محمد احسان مہر
مشرق وسطیٰ میںسیاسی،سفارتی،عسکری دبائو کاماحول اور امریکی صدر کی دھمکیوںکہ ایران کے پاس وقت بہت کم ہے کے نتیجے میںلمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال اور بیک ٹو ڈپلومیسی کے تحت شروع ہونے والے مذاکرات خطے کے مستقبل پر کیا اثر ڈالتے ہیں،یا پچھلے سال کی طرح مذاکرات کے د وران ہی ایران کی جوہری تنصیبات او ر بیلسٹک میزائل سائٹ پر حملہ شروع کر دیا جاتا ہے، ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، کیونکہ امریکہ ہمیشہ دوسروں کے گھر میں دروازے کے بجائے دیوار پھلانگ کر داخل ہوا ہے،اس لیے یہ کہنا کہ فقط بات چیت کے ذریعے یہ مسائل حل ہو جا سکتے ہیںذرا مشکل ہو گا، لیکن موجودہ حالات میں خطے کی ایک (مزاحمتی تصویر) بھی واضح ہورہی ہے، وہ یہ ہے کہ جارحانہ امریکی بیانات اور اقدامات کے مقابلے میں متوازن اور برابری کی سطح پر،اعتماد کے لہجے میں ایرانی مطالبات کی بھی کسی حد تک پزیرائی،لیکن امریکی انتظامیہ ایران کی جوہری توانائی اور بیلسٹک میزا ئل ٹیکنالوجی کے خلاف ہر قدم ا ٹھانے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیارامریکہ،یورپ،عالمی سکیورٹی اور خطے کیلئے خطرہ ہیں ،مغرب اور امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں موجود اسٹریجک مفادات اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایران 44سال سے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی ،اور امریکی اقتصادی پابندیوںکا سامنا کر رہا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی (امریکہ )پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مذاکرات میں ایرانی افزودہ یورینیم کی دوسرے ملک منتقلی اور بیلسٹک میزائل پر ضرور بات کریں، جبکہ ایران کی دفائی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میںایران کی میزائل صلاحیتوں پربات نہیں ہو گی،ان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف محدود فوجی حملہ بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا اور یہ جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہے گی، مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران سے معاہدہ بہت مشکل ہے،لیکن صدر ٹرمپ کوشش کریں گے۔ ہم سٖفارتکاری میں ایران کے ساتھ بہت آگے تک نہیں جا سکتے ،ایران کے ساتھ سفارتکاری مشکل عمل ہے ،کیونکہ ہمیں ایرانی سپریم لیڈر (علی خامنہ ای) تک رسائی حاصل نہیں۔وائٹ ہائوس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے توہمارے پاس کئی آپشن موجود ہیں، ان حالات میں پاکستان کی ایران امریکہ مذاکرات میں شمولیت کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ایران کا موقف ہے کہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں، ملکی دفاع،پُر امن مقاصد اور علاقائی استحکام کے لیے یورینیم کی افزودگی، جدید دفاعی ٹیکنالوجی، بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہمارا حق ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی،سفارتی ،سیاسی ،فوجی اور اعصابی تنائو جیسے دبائو کے ماحول میںمشرق وسطیٰ میں مسئلے کی اصل جڑ اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے دارلحکومت (القدس)کے مرکزی علاقے میں قائم اقوام متحدہ کی عمارت مسمار کر دی،اس سے ایک دن پہلے 27جنوری کے دن مسلح یہودی آبادکاروںنے 1967 سے قبل فلسطین میں آباد4مسلمان خاندانوںکو زبردستی ان کے گھروں سے انخلاء پر مجبور کر دیا ، مغربی کنارے میںیہودی آبادی بسانے کا غیر قانونی توسیع پسندانہ اسرائیلی منصوبہ بھی جاری ہے۔ اسی دن اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمدنے کہا کہ فلسطین کا حل طلب مسئلہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث ہے،اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کھلے مباحثے کے انعقاد کی حمایت کرتا ہے،عاصم افتخار نے کہا کہ فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے غیرقانونی قبضے کا سامنا کر رہے ہیں ۔عالمی سطح پر بھی پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور مکالمے کی بنیاد پر تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا ہے ،اسلامی وزراء خارجہ نے (دوحا) میں اپنے ایک بیان میں فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی یہودی بستیاں بسانے اور زمین کی خریدو فروخت کا نیاقانونی وانتظامی نظام نافذکرنے کی اسرائیلی کوششوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پالیسیاں تشدداور عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہیں،یہ اقدامات2ریاستی حل کے لیے شدید نقصان دہ ہیں،سازگار ماحول کے لیے4جون1967کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔
اسلامی وزراء خارجہ نے مشترکہ بیان میں مقبوضہ بیت المقدس کوفلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا اورعالمی برادری سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے ،لیکن غزہ میں انسانی بحران اور مشرق وُسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میںعرب لیگ،خلیج تعاون کونسل،او آئی سی اور 57اسلامی ممالک کا 34ملکی فوجی اتحادکا کردار انتہائی مایوس کن، افسوس ناک اور شرمناک رہا۔فلسطینیوں کی نسل کشی میں اُمت مسلمہ بھلاکب تک انہیں تنہاء چھوڑ سکتی ہے۔۔۔ ؟ لیکن سوال یہ ہے کہ جواب کون دے گا۔۔۔ ؟

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اقوام متحدہ کا کردار نظر انداز کر کے نام نہاد امن کے لیے اقوام متحدہ کے متبادل (غزہ بورڈآف پیس ) کا اعلان کر کے ڈوبتے ہوئے عالمی نظام کو سہارا دینے کی کوشش کر رہے ہیں،غزہ امن بورڈ ،غزہ جنگ کے متاثرین کی بحالی ، امن واستحکام اور مستقل جنگ بندی کے لیے کتنی سنجیدہ کوشش کر پائے گااس کاکچھ اندازہ امریکی صدرکے بیانات سے اخذکیا جا سکتا ہے۔اگرسمجھنے میں دشواری پیش آئے تو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیانات اور اقدامات حقیقت کی قلعی کھول رہے ہیں،وہ غزہ امن بورڈ میں قطر اور ترکیہ کی افواج کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہیں،حماس کو غیر مسلح کرنا اور فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار وہ تسلسل سے کرتے آرہے ہیں،اور امریکی صدر (گرین لینڈکی وجہ سے) یو رپی اتحادی ممالک کی ناراضگی کے باوجود پاکستان، اسرائیل سمیت 60 سے زائد ممالک کو ؛غزہ بورڈ آف پیس میں( 5ارب ڈالر ) کی شرط پر شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں،پولینڈ اور آذربائیجان نے مشرق وسطیٰ کی نہایت حساس اور پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے غزہ بورڈ کا رکن بننے سے انکار کر دیا ہے، واضح رہے کہ ابھی تک پاکستان، اسرائیل سمیت تقریبا 15 ممالک نے اس بورڈمیں شامل ہونے کی حامی بھری ہے۔حماس کو غیر مسلح کرنے کے اسرائیلی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے حماس کے سیاسی رہنماء ـــخالد مشعل نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ کاقبضہ نہیں چھوڑتاہتھیار نہیں چھوڑیں گے،اسرائیل فلسطینیوں کے ہتھیار چھین کرانتشار پیدا کرناچاہتا ہے، قبضے کے شکار عوام سے ہتھیار چھیننا انہیں آسان شکار بنادے گا،خالد مشعل نے کہا کہ غزہ کی بحالی اور مستقل جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔غزہ میں موجو دتمام فلسطینی ؛مزاحمتی تنظیموںنے متعدد اجلاسوں کے بعد اصُولی فیصلے پر اتفاق کیا ہے اور امن فورس کیلئے فوج بھیجنے والے ممالک پر شرائط واضح کر دی ہیں،حماس رہنماء باسم نعیم نے کہا کہ امن فورس سرحد پر رہے۔فورس فلسطین کے سول،سیاسی اور سیکورٹی امور میں مداخلت نہ کرے، عالمی فورس نے مداخلت کی تو فلسطینی اُنہیں قابض تصور کریں گے۔آزادفلسطینی ریاست،مقبوضہ جموںو کشمیر سمیت عالمی تنازعات کا منصفانہ حل عالمی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے اورعالمی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں امریکی صدر کی توجہ کا مرکز ہیں ،لیکن مشرق وسطیٰ میںنام نہاد امن کی خاطر اسرائیل کی( فکر) میں گرفتار امریکہ اب ایران کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے، ایران کے خلاف اشتعال انگیز امریکی اقدامات کی کوئی اخلاقی توجیع نظر نہیں آتی لیکن خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ اور عالمی بالادستی کی خاطر امریکہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار نظر آتا ہے،عالمی استعماری طاقتوں کی ان امتیازی اور جانبدارانہ پالیسیوں کی وجہ سے عالمی برادری میں عالمی اداروں اور عالمی قوانین کی پاسداری ختم ہو رہی ہے ،اور دنیا تیزی سے عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے،امریکہ،برطانیہ،فرانس اور کینیڈاکے شہریوں نے ایک (پولیٹیکول پول سروے)میں اگلے 5سالوں میںتیسری عالمی جنگ چھڑنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
خطے میں جب اس بنیاد پر ایران کے خلاف جنگی ماحول بنایا جارہا ہے کہ وہ ملکی دفاع کے لیے ہاتھ پائو ں مار رہا ہے ،امریکہ کی اسرائیل کو بھاری جنگی سازو سامان کی فراہمی خطے میں کسی بڑی جنگ کی راہ ہموار کر رہی ہے۔غزہ جنگ میں امریکی ممنوعہ تھرمو بیرک بموں کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس کا مرکز میں درجہ حرارت 3500 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے، غزہ جنگ میں ان بموں کے استعمال کی وجہ سے3000 سے زائد شُہدا کی باقیات تلاش کے باجود نہ مل سکیں، یورپ اور امریکہ نے اسرائیل کوخطرناک ترین اسلحہ فراہم کرکے انسانیت کیخلاف عالمی جرم کا ارتکاب کیا ہے،اور یوں عالمی نظام انصاف غزہ جنگ میں انسانیت کے امتحان میں ناکام رہا، عالمی امن و استحکام کے لیے تنازعات کا منصفانہ حل ناگزیر ہے لیکن اقوام متحدہ کاعملی کردار غیر فعال کر کے (عالمی برادری) اب غزہ بورڈ میں کیا ۔کچھ نیا تلاش کرنے جا رہی ہے ؟ امریکی صدر اقوام متحدہ کی کا رکردگی پر سوالہ نشان لگا کرموجودہ عالمی نظام کی خامیوںکا اعتراف کر رہے ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس کے پیچھے چھپ کر اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔عالمی سطح پر جنگوں کو روکنے کی وجہ شہرت اورامن کا (نوبل)انعام کی خواہش رکھنے والے امریکی صدر اپنے (لے پالک) اسرائیل کی فکر میں اپنے اتحادی ممالک (نیٹو) کو بھی پیچھے چھوڑ کر ایران کو دھمکانے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے اکیلے ہی نکل آئے ہیں۔ٹرمپ اپنے غروروتکبر اور عسکری برتری کے زعم میںایران میں رجیم چینج اور جنگ مسلط کرنے کی دھمکیوں،خفیہ مگر تیز ترین کاروائی، جیسے جارحانہ دبائو کے ماحول میں کہہ رہے ہیں کہ ایران کے پاس وقت بہت کم ہے ،کیا عالمی برادری میں آزاد اور خود مختار ممالک کی دفاعی صلاحیت کے حصول کی نوعیت امریکی اجازت سے مشروط ہے ؟امریکہ کا ماضی وحال کس سے پوشیدہ ہے ؟ پھر وہ کس اخلاقی بنیاد پر دوسروں کو آنکھیں دکھا رہا ہے؟
ایرانی قیادت تمام تر دبائو کے باوجو د بگڑتے ہوئے علاقائی حالات کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرا رہی ہے اور واشگاف الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ جو ہماری طرف ہوا کا جھونکا لائے گا ہم اس کی طرف طوفان لے کرجائیں گے ، جارحانہ امریکی اقدام پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے ،ایران زبان حال سے امریکہ سے مخاطب ہے کہ ہمیں دھمکی دی جاتی ہے کہ وقت بہت کم ہے ،ہو سکتاہے ایساہی ہو ، لیکن یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، کہ وقت کس کے لیے کم ہے ۔بس تم اتنا جان لو کہ ہم کون تھے ،کیاتھے اور کہاں تھے ،عرب کی وادیوں سے اْٹھے اور پوری دنیا پر چھا گئے،313تھے وہ بھی سب مسلح نہ تھے،آج لاکھوں ،کروڑوں بلکہ اربوں کی تعداد میں جزیرۃ العرