بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان خونی معرکے

مقبوضہ کشمیر کے کشتواڑاورکٹھوعہ اضلاع میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے مابین جھڑپیں
ایک مجاہد شہید،JCOسمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک، JCOسمیت 10دیگرفوجی اہلکار زخمی

بھارتی فوج اوربدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں (این آئی اے) ،(ایس آئی اے)کے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ چھاپےاور تلاشی کارروائیاں جاری

درجنوں عام شہری گرفتار،ایک درجن کے قریب جائیدادیں ضبط

ہمایوں قیصر

16 دسمبر 2025۔۔۔ ضلع ادھم پور کے علاقے مجلٹا میںمجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی اہلکارامجد پٹھان گولی لگنے سے ہلاک جبکہ دو اہلکار زخمی ہو گئے ۔ ضلع کپواڑہ کے پوتہ خان علاقے میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں ایک بھارتی فوجی حوالدارزبیر احمد ہلاک ہوگیا۔
18 دسمبر 2025 ۔۔۔ضلع اسلام آباد کے علاقے میںبھارتی فوج کا اہلکار لکھویندر سنگھ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا۔ بھارتی فوج نے جموں کے مختلف علاقوںضلع ادھم پور ، بسنت گڑھ اور رام نگر ، ڈوڈہ ، کشتواڑ جبکہ اسلام آباد، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور کپواڑہ میں محاصرے اور تلاشی کارروائیاں کیں اوراس دوران گھروں پر چھاپے مارے ،گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی اور مکینوں کو ہراساں کیا ۔ بھارتی انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ میں ایک کشمیری ولی محمد میر کا دو منزلہ رہائشی مکان کالے قانون ’’یو اے پی اے ‘‘ کے تحت ضبط کر لیا۔
19 دسمبر 2025 ء۔۔۔بھارتی پولیس نے ضلع ڈوڈہ میں گائے کے گوشت کی فروخت کے الزام میں تین کشمیری تا جروں فاروق احمد، محمد شفیع اور محمد یاسین کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے گرفتارشدگان پرالزام عائد کردیا کہ انہوں نے ہندو برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔
20 دسمبر2025 ء۔۔۔ضلع شوپیاں کے علاقے ہیر پورہ میں بھارتی پولیس نے ایک چھاپےکے دوران دو عام شہریوںاحمد حسن وگے اور راحیل احمد بٹ ساکن کولگام کوگرفتار کر لیا۔پولیس نے انکی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان سے بھارت مخالف پوسٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے اور سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی(ایس آئی اے) نے سرینگر اور ضلع شوپیاں کے علاقے نادیگام میں چھاپے مارکر مولوی عرفان احمد وگے سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
21 دسمبر 2025ء۔۔۔بھارتی پولیس نے ضلع پلوامہ نیو سرکلر روڈ پر معمول کی گشت کے دوران ایک شخص ہلال احمدساکن کاکہ پورہ کے علاقے کھدر موہ کو گرفتارکرلیاہےاوران سے جماعت اسلامی کے پوسٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ضلع بڈگام کی ایک عدالت نے امیر حزب المجاہدین سید صلاح الدین احمد کے خلاف ایک بارپھر غیر ضمانتی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے ہیں۔
22 دسمبر 2025 ۔۔۔بھارتی ریاست ہماچل پردیش اور ہریانہ میںہندو انتہاپسندوں کی طرف سے درجن کےقریب کشمیری شال فروشوں کو ہراساں کرنے اورانہیں’’ ہندوتوا‘‘اور ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ جیسے نعرے لگانے پر مجبور کیاگیااور باربارہراساں بھی کیا جارہاہے۔
23 دسمبر 2025 ۔۔۔ امریکہ میں مقیم کشمیری لابیسٹ ڈاکٹر غلام نبی فائی کی ضلع بڈگام میں موجود 1.5کنال سے زائد اراضی کوبھارتی ایجنسی(این آئی اے)نےکالے قانون کے تحت ضبط کرلیا ہےجبکہ ان کی ایک اور جائیداد جو 11مرلے اراضی ہے بھی ضبط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بھارتی پولیس نے ضلع کپواڑہ سے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتارکیاہے۔ بھارتی شہر اروناچل پردیش کے گنگا گائوں، ایٹا نگر،ضلع سیانگ کے آلائو ٹائون علاقوں سے پولیس نے دیگر بھارتی ایجنسیوں کے ہمراہ مبینہ طورپر حساس معلومات اکٹھا کرنے کے الزامات میںکشمیری نوجوانوں اعجاز احمد بٹ اور بشیر احمد گنائی، نذیر احمد ملک ، ہلال احمد میرسمیت پانچ افرادکوگرفتار کیاہےجبکہ ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ کے علاقے ووین کھریو سے گلاب باغ ترال کے رہائشی نوجوان جاوید احمد حجام کوبھارتی فوج نےگرفتار کیا۔ قابض بھارتی فوج نے جاوید احمد پرکشمیری مجاہد ین کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا الزام عائد کیاہے ۔ ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج کا صوبیدار لائیک رام نوگام میں حرکت قلب بند ہونے سے ہلاک ہوگیا ۔
26 دسمبر 2025۔۔۔ سرینگر شہر کے قریب بھارتی فوج کے ایک کیمپ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جسکے نتیجے میں متعدد بیرکیں جل کر تباہ ہوئیں ۔
28 دسمبر 2025۔۔۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں پولیس نے ضلع پونچھ کے رہائشیوں شوکت علی اور سجاد کو گائوں ڈھمری سے گرفتار کر لیا ۔ضلع اسلام آباد کے علاقے مرہامہ بجبہاڑہ میں ایک خاتون شیرازہ بانوبلیار مرہامہ اہلیہ عبدالحمید کمار کی لاش پراسرار حالت میں مردہ پائی گئی۔
29 دسمبر 2025۔۔۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے اپنی ظالمانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے شوپیاں سے اویس احمد لون ، شاہ لٹو سے معشوق احمد شاہ اورچیک چولند سے سبزار احمد گنائی کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیا ہے۔ پولیس نے ایک جھوٹادعویٰ کیا کہ یہ افرادریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ تینوں کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کیاگیا ہے۔جبکہ سرینگر سے ایک نوجوان کو گرفتارکیاگیا ہے جس کی شناخت ظفر احمد میرساکن راجباغ کےطور پر ہوئی ہے۔ بھارتی افواج نے ضلع جموں کے علاقے ستواری میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران بے بنیاد الزام پر ایک عام شہری منظور حسین کو گرفتارکرلیا ہے۔ بھارتی فوج نے مشتبہ شے نظرآنے کا دعویٰ کرکے شمالی کشمیر میں سوپور،بانڈی پورہ روڈ کے قریبی علاقے میں محاصرے اور تلاشی کارروائی کی۔ سڑک کو عارضی طور پر بلاک کر دیا گیا جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ آپریشن کے دوران شہریوں کی جامہ تلاشی لی گئی اورہراساں کیاگیا۔ضلع پونچھ کے علاقے ارائی میں آتشزدگی کے ایک واقعے میں دو رہائشی مکانات پراسرار طورپرجل کر خاکستر ہو گئے۔مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام معلومات تک رسائی کو روکنے کیلئے شمالی اورجنوبی کشمیر میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN)کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔قابض فوج نے موبائل فون صارفین کی نگرانی میں اضافہ کرتے ہوئے وادی کشمیر کے کپواڑہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں (وی پی این) کے استعمال پر پابندی کے ضمن میں 10 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔
31 دسمبر2025۔۔۔بھارتی پولیس نے کالے قانون کے تحت ضلع گاندربل میں ایک خاتون سمیت دو کشمیریوں کو گرفتار کر لیا۔ ضلع ڈوڈہ کے17 کے قریب دور دراز دیہاتوں کے 150 کے قریب بدنام زمانہ ملیشیا ویلج ڈیفنس گارڈز(وی ڈی جی) ارکان جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیںکوبھارتی فوج نے تربیت دینے کا عمل تیز کردیاہے۔یہ تربیتی پروگرام ڈوڈہ ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 90 کلومیٹر دور بھلیسہ علاقے میں شنگنی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘‘(این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے تین کشمیریوں کو انکی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی پاداش میں اشتہاری قرار دیا ہے۔عدالت نے سرینگر کے علاقے جواہر نگر کے رہائشیوں مبین احمد شا ہ اور عزیزالحسن جبکہ کپواڑہ کے علاقے تریہگام کی خاتون کارکن رفعت وانی کو اشتہاری قرار دیا۔ان تینوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سماجی رابطوں کی سائٹوں پر بھارت کے خلاف مواد اپ لوڈ کیا ۔
