شہزاد منیر احمد
تحریک آزادی کشمیر دنیا بھر میں طویل ترین تحریک شمار ہوتی ہے۔ اگر1947میں ہندوستان کے قانونی تقسیم کے معاہدے پر خلوص دل اور احساس ذمہ داری سے متعلقہ ممالک اور ہندوستان میں برطانوی وائسرائے دیانت داری سے عمل درآمد کرا دیتے تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کا نقشہ زیادہ تر پر امن ریاستوں سے بھرا ہوتا ہے۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔ اس کی وجہ ہنود و یہود و نصارٰی اور مسلمان قوم کے درمیان صدیوں پرانا مذہبی تعصب اور سیاسی نظریاتی اختلاف ہے۔ اہل دانش کہتے ہیں کہ کسی مسئلے کے حل کیلئے منصوبہ اور کوششیں بے شک خوشنما اور اصولاً موثر نظر آتی ہوں لیکن ان پر عملدرآمد اگر بے اصولی اور بے ڈھنگے انداز میں کیا جائے تو نتائج کبھی بھی نفع بخش نہیں نکلتے۔کشمیر کی آزادی تو آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں ہندوؤں سے جنگ لڑ کر حالات نے یقینی بنا دی۔ مگر ہندوستان میں انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خباثت نے کشمیر کا حق خودارادیت اس ڈھنگ سے الجھایا کہ آج تک کشمیری اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
طاقت کوئی ٹھوس شے نہیں ، یہ فقط احساس ہے جو ہوا کی طرح سمت بدلتا رہتا ہے۔ انسان مگر اسے اپنی جمع و تفریق میں قائم و دائم سمجھ کر زندگی کے سفر پر رواں دواں رہتا ہے ، بالخصوص بادشاہ اور شاہ کے درباری۔ یہ رویہ فطرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔اس اصول شکنی کا خمیازہ کبھی آدمی کو اکیلے بھگتنا پڑتا ہے اور کبھی پوری قوم جھیلتی ہے۔ گویا ،مسلمہ اصول کا انفرادی سطح پر توڑنا غلطی ہے ۔
بین الاقوامی سطح پر اس کی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ اگر بڑا ملک غلطی سے کسی چھوٹے ملک پر چڑھائی کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔ جیسے پہلی عالمگیر جنگ سے پہلے ہٹلر اور مسولینی نے کیا تو انہوں نے غلطی کی۔ جب سارے ممالک اتحادی بن کر جنگ میں کود پڑے تو انہوں نے غلط کیا۔ کروڑوں افراد جنگ میں مارے گئے، کروڑوں زخمی اور معذور ہوئے۔ ملکوں کی تباہی اور بربادی میں اربوں کھربوں کی تاریخی عمارتیں اور جائیدادیں ملیا میٹ کر دی گئیں ۔ انسان مگر اتنا بے حس اور حقیقت ناشناس واقع ہوا ہے کہ نہ کوئی سبق خود سیکھ کر سدھرا نہ اوروں کو سکھایا اور سمجھایا۔روس 1979 میں افغانستان پر چڑھ دوڑا، دس سال ذلت بھگتی اور واپس گیا۔نتیجہ بربادی۔ پھر امریکہ نے اپنا شوق چوہدراہٹ آزمایا اور افغانستان میں افغانوں کے ہاتھوں 20 سال تک خود بھی ذلیل و خوار ہو اور دنیا کو بھی اذیتوں میں رکھا مگر ناکام لوٹا۔ نتیجہ بربادی۔سوال یہ ہے طاقتور ممالک ایسا کیوں کرتے ہیں۔سادہ سا جواب یہی ہے کہ انہیں اپنے تزک و احتشام کی نمود و نمائش کے ساتھ ” نام وری” کا شوق، اس طرح کی تذلیل میں دھکیلتا ہے۔
