ہیں؟ یہ سوال محض سیاسی نہیں، یہ اخلاقی ہیں، اور یہی وہ سوالات ہیں جن سے بھارت کی نام نہاد جمہوریت ہمیشہ نظریں چرا لیتی ہے۔
کشمیر میں جمہوریت ایک ایسا لفظ بن چکا ہے جو تقریروں میں تو زندہ ہے مگر زمین پر دفن ہو چکا ہے۔ 26 جنوری 1950ء کو جب بھارتی آئین نافذ ہوا تو یہ عمل محض ایک آئینی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ ایک متنازع خطے پر یکطرفہ بالادستی کا اعلان تھا۔ کشمیر، جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عوامی رائے سے ہونا تھا، اس دن ایک ایسے آئینی دائرے میں قید کر دیا گیا جس کی کنجی کبھی کشمیریوں کے ہاتھ میں دی ہی نہیں گئی۔ یہ آئین کشمیری عوام کے لیے تحفظ کی دستاویز نہیں بنا بلکہ ایک ایسی زنجیر ثابت ہوا جس نے حقِ خودارادیت کو جرم اور سوال کو بغاوت بنا دیا۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو اگر بھارتی جمہوریت کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ آئینہ سچ نہیں دکھاتا، بلکہ حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔
کشمیر میں نسل کشی بندوق کے ساتھ ساتھ قانون کے ذریعے بھی جاری ہے۔ آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں، شناخت کو مٹانے کی تدابیر، اور تاریخ کو ازسرِنو لکھنے کی خواہش دراصل ایک قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی منظم کوشش ہے۔ یہ سب کچھ اس نام پر کیا جاتا ہے کہ ریاست مضبوط ہو، مگر حقیقت میں یہ انسانیت کی کمزوری کا اعلان ہوتا ہے۔ پیلٹ گنز، جو دنیا کے لیے محض ایک ہتھیار ہیں، کشمیر کے لیے بینائی کے قاتل بن چکے ہیں۔ وہ آنکھیں جو خواب دیکھ سکتی تھیں، وہ چہرے جو مستقبل کی امید تھے، آج اندھیرے میں ڈوب چکے ہیں۔ یہ جمہوریت کا وہ ہتھیار ہے جو مارے بغیر زندگی چھین لیتا ہے، جو زندہ انسان کو عمر بھر کی قید میں بدل دیتا ہے۔ اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر آمریت کسے کہتے ہیں؟ 26 جنوری اسی لیے کشمیر میں یومِ سیاہ بن جاتا ہے کہ یہ دن اس تضاد کو عیاں کرتا ہے جس میں ایک طرف آئین کا جشن ہے اور دوسری طرف انسان کی تذلیل۔ ایک طرف ترنگا لہراتا ہے اور دوسری طرف کفن۔ ایک طرف تقریریں ہیں اور دوسری طرف قبریں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کشمیری عوام جمہوریت کو ایک لفظ نہیں بلکہ ایک زخم سمجھتے ہیں، ایسا زخم جو ہر سال 26 جنوری کو پھر سے ہرا ہو جاتا ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر دراصل اس زخم کی زبان ہے۔
کشمیر میں شہادت کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل تاریخ ہے، ایسی تاریخ جو ہر روز لکھی جاتی ہے اور ہر رات مٹا دی جاتی ہے۔ یہاں مرنے والاصرف ایک فرد نہیں ہوتا، اس کے ساتھ اس کا خواب، اس کی ماں کی امید اور اس کے بچوں کا مستقبل بھی دفن ہو جاتا ہے۔ مگر جمہوریت کے نام پر قائم نظام اس موت کو محض ایک عدد بنا دیتا ہے، ایک فائل، ایک رپورٹ، جسے کسی الماری میں بند کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی جان کی قیمت ووٹ سے کم ہو جاتی ہے اور قانون، لاش کے اوپر کھڑا ہو کر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ گمنام قبریں کشمیر کی سب سے سچی تاریخ ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جو بغیر الفاظ کے لکھی گئی ہے، مگر اس کے ہر صفحے پر خون سے سچ درج ہے۔ ان قبروں کے کتبوں پر نام نہیں، کیونکہ نام رکھنا سوال کھڑا کر دیتا ہے، اور سوال اس جمہوریت میں سب سے بڑا جرم ہے۔ ایک قبر جب گمنام ہوتی ہے تو دراصل وہ ریاست کے خوف کا اعلان ہوتی ہے، کیونکہ زندہ انسان کو تو قید کیا جا سکتا ہے، مگر مردہ سچ کو دفن کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ماؤں کا دکھ کشمیر کی سب سے طویل داستان ہے۔ وہ مائیں جو ہر دستک پر چونک اٹھتی ہیں، ہر آہٹ میں اپنے بیٹے کی واپسی تلاش کرتی ہیں، اور ہر لاش میں اپنا لختِ جگر پہچاننے سے ڈرتی ہیں۔ ان کے لیے جمہوریت کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک سوال ہے جس کا جواب کبھی نہیں دیا گیا۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر ان کا بیٹا سوال نہ کرتا تو زندہ ہوتا، اور اگر خاموش رہتا تو شاید آج ایک عام شہری ہوتا، مگر اس نے جمہوریت کی اصل روح پر یقین کیا، اور اسی یقین کی قیمت اس نے اپنی جان سے ادا کی۔ بھارتی نام نہاد جمہوریت کشمیر میں عورت کو بھی محفوظ نہیں رکھ سکی۔ یہاں عورت کبھی ماں ہے، کبھی بہن، کبھی بیوی، اور کبھی محض ایک خاموش گواہ۔ اس کے آنسو کسی عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتے، اس کی چیخیں کسی انسانی حقوق کی رپورٹ میں پورے الفاظ نہیں پا سکتیں۔ جمہوریت، جو عورت کے حقوق کی دعوے دار ہے، کشمیر میں عورت کو صرف ایک عدد سمجھتی ہے، ایک ایسا وجود جس کی بے حرمتی بھی ریاستی مفاد کے نیچے چھپا دی جاتی ہے۔
26 جنوری اسی لیے کشمیر کے لیے محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زخم ہے، جو ہر سال تازہ کر دیا جاتا ہے۔ جب دہلی میں آئین کی تعریف کی جاتی ہے، کشمیر میں لاشوں کی گنتی ہوتی ہے۔ جب دنیا جمہوریت کی مثالیں سنتی ہے، کشمیر میں قبروں کے سائے لمبے ہو جاتے ہیں۔ یہ تضاد اتنا گہرا ہے کہ اسے نظرانداز کرنا اب لاعلمی نہیں بلکہ شراکت داری بن چکا ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر اسی تضاد کے خلاف ایک زندہ سوال ہے۔ یہ تحریک اس بات کی گواہی ہے کہ طاقت سچ کو دبا تو سکتی ہے، مگر ختم نہیں کر سکتی۔ ہر شہید ایک چراغ ہے، ہر گمنام قبر ایک کتاب، اور ہر زندہ کشمیری ایک گواہ ہے۔ یہ تحریک دنیا کو یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت صرف اکثریت کا نام نہیں، بلکہ اقلیت کے حقِ زندگی کا بھی عہد ہے، اور جب یہ عہد ٹوٹ جائے تو جمہوریت محض ایک دھوکہ رہ جاتی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ فوری نہیں ہوتا، مگر یہ فیصلہ ضرور کرتی ہے۔ آج جو جمہوریت کشمیر میں بندوق کے سہارے کھڑی ہے، کل وہی تاریخ کے کٹہرے میں ہوگی۔ وہاں کوئی توپ سلامی نہیں دے گی، کوئی آئین ہاتھ میں نہیں ہوگا، صرف سوال ہوں گے، اور ان سوالوں کے سامنے کوئی ریاست، کوئی طاقت، کوئی جھنڈا جواب سے فرار حاصل نہیں کر سکے گا۔نریندر مودی کے عہد میں بھارت کی نام نہاد جمہوریت نے وہ چہرہ اختیار کیا جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔ یہ وہ دور ہے جس میں ریاست نے اکثریت کے زعم میں اقلیت کو نشانہ بنایا، اور قانون کو نفرت کے ایجنڈے کا خادم بنا دیا۔ مسلمانوں کے خلاف منظم تعصب، شہریت کے حق کو مشروط کرنا، عبادت گاہوں پر سیاست، اور اختلاف کو ریاست دشمنی قرار دینا، یہ سب کسی جمہوری معاشرے کی علامتیں نہیں بلکہ فاشزم کی واضح نشانیاں ہیں۔ مودی کے بیانیے نے ووٹ کو اخلاقیات پر فوقیت دی، اور جمہوریت کو انصاف کے بجائے طاقت کا ہتھیار بنا دیا۔ یہ جمہوریت کی تذلیل ہے، ایسی تذلیل جس میں آئین موجود ہے مگر انسان غیر محفوظ، عدالتیں موجود ہیں مگر انصاف ناپید، اور انتخابات ہوتے ہیں مگر خوف کے سائے میں۔ کشمیر میں مودی کی پالیسیوں نے اس تذلیل کو اپنے عروج تک پہنچایا۔ یہاں جمہوریت کو بندوق کے حوالے کیا گیا، حقِ خودارادیت کو جرم بنایا گیا، اور پوری قوم کو اجتماعی سزا دی گئی۔ مواصلاتی ناکہ بندیاں، سیاسی قیادت کی قید، شہری آزادیوں کا خاتمہ، آبادیاتی انجینئرنگ اور مسلسل فوجی محاصرہ، یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ کشمیر میں ریاستی طاقت نے اخلاقیات سے بغاوت کر لی ہے۔ دنیا یہ سب دیکھتی رہی، مگر خاموش رہی؛ اور یہ خاموشی مودی کے جبر کی سب سے بڑی پشت پناہی بنی۔ اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر آمریت کس شے کا نام ہے؟ اگر یہ قانون ہے تو پھر ظلم کی تعریف کیا ہوگی؟ تاریخ اس عہد کو یاد رکھے گی، نعرے نہیں، زخم؛ تقاریر نہیں، قبریں؛ اور دعوے نہیں، انسانی وقار کی پامالی۔
26 جنوری اسی لیے کشمیر میں ایک سوال بن کر ابھرتا ہے۔ یہ سوال آئین سے نہیں، بلکہ نیت سے متعلق ہے۔ اگر آئین انسان کے حق کی حفاظت نہ کر سکے تو وہ کاغذ کا ایک پلندہ رہ جاتا ہے۔ اگر جمہوریت انصاف نہ دے سکے تو وہ طاقت کا ایک طریقۂ کار بن جاتی ہے۔ کشمیر اسی ناکامی کی علامت ہے، جہاں آئین نافذ تو ہوا، مگر انسان غیر محفوظ رہا، اور جہاں جمہوریت کا اعلان تو ہوا، مگر آزادی ممنوع قرار پائی۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو اگر دنیا صرف سیاسی تنازع سمجھتی رہے گی تو وہ اصل مسئلے سے ہمیشہ دور رہے گی۔ یہ تحریک دراصل جمہوریت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ پوچھتی ہے کہ کیا جمہوریت واقعی کمزور کے حق میں کھڑی ہوتی ہے یا ہمیشہ طاقتور کے ساتھ؟ کیا قانون انسان کے لیے ہے یا ریاست کے لیے؟ اور کیا آزادی ایک عالمی قدر ہے یا صرف منتخب قوموں کا استحقاق؟ آخرکار، کشمیر کی کہانی کسی ایک خطے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن آمریت نہیں بلکہ وہ جمہوریت ہے جو اپنے نام پر ظلم کو جائز قرار دے۔ جب جمہوریت اپنے ہی اصولوں سے غداری کرے تو وہ آمریت سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کے
ہاتھ میں آئین بھی ہوتا ہے اور طاقت بھی۔ یہ مضمون کسی نفرت کا اعلان نہیں بلکہ ایک سوالنامہ ہے، جو تاریخ کے نام لکھا جا رہا ہے۔ ایک دن، جب شور تھم جائے گا، جھنڈے اتر جائیں گے، اور طاقت کا نشہ ختم ہو جائے گا، تب صرف یہی سوال باقی رہے گا کہ ہم نے ظلم کو دیکھ کر کیا کیا؟ کشمیر اس سوال کا نام ہے، اور 26 جنوری اس سوال کی تاریخ۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی قوم ہمیشہ دباؤ میں نہیں رہ سکتی۔ وقت، جو بظاہر طاقتور کے حق میں دکھائی دیتا ہے، دراصل مظلوم کے حق میں کام کرتا ہے، کیونکہ وقت سچ کو جمع کرتا رہتا ہے۔ کشمیر میں یہ سچ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے، کہانیوں میں، آنکھوں میں، اور خاموش عزم میں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی آئین سے چھینا نہیں جا سکتا اور کسی فوج سے شکست نہیں کھا سکتا۔ آخر میں، یہ تحریر کسی انتقام کا مطالبہ نہیں، بلکہ انصاف کی یاددہانی ہے۔ یہ کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں، بلکہ ایک نظام کے خلاف سوال ہے۔ یہ جمہوریت کے نام پر کی جانے والی تذلیل کے خلاف ایک احتجاج ہے، جو یہ اعلان کرتا ہے کہ جمہوریت اگر انسان کے حقِ انتخاب، حقِ زندگی اور حقِ وقار کی حفاظت نہ کر سکے تو وہ صرف ایک سیاسی اصطلاح رہ جاتی ہے، اخلاقی قدر نہیں۔ کشمیر آج بھی انتظار میں ہے، کسی معجزے کا نہیں بلکہ سچ بولنے کی ہمت کا۔ اس دن کا، جب دنیا جمہوریت کے نعروں کے پیچھے چھپی آمریت کو پہچانے گی، اور یہ تسلیم کرے گی کہ جمہوریت بندوق کے سائے میں نہیں، بلکہ آزاد انسان کے فیصلے میں زندہ ہوتی ہے۔ جب وہ دن آئے گا، تو 26 جنوری محض ایک تاریخ نہیں رہے گا، بلکہ ایک گواہی بن جائے گا، اس بات کی کہ آئین لکھے جا سکتے ہیں، مگر انصاف کو نافذ کرنا ہی اصل جمہوریت ہے۔اب یہ تحریر اقوامِ عالم کے ضمیر سے نہیں، اس کی آنکھوں سے سوال کرتی ہے۔ اگر تم انسان ہو تو بتاؤ۔۔کیا گمنام قبریں جمہوریت ہیں؟ کیا اندھی آنکھیں آئین کی فتح ہیں؟ کیا ماؤں کی عمر بھر کی آہیں کسی ریاستی مفاد سے کم قیمت رکھتی ہیں؟ اگر تم نے یہ سب دیکھا، سنا اور پھر بھی خاموش رہے تو یاد رکھو، تاریخ خاموشی کو غیرجانبداری نہیں مانتی، وہ اسے شراکت داری لکھتی ہے۔ آج اگر کشمیر پر ظلم جاری ہے تو اس میں بندوق کے ساتھ ساتھ تمہاری بے حسی بھی شاملِ جرم ہے۔ اور بھارت، اگر تم خود کو جمہوریت کہتے ہو تو پہلے آئین کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھو۔ جمہوریت طاقت سے نہیں، رضامندی سے زندہ رہتی ہے؛ قانون سے نہیں، انصاف سے پہچانی جاتی ہے؛ اور اکثریت سے نہیں، اقلیت کے تحفظ سے معتبر ہوتی ہے۔ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جمہوریت نہیں، جمہوریت کی تذلیل ہے۔ تاریخ تمہیں تمہاری پریڈز سے نہیں، تمہاری قبروں سے پہچانے گی؛ تمہاری تقاریر سے نہیں، تمہارے زخموں سے پرکھے گی۔یہاں ایک سخت سوال آزاد کشمیر کے اُن حکمرانوں کے لیے بھی ہے جو برسوں سے’’بیس کیمپ ‘‘کے نام پر اقتدار کی کرسیوں کو تخت سمجھ کر سنبھالے بیٹھے ہیں۔ کب تک کشمیر کے نام پر سیاست، تقاریر، اخباری بیانات اور بے سود بیرونِ ملک دوروں کا کاروبار چلے گا؟ کب تک آزادی کو فائلوں، قراردادوں اور رسمی نعروں میں قید رکھا جائے گا؟ قوم اب تقریروں سے نہیں، عمل سے جواب مانگتی ہے۔ قوم اعتماد مانگتی ہے، شفافیت مانگتی ہے، سمت مانگتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے نام پر چلنے والاکاروبار بند کیا جائے اور کشمیر کے لیے چلنے والی تحریک زندہ کی جائے۔ عوام کو اعتماد میں لیا جائے، ایک واضح، سنجیدہ اور باوقار حکمت عملی سامنے رکھی جائے، داخلی اتحاد پیدا کیا جائے، اور سفارت، قانون، اخلاق اور مسلسل سیاسی جدوجہد کے محاذ پر فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے۔ یہ جدوجہد نمائشی نہیں، نتیجہ خیز ہونی چاہیے؛ یہ سیاست نہیں، ذمہ داری ہونی چاہیے۔ یاد رکھو، اگر نیت صاف ہو اور راستہ واضح ہو تو پوری کشمیری قوم تمہارے ساتھ کھڑی ہوگی، اور پورا پاکستان تمہاری پشت بنے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ آزادی کو نعرہ نہیں، مقصد بنایا جائے؛ کشمیر کو موضوع نہیں، امانت سمجھا جائے؛ اور قیادت کو منصب نہیں، فرض مانا جائے۔ تاریخ دروازہ کھٹکھٹا چکی ہے، اب اگر جواب پھر تقریر نکلا تو فیصلہ قوم کرے گی، اور وہ فیصلہ سخت ہوگا۔ یہ آخری سطر نہیں، آخری موقع ہے۔
سید عمر اویس گردیزی کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے ۔معروف صحافی اوردانشور ہیں ۔کشمیر الیوم کے مستقل کالم نگار ہیںاور بلامعاوضہ لکھتے ہیں






