فاروق قیصر
کشمیر کی سرزمین اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ان گنت عظیم سپوتوں کی داستاتوں اور یادوں کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ شجاعت کی ان داستانوں میں کچھ ایسے کردار بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے یقین، حوصلے اور عزم کے ساتھ اپنی پہچان قائم کی۔ وقت گزرنے کے باوجود ان کی یادیں دلوں میں زندہ رہتی ہیں اور ماضی کے دریچوں سے جھانکتی محسوس ہوتی ہیں۔ایسےہی ایک داستان ِشجاعت شہید بشیر احمد ڈار المعروف کمانڈر طارق الاسلام کی ہے، جنہیں ہم سے بچھڑے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر ان کا ذکر آج بھی احساسات کو تازہ کر دیتا ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف پہلو ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کرتے ہیں جو تعلیم، نظم و ضبط اور اپنے نظریات کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔اس عظیم سپوت کے بارے میں چند سطور قلمبند کرنے کی کئی بارکوشش کی لیکن بس ایک ہی بات ذہن میں گردش کررہی تھی کہ جس شہیدنے اپنے لہوسے وضوکیا ہواور لہو میں نہا کر اللہ کے حضور پیش ہوا ن کا ذکر کیونکر ادا ہوسکےگا ۔میری اس حالت کی ترجمانی کسی نے کیا خوب کی ہے۔
اے راہروان راہ وفا ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں
تم جان پہ اپنی کھیل گئے اور ہم سے ہوئی تاخیر بہت

بشیر احمد ڈار کی پیدائش ضلع بارہمولہ کے گاؤں پلہالن میں ایک سادہ اور محنتی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد عبدالعزیز ڈار زمینداری سے وابستہ تھے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ہائر سیکنڈری تعلیم پٹن سے مکمل کی اور بعد ازاں ڈگری کالج بارہمولہ سے گریجویشن کی۔ علم سے شغف نے انہیں مزید تعلیم کی طرف راغب کیا اور انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ وہ کھیلوں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ کرکٹ کے ایک اچھے کھلاڑی کے طور پر وہ اپنے علاقے میں جانے جاتے تھے۔ 80 کی دہائی میں ایک موقع پر پلہالن گھاٹ کے ایک وسیع وعریض میدان جسے مقامی زبان میں (سدپوہ) کے نام سے لوگ جانتے ہیں ،جہا ں ایک وقت میں درجن کے قریب ٹیموں کے کھیلنے کی گنجائش ہروقت موجود رہتی تھی میں ایک ٹورنامنٹ جاری تھا جسمیں متعدد ٹیموں نے حصہ لیا تھا ان میں ایک ٹیم ہندو برادری کی بھی تھی جو فائنل میں پہنچ چکی تھی، آپ نے اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے اس اہم ٹورنامنٹ میں کامیابی بھی حاصل کی۔ یہ وہ دور تھا جب ہندو برادری سمیت مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی احترام کی فضا موجود تھی، اور کھیل کے میدان اس ہم آہنگی کی خوبصورت مثال پیش کرتے تھے۔،فائنل میچ کی خوبصورتی یہ تھی کہ مہمان خوصوصی کی حیثیت سےجماعت اسلامی کے رہنما شہید عبدالرشیدفرحت صاحبؒ پلہالن( امیر تحصیل پٹن جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر و بٹالین ایڈمنسٹریٹر حزب المجاہدین بارہمولہ )نے شرکت کی تھی ۔یہ مقابلہ ہندو ٹیم ہار گئی اور جس ٹیم کی قیادت بشیر احمد کررہے تھے فائنل کی ٹرافی شہید فرحت صاحب کے ہاتھوں وصول کی۔ اختتام پر شہید فرحت صاحب ؒ نے Runner up ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے کھیل کو سراہا اور ان کی جان توڑ محنت کوداد دئیے بغیر نہ رہ سکے ۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے کلمات میں کہا’’کہ ہار اور جیت کھیل کا لازمی حصہ ہیں، جنہیں کھلاڑیوں کو کھیل کی روح کے مطابق قبول کرنا چاہیے۔ یہ نظریہ کہ شکست و فتح اتفاق ہے، کھلاڑیوں کو حوصلہ دیتا ہے۔ کھیل نہ صرف ڈسپلن سکھاتا ہے، بلکہ صبر، محنت اور ٹیم ورک کی اہمیت بھی اجاگر کرتا ہے، جس سے ہارنے کے بعد بھی بہتری کی گنجائش رہتی ہے‘‘۔اس خطاب نے ہر کھلاڑی کو متاثر کیا اورجماعت اسلامی کی ان شخصیات کا ایک نمایاں پہلو نظم و ضبط، سنجیدگی اور قائدانہ صلاحیتیں ہی تھیں جن کی بدولت نوجوانوں کی ایک کھیپ ان کی دعوت کی طرف لپک گئی۔بشیر احمد ڈار بھی ان ہی جوانوں میں شامل تھے جو جہاد کشمیر کے اولین دور میں جماعت اسلامی کی آغوش میں تربیت پاکر جذبہ جہاد سرشار ہوئے ۔1990میں گردوپیش کے حالات سے أپ بخوبی واقف تھے ،تحریک آزادی کی جدوجہد شروع ہوچکی تھی ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس میں شامل ہوچکے تھے ،پوری قوم یکسو ہوکر بھارت کی غلامی سے نجات چاہتی تھی ،نوجوان دیوانہ وار جہادی صفوں میں شمولیت اختیار کررہے تھے ،آپ نے بھی جہاد کے اولین دور میں عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے خون کے دریا عبور کرنے کا تہیہ کرلیا اور اس خون کے دریا سے گزر کر ایک جنون اور ایک امنگ لے کر اپنی منزل پر پہنچ گئے ۔ مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے درمیان ایک منظم طرزِ عمل کو فروغ دینے کی کوشش کی۔آپ نہ صرف باصلاحیت تھے بلکہ نرم گفتار ، بااخلاق اور اصول پسند انسان تھے۔،آپ کےداعیانہ کردار، صاحب بصیرت اورصاحب الرئے اوصاف کی بدولت تنظیم نے آپ کو 1990میں برارکوٹ کیمپ کی امارت کی بھاری ذمہ داری سونپی جہاں سینکڑوں حزب المجاہدین کے سرفروش خیمہ زن تھے ،ان دنوں یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی جہاں آپ کےعلاوہ ایک اچھی خاصی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ قائدین موجود ہوں ،وہاں اس بھاری ذمہ داری کونبھانا آسان نہ تھا بلکہ ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔لیکن آپ نے نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو خوب طریقے سے نبھایا۔

1992معرکہ ہائی گام جس میں ناظم اعلیٰ تعلیم و تربیت حزب المجاہدین کمانڈر شہید سلیم اور کمانڈر یعقوب سجاد سمیت پانچ مجاہدین نے شہادت کا رتبہ پالیا۔محسوس ہوتا تھا کہ علاقے میں ایک خلا سا پیدا ہوا تھا لیکن علاقہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل مجاہدین سے خالی نہیں تھا ایک سے بڑھ کر ایک باصلاحیت کماندان کی کھیپ موجود تھی لیکن علاقے کی کمان سنبھالنے کا قرعہ فال کمانڈر طارق الاسلام کے نام نکلا۔یوں میدان کارزارمیں موجود قیادت کا انتخاب جب آپ ہی ٹھہرے تو1993میں تنظیم کے حکم پر لبیک کہہ کے آپ ایک اہم شہیدکمانڈر خالد ثانی جو بڈگام علاقےسے تعلق رکھتے تھے اورچند ساتھیوں کے ہمراہ دشوار گزار سرحدی راستوں کو کامیابی سے عبور کرنے کے بعد اپنے علاقے میں پہنچ گئے۔ چونکہ آپ تازہ دم وادی پُرخار میں آئے تھے مقامی نظم آپ کی عسکری صلاحیتوں سے پہلے ہی آگاہ تھی اس لیے میدان کارزار کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہو ئےپہلے ہی مرحلے میں کمپنی کمانڈر کی اہم ذمہ داری آپکے کندھوں پر ڈال دی گئی۔ اس طرح آپ نے وہ خلاپُر کرنے کی کوشش کی جو کمانڈر سلیم اور کمانڈر یعقوب کی شہادت سے پیدا ہوچکا تھا۔چونکہ آپ کو شہید کمانڈر برہان الدین حجازی ؒ کے شانہ بشانہ کام کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی تھی ،ان کی انسیت ،شفقت اور پیار کے ساتھ ساتھ آپ کو ان سے عسکریت کے حوالے سےبہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔،گوریلاجنگ کے گُر سے آپ چنداں واقف تھے،آپ نے گوریلا طرز کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے علاقے میں مجاہدین کی بھرتی کے دوران اس اصول کو اپنایا کہ علاقے میں کم سے کم مجاہدین کو رکھا جائے اور ضرورت کے مطابق مجاہدین کو لانچ کیا جائے ،مجاہدین قوم کا اثاثہ ہے جسے بہترین حکمت عملی کے ساتھ دشمن کے خلاف لڑنے کی ترغیب دی جائےاور تنظیمی ضابطوں کی بنیادوں پر نئی بھرتی کو عمل میں لایا جائے۔ ان میں ایک ضابطہ یہ بھی تھا کہ نئے بھرتی ہونے والے مجاہدین کو پہلے چند ماہ میدان کارزار میں ہی ساتھ رکھ کر ان کی ذہن سازی کی جائے ،ان کی فکری تربیت کی جائے اور وہ آزمائش کی بھٹیوں سے کندن بن کر نکلنے کے بعد تربیت کے لئے اگلے منرلوں کی طرف بھیج کر انہیں قافلہ سخت جان کا حصہ بنایا جائے ۔ایک عسکری ماہر ہونے کے ناطے آپ نےدشمن کے خلاف بہترین حکمت عملی اپنانے ہوئے درجنوں کارروائیاں کیں اور خود بھی بہت سی کارروائیوں میں حصہ لیا ان کارروائیوں کے دوران بھارتی فوج کو کافی جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔آپ کی کاررووائیاں بھارتی فوج کی نظروں سے اوجھل نہ تھی ،آپ کو شہید یا زندہ گرفتار کرنے کے لیے بھارتی فوج نے علاقے کا چپہ چپہ چھان مارااور آئے روز پلہالن اور اس سے ملحقہ علاقے پھارتی افواج کے محاصروں کی زد میں رہتے تھے ،لوگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا،اس دوران آپ کے گھر والوں کو بھی تختہ مشق بنایا گیا ،آپ کے رشتہ داروں کو سنگین ٹارچر سے گزرنا پڑا لیکن آپ کے’’ پایہ استقلال ‘‘میں کوئی لغزش نہیں آئی ، ایک دفعہ کا ذکر ہے بھارتی فوج کو کہیں سے انفارمیشن تھی کہ آپ اپنے ہی گھر میں تہہ خانے میں بنے ہائیڈائوٹ میں موجود ہیں ،بھارتی فوج نے آپ کے محلے کو گھیرے میں لیا اور گھرگھر تلاشی لی ،بھارتی فوج کو پکا بھروسہ تھا کہ آپ اپنی ہائیڈ میں چھپے ہیں ،انہوں نے اعلانات کئے کہ باہر آئیں أپ فوج کے گھیرے میں آچکے ہیں ،لیکن جب کوئی مکان سے باہر نہیں آیا انہوں نے آپکے مکان کو چاروں طرف بارود لگا کر اسے زمین بوس کیا،بھارتی فوجی جشن مناتے ہوئے ملبے سے آپ کی لاش تلاش کررہے تھے لیکن انہیں کوئی لاش نہیں ملی ،بلکہ بھارتی فوج کو ناکام و نامراد ہاتھ ملتے ہوئے وہاں نکلنا پڑا کیونکہ آپ اس وقت اپنے گھر والی ہائیڈ میں موجود نہ تھے بلکہ ایک اور کمین گاہ میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ناکامی کے بعد بھارتی فوج نے آپ کے لیے نئے جال بننے شروع کردئے اور اپنی تلاشی اور محاصروں کی مہم میں شدت لائی ۔آپ کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوئے بلکہ اس طوفان کے سامنے آپ چٹان کی طرح کھڑے رہے ۔دن بہ دن آپ کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آرہی تھیں ،تنظیم نے چند برس کے بعد ہی آپ کو علاقے کا بٹالین کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اس ذمہ داری کو آپ نے ایک سال تھا بخوبی نبھایا اس کے بعد آپ ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمانڈر کی حیثیت سے عسکری سطح پر جو کارنامے أپ نے انجام دیے وہ تاریخ کا ایک حسین باب ہے ۔مجاہدین کا زور توڑنے کے لئے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کو تختہ مشق بنانے کے لیے اس دوران بھارتی فوج کی سرپرستی میں کشمیر میں اخوان ملیشیا وجود میں آئی جنہیں بھارتی فوج کی طرف سے ہر قسم کی سپورٹ حاصل رہی ،مجاہدین کے اوپر کڑی آزمائش کا وقت تھا،بہت سے لوگ ان کی صفوں میں شامل ہوئے ۔اخوان کی سرکوبی کے لئے کمانڈر طارق الاسلام نے نئی صف بندی کی اور اس آزمایش سے بھی آپ سرخ رو ہوکر نکلے ،بڑی حد تک اخوانیوں کا قلع قمع کرنے میں آپ کا کلیدی رول رہا ہے ۔سال 1995ء میں 3اپریل کو آپ شہید کمانڈر نعمانی کے ہمراہ ایک خوصوصی میٹنگ کے سلسلے میں شہید ضلع کماندر شاکر غزنوی کے علاقےگوشہ بگ میں ایک گھر موجود تھے کہ دشمن کو آپکی موجودگی کی اطلاع ملی ،انہوں نے اس محلے کو گھیر لیا جہاں آپ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے ،آپ صورتحال کو جلدی بھانپ گئے اور ان کی رائے جانا چاہتے تھے کہ کیا وہ اس مرحلے سے نکلنے کے لئے تیار ہیں ،ان کی رائے جان کر آپ نے فیصلہ کیا کہ دشمن فوج کا مقابلہ ہرصورت کیاجائے اور مکان سے باہر نکل کر کیا جائے ،اور دشمن پر بھرپور وار کرکے ایک سائیڈ سے گھیرا توڑ کر دوسرے محلے کی طرف نکل کر محفوظ راستے کی طرف پیش قدمی کی جائے۔منصوبہ کامیاب رہا مجاہدین نے ایسا ہی کیا دشمن پر باہر نکل کر زور دار حملہ کیا ان کی صفیں چیرتے ہوئے ،مجاہدین دوسرے محلے میں پہنچ گئے جہا ں بھارتی فوج کا کوئی سپاہی نظر نہیں آرہا تھا، اسی اثناء میں ایک دیوار کو پھلانگنے کا مرحلہ آیا ،سب مجاہدین دیوار پھلانگ کر نکل گئے کمانڈر طارق الاسلام بھی اس میں کامیاب ہوئے لیکن دیوار چڑھتے ہوئے ان کاوائرلیس سیٹ ہاتھ سے گرکیا وہ دوبارہ اسےاٹھانے کےلئے دیوار سے کودے ،سیٹ اٹھایا اور دیوار پر دوبارہ چڑھنے لگےاس دوران بھارتی فوج کی ایک ٹولی جو ان کا پیچھا کر رہی تھی نزدیک پہنچی ،انہوں نے کمانڈر طارق الاسلام پر فائرنگ کی اور کئی گولیاں ان کے جسم میں پیوست ہوئیں ،اور آپ نے جام شہادت نوش کرلیا ۔کمانڈر طارق الاسلام کو وہ منزل مل گئی جس کی چاہ لے کر وہ اس راہ میں نکل پڑے تھے ۔وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے جو عہد انہوں کیا وہ عہد وفا ہوا۔۔شہادت کے بعد بھی بھارتی فوجی ان سے اتنےخوف زدہ تھےکہ اپنا غصہ نکالنے کے لئے انہوں نے شہید کمانڈر طارق الالسلام کے جسد خاکی کی بے حرمتی کرنا شروع کردی،ان کی لاش کو رسیوں سے ون ٹن فوجی گاڑی کے پیچھے باندھ کرسڑک پر گھسیٹاگیا ،جس سے لاش چھلنی ہوگئی ۔شہید کا جسدِ خاکی جب پلہالن پہنچا تو اس کے استقبال اور دیدار کے لیے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم موجود تھا۔ اس ہجوم میں مرد و زن، بچے اور بزرگ سب شامل تھے۔ شہید کمانڈر کی گولیوں سے چھلنی لاش کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے کہ جب شہید طارق الاسلام اللہ تعالیٰ کے حضور اسی حالت میں پیش کیا جائے گا، اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا، تو جب اس سے پوچھا جائے گا کہ تیرا یہ حال کیسے ہوا؟تو شہید عرض کرے گا:

’’یا الٰہی! ہمارا یہ حال تیری راہ میں، تیری رضا کے لیے ہوا ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ اس عظیم کمانڈر کی بے مثال قربانی کو قبول فرمائے۔ آمین






