کیا امید ٹوٹ رہی ہے؟

محمد احسان مہر

یہ تحریر طباعت کے مراحل سے گزر کر جب کشمیرالیوم کے قاری کے ہاتھوں میں پہنچے گی ،5فروری ،یوم یکجہتی کشمیر ،کشمیری بھائیوں کے ساتھ پاکستانی قوم کا اظہار یکجہتی کا دن ، ہر سال کی طرح اس سال بھی ، نعروں، وعدوں ،اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی اُمید کی کرن دکھاتا ، ایک اور سال، اگلے سال کی طرف رواں دواں ہو گا،دن ماہ و سال میں بدل گئے، اور سال دہائیوں میں تبدیل ہوتے رہے ،لیکن مسئلہ کشمیر جمود کا شکار،کیا صرف تجدید عہد اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکے گا ،یا اس سے زیادہ کچھ اور بھی کرنے کی ضرورت ہے۔
خطہ کشمیر کا امن کب تک عالمی مفادات کی نذر ہوتا رہے گا ،کشمیری قوم کب تک بھارتی پنجہ استبداد میں جکڑی رہے گی،مائیں کب تک بیٹوں کی واپسی کی راہ تکتی رہیں گی،جوان بیٹیاں کب تک سُہاگ کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی،بہنیںکب تک بھائیوں کی جدائی کا صدمہ برداشت کرتی رہیں گی،بوڑھے والدین کب تک جوان بیٹوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے ،کشمیر کی حسین وادیوں میںکب تک موت کا رقص جاری رہے گا،بھارت فالس فلیگ آپریشن کی بنیاد پر کب تک جنوبی ایشیاء کے امن کو جنگ کی بٹھی میں جھونکنے کی مذموم کوشش کرتا رہے گا ۔79برس بیت گئے عالمی برادری، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سلامتی کونسل کی اتھارٹی کے باوجود م مسئلہ کشمیر حل کرنے میں ناکام رہی، شہہ رگ پاکستان سے کب تک خون رستا رہے گا، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے فرمودات سے قوم کب تک پہلو تہی کرتی رہے گی۔

زندہ اور باوقار قومیں قومی مفادات کیلئے آگے بڑھتی ہیں ،لیکن بدقسمتی سے ہم قومی مقاصدسے انحراف کرنے والی قوم کی طرح 79برسوں سے شخصی مفادات کے گرداب میں اُلجھے ہوئے ہیں ۔امریکی صدر پاک بھارت جنگ رکوانے کے بعد جس طرح امن کا نوبل انعام لینے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ،چاہیے تو یہ تھا کہ وہ پاک بھارت مذاکرات کے لئے اپنا کرداربھی ادا کرتے ،لیکن وہ مشرق وسطیٰ میں 3ہزار سالہ تنازع ختم کرانے کی بات کرتے ہیں لیکن اسرائیل کا ہاتھ آج تک نہیں روک سکے ،عالمی سطح پران کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ دنیا میں تجارت اور (ٹیرف) کی بنیاد پر جنگیں رکوانے کے دعویدار امریکی صدر اب ڈالر اور تیل کی بنیاد پر آزاد اور خود مختار ممالک میں خطرناک طریقے سے دخل اندازی پر اتر آئے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر کی انتہاء درجے کی خود پسندی اورخوشامدی لہجہ عالمی نظام میںپُراسرارتبدیلیوں کو جنم دینے کا باعث بنے گا ۔
معرکہ حق میں کامیابی اور آپریشن سُندور کی ناکامی کے بعد مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ہے ،اب پہلے سے بھی زیادہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیر کی نزاکت اور حساسیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ،جیسا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کا قیا م مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے ۔ضروری تھا کہ عالمی برادری میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے،دفاعی کامیابی کو سفارتی انداز میںبھی جیتنے کی ضرورت ہے،خطے کے معروضی حالات کشمیر کے معاملے میں کامیاب سفارت کاری کا تقاضا کرتے ہیں۔
عالمی طاقتیں بین الااقوامی قوانین اور روایات کو پس پشت ڈال کر اپنے مفادات کے لیے جس طرح کا کھیل رچا رہی ہیں پاکستان کو بھی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے مفادات کے لیے میدان میں اترنا ہو گا،بے شک زندہ اور باوقار قومیں مشکل اور دلیرانہ فیصلوں سے ہی پہنچانی جاتی ہیں ، قومی مقاصدکے حصول کی خاطر ہمیں قومی سطح پر ہر قسم کی قربانی کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ایران کے داخلی معاملات میں امریکہ کی براہ راست دھمکیاں؛شہری آزادی،جمہوریت،انسانی حقوق ، عالمی سیاست اور بین الااقوامی قوانین کی قبر کھودنے کے مترادف ہے ،اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس میں گرتا کون ہے ،کیا مشرق وسطیٰ کسی نئے بحران کا متحمل ہو سکتا ہے،کتنی تباہی وبربادی خلیجی ریاستوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہو گی۔سچ یہ ہے کہ امریکہ کو عالمی امن ، انسانی حقوق سے کوئی سروکار ہے نہ ہی امریکی صدر کے (فیورٹ اور پسندیدہ) القابات کے پیچھے کوئی حقیقت نظر آتی ہے،یہ خوشامدی کا ایسا جال ہے وقت گزرنے کے ساتھ جس کے پیچھے چھُپے گھنائونے عزائم آشکار ہوں گے۔
ٹرمپ عالمی لیڈر کے برعکس روایتی لیڈر کی طرح عالمی نظام میں رخنہ اندازی کی کوشش کر کے عالمی برادری میںغلط پیغام دے رہے ہیں،مشرق وسطیٰ کا امن اور مسئلہ کشمیر کا حل عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے ،انہیں نظر انداز کر کے لا یعنی مقاصد کے پیچھے بھاگناعالمی طاقتوں کو زیب نہیں دیتا ۔
کشمیری اقوام متحدہ کی سرد مہری ، عالمی برادری کی بے حسی اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ،اور اس امید پر وہ بھارتی سامراج کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں کہ ایک دن ضرور یہ طویل اور تاریک رات ختم ہو گی اور صبح آزادی کا سورج طلوع ہو گا،وہ دیکھ رہے ہیں کہ بہت جلد نام نہاد جمہوریت کی کھوکھلی بنیادوں پر کھڑا بھارت کا معاشرتی نظام زمین بوس ہو گا ، پھر کمزور،مظلوم اور لاچار انسانیت سکھ کا سانس لے سکے گی،لیکن ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ امید ٹوٹ تو نہیں رہی۔

محمد احسان مہر