ملک عبد اللہ ۔۔۔تحریک اسلامی کی معروف و متحرک شخصیت
اویس بلال
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
یکم جنوری 2026ء کو سابقہ امیرِ تحصیل جماعت اسلامی بانڈی پورہ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے ممتاز دینی، فکری اور حریت پسند رہنما ملک محمد عبداللہؒ طویل علالت کے بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ملک محمد عبداللہؒ، جو ابومسلم عبد اللہ کے نام سے بھی معروف تھے، تحریک آزادی کشمیر کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کئی کتب کے مصنف، تاریخِ کشمیر کے گہرے مطالعہ کار اور ریڈیو صدائے حریت جموں و کشمیر کے اولین براڈ کاسٹر اور بانیوں میں شامل تھے۔ تحریکِ آزادی کشمیر کے پیغام کو آواز، قلم اور فکر کے ذریعے دنیا تک پہنچانے میں آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
بھارتی ظلم و ستم کے باعث تحریکِ آزادی کے اوائل ہی میں آپ نے ہجرت کر کے بیس کیمپ آزاد کشمیر کا رخ کیا۔ ایک پڑھے لکھے، خوشحال اور معزز گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود آپ نے سادہ زندگی اور جہدِ مسلسل کو اپنا شعار بنایا۔ صحافت کے ساتھ ساتھ مجاہدین کی تعلیم و تربیت، فکری رہنمائی اور تنظیمی ذمہ داریاں پوری دیانت اور استقامت سے انجام دیتے رہے۔ بیس کیمپ میں آپ نے کئی اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور تحریکِ حریت جموں و کشمیر کے نمائندے کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔

آپ کی شخصیت علم و حلم کا حسین امتزاج تھی۔ گفتگو میں گہرائی، دلائل میں قرآن و سنت کی روشنی، اور انداز میں وقار نمایاں تھا۔ دروسِ قرآن ہوں، فکری نشستیں ہوں یا مشاعرےآپ ہر محفل میں اپنے کلام، مدھر اور مانوس آواز اور مدلل فکر سے سامعین کے دل گرما دیتے تھے۔ نوجوان نسل میں تاریخِ کشمیر، تحریکِ اسلامی اور حریتِ فکر کی شمع روشن کرنے میں آپ کا کردار نمایاں رہا۔مجھے ذاتی طور پر آپ سے کئی ملاقاتوں کا شرف حاصل رہا۔ جب بھی ملتے، خلوص اور پرتپاک انداز سے استقبال فرماتے۔ سنہ 2000ء میں مجھے آپ کے قریب رہ کر سیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے آپ کو ایک اہم ادارے میں تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل پایا،تحریر، تقریر اور نشریات کے ذریعے جدوجہد کرتے ہوئے۔
آپ خوش مزاج مگر سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے، خوبصورت اور شائستہ مزاح بھی کر لیتے تھے۔ فرض شناسی، نظم و ضبط اور اخلاص آپ کی نمایاں صفات تھیں۔بقول کمانڈر عمر جاوید صاحب ” ملک محمد عبداللہ ابنِ مسلم نہایت ذہین، ہمہ وقت کارکن، تاریخ دان، مقرر اور خطیب تھے۔ جماعتِ اسلامی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور تحریکِ اسلامی کی معروف و متحرک شخصیت تھے۔ریڈیو صدائے حریت جموں و کشمیر میں آپ کے رفقائے کار، مرحوم سلیم ناز بریلویؒ اور مسعود احمد تانترےؒ کے ساتھ مل کر جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا” ۔