آپ نے کبھی غور کیا کہ عدل و انصاف کے بارے کہیں بھی کوئی تنظیم تشکیل دی جائے ، طاقتور ممالک عموماً اس کے ممبر نہیں بنتے ۔ وہ اس کی رکنیت اس لیے نہیں لیتے کہ جب کہیں اور جہاں کہیں بین الاقوامی معاملات اور جھگڑوں پر فیصلہ ان کے مفاد کے خلاف ہو تو وہ اس سے بچ نکلیں۔ گویا ان کے دلوں میں ایک تصوراتی مفادات کے خلاف ممکنہ رد عمل ہوتا ہے جو خطرہ اور خوف کہلاتا ہے۔ خوف کتنا ظالم ہوتا ہے کہ وہ مخالف اور دشمن پر ہی ظالمانہ طریقے نہیں آزماتا ، اپنے پر بھی خودکش دھماکہ کر دیتا ہے۔ 1945 میں جنگ عظیم کا فاتحین نے جرمنی سے لٹنے پٹنے اور تباہ برباد ہونے کا انتقام یوں لیا کہ انہیں دو حصوں میں ، دو رقیبوں دو حریفوں کی طرح بانٹ کر” مشرقی جرمنی” اور “مغربی جرمنی” میں بدل دیا۔ خوف یہ تھا کہ جرمن پھر سے متحد نہ ہو جائیں ۔ جرمن چونکہ تب تک، نٹشے کے پڑھائے جادوئی سبق کے احساس سے مرعوب اور متحرک تھے کہ جرمن لوگ دنیا میں بہترین نسل ہے ۔ایسا خوفناک فیصلہ اور ایسی کارگر دھمکی، یورپی اتحادی ممالک پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کے خلاف کامیابی سے آزما چکے تھے ۔ لیکن جرمن دور اندیش تھے اور ہیں وہ1990 کی دہائی میں اتحاد کر کے پھر ایک جرمنی بن گئے۔ آپ کو یاد ہوگا کہہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے قانون بنا کر ، امریکی اداروں کو دوسرے ممالک میں سیاسی مداخلت کرنے یا رجیم چینج کرنے جیسے افعال قبیحہ کی ممانعت کر دی تھی۔ لیکن طاقت پرست طاقتوروں نے اپنے ہی صدر( کینیڈی) کو قتل کروا دیا تھا۔ یہ تھا غیر اخلاقی سیاست کا نمونہ اور عملی مظاہرہ ۔
ذوق نے کہا تھا:-
اے ذوق دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
امریکہ مگر پھر بھی باز نہ آیا ۔
1988 میں پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق بہاولپور میں فوجی ٹینکوں کے ٹیسٹ آپریشن میں گئے تو پاکستان میں امریکی سفیر رافیل کو بھی ساتھ لے گئے ۔ ضیاء الحق کو ہوائی جہاز میں کریش کروانے والوں نے اپنا ” آپریشن” کینسل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ لہذا صدر جنرل ضیاء الحق کا جہاز سی 130 جب بہاولپور سے واپسی کےلئے اڑا تو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئےاڑا دیا گیا ۔ پوچھا امریکی سفیر کا کیا ہوا، جواب تھا وہ بھی گیا۔

اتنا بڑا حادثہ، اہم ترین واقعہ، بلکہ قومی المیہ ، مگر نہ احتجاج ،نہ دکھ نہ درد نہ غم نہ سوگ ، نہ پچھتاوا نہ شرمندگی نہ ندامت “۔ وہ سب قصوں ، کہانیوں ، لطیفوں اور میراثیوں کی جگتوں کی نظر ہو گیا۔ اور پھر بھی ہم خوشی سے گاتے جھومتے اور لہراتے ہیں۔ ” ہم زندہ قوم ہیں۔” زندہ قوموں کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا، اپنی تاریخ کو اپنے عمل سے جوڑنے کے لئیےہمیشہ بے تاب رہتے ہیں۔ بالکل ایسے جس طرح آج روسی پیوٹن تین سو سال بعد ، کبھی اپنا حصہ ہونے والے امریکی الاسکا کو امریکہ کے ہاتھ بیچ دیا تھا، میں امریکی صدر ٹرمپ سے 15 اگست 2025 کو ملاقات کرے گا ۔
لکھنے والے نے صحیح لکھا کہ تاریخ تو بڑی چوکس، چوکنی اور کھلی آنکھوں سے دیکھتی سنتی ہے ، البتہ ، تاریخ بنانے والے ظالم مزاج اور لکھنے والے طاقتور مدیر اسے لکھتے وقت پہلے اپنے مفادات کے آئینے میں سنوارتے ہیں اور پھر لکھتے ہیں۔ یہی قلم کاروں کا معصوم نظر آتا گناہ ہے ، جس کے آئندہ نسلوں پر پڑھنے والے مضر و مہلک اثرات سے لکھاری بے خبر یا بے نیاز نظر آتے ہیں۔
کشمیری سیاسی قیادت ، سیاسی جماعتوں ، اکابرین ، ججز ، وکلاء اور دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو یہ حقیقت اب سمجھ آجانی چاہیے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو روایتی Procrastination ، گو سلو پالیسی سے حل کرنے کی کوششیں دکھا رہی ہے۔ کوششیں کتنی ہی معصوم، موثر اور خوشنما ہوں لیکن اگر ان کے عملی اقدامات کرنے میں اگر خلوص نیت مفقود ہو تو نتائج کبھی سود مند نہیں ہوا کرتے۔ جنگ عظیم اول سے پہلے کی جنگی تباہیوں اور لاکھوں انسانوں کی ہلاکتوں پر پریشان عالمی راہنماؤں نے آئندہ ایسی انسان کش جنگ روکنے کے ارادوں سے لیگ آف نیشنز بنائی تھی۔ لیکن چونکہ اس میں کچھ ممالک ( صرف دو ) کی نیک نیتی شامل نہ تھی اس لیے جنگ عظیم اول کو وارد ہونے سے نہ رو ک سکے۔
پھر جنگ عظیم اول کے خاتمے کا معاہدہ بھی انتقامی جذبوں پر مشتمل طے کیا گیا تھا۔ لہذا دوسری جنگ عظیم ہوئی اور تو اس نے دنیا بھر کے نقشے بدل کر رکھ دئے۔دنیا نے امریکی ایٹم بم سے پل بھر میں لاکھوں جاپانی معصوم شہری جلا کر راکھ کر دینے کا منظر دیکھ لیا ۔ جب اقوام متحدہ تشکیل دی گئی تھی تو بھی وہاں پانچ ممالک کو ویٹو پاور کا اختیار دے کر اقوام متحدہ کو ناکام عالمی ادارہ بنانے کی بنیاد رکھی گئی ۔ دو طاقتور سیاسی بھینسوں کو سرد جنگ کے نام پر لڑنے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ وہ لڑتے رہے اور چھوٹے ممالک ترقی پذیر ریاستیں مینڈکوں کی طرح کچلی جاتی رہیں۔
کشمیر کا مسئلہ حق خودارادیت 1960کی دہائیوں تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے قول و فعل کے ہم اہنگ رہا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ماحول میں جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے پر امید اور تیار رہتے تھے ۔اور مقامی اسمبلی الیکشنوں کی طرح اس کے انتظار میں رہا کرتے تھے، صرف تاریخ کا اعلان باقی تھا۔ لیکن اب تو یہ سوال بن کر رہ گیا ہے کہ اس طائر لاہوتی کو کون اغواء کر کے لے گیا۔ کیوں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اپنی قوت نافذہ سے کام نہیں لیتی ۔
کشمیری سیاسی قیادت کو اب اپنے حلیفوں اور ہمدردوں کی سپورٹ پر کھل کر مذاکرات کرنے چاہیں۔ پچھلی کوئی ایک کوشش بھی کسی ادارے کی طرف سے کی جانے والی کامیاب نہیں ہونے دی گئی ۔ ہمیں ان خفیہ اور دوست نما دشمنوں کے کردار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیری عوام نے اپنی آزادی ، اپنے وطن کی آزادی کی خاطر کسی طرح کی قربانی،( جانی ، مالی، اخلاقی ، سیاسی) دینے سے ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے۔ اور آئندہ بھی یہی جذبہ اپنی منزل مقصود پانے تک قائم رہے گا ۔ انشاللہ ۔ اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ ہے تمہی غالب رہو گے اگر تم سچے ہو۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
جناب شہزاد منیر احمد(گروپ کیپٹن ریٹائرڈ)راولپنڈی / اسلام آباد کے معروف ادیب، شاعر،مصنف اور کالم نگار ہیں،کشمیر الیوم کے لیے مستقل بنیادوں پر بلا معاوضہ لکھتے ہیں

شہزاد منیر احمد






