بھارت اسرائیل متوازی ماضی متحدہ مستقبل؟

نریندر مودی تل ابیب ائر پورٹ پر اْتر رہے تھے تو اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اپنی بیگم کے ہمراہ زمانوں سے بچھڑے ہوئے کسی بھائی کی طرح ان کے استقبال کے لیے بانہیں وا اور دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے تھے۔ مودی اپنے روایتی انداز میں نیتن یاہو کو چمٹ کر ہی رہ گئے۔ گرم جوشی کے انہی نظاروں کے درمیان ہی اسرائیل کے اخبار یروشلم پوسٹ میں سیتھ جے فرنٹزمین کا ایک مضمون متوازی ماضی، متحدہ مستقبل؛ اسرائیل اور بھارت فطری اتحادی کیوں؟ کے عنوان سے شائع ہو کر منظر عام پر آرہا تھا۔ اس مضمون میں اسرائیلی تجزیہ نگار بھارت اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ ماضی اور مشترکہ حال، مشترکہ مستقبل اور مشترکہ دشمن کے خدوخال واضح کررہے تھے۔ یہ مشترکہ ورثہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی مسلم دنیا سے شروع ہو کر وہیں پر ختم ہو رہا تھا۔ گویا کہ دونوں کے مقاصد اہداف اور چیلنجز ایک جیسے ہیں۔ ایسے ہی مضامین اس وقت شائع کیے جارہے تھے جب نائن الیون کے بعد اسرائیل اور بھارت دونوں امریکی کینگرو کی تھیلی میں مشترکہ مظلوم کے طور پر بیٹھنا اور پناہ لینا چاہتے تھے۔ ایک بار پھر اس ذہنیت کا اْبھار اور اظہار پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اور غزہ بورڈ میں اسرائیلی پولیس کا ہاتھ بٹانے کے خواہش مندوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔ یہ ایک مائنڈ سیٹ کا عکس ہے اور اس دورے کے نتائج سے پہلے اس دورے کی تمہید اور ابتدائیہ ہی چونکا دینے والا ہے۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ یہ ایک تاریخی دورہ ہے۔ وہ کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب کریں گے، جو ایک علامتی اہمیت کا حامل اقدام ہے اور اسرائیل اور ہندوستان کے قریبی تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ تعلقات تیزی سے پروان چڑھے ہیں (بڑی ترقی کی ہے)۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں سب سے اہم یہ ہے کہ اسرائیل اور ہندوستان میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں جمہوریتیں ہیں، اور دونوں اپنے اپنے خطوں میں قدیم تاریخ کی حامل ہیں۔ ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کی اہمیت کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ سابق ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کرنل (ریٹائرڈ) ایرن لرمین نے اس ماہ یروشلم اسٹرٹیجک ٹریبیون میں لکھا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کا 2017 کے بعد پہلی بار اسرائیل کا دورہ کرنے اور پہلی بار کنیست سے خطاب کرنے کا فیصلہ ایک اہم سنگ میل ہے‘‘، جبکہ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مودی اور وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ذاتی تعلقات استوار کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کس طرح گزشتہ برسوں میں ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول اس تعلق کو مضبوط بنانے میں مختلف اہم مواقع پر باہمی تعاون نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے بعد اربوں ڈالر کے دفاعی نظام اور ’میک ان انڈیا‘ جیسے منصوبوں کے تحت تعاون کے انتظامات سامنے آئے۔ اس تعاون کو دیگر شعبوں بشمول معلومات کے تبادلے سے مزید وسعت ملی کیونکہ دونوں ممالک نے مختلف علاقائی چیلنجز کے حوالے سے مشترکہ بنیاد تلاش کی۔ ہندوستان اور اسرائیل کئی وجوہات کی بنا پر قدرتی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اہم وجہ دونوں ممالک کی قدیم اور بھرپور بھارت اور اسرائیل مختلف وجوہات کی بنا پر قدرتی اتحادی ہیں۔ ایک وجہ دونوں ممالک کی بھرپور تاریخ ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی (جمہوریت اور ہندو آبادی کے لحاظ سے)۔ دونوں ممالک میں آزادی کی تحریکیں جزوی طور پر برطانوی راج کے دوران تشکیل پائیں۔ برطانیہ نے 1858ء سے براہِ راست ہندوستان پر حکومت کی اور 17 ویں صدی سے جنوبی ایشیا میں اس کا کردار تھا۔ مشرق وسطیٰ میں بھی برطانیہ کے خطے کے ساتھ طویل تعلقات تھے اور پہلی جنگ عظیم کے بعد اس نے فلسطین پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اگرچہ اس زمین پر، جو بعد میں اسرائیل بنی، برطانوی راج کا دورانیہ کم تھا، لیکن وہاں بھی وہی طریقے اپنائے گئے جو ہندوستان میں استعمال کیے گئے تھے۔ اس میں مختلف برادریوں کے مطالبات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش شامل تھی۔ ہندوستان میں اس کے نتیجے میں تقسیم کا منصوبہ بنا جس سے پاکستان اور بھارت کا قیام عمل میں آیا۔ اسرائیل میں تقسیم کے منصوبے کے نتیجے میں عرب ریاستوں نے ملک پر حملہ کر دیا۔1948ء میں جنگ کے درمیان آزادی حاصل کرنے کا یہ مشترکہ چیلنج بھارت اور اسرائیل کو متحد کرتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کو مختلف طریقوں سے جوڑتا ہے۔ اسرائیل کی آزادی کو خطے میں بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا گیا، جہاں عرب ریاستوں نے ملک کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسرائیل کو 1950ء سے 1970ء کی دہائی تک ترکیہ، ایران اور افریقا کے ممالک کے ساتھ کام کرتے ہوئے، گردونواح (پردہ) کی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنی پڑی۔ بھارت نے آگے بڑھنے کا ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ ہندوستان کے لیے برطانوی تقسیم کا منصوبہ پیچیدگی میں فلسطین کے لیے بنائے گئے منصوبے سے ملتا جلتا تھا

جنوبی ایشیا میں، تصور یہ تھا کہ ایک ایسا پاکستان بنایا جائے جس میں مشرقی اور مغربی حصے شامل ہوں۔ موجودہ بنگلا دیش 1971ء تک پاکستان کا حصہ تھا۔ اس نے بھارت کو ایک بڑی حد تک مسلم ملک کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔ فلسطین کے لیے تقسیم کا منصوبہ بالکل اسی طرح ختم نہیں ہوا۔ فلسطین کے لیے برطانوی تقسیم کے منصوبے میں ایک ایسی عرب ریاست کا تصور کیا گیا تھا جس میں غزہ، مغربی کنارے، گلیل کے کچھ حصے اور یافا شامل ہوں، جبکہ یروشلم میں ایک بین الاقوامی زون ہو۔ یہ بات بڑے پیمانے پر تسلیم نہیں کی جاتی کہ برطانوی تقسیم کے منصوبوں نے بنیادی طور پر ان ریاستوں کو لامتناہی جنگ میں جھونک دیا۔ یہ برطانوی مقصد نہیں رہا ہوگا، لیکن نتیجہ یہی نکلا۔ نقشہ دیکھنے والا کوئی بھی شخص یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ 1947ء کے منصوبے میں برطانیہ نے فلسطین کے لیے جس عرب ملیشیاؤں کی جانب سے ملک پر حملے اور فرقہ وارانہ تشدد کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ یہودی زیرِ زمین فوجوں، ہگاناہ اور ارگون کو شدید مشکلات کے باوجود طاقت کے ذریعے ملک پر قبضہ کرنا ہوگا۔ وہ کامیاب ہوئے اور 1948 کے آخر تک انہوں نے عرب بے قاعدہ ملیشیاؤں کے ساتھ ساتھ مصریوں کو بھی شکست دے دی تھی۔ اسرائیل بننے والے علاقے سے لاکھوں عرب فرار ہو گئے۔ انہوں نے اردن کی فوجوں کو بھی روک دیا تھا۔ اس صورتحال نے کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کی بنیاد رکھی جس کا خاتمہ 1979 میں مصر کے ساتھ امن معاہدے سے شروع ہوا۔ ہندوستان کی آزادی کی راہ بھی خونریز تھی۔ تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے اور مہاجرین بن گئے، مسلمان پاکستان اور ہندو ہندوستان کی طرف بھاگے۔ ریڈ کراس کی رپورٹ کے مطابق، دس لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے ہوں گے۔ اس نے پاکستان کے ساتھ کئی دہائیوں کی جنگ کی بنیاد بھی رکھی۔ اس تنازع کا کچھ حصہ کشمیر میں ہوا، جو ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر متنازعہ علاقہ ہے۔
ہندوستان کو کئی دہائیوں سے اسلام پسند انتہا پسندوں کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ ہندوستان پر دہشت گردانہ حملے، جو اکثر پاکستان سے جڑے ہوتے ہیں، ہندوستان میں یہودیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2008 میں ممبئی پر حملے میں مقامی ’چاباد‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سرد جنگ کے دوران، ہندوستان غیر جانبدار تحریک کا رہنما تھا۔ اس طرح وہ اکثر اسرائیل کی تنقید میں عرب ریاستوں کا ساتھ دیتا تھا۔ یہ صورتحال اس وقت بدلنے لگی جب ہندوستان میں کانگریس پارٹی الیکشن ہارنے لگی اور دائیں بازو کی بی جے پی، جو ہندو سیاست میں زیادہ جڑی ہوئی ہے، اقتدار میں آگئی۔
اسرائیلی سیاست نے بھی بائیں بازو کی لیبر صہیونیت سے آج کی دائیں بازو کی سیاست کی طرف اسی طرح کی تبدیلی دیکھی۔ کوئی بھی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ یہ فطری پیش رفت ہیں کیونکہ لوگ آج مذہب اور قوم پرستی کو زیادہ اپنا رہے ہیں۔ ہندوستان اور اسرائیل جغرافیائی سیاست کے ذریعے بھی تیزی سے جڑ رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک خطے کے دو کناروں (کتابوں کے سہارے) پر بیٹھے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی ایشیا کی سرحد بنیادی طور پر اسلامی مشرق وسطیٰ سے ملتی ہے جو پاکستان سے ترکی تک پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل دوسرے کنارے پر ہے، جو بحیرہ روم پر واقع ہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آج، یہ قدرتی تعلق انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ اس کی دیگر شکلیں بھی تجویز کی گئی ہیں، جیسے کہ انڈیا، اسرائیل، امریکا اور متحدہ عرب امارات (UAE) کا I2U2 گروپ۔