ملک محمد عبداللہؒ کی زندگی جہدِ مسلسل کی عملی تفسیر تھی۔ موت کا جام تو ہر ذی روح نے پینا ہے، مگر یہ سعادت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی کہ ایمان کی حالت میں، نماز کی پابندی کے ساتھ، ہجرت کی زندگی میں رب سے جا ملے۔ آخری ایام میں بھی نماز کے اشارے، ہاتھ باندھنا اور ہاتھ اٹھانا بھی یہ مناظر آپ کے ایمان کی گواہی دیتے ہیں۔آپ کی نمازِ جنازہ بعد از نمازِ عصر اسلام آباد میں ادا کی گئی، جس میں ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے کنوینئر غلام محمد صفی اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین و امیرِ حزب المجاہدین سید صلاح الدین احمد نے آپ کی دینی، فکری اور تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا”ایک چراغ بجھ گیا، مگر اس کی روشنی دیر تک راہ دکھاتی رہے گی”




اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، ان کی تمام خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ہمیں بھی ایمان پر خاتمہ نصیب کرے۔اللہ تعالیٰ تمام شہدائے جموں و کشمیر اور اس عظیم جدوجہد میں حصہ لینے والوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔۔ریڈیو صدائے حریت جموں و کشمیر تحریک آزادی کشمیر کے صوتی محاذ کا ایک درخشاں اور فیصلہ کن مرکز رہا ہے اس اہم ادارے سے وابستہ وہ چار نابغہ روزگار شخصیات شاعر سلیم ناز بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ، شہید کمانڈر مسعود احمد تانترے ؒ اور شہید کمانڈر ضیاء الرحمن اور ملک محمد عبداللہ عرف ابن مسلم ایسی قیمتی ہستیاں تھیں جنہوں نے اس محاذ کو بحسن و خوبی سنبھالا بلکہ چار چاند لگادئیے۔ ۔ ریڈیو صدائے حریت جموں و کشمیر کے تمام ساتھی ، شاگرد اور دوست آج متفقہ طور پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ ۔ : کہاں سے لائیں ہم ایسے ہیروں کو ؟ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے قلم کو شمشیر ، زبان کو اذاں اور آواز کو اعلان حق بنا دیا ۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔’’ یعنی اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے ، یہ چاروں عظیم ہستیاں اس آیت مبارکہ کی عملی تفسیر تھیں ۔ انہوں نے اپنے قلم ، اپنی زبان اور اپنے کردار کے ذریعے کشمیری اور افغان مجاہدین کے دلوں میں عزم ، حوصلہ اور استقامت کی شمع روشن کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہء حق کہنا ہے‘‘ ریڈیو صدائے حریت جموں و کشمیر انہی نفوسِ قدسیہ کی بدولت ، جہاد بااللسان ، جہاد بالقلم اور جہاد بالقتال کا عملی مظہر بنا۔ ان کی آواز جیلوں کی تاریکیوں سے لے کر میدان کار زار تک گونجتی رہی ۔ اسی صدا کو سن کر بے شمار نوجوانوں نے راہ جہاد اختیار کی اور سینکڑوں مجاہدین نے شہادت کے عظیم مرتبے کو پالیا ۔ شہید کمانڈر مسعود احمد تانترے ؒ اور کمانڈر ضیاء الرحمن شہید نے اپنی تحریروں اور آواز کے بعد اپنے خون سے تاریخ کشمیر پر حق کی مہر ثبت کی ۔ قرآن کریم میں شہداء کے بارے میں فرمایا گیا ۔’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو ، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں ۔’’ ان عظیم ہستیوں کے لئے چند اشعار بطورِ خراجِ عقیدت: یہ چراغ راہ وفا تھے ، یہ چراغ بجھے نہیں ۔۔۔۔۔ لہو نے لکھ دی تاریخ ، صدا کبھی رکے نہیں ۔ قلم ان کا مجاہد ، زبان تھی شمشیر۔ جو بول اٹھے تو لرزے ، ستم گروں کے ضمیر ۔۔ کہاں سے لائیں ہم ، ایسے وفا شناس لوگ ۔۔ جو مر کے بھی بنے رہیں قوم کے خاص لوگ۔ اللہ تعالیٰ ان چاروں عظیم شخصیات کی مساعی جمیلہ ، قربانیوں اور جدو جہد کو شرف قبولیت عطا فرمائے ، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے آمین یارب العالمین ۔







