کشمیر بھارت اور ٹرمپ حکومت

امریکہ کی کشمیر پالیسی کے واقف حال ڈاکٹر غلام نبی فائی کی باتیں

ڈاکٹر غلام بنی فائی گزشتہ چار دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں ۔اس طویل ماہ وسال کے دوران وہ امریکہ میں کشمیر پر ہونے والی تمام سرگرمیوں کے واقف ِحال اور عینی شاہد ہیں ۔کئی دہائیوں تک کشمیری امریکن کونسل کے پلیٹ فارم سے سفارتی سرگرمیوںمیں سرگرم رہے ۔چند برس سے ورلڈ کشمیر اوئرنس فورم کے پلیٹ فارم سے سرگرم ہیں ۔ڈاکٹر فائی ان دنوں پاکستان اور آزادکشمیر کے دورے پر ہیں ۔اس دورے کے دوران ان سے کشمیر اور امریکہ کی کشمیر کی پالیسی کے حوالے سے گفتگو ہوئی ۔جس سے کینوس پر کشمیر کے حوالے سے امید کے کئی رنگ اُبھرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ پانچ اگست کے یک طرفہ بھارتی فیصلے کے باوجود کشمیر کا بین الاقوامی محاذ پوری طرح گرم ہے اور دنیا آج بھی کشمیر کو نہ صرف یہ کہ ایک تنازعہ سمجھتی ہے بلکہ عالمی امن کے لئے اس مسئلے کے حل پر یقین رکھتی ہے ۔اس سوال کے جواب میں کہ عالمی کینوس پر کشمیر کی کی کونسی سے تصویر بن رہی ہے ڈاکٹر غلام نبی فائی کا کہنا تھا کہ کشمیر بین الاقوامی محاذ پر اچانک اُبھر کر سامنے آنا ہے ۔مسئلہ کشمیر کی ایک عالمی جہت ہے ۔آج اس مسئلے اور خود پاکستان کو اچھی پزیرائی مل رہی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ انٹرنیشنلائز کیسے ہوا؟۔یہ عمل اس وقت شروع ہوا کہ انیس سو اڑتالیس میں امریکی صدر ہیری ٹرومین نے اقوام متحدہ میں اپنے سفیر وارن آسٹن کو کو لکھا کہ آپ سلامتی کونسل میں ایسی قرار داد لائیں ۔اس قرارداد کا ڈرافٹ امریکی سفیر نے تیار کیا اور اسے متفقہ طور پر قبول کیا گیا اس کے تائیدکنندگان میں برطانیہ اور فرانس کے سفیر تھے ۔قرارداد میں کہا گیا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ ہونا چاہئے اور عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے اس قرارداد کے تحت یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کے پہلے صدر جوزف کاربل تھے ۔یہ وہی جوزف کاربل تھے جنہوں نے ’’ڈینجر ان کشمیر ‘‘کے نام سے کتاب بھی لکھی تھی ۔جوزف کاربل امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ کے والد تھے ۔

میڈلین البرائٹ نے بعد میں اس کتاب کی اشاعت جدید بھی کی ۔جوزف کاربل کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ امریکہ کی ایک اوروزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس سے ایک بار پوچھا گیا کہ کیا آپ کا کوئی اُستاد اور راہنما ہے تو انہو ں نے جوزف کاربل کا نام لیا جو یونیورسٹی آف کلاناڈو میں ان کو پڑھاتے رہے ہیں ۔جوزف کاربل نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کشمیر کو چھوٹا سا خطہ نہ سمجھیں یہ پورے خطے کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔یہی بات یاسین ملک اور سید علی گیلانی بھی کہتے رہے ہیںکہ اگر آپ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز کریں گے تو یہ ایٹمی تصادم کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ڈاکٹر فائی کا کہنا تھا کہ مودی نے پہلگام کا جو منصوبہ ترتیب دیا تھا یہ سوچی سمجھی حکمت عملی تھی ۔ ان کا خیال تھا کہ اس اقدام کے بعد انہیں کشمیر کی تحریک کو عالمی برادری کے سامنے دہشت گردی کی تحریک بنا کر پیش کرنا آسان ہوگا ۔دنیا کو یہ بتا یا جائے گا کہ اس کے پیچھے پاکستان ہے ۔پاکستان نے بہت اصولی موقف اپنا کر اس کوشش کو ناکام بنایا ۔پاکستان نے کہا اگر بھارت کا موقف درست ہے تو پھر اسے ایک غیرجانبدار عالمی کمیشن کے قیام پر متفق ہونا چاہئے جو اس بات کی تحقیق کرے کہ اس واقعے کے پیچھے کون ہے۔پاکستان کے اس موقف کے بعد امریکہ کو بھی احساس ہوا کہ اگر پاکستان کا ہاتھ ہوتا تو پھر وہ اس واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ نہ کرتا ۔اسی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ اس سارے عمل میں شامل ہوئے ۔جس کے بعد سے مودی کو مسلسل یہ طعنہ دیا جا رہا ہے کہ آخر سیز فائر کس نے کرایا ؟۔مودی کی زبان بند ہے ۔اس زباں بندی کی وجہ یہ ہے کہ مودی نے صدر ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بند کی تھی ۔مودی اس پر زبان کھولے گا تو سُبکی ہوگی کیونکہ وہ عوامی سطح پر کہتا ہے کہ ہم کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے ۔جب اندرخانے بات ہوتی ہے تو وہ اسے تسلیم کرتے ہیں ۔راہول گاندھی نے بھی پارلیمنٹ میں کہا کہ اگر ٹرمپ غلط بیانی کر رہے ہیں تو مودی جی فون اُٹھائیے اور ان سے کہئے کہ آپ غلط بیانی کر رہے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ کشمیر تنازعے کی بنیاد یہ نہیں کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک تنازعہ ہے بلکہ یہ ہے کہ یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جو تین ایٹمی طاقتوں چین بھارت اور پاکستان کے سے ملتا ہے۔ایک طرف بھارت چین سے لڑ رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان سے لڑرہا ہے۔ہر ملک کا قومی مفاد ہوتا ہے مگر چین امریکہ روس جیسے ممالک کا قومی مفاد یہ بھی ہوتا ہے عالمی سطح پر ایسی کشیدگی نہ پھیلے جس سے طاقت کا توازن خراب ہو۔بھارت اور پاکستان کو عالمی امن کی خاطر مسئلہ کرنا ہوگا۔اس سوال کے جواب میں کیا واقعی مسئلہ کشمیر پانچ اگست دوہزار انیس کے بعد ختم ہوگیا؟ ڈاکٹر فائی کا کہنا تھا مودی پاگل نہیں تھا اس کے پانچ اگست کے اقدام کا مقصد یہ تھا کہ مسئلہ کشمیر کو Solve کرنے کی بجائے Disolveکیا جائے۔تاکہ اس کے بعد کوئی مسئلہ کشمیر کی بات ہی نہ کر سکے مگر جو کچھ ہوا اس کے برعکس تھا ۔پانچ اگست کو بھارت نے یک طرفہ قدم اُٹھایا تو آٹھ اگست کو اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس نے بیان دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے تحت ہی نکالاجا سکتا ہے ۔گیا رہ دن بعد سولہ اگست کو وہ کچھ ہوا جو پنتالیس برس میں نہیں ہوا تھا ۔چین نے اعلان کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے فورم پر اُٹھائے گا۔ایک نہیں تین بار چین نے اس مسئلے پر سیکورٹی کونسل میں بحث کرائی ۔اسی پر راہول گاندھی کو مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ آپ نے کہا تھا کہ آرٹیکل370کے خاتمے کے بعد کشمیر ہمارا حصہ ہوگا مگر آپ نے تو اسے انٹر نیشنلائز کر دیا ۔اب تو ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ میں کشمیر پر ثالثی کروں گا۔ٹرمپ کا یہ کہنا بتاتا ہے کہ کشمیر کی ایک عالمی حیثیت اور اہمیت ہے ۔

