علم و عمل کا روشن مینار

علم و عمل کا روشن مینار۔۔۔ملک محمد عبداللہ

فاروق قیصر

کچھ لوگ دنیا میں صرف دنیاوی زندگی گزارنے کے لیے نہیں آتے بلکہ ان کے سامنے ایک مقصد حیات ہوتا ہے ، جو ہمیشہ اپنے علم کی روشنی ،عمل اور کردار سے معاشرے کی تاریکیوں کو اجالوں میںبدلتےمصروف نظر آتے ہیں، غرض ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہوتی ہے ۔ایسے لوگ مٹی کا نمک اور پہاڑی کا چراغ ہیں جو ایک بلند مقام پر روشن ہوکر دوسروں کے لئے بھی روشنی کا سبب بنتے ہیں۔ان ہی اوصاف کی حامل شخصیت ملک محمد عبداللہ تھے جو ابو مسلم عبداللہ کے نام سے بھی معروف تھے۔،ایسا وفادار،مخلص رہنمااپنے مقصدکے ساتھ جڑا ہوا،تحریک آزادی کے ساتھ مخلصانہ تعلق، جس کے اندر ایک حقیقی جذبہ تھا ،کاررواں حق کے لئے مینار نور تھا،ایک روشن چراغ تھاجو نئے عیسوی سال 2026کی صبح لوپھوٹتےہی گُل ہوگیا۔انسان کے جدا ہونے کے موقعہ پر فوری طوریا تو اس سے کی گئی پہلی ملاقات یاد آتی ہے یا آخر ی ملاقات ۔بس کچھ ایسا ہی ہوا، ان کی وفات کی خبر صبح نماز فجر کے ساتھ ہی ملی دل میں ایک غبار سا اٹھ گیا اور ان کی آخری ملاقات یاد آنے لگی اور دل ناتواں کو تڑپانے لگی۔چند دن پہلے ان کی عیادت کے لئے ان کے دولت کدے پر دو اور ساتھیوں کے ہمراہ گئے تھے ،جسمانی لحاظ سے کمزور دکھائی دے رہے تھے لیکن ان کی کمال وضع داری ،نہ بہکنے والی یاداشت ،حاضر دماغی نے حیرت میں ڈال دیا۔ ہم سب کو اپنے ناموں سے پکار ااور ہماری خیریت بھی دریافت کی ۔ہم نے انہیں ہمیشہ مہمان نواز ہی پایا،بیماری کے عالم میں بھی وہ مہمان نوازی کے اداب نہیں بھولے، انہوں نے ہمارے سامنے میزپر ایک ٹرے میں فریش جوس سے بھرے گلاس اور دوسری ٹرے میں سیب کا ٹ کے رکھوائے ۔ہم سیب کی قاشیں اٹھا اٹھا کر کھانے لگے توانہوں نے نرم اوردھیمے لہجے میں مختصر سی گفتگو شروع کی اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاکر کہا ’’کہ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم اس عظیم کاررواں کا حصہ بنے ،یہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا فضل واحسان ہے کہ ہم راہ حق کے مسافر ٹھہرے ،یہ اللہ کا انعام واکرام ہے جس نے ہم کمزور بندوں کو اپنےراستے کے لئے چن لیا ،یہی راستہ حق کا راستہ ہے اور ہمیں اسی راستے پر چلتے رہنا ہے اور ہمیںاپنی تنظیم سے وابستہ رہنا چاہے اور امرواطاعت کا مظاہرہ ہر حال میں کرنا چاہئے اسی میں ہماری کامیابی و وفلاح ہے۔ہم نے بھی زیادہ دیر بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا اور عیادت کے اداب بجا لاکر اس مختصر ملاقات کے بعد بہت سی دعائیں لے کرہم ان سے رخصت ہوئے۔اس ملاقات میں جوادب کی لذت پائی اس سے دل کو فرط محسوس ہوئی۔دیر تک ان کی باتیں ذہن میں گردش کررہی تھیں کہ’’ تنظیم کے ساتھ جڑے رہنے کی تلقین اور نصیحت کی۔۔۔ تنہا ہوگئے تو اپنی بنیاد کھو جائو گے۔ایسے ہی جیسے ایک قطرہ دریا سے نکل کر بے معنی ہوجاتاہے ۔اس دن محسوس ہونے لگا تھاوہ جیسے آخری پیغام سنا رہے کہ یہ زندگی ساتھ دے نہ دے ،اجل کا کیا پتا کہ پھر ملاقات ہونہ ہو،اس لئے ان کے آخری الفاظ ایسے لگ رہے تھے جیسے ایک استاد اپنے شاگردوں کو آخری نصیحت کررہا ہواس لیے ان کی زبان سےنکلی ہر بات اور ہر لفظ دل کو چھورہا تھا۔ واقعی یہی ملاقات آخری ملاقات ثابت ہوئی اس کے چند دن بعدہی یہ عظیم ہستی اپنے رب کے حضور پیش ہوئی۔

ملک محمد عبداللہ نے 1952میں مردم خیز علاقے ضلع بانڈی پورہ کے آلوسہ میں آنکھ کھولی جو ایک خوبصورت جھیل ولر کے کنارے واقعہ ہے۔جماعت اسلامی کے آغوش میں تربیت پاکر آپ نے دعوت اسلامی کو اپناشعار بنایا،جلد ہی آپ ایک علمی و نظریاتی شخصیت بن کر ابھر آئے ،آپ کی صلاحیتوںکو دیکھ کر جماعت نے آپ پر امیر جماعت سوپور کی بھاری ذمہ داری ڈال دی بعد ازاں آپ امیر ضلع بانڈی پورہ کے منصب پر فائز ہوئے ،بھارتی عقوبت خانوں میں سنت یوسفی اداکرتے ہوئے تمام صعوبتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں ،رہائی پاتے ہی ،جد وجہد آزادی کشمیر کے مختلف محاذوں پر زیادہ قوت کے ساتھ سرگرم رہے۔1990میں آپ نے آزادکشمیر کی طرف ہجرت کی اور یہاں میڈیا محاذ کے ساتھ وابستہ ہوکر آپ نے’’ ریڈیو صدائے حریت ‘‘کے ذریعے موثر طریقے سے مظلوم کشمیریوں کی توانا آواز بن کر اس آواز کو دنیا تک پہنچانے کا نہ صرف سبب بنے بلکہ ایک جابر دشمن کے پروپیگنڈےکا بھرپور جواب بھی دیا۔انسانی قیادت کا راز حسن خطابت میں ہے،با ت کا مطلب سمجھانے کا ڈھنگ آپ خوب جانتے تھے، زبان و بیان ‘‘میں آپ کو ملکہ حاصل تھا یہ کہا جاسکتا ہےکہ آپ فصاحت و بلاغت کا بہترین نمونہ تھے ،ان کی سیاسی بصیرت ،دانا و بینا ہونے کی بنا پرامام سید علی شاہ گیلانی ؒ نے آپ کوآزاد کشمیر میںحریت کی نمائندگی سونپ دی ،کئی برس تک انہوں نے اپنی بساط اور اپنی استطاعت کے مطابق اپنی ذمہ داری کو نبھایاتو خوب نبھایا۔ اس عہدے سے فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ نے پھر صحافتی، دینی اور قلمی محاذ پر کام کیا۔آپ کی متعدد تصانیف منظر شہور پر آئیں جن میں ’’حزب المجاہدین تحریک آزادی جموں و کشمیر کے افق پر‘‘جس کےدو ایڈیشن 2013، 2015میںبالترتیب شائع ہوئے،’’کشمیر کہانی لہو کہانی ‘‘ ایک ایسا شہ پارہ ہے جو مزاحمتی ادب پر مشتمل یہ تصنیف مئی 2016میں شائع ہوئی ۔اور’’ فتنہ دجال اور نجات کا راستہ‘‘ بھی ان کی شاہکار تصانیف میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے تحریر کردہ پمفلٹ جن میں 13 جولائی 1931 ’’ یوم شہدائے کشمیر‘‘کے حوالے سے ایک خصوصی پمفلٹ بھی شامل ہےسمیت درجنوں پمفلٹ مختلف اوقات میںشائع ہوتے رہے ۔ یہ ان کا ایک ایسا نمایاں کردارہے جو تاریخ کا ایک حصہ ہے اور تحریک کشمیر کا ایک قیمتی اثاثہ بھی ہے۔وہ دہائیوں سے کشمیر کا کرب لکھتے رہے جو کشمیرالیوم کی زینت بنتاگیا۔اپنا مضمون لکھ کر بھیجتے تھے،کھبی کھبار فون کرلیتے تھے کہ کشمیر الیوم کے لئے مضمون تیار ہے تھوڑی سی زحمت کرکے اسے ہمارے گھر سے حاصل کریں ،ہمیں بھی ملاقات کی سعادت نصیب ہوتی تھی ،ہم ان کا لکھا مضمون حاصل کرنے کےلئےصبح صبح ان کے گھر سے ہوآتے تووہ ضرور نمکین چائے اورگھر کی بنی ہوئی چاولوں کی روٹیوں سے ہماری تواضع کرتے تھے ۔ان کے لکھے گئے مضامین کشمیر پوسٹ اور کشمیر الیوم کے علاوہ مختلف اخبارات میں بھی چھپتے تھے۔ملک عبدللہ صاحب عزم و ہمت کے ہمالیہ تھے ۔جو ہر طوفان کے سامنے ڈٹے رہے،صبر و استقامت ،تعلق باللہ کو ہتھیار بنایا،وہ ہوا کے رخ پر چلنے والےنہ تھے بلکہ ہواؤں کا رخ موڑنے کی اپنے اندر طاقت رکھتے تھے۔ وہ علم و تددبر کا بحربے کراں تھے۔جس نے اپنےعلم و عمل سے سینکڑوں شاگردوں کی فکری بیداری کا سامان پیدا کیا۔وہ ایک حق گو انسان تھے انہوں نے پوری زندگی تحریک آزادی کشمیر کے لیے فداکی تھی ۔ آخری سانس تک اسی اصول قائم رہے جو اصول اللہ نے ایک مرد مومن کے کامیابی کی ضمانت قراردیا ۔ان کی پر عزم زندگی ایک ایسی لازوال داستان ہے جسے صدیوں بھلایا نہیں جا سکتا۔انہوں اپنی زندگی اسلام کے اصولوں اور تنظیم کے ضابطوں کے مطابق گزاری ،ان میں نمود نمایش کی بو تک نہیں سونگھی وہ ہمیشہ اس سے دوررہتے تھے انہوں نے ہمیشہ تنظیمی اصولوں اور ضابطوںکو اپنے مفادات پر ترجیح دی-ان کی فہم و فراست ،شعور کی پختگی کی وجہ سے انہیں تنظیم میں ایک اعلیٰ مقام حاصل تھا ،وہ تنظیمی معاملات اور مسائل کو حل کرنے کے لئے دلائل سے بات کرتے تھے ،جس کی وجہ سے تنظیم میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

ملک محمد عبداللہ جیسے اثخاص رخصت نہیں ہوتے ،وہ وقت کی دھندلکوں میں گم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا سنہری باب بن کر ان کا نظریہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے ،جسے پڑھ کر آنے والی نسلیں اپنا مستقبل سنوارتی ہیں۔