آج اسرائیل کی قیادت اسرائیل اور انڈیا کے درمیان اس تعلق کو تیزی سے اہم سمجھتی ہے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ایران کی طاقت میں کمی کے ساتھ اسرائیل کو ترکی اور دیگر ممالک کی طرف سے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انڈیا کی حکمت عملی مختلف ہو سکتی ہے۔ یہ دوسرے ممالک کے ساتھ تصادم نہیں رکھتی، بلکہ پرامن تعلقات استوار کر رہی ہے جو مشرق اور مغرب میں توازن پیدا کرتے ہیں۔ اسرائیل کی سیاسی قیادت زیادہ تصادم کی حامل ہے۔ تاہم، یہ اسرائیل اور انڈیا کے تاریخی چیلنجوں میں بھی جڑا ہوا ہے۔ انڈیا غیر جانبدار تحریک کا رہنما رہا ہے اور خود کو مشرق اور مغرب کے درمیان توازن رکھنے والا سمجھتا ہے۔ امریکا کا قریبی اتحادی اسرائیل خود کو زیادہ تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک آج اور مستقبل میں قدرتی اتحادی ہیں۔

جناب سید عارف بہار آزاد کشمیر کے معروف صحافی دانشور اور مصنف ہیں۔کئی پاکستانی اخبارات اور عالمی شہرت یافتہ جرائدمیں لکھتے ہیں۔تحریک آزادی کشمیر کی ترجمانی کا الحمد للہ پورا حق ادا کر رہے ہیں ۔کشمیر الیوم کیلئے مستقل بنیادوں پر بلا معاوضہ لکھتے ہیں

سید عارف بہار