اسی طرح نیلسن منڈیلا نے 1989میں غیر جانبدار تحریک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کر پرامن طور پر حل کیا جائے ۔یہ اور اس طرح کی عالمی سطح کی جانی پہچانی شخصیات جو دنیا کے نقشے کو بدل سکتی ہیں اسی انداز سے سوچتی ہیں۔حال ہی میں وائٹ ہائوس میں ہونے والی دیوالی کی تقریب میں ٹرمپ کچھ لکھتے لکھتے رک کر گویا ہوئے کہ انہوں نے نریندر مودی کو بھی دیوالی کی مبارکباد دی ہے اور ان سے بھی کہا پاکستان کے ساتھ جنگ نہ لڑیں ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ٹرمپ کے ذہن میں یہ بات ہے کہ جنگ بھارت کی طرف سے شروع ہوتی ہے ۔ڈاکٹر فائی کا کہنا تھا کہ یہ جو کشمیر کے حوالے سے موافق ماحول بنا ہے اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے ۔پاکستان میں سول اور ملٹری تعلقات اچھے ہیں دونوں کے ٹرمپ سے تعلقات اچھے ہیں ۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کو صدر ٹرمپ تک براہ راست رسائی حاصل ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ آٹھ ماہ ہوگئے ہیں مگر بات آگے نہیں بڑھی ۔اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان اور امریکہ کے رواں اچھے تعلق کا کشمیر کو بھی کوئی فائدہ ہوگا؟ڈاکٹر فائی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش سات آٹھ بار کی امریکہ نے پلان آف ایکشن دیا ہے ۔امریکہ کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر مارکو روبیونے دس مئی کو کہا تھا کہ اب دونوں ملکوں کے سیکورٹی ایڈوائزرز کو ملنا چاہئے اور تمام مسائل کو حل کرنا چاہئے۔یہ پلان آف ایکشن ہے اب ہمیں چاہئے مارکو روبیو سے کہیں کہ آٹھ ماہ ہوگئے ہیں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہم تیار ہیں مگر بھارت کو بھی تیار کریں ،بھارت ظاہری طور پر تو کہے گا ہم نہیں مانتے لیکن سیز فائر کو بھی تو انہو ں نے مانا تھا اس طرح پروگریس تو ضرور ہوگی ۔ٹرمپ اور روبیو کا کہا جا سکتا ہے کہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اوریہ کام حکومت پاکستان کر سکتی ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا امریکہ کشمیر کو ایک آزاد ریاست بنانے کا کوئی منصوبہ ہے جس کے بارے میں گاہے گاہے باتیں کی جاتی ہیں ڈاکٹر غلام نبی فائی کا کہنا تھا جو کانفیڈیڈنشل رپورٹس ہوتی ہیں وہ کسی کو معلوم نہیں ہوتیں امریکہ میں اگر ضروری سمجھا جائے تو چالیس سال بعد انہیں ڈی کلاسیفائی کیا جاتا ہے۔ایسی ہی ڈی کلاسیفائی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر وارن آسٹن نے اپنی حکومت کو مراسلہ بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک بھارتی وفد نے مجھ سے ملاقات کی اس ملاقات کی ایک رکن شیخ محمد عبداللہ نے مجھ سے علیحدگی میں ملاقات کی درخواست کی اور اس ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ گوکہ میں بھارتی وفد کا حصہ ہوں مگر میں خود مختار کشمیر کا حامی ہوں ۔امریکی سفیر نے لکھا تھا کہ میں نے انہیں کوئی کمٹ منٹ نہیں دی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر اگر خودمختار

ہوگا تو اس میں چین کا اثر رسوخ ہوگا ۔1948میں چین کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی اور اس وقت بھی امریکہ کی یہ سوچ تھی کہ کشمیر پر ہمارا اثر رسوخ نہیں ہوگا۔اب چین نے کشمیر میں جو دلچسپی لینا شروع کی ہے جیسا کہ انہوں نے چالیس سال بعد کشمیرکا مسئلہ سلامتی کونسل میں اُٹھایا ہے۔ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کا جو بھی حل ہوکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہوسید علی گیلانی بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر کشمیری عوام بھارت کے حق میں ووٹ دیں گے تو ہم اس فیصلے کو قبول کریں گے شرط یہ ہے کہ ہمیں مذاکرات میں شامل کیا جائے اسی طرح یاسین ملک بھی کہہ چکے ہیں کہ کشمیری عوام کا ہر فیصلہ انہیں قبول ہوگا ۔سید علی گیلانی الحاق پاکستان کی علامت رہے ہیں۔اس سے قابل عمل حل اور کیا ہوسکتا ہے۔اگر ہم ثانوی جھگڑوں میں پڑے رہے تو اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔ڈاکٹر فائی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے پاس تمام آپشنز موجودہیں۔کشمیری اس پروسیس کو قبول نہیں کریں گے جس کا وہ حصہ نہیں ہوں گے۔یاسین ملک شبیر شاہ اورمسرت عالم جیل میں ہیںمگر اس سے کیا ہوا نیلسن منڈیلا بھی تو جیل میں تھے ۔نیلسن منڈیلا نے بھی زندگی کے ایک دور میں پرتشدد تحریک چلائی تھی۔لیڈر کا جیل میں ہونا مائنس نہیں ہوتا یہ قوت ہوتی ہے لیکن قوت تب ہے جب کشمیری تارکین وطن پاکستان کی حکومت اور عوام پوری دنیا کو کہیں گے کہ ان اسیر راہنمائوں کو رہا کرکے مذاکراتی میز پر بٹھایا جائے۔شام کے صدر جولانی کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ مجھے معلوم ہے آپ کا ماضی کیا تھا ظاہر ہے کہ وہ ملی ٹینٹ تھا مگر آپ ایک مضبوط انسان ہیں ۔ٹرمپ یاسین ملک اور شبیر شاہ کو بھی یہی بات کر سکتا ہے مگر تب کہہ سکتا ہے جب ہم اصل حقائق ان تک پہنچائیں گے ۔

جناب سید عارف بہار آزاد کشمیر کے معروف صحافی دانشور اور مصنف ہیں۔کئی پاکستانی اخبارات اور عالمی شہرت یافتہ جرائدمیں لکھتے ہیں۔تحریک آزادی کشمیر کی ترجمانی کا الحمد للہ پورا حق ادا کر رہے ہیں ۔کشمیر الیوم کیلئے مستقل بنیادوں پر بلا معاوضہ لکھتے ہیں

سید عارف بہار