کشمیر پیس بورڈ کا قیام بھی ناگزیر

غزہ پیس بورڈ کے بعد کشمیر پیس بورڈ کا قیام بھی ناگزیر

لاپتہ سائے، خون کی لالی، اور ہر وادی میں چھپی بے نام فریاد اب کشمیری پیس بورڈ کے طلوعی نغمے میں تبدیل ہونی چاہیے

اٹھتر سال کی صبر آمیز جدوجہد اور لاکھوں کشمیریوں کی قربانی اب اس وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیری حقِ خود ارادیت کو عملی شکل دی جائے

غزہ کے امن کے بعد اگر دنیا واقعی سنجیدہ ہے تو کشمیر پیس بورڈ کو فوری قائم کرنا اب وقت کی سب سے اشد ضرورت ہے

سید عمر اویس گردیزی

فضا کی اندھیری لوریوں میں، جب تاروں کی جڑیں زمین کی نرگسیت میں ڈوبتی ہیں اور پہاڑوں کے کانچن ریشم پر سایہ فگن ہوتا ہے، ایک نغمہ گمشدہ سا بلند ہوتا ہے، جو نہ زمین کے لیے ہے نہ آسمان کے لیے، بلکہ اُس انتظار کی صدا ہے جو صدیوں کی گرد میں دبک کر رہ گئی۔ جہاں غزہ کے گلزاروں میں صلح کی نقوش، بادلوں کے پردوں سے ٹپک رہے ہیں، وہاں ایک وادی ایسی ہے جو بے آواز چیختی ہے، جس کے پانی میں خون کی ہلکی لہریں، ستاروں کی چمک سے لپٹ کر سرگوشی کرتی ہیں، اور ہر کانچن پتھر گویا پیس بورڈ کے آئینے میں اپنی جھلک تلاش کر رہا ہے۔ یہاں ہوا بھی کوئی رقص نہیں کرتی، بلکہ پرسکون تنہائی کے دائرے میں گھومتی ہوئی سوالوں کی کہانی سناتی ہے، اور ہر جڑ، ہر شاخ، ہر گھاٹی ایک صبر کی تمثیل بن کر عالمی ضمیر کی کانچنی جھلک پر پڑتی ہے۔ جہاں غزہ میں صلح کے مجسمے رکھے جاتے ہیں، وہیں کشمیر کے ویرانے میں ایک بے نام پیغام چھپا ہوا ہے، جو لفظوں کے سِحر میں لپٹا، صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو خون اور انتظار کے لٹکتے ہوئے سایوں کو پڑھ سکتا ہو۔ یہ کوئی زمین یا جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک متوازی آئینہ ہے، جس میں تاریخ، قربانی اور غداری کے بادل اپنی لہر میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ہر کانچن ندی، ہر بوسیدہ پتھر، ہر لاپتہ سایہ گویا ایک غیر مرئی مجلس میں موجود ہے، جہاں صدیوں کے خواب اور صدیوں کا خون ایک ہی سانس میں سانس لیتے ہیں، اور عالمی عدالت کے مہر لگائے بغیر، خود ہی اپنی سرکشی کی صدا بلند کرتے ہیں۔

اگر صلح اور امن ممکن ہے، اگر انسانی ضمیر کی سنجیدگی کو کھوجاجا سکتا ہے، تو وہ کس سبب سے اب تک اس وادی کی صدا پر کان نہیں دھرتے، اور کب تک ایک بے نام پیس بورڈ کی تشنگی، خون کی لالی میں غرق رہیگی؟ یہاں ہر دھواں، ہر راکھ، ہر چھپی ہوئی قبر ایک غیر مرئی صلح کی درخواست کی نمائندگی کرتی ہے، جو نہ کسی مہر کی محتاج ہے نہ کسی عدالت کی تابعداری کی۔ بس صبر اور استقامت کی لہر میں جھولتی ہوئی، ایک آئینہ ہے جو عالمی ضمیر کے رخ کو گھما کر، ایک ناقابل فہم، پراسرار اور پیچیدہ سوال اٹھاتا ہے۔غزہ پیس بورڈ ممکن ہے، تو کشمیر پیس بورڈ کیوں نہیں؟وہ وادی کشمیر، جس کی فضا کبھی چاندنی کی نرم روشنی اور گلابوں کی نرگسیت سے مہک اُٹھتی تھی، آج ایک خاموش صحرائے خون بن چکی ہے، جہاں ہر درخت، ہر پتھر، ہر گھاٹی ایک سنسنی خیز سرگوشی سناتا ہے اور ہر ندی کی پانی کی روانی گویا انسانی درد کی لامتناہی صدا ہے۔ ہوا کے ہر جھونکے میں آزادی کی تمنّا کی خوشبو بکھری ہوئی ہے۔ یہ وہ زمین ہے جسے فطرت نے اپنی سب سے مہربان نوازشوں سے آراستہ کیا تھا، مگر تقدیر نے اسے ظلم و جبر کی دلدل میں دھکیل دیا، اور یہاں کی ہر سانس، ہر دھڑکن، ہر قدم ایک انسانی المیے کا گواہ بن گیا ہے۔ یہ وادی جس کے پہاڑ کبھی سکون کی چادر بچھا کر ستاروں کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے، آج ہجر اور مصائب کی ویرانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ہر گوشہ، ہر بستر، ہر گھر ایک داستانِ بے بسی بیان کرتا ہے، اور ہر ایک کردار گویا تاریخ کے صفحات میں خون کے حروف سے کندہ ہے۔ یہاں کے باسی، جو کبھی صبح کے نور کی مسکراہٹ سے لطف اندوز ہوتے تھے، آج خوف کی سائے دار فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور ہر آنکھ کی نمی، ہر دل کی دھڑکن ایک بے مثال صبر کی کہانی بیان کرتی ہے، جسے سننا اور سمجھنا ہر انسان کے لیے اعزاز و امتحان کا سبب ہے۔ یہ وہ زمین ہے جس کی ندیوں کی روانی، جو کبھی محبت اور سکون کی پیامبر تھی، آج انسانی خون کی لہروں میں بہہ رہی ہے، اور ہر پانی کا قطرہ گویا ہزاروں کشمیری نوجوانوں کی قربانیوں کی صدا ہے۔ گمنام قبریں، لاپتہ افراد، زندہ قیدی، اور ہر روز سینکڑوں معصوم جانیں اس حقیقت کی علامت ہیں کہ کشمیر کی آزادی ایک محض خواب نہیں، بلکہ انسانی وقار، صبر اور قربانی کی لافانی داستان ہے۔ ہر گھاٹی، ہر وادی، ہر گلی ایک صحنہ پیش کرتی ہے جس میں انسانی صبر اور حوصلے کی انتہا دیکھی جا سکتی ہے، مگر دنیا کی نظروں سے یہ المیہ اکثر پوشیدہ رہتا ہے۔

اس بار کی میری تحریر، اسی زمین کی صدا ہے جو ستر سال سے زائد عرصہ تک خون میں بھیگی ہوئی ہے، اور جو آج بھی آزادی کی روشنی کے لیے اپنی آواز بلند کیے ہوئے ہے۔ یہاں کی فضائیں، یہاں کے پہاڑ، اور یہاں کی مٹی ہر لفظ میں ایک قوم کے عزم و ہمت کی گواہی دیتی ہیں، اور ہر سننے والے کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ انسانی ضمیر کے زخموں کو نہ صرف دیکھے بلکہ ان پر غور کرے۔ یہ زمین، یہ وادی، یہ پہاڑ اور یہ خون کی لالی، سب مل کر ایک ایسی داستان رقم کرتے ہیں جو دنیا کے ہر ضمیر کو جھنجوڑ دینے کی طاقت رکھتی ہے، اور ہر قاری کے دل میں ایک لامتناہی درد اور امید کی ملی جلی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ وہ وادی جس کی فضا کبھی گلزارِ رنگوں، شبنم کی ٹپکتی موتیوں کی خوشبو، اور ندیوں کے مدھر سرگوشیوں سے معمور تھی، آج ایک زندہ المیہ کے روپ میں ڈھلی ہوئی ہے، جہاں ہر درخت، ہر پتھر، ہر پہاڑ اور ہر گھاٹی کشمیری کی بے بسی اور خون کی سرخی کی داستان سناتا ہے۔ یہاں کے باسی، جو کبھی فطرت کے حسن کی آغوش میں خوشی سے جیتے تھے، اب خوف اور اذیت کے سایوں تلے سانس لے رہے ہیں، اور ہر گلی، ہر مکان، ہر بازار ایک لامتناہی صحنہ ہے جہاں انسانی المیے کی کہانیاں ہزاروں سال تک گونجتی رہیں گی۔ ستر سالہ ظلم کی داستاں، گمنام قبریں، لاپتہ جوان، اسیران کشمیری اور ہر روز سینکڑوں معصوم شہداء کی قربانیوں نے اس زمین کو خون کی سرخی میں رنگ دیا ہے، اور ہر آنکھ جو ان مظالم کو دیکھتی ہے، اسے انسانی ضمیر کے عمیق زخموں کی یاد دلاتی ہے۔ یہ زمین جس نے کبھی محبت، امن اور سکون کی تصویر بنائی تھی، آج خون اور درد کی کتاب بن چکی ہے، اور اس کے ہر لفظ میں ایک پوری قوم کی انتھک جدوجہد اور قربانی کے نشانات موجزن ہیں۔
یہی وہ زمین ہے جہاں آزادی کی تمنّا نے ہر کشمیری کی روح میں جڑیں پکڑی ہیں، جہاں سید علی شاہ گیلانی اور دیگر بزرگ رہنماوں کے خواب آج بھی زندہ ہیں، اور جہاں ہر نوجوان، ہر خاندان اور ہر مایوس دل آج بھی اس امید کی روشنی میں جل رہا ہے کہ ایک دن بھارت کے قبضے کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق ملے گا۔ اس خواب کو سات دہائیوں سے زندہ رکھنے والی قربانیوں کی داستانیں لاکھوں شہداء، زخمی، لاپتہ افراد اور ظلم کی دلدل میں دبے ہوئے خاندانوں کی کہانیوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ غزہ میں فلسطین کے لیے جو امن بورڈ قائم کیا گیا، اگر فلسطین کے لیے یہ ممکن ہے تو کشمیر کے لیے کیوں نہیں؟ ستر سال سے کشمیری عوام بھارتی قبضے، مظالم، انسانی حقوق کی پامالی اور ظلم و جبر کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ لاکھوں شہداء، زخمی اور لاپتہ افراد اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ کشمیر کی آزادی صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے، جسے نظرانداز کرنا انسانی ضمیر کے لیے ایک شرمناک فعل ہے۔ آج عالمی برادری کے لیے یہ سوال سب سے اہم ہے کہ اگر فلسطین کے لیے عالمی امن بورڈ ممکن ہے تو کشمیر کی آزادی کے لیے ایسا اقدام کیوں نہیں ہو رہا۔
بھارت کے مظالم کی داستان کو بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ہر دن، ہر گھڑی، ہر لمحہ کشمیری عوام کے لیے ایک آزمائش ہے۔ نوجوانوں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر گرفتار کیا جاتا ہے، کئی کو ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے، اور ہزاروں افراد لاپتہ ہیں، جن کی بازیابی آج بھی ایک خواب ہے۔ خواتین پر ظلم و تشدد کے واقعات، بچوں کی تعلیم پر پابندیاں، اور شہریوں پر مسلسل خوف و دہشت کا سایہ ایک انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے، جو ستر سال سے جاری ہے۔ یہ حقیقت انسانیت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کس طرح ایک پوری قوم کی زندگی اور تقدیر کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ شہداء کشمیر کی قربانی اور حریت رہنماوں کے خواب کشمیری عوام کے لیے روشنی کی مانند ہیں۔ سید علی شاہ گیلانیؒ اور دیگر حریت رہنماوں نے آزادی کے خواب کو زندہ رکھا اور ہر کشمیری کی روح میں یہ پیغام بٹھایا کہ خون کے بغیر آزادی ممکن نہیں۔ یہ قربانیاں صرف سیاسی یا نظریاتی نہیں بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی نمائندگی کرتی ہیں۔ لاکھوں کشمیری ہر دن اپنے خون کی قیمت دے کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ آزادی صرف ایک حق نہیں، بلکہ زندگی کی بنیاد ہے۔ نوجوانوں کی جانیں قربان کرنے کی داستاں، خاندانوں کی صبر آمیز جدوجہد، اور ہر فرد کی امن کی تمنّا ایک ایسا صحنہ پیش کرتی ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں نے کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کی، مگر بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے عملی اقدامات ممکن نہ ہو سکے۔ یہ قراردادیں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں، لیکن بھارت نے ہمیشہ ان کی خلاف ورزی کی۔ دنیا کے سامنے یہ سوال ہے کہ کس طرح ایک پوری قوم کی امیدوں اور قربانیوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور انسانی ضمیر کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔

اگر امریکہ واقعی سنجیدہ ہے تو وہ پاکستان کے ساتھ تعاون کر کے کشمیر کے لیے بھی فوری امن بورڈ قائم کر سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف کشمیری عوام کے حقوق کی عملی ضمانت ہوگی بلکہ ایشیائی امن کے لیے بھارت کے جنگی جنون کو کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ملے گا۔ آزاد کشمیر کی حکومت اور قیادت کی اولین مانگ یہی ہونی چاہیے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو عملی شکل دی جائے اور عالمی سطح پر ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امریکی صدر سے فوری طور پر یہ مطالبہ کریں کہ کشمیر کے لیے امن بورڈ قائم کیا جائے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی عالمی عزت بڑھائے گا بلکہ کشمیری کی آزادی کے لیے عملی بنیاد فراہم کرے گا۔ آزاد کشمیر کی قیادت کے لیے سب سے اہم مطالبہ یہی ہونا چاہیے کہ کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی کی عملی ضمانت دی جائے، تاکہ وہ ستر سالہ جدوجہد کے بعد اپنے حق پر آزادانہ طور پر زندگی گزار سکیں۔ یاسین ملک کی رہائی کشمیری عوام کے لیے ایک ضروری اقدام ہے۔ اگر وہ قید میں رہیں تو خطہ خونی تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، اور حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ یہ عالمی برادری کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد محض سیاسی بیانات نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کی زندگیوں سے جڑی حقیقت ہے۔

آزاد کشمیر کی حکومت، عالمی برادری، اور ہر کشمیری کی نظریں اس اقدام پر ہیں کہ وہ کشمیری عوام کے حق میں عملی اقدامات کرے، تاکہ یہ خون سے لکھی گئی داستان انصاف کی روشنی میں مکمل ہو۔ کشمیر کی ہر وادی، ہر گلی، ہر گھر ایک داستان سناتا ہے۔ ہر پتھر، ہر درخت، ہر ندی آزادی کی تمنّا لیے ہوئے ہے۔ ہر نوجوان کشمیری کی جان قربانی کے لیے تیار ہے۔ ہر ماں، ہر باپ، ہر بہن اور بھائی دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیر کی آزادی صرف ایک خواب نہیں بلکہ انسانی ضرورت ہے۔ یہ وہ زمین ہے جہاں ہر دن خون بہتا ہے، لیکن امید کی روشنی بھی زندہ ہے، اور یہ روشنی وہ ہے جو عالمی ضمیر کو جاگنے پر مجبور کرے گی۔ آزاد کشمیر کی قیادت اور حکومت کی اولین مانگ یہی ہونی چاہیے کہ کشمیر پیس بورڈ قائم کیا جائے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کرے۔ یہ اقدام نہ صرف کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دے گا بلکہ ایشیا میں امن کے لیے بھی ایک مؤثر قدم ثابت ہوگا۔ دنیا کے ممالک، خاص طور پر امریکہ، کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ ستر سال سے جاری قربانیوں کو عملی شکل دی جا سکے اور بھارت کے قبضے کا خاتمہ ہو۔ یہ وقت ہے کہ دنیا اپنی نظریں کشمیری عوام کی طرف کرے اور عملی اقدامات کرے۔ بھارت کے قبضے کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد صرف آزادی کی نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انصاف کی بھی ہے۔ اگر فلسطین کے لیے امن بورڈ ممکن ہے تو کشمیر کے لیے بھی یہ اقدام ہونا چاہیے۔ یہ اقدام عالمی ضمیر کو جھنجوڑے گا، کشمیری قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی، اور آزادی کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے گا۔

اگر فلسطین میں امن ممکن ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں؟ اگر انسانی ہمدردی کے آئینے دنیا کو دکھا سکتے ہیں تو بھارتی ظلم و جبر کے عریاں چہرے کے سامنے کیوں نہیں؟ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیری عوام کی آواز کو محض سنا نہ جائے بلکہ اُس پر عمل کیا جائے، تاکہ وادیوں میں چھپی ہوئی ہر سرگوشی، ہر خون سے بھیگی ہوئی قبر، اور ہر لاپتہ سایہ عملی آزادی کے طلوعی نور میں بدل جائے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب عالمی ضمیر جاگے، پاکستان اور دیگر آزاد ممالک کشمیری قوم کے ساتھ کھڑے ہوں، اور ستر سالہ غلامی اور قربانی کے بعد کشمیر کو اس کے اصل حقِ خود ارادیت کی روشنی میں زندہ کیا جائے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیری عوام کے لیے پیس بورڈ قائم کیا جائے، تاکہ یہ زمین جو کبھی فطرت کے حسن سے مزین تھی، اب آزادی، انصاف اور امن کی لالی سے منور ہو جائے، اور دنیا یہ سمجھے کہ انسانی حقوق کا تقاضا ہر زمین، ہر قوم اور ہر انسان کے لیے یکساں ہے۔