1 جنوری 2026 ۔۔۔تحریک آزادی کشمیر کے سینئررہنما محمد عبداللہ ملک مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے ۔ مرحوم کی نماز جنازہ اسلام آبادکی مرکزی جامع مسجد صدیق اکبرکے احاطے میںادا کی گئی جس میں کثیر تعدا دمیں عوام نے شرکت کی۔مرحوم کا تعلق مقبوضہ جموں وکشمیر میں ضلع بانڈی پورہ کے علاقے آلوسہ سے تھا۔ وہ بنیادی طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ تھے ۔ مرحوم نے کشمیر کاز کیلئے تحریری اور ابلاغی محاذ پر اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے بھارتی مظالم کی وجہ سے 1990میں آزاد جموںوکشمیر ہجرت کی تھی۔
2 جنوری 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ایک رکن کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی ہے۔ چھاپے کے دوران بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی کے رکن کے اہل خانہ کو ہراساں کیا اور تاریخی کتابیں، دستاویزات اور لیپ ٹاپ او ر موبائل فون ضبط کر لیے۔جبکہ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) نےبھارتی فوج کے ہمراہ شوپیاں کے علاقے پدپاون اور پلوامہ کے علاقے پامپور میں چھاپے مارکر نو افراد کو حراست میں لیا ہے۔
3 جنوری 2026۔۔۔بھارتی انتظامیہ نے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں جمال احمد لون کی 6 کنال اور 13 مرلہ سے زائد اراضی کالے قانون” یو اے پی اے“ کے تحت ضبط کی۔ان کی جائیدا د کی ضبطی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔انتظامیہ نے محض دو روز قبل ضلع پونچھ کے گاؤں ناڑ میں ایک اور شخص رفیق سلطان کی چار مرلہ سے زائد اراضی ضبط کر لی تھی۔ بھارتی پولیس نےانٹرنیٹ تک رسائی کے لیے اپنے موبائل فون پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپلی کیشنز استعمال کرنے پر 150 کے قریب لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔پلوامہ ضلع میں 95 افراد ،بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 23، شوپیاں میں 15، کولگام میں 9، اسلام آباد میں 5، ڈوڈہ میں2، جبکہ ضلع راجوری میں 1 شخص کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق ان میںسے اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ضلع کشتواڑ دچھن تچنا میں پُراسرارآتشزدگی کے ایک خوفناک واقعے میں کم ازکم 20رہائشی مکان مکمل طور پر خاکستر ہوگئے ہیں۔
4 جنوری 2026۔۔۔۔ضلع کٹھوعہ ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ریلوے پروٹیکشن فورس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ قابض حکام نے آزادی اظہار اور ڈیجیٹل پرائیویسی پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs)کا استعمال کرنے والے تقریبا 800افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔کارروائی کے دوران متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور قانونی کارروائی شروع کی گئی جبکہ درجنوں افراد کو طلب کیا گیا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی ، ڈرایادھمکایاگیااور ان پر نفسیاتی دبا ئوڈالاگیا۔
5 جنوری 2026۔۔۔کشمیریوں کو ان کی ملازمتوں اور املاک سے محروم کرنے کے مودی حکومت کے ایجنڈے کے تحت قابض انتظامیہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک کشمیری ملازم محمد ارشد گورو ساکن سرینگر آنچارکو ملازمت سےبرطرف کر دیا ہے۔ ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوج کا ایک نائب صوبیدار پرگت سنگھ اپنی بیرک میں دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔
7 جنوری 2026 ۔۔۔ بھارتی پولیس کی کائونٹر انٹیلی جنس ونگ نے بھارتی فوج کے ساتھ مل کر 22مقامات پر چھاپے مارے اورتلاشی کارروائیاں کیں۔ سرینگر میں تقریبا 15مقامات پر چھاپے مارے گئے جبکہ دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں کی گئیں۔بھارتی حکام نے کالے قوانین کے غلط استعمال کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی ٰکیا کہ تلاشیوں کا مقصد بھارت مخالف سرگرمیوں میںملوث افراد کے خلاف قانوں کے تحت کارروائی کرکےبھارت مخالف اور آزادی پسند سرگرمیوں کی تحقیقات کے حوالے سے ہے۔

8 جنوری۔۔۔2026۔۔۔ ضلع کٹھوعہ میں بلاور کے علاقوں کہوگ اور دھنو پیرول کماد میں بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں بھارتی فوج نے ایک مجاہد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ جھڑپ کے دوران متعدد بھارتی فوج زخمی ہوگئے۔اس دوران، کانٹر انٹیلی جنس اہلکاروں نے نیم فوجی اہلکاروں کے ساتھ گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کارروائیوں کے دوران بائیس نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔
9 جنوری 2026 ۔۔۔بھارتی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما میر واعظ عمر فاروق کو مسلسل تیسرے جمعہ کو سرینگر میں گھر میں نظر بند رکھ کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے تاریخی جامع مسجد نہیں جانے سے روک دیا۔
11 جنوری 2026 ۔۔۔بھارتی فوج نے جنوبی ضلع اسلام آباد کے علاقے جنگلات منڈی میں کچھ مشتبہ افراد کی موجودگی پر علاقے کو محاصرے میںلےکر گھر گھر تلاشی کے دوران مکینوں کو ہراساں کیااور گھریلو سامان کو توڑ پھورکی۔
12 جنوری 2026۔۔۔ضلع بانڈی پورہ میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ میںپراسرارطورپر آگ لگ گئی جس میں بھارتی فوج کانسٹیبل رمیش کمارجل کر ہلاک ہوگیا۔
13 جنوری 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے وادی کشمیر بھر میں مساجد ، آئمہ اور مساجد سے وابستہ دیگر افراد کے بارے میں بڑے پیمانے پر معلومات جمع کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ بھارت نے متعدد علاقوں کی مساجد میں چار صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فارم بھیجنا شروع کر دیا ہے جس میں مساجد اور ان سے منسلک افراد بشمول ائمہ، خطیب، موذن ، مسجد کمیٹی کے اراکین اور بیت المال کے بارے میں مکمل معلومات طلب کی گئی ہیں۔فارم میں ہر مسجد کی بابت مسلکی وابستگی، بیٹھنے کی گنجائش، منزلوں کی تعداد، تعمیراتی لاگت، فنڈنگ کے ذرائع، ماہانہ بجٹ، بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق معلومات مانگی گئی ہیں۔
14 جنوری 2026۔۔۔ عدالت نے سینئرحریت رہنماء اوردختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت کو کالے قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک مقدمے میں مجرم قرار دے دیاہے۔یاد رہے بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے آسیہ اندرابی کو اپریل 2018 میں گرفتار کیا تھا۔آسیہ اندرابی کے خلاف بھارت کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے جنگ چھیڑنے اور مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیاگیا تھا۔ آسیہ اندرابی نے1987میں خواتین پر مشتمل آزادی پسند تنظیم دختران ملت کی بنیاد رکھی تھی۔ ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن (ایل او سی) کے ساتھ جنگل میں آتشزدگی کا سلسلہجاری ہے ۔ آگ کے باعث بھارتی فوج کی طرف سے بچھائی جانے والی ایک درجن سے زائدبارودی سرنگوںکے پھٹنے کے عمل سے قریبی دیہات کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سرینگر کے پولیس کنٹرول روم میں بھارتی پولیس کا ایک اہلکار حرکت قبل بند ہوجانے کے باعث چل بساجبکہ ضلع اسلام آباد کے علاقے اچھہ بل سے مسرور احمد نامی ایک 34سالہ شخص کی لاش پراسرارطورپر برآمد کی گئی ہے ۔
15 جنوری 2026۔۔۔بھارتی انتظامیہ نے بھارتی فوج کی سرپرستی میں قائم ویلج ڈیفنس گارڈز(وی ڈی جی) کی خواتین کارکنوں کو رائفلوں سے لیس وی ڈی جی خواتین ارکان ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع کےمختلف دیہات کی حفاظت پر تعینات کر دیاہے ۔خواتین کارکنوں کے مسلسل گشت سے علاقے کے مسلمانوں کو کافی خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
19 جنوری 2026۔۔۔ ضلع کشتواڑ کے چناب ویلی چھاترو علاقے میں مجاہدین نے ایک کارروائی کے دوران بھارتی فوج کی ایک پارٹی پر دستی بموںسے حملہ کیا اور فائرنگ کی ، اس حملے کے نتیجے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر(جے او سی) ،ایک حوالدار گجندرسنگھ سمیت کم از کم آٹھ بھارتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ بھارتی فوج کے زیرِانتظام ولیج ڈیفنس گروپ (وی ڈی جی) کے ایک رکن نے نوشہرہ علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کو جواز بنا کر بلااشتعال فائرنگ کی جس سے علاقے میں خوف کی لہر پھیل گئی۔