تاریخ سے محروم نئی نسل

تربیت تاریخ سے محروم نئی نسل

شہزاد منیر احمد

ہمارا معاشرہ اس قدر کھل کر بکھر گیا ہے کہ کسی سنجیدہ مزاج فرد کا اس سے نظر بچا کر گزر جانا مشکل ہے، تماش بینوں کی بات اور ہے۔ میں اپنے ماضی کو اپنے حال میں مدغم کر کے رہ رہا ہوں ، پرانی روایت کی کسی کے ہاتھوں جدت پسندی کے نام پر شکل مسخ ہوتے دیکھ کر مجھ سے خاموش نہیں رہا جاتا ۔لیکن سوال خود سے کرتا ہوں کہ میری اوقات ہی کیا ہے۔ ہاں کبھی تھی، تو میں اس کا قرض اسی طرح اسی کے لہجے میں اسی وقت اتار دیتا تھا۔ اب تو پنجابی زبان والی’’ ہانڈی ابلے تو اپنے ہی کنارے جلاتی ہے‘‘۔ در اصل ، قومی زندگی کے عقیدے اور نظریہ حیات کے بعد دو اہم ترین پہلو ہوتے ہیں جنہیں بڑی سمجھ داری اور ہنر مندی سے محفوظ بنایا جانا ہوتا ہے۔ ایک قومی تعلیم ، زبان ، نصاب اور معلمین کا انتخاب ۔دوسرا معاشرتی زندگی کے قوانینِ و ضوابط و دیگر اصول ۔ یعنی آئین کی تشکیل۔ کیونکہ معاشرتی زندگی کا اغاز بھی آئینی دہلیز سے شروع ہوتا ہے اور اختتام بھی قانونی تشفی و طمانیت پر ہوتا ہے۔۔ All is well that ends well ۔ہندوستان پرانگریزوں کے جابرانہ تسلط اور انگریز پارلیمنٹیرین لارڈ میکالے کی نافذ کردہ تعلیمی پالیسی کے باعث ہندوستان کی مقامی زبانوں، سنسکرت، عربی فارسی اور اُردو کو مکمل مسترد کر کے انگریزی زبان کو سرکاری و دفتری زبان قرار دیا گیا ۔ انگریزی زبان جاننے پڑھنے لکھنے والوں کو انگریزوں کی سرپرستی حاصل ہوئی تو ان کے وارے نیارے ہو گئے ۔ تھوڑے ہی عرصے میں ہندوستان کے مقامی باشندے اپنی زبانوں کے اعتبار سے شناخت کھونے کے صدمے کو بھول بھال گئے اور معمول کی سرگرمیوں میں جت گئے۔،(مطلب کہ نئی زندگی پر مطمئن رہ کر جینا سیکھ گئے، گویا غلامی قبول کر لی ) دور اندیش اور بصیرت بھرے لوگوں کو احساس زیاں نے چین سے رہنے نہ دیا ۔ تحریک پاکستان کی کوئی سو سالہ کوششوں ، علامہ اقبال کی حقیقی نظریاتی قیادت اور محمد علی جناح کی معتبر سیاسی و قانونی رہنمائی میں ، ہندوستان کے بٹوارے کے نتیجے میں دو خود مختار ریاستیں ، بھارت اور پاکستان 14اور15اگست 1947 کو معرض وجود میں آئیں ۔اس انقلابی تبدیلی کے بعد ، حکومت پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے لیے لازم ہو گیا تھا کہ وہ بدلے ہوئے سماجی و ثقافتی اور سیاسی حیثیت و حالات کے تابع اپنا آئین اور دیگر قوانین و ضوابط انتہائی پہلی ترجیح کے طور پر تشکیل دیتے۔ بالخصوص اس اعتبار سے کہ ’’ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘‘ لیکن افسوس کہ وہ لوگ جو انگریزوں کے دور حکومت میں مراعات یافتہ طبقے قرار پائے تھے، انہیں اتنی بڑی ناممکن نظر آتی تبدیلی دنیا کے نقشے پر حقیقی شکل میں قائم ہوتی پسند نہ آئی ۔ وہ خود کو ریاستی اختیارات اور مراعات سے سبکدوش ہونے یا از خود پاکستان کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کی بجائے لایعنی بحث مباحثوں، خود فریبی اور اندیشوں میں ایسے پھنس گئے کہ وہ اپنی قومی زبان کا نہ تعین کر سکےاور نہ نفاذ ۔ اگرچہ قائد اعظم محمد علی جناح نے چھ ماہ کی مسلسل غور و خوض اور تحقیق کے بعد اُردو کو قومی زبان قرار دیا تھا ، اسے بھی مگر حکمران نافذ نہ کر سکے۔ 9سال تک تو آئین ہی نہ بنا پائے ۔وہ پنجابی والے ’’پانی سے پراٹھے پکاتے رہے،،۔ اور عوام کو سہانے خواب دکھاتے رہے۔اس کے برعکس ، بھارت کی نئی حکومت نے اپنے آئینی ڈھانچے کو مضبوط بنایا، فوجی نظام کو قوت بخش اور DISCIPLINED ادارہ بنایا ، زرعی زمینوں کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی۔ دیگر ادارہ جاتی معاملات کو بھی قانونی طور پر چلایا۔ پاکستان کے تجربہ کار اہل و دور اندیش سیاست داں بھی نفسا نفسی اور چھینا جھپٹی میں کود پڑے اور بیکار سیاسی مخالفین کو توہین و تذلیل کا نشانہ بناتے رہے جس کی وجہ سے ریاست پاکستان میں کوئی بھی ڈھنگ کی شروعات سامنے نہ آئیں۔ سرکاری اہل کاروں نے خود کو اور اپنے اقرباء و لواحقین اور اولادوں کو۔ مضبوط بنیادیں فراہم کیں ۔ ہم دونوں ذمہ داریوں، قومی تعلیم کی اہمیت اور معاشرتی زندگی کی تربیت کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دے سکے ۔ قوم بحیثیت مجموعی، نئی نسل جوان اور بوڑھوں کو بے لگام چھوڑ کر خودکشی کے راستے پر چل پڑی۔ معاشرتی زندگی میں دوسری اہم ترین اکائی شادی ہوا کرتی ہے۔ ہم یہ نکتہ ہی بھول گئے کہ مرد اور عورت کے اس محترم فطری جوڑ سے حقوق و فرائض کی عملی بحث کا چھیڑنا ویسے ہی لازم ہوگا جیسے جنت کی۔معاشرت میں مکین حوا اور آدم کے درمیان پیدا ہوا تھا۔ آج یہ دو ہیں کل یہ لاتعداد و بے شمار ہوں گے ۔ لہذٰا اس شادی شدہ جوڑے کو ، رہن سہن ، کھانے پینے ، دیگر شرائط کی پابندی کے ساتھ احتیاط و عدل و انصاف کا برتاؤ سمجھانا بہت ضروری ہے ۔ہمارا اس اہم ترین ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ معاشرے میں آدمیت میں چین نظر اتا ہے نہ انسانیت کی معراج نہ عدل وانصاف کی پاسداری ۔۔۔ قومی حیثیت، آزادی ،قومی شناخت اور آزاد مملکت خداد داد پاکستان کو قائم کرنے والے قائدین اور اکابرین کو پروقار خراج عقیدت پیش کرنے کے اعتبار سے یہ تاریخی واقعہ بطور یاد دہانی عرض کرتا ہوں۔ قائد اعظم محمد علی جناح11 ستمبر 1948 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے ۔ ان کی قبر پر مزار بنانے کا کام اس قدر سست رفتار تھا کہ 12 سال لگ گئے ،مزار مکمل نہ ہوا ۔ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کرنے کے سلسلے میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو پاکستان آئے ۔ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر جانے کی خواہش کی اور وہ وہاں گئے ۔ اگلے روز وہ صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان سے ملے اور قائد اعظم کے زیر تعمیر مقرے کی زبوں حالی کے بارے میں (طنز تھی یا دلی افسوس) جنرل سے کہا کہ اس میعار و سطح و حیثیت کے لیڈر کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کر دلی دکھ ہوا ہے۔ پھر 1960 میں صدر پاکستان کی مداخلت سے مقبرہ قائد اعظم محمد علی جناح کی تعمیر و تکمیل میں تیزی آ گئی اور یوں 70کی دہائی میں ہمارے پیارے بابائے قوم کا مقبرہ مکمل ہوا ۔

شہزاد منیر احمد(گروپ کیپٹن ریٹائرڈ )اسلام آباد کے معروف ادیب ،شاعر اور کالم نگار ہیں

شہزاد منیر احمد