چڑیوں کو پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

شیخ محمد امین

ملک محمد عبد اللہ المعروف ابو مسلم عبد اللہؒ محض ایک فرد کا نام نہیں تھے۔ وہ ایک سایہ دار درخت تھےجس کی چھاؤں میں فکر نے پرورش پائی، کردار نے نمو پائی اور مزاحمت نے سمت پائی۔ ان کی رحلت یوں محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی مضبوط درخت گر پڑا ہو،اور اس سے وابستہ بے شمار چڑیاں یکایک اپنے آشیانوں کی ویرانی کا دکھ جھیلنے پر مجبور ہو گئی ہوں۔ وہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک فکری تسلسل کی علامت تھے، جن کی زندگی مسلسل دعوت، تربیت، تصنیف اور جدوجہد آزادی کے گرد گھومتی رہی۔
وہ مربی بھی تھے، مبلغ بھی، مصنف بھی، داعی بھی اور ایک بالغ نظر تحریکی قائد بھی۔ ایسی جامع اور متوازن شخصیتیں تاریخ کے ہر دور میں کم ہی جنم لیتی ہیںاور جب رخصت ہوتی ہیں تو اپنے پیچھے ایک خاموش مگر گہرا خلا چھوڑ جاتی ہیں۔ مرحوم جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے فعال رکن رہے اور امیر تحصیل بانڈی پورہ کی حیثیت سے انہوں نے تنظیمی استحکام، فکری تربیت اور دعوتی عمل کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ ان کی قیادت میں جماعتی سرگرمیوں میں نظم، سنجیدگی اور مقصدیت نمایاں رہی۔ اسلام کی سربلندی اور اقامت دین کی جدوجہد ان کی زندگی کا مرکزی حوالہ تھی، اور اسی راہ میں انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا۔ مگر زندان کی دیواریں ان کے عزم کو محصور نہ کر سکیں۔ آزمائشوں نے ان کے حوصلے کو مزید نکھار دیا۔

جب کشمیر میں عسکری مزاحمت کا آغاز ہوا تو ابو مسلم عبد اللہؒ نے حالات کے جبر کے باوجود اس جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار نہ کی۔ یہ انتخاب ذاتی آسائشوں، خاندانی سکون اور مانوس زندگی سے دستبرداری کا اعلان تھا۔ اسی راہ وفا میں انہیں خاندان سمیت ہجرت کا کڑا امتحان سہنا پڑا۔ ہجرت کے یہ لمحے ان کی استقامت اور قربانی کے وہ روشن باب ہیں جنہوں نے ان کے فکر و عمل میں گہرائی اور وسعت پیدا کی۔آپ حزب کمانڈ کونسل کے رکن رہے اور تعلیم و تربیت کے سربراہ کی حیثیت سے مجاہدینِ کشمیر کی فکری، نظریاتی اور اخلاقی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ محض عسکری قوت کسی تحریک کو منزل تک نہیں پہنچا سکتی، جب تک اس کے پیچھے فکری بالیدگی، اخلاقی استحکام اور دینی بصیرت کی مضبوط بنیاد موجود نہ ہو۔ اسی یقین کے تحت انہوں نے تربیت کو تحریک کی روح بنا دیا۔مرحوم تحریک حریت جموں و کشمیر کے نمائندے کی حیثیت سے بھی سیاسی محاذ پر سرگرم رہے۔ سیاسی جدوجہد میں ان کا اسلوب متوازن، دلیل پر مبنی اور مقصد سے جڑا ہوا تھا۔ وہ حکمت، بصیرت اور دور اندیشی کو ترجیح دیتے تھے۔میر ا کئی معاملات میں ان کے ساتھ اختلاف رائے رہا لیکن الحمدللہ اختلاف رائے کے باوجود اخلاقی حدود اور شخصی وقار کو ہم نے کبھی مجروح نہیں ہونے دیا۔
ابو مسلم عبد اللہؒ نے اسلام اور تحریک آزادی کے موضوعات پر متعدد کتب تصنیف کیں جو آج بھی فکری رہنمائی کا معتبر ذریعہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف اخبارات اور جرائد میں مسلسل لکھتے رہے۔ بالخصوص کشمیر الیوم میں ان کی تحریریں فکری گہرائی، تحریکی درد اور حقیقت پسندی کی آئینہ دار تھیں۔ تاہم 5 اگست 2019ء کے بعد انہوں نے قلم خاموش کر لیا۔ بارہا اصرار کے باوجود وہ دوبارہ لکھنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس خاموشی کے پیچھے ایک گہرا دکھ اور ایسا کرب تھا جو ان کے ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک رہا۔

وہ نہایت خدا ترس، عبادت گزار، نیک سیرت اور درد مند دل رکھنے والے انسان تھے۔ طبیعت میں خاموشی اور وقار غالب تھا، مگر جب بولتے تو کھل کرپورے شعور اور دیانت کے ساتھ بولتے تھے۔ وہ ایک اچھے انسان، سچے داعی اور صائب الرائے شخصیت تھے۔ دوران علالت دو مرتبہ ان سے ملاقات کا موقع ملا،چہرے پر طمانیت تھی اور آنکھوں میں ایک عجب سکون، جیسے وہ اپنے رب سے ملاقات کے لیے آمادہ ہوں۔انکے دل میں ایک مستقل خلش موجود رہی کہ تحریک مزاحمت جموں و کشمیر کو جتنا نقصان اپنوں کی کوتاہیوں اور اپنی اندرونی کمزوریوں نے پہنچایا، اتنا دشمن بھی نہ پہنچا سکا۔ یہ کڑوا سچ وہ پوری دیانت سے محسوس کرتے تھےاور شاید یہی احساس ان کے اندرونی کرب اور طویل خاموشی کا سبب بھی بنا۔ان کی رحلت سے تحریک آزادی کے متوالوں اور اسلام پسند حلقوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔ ابو مسلم عبد اللہؒ جیسے لوگ رخصت ہو کر بھی اپنے پیچھے فکر، کردار اور استقامت کی ایسی میراث چھوڑ جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور جس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی، اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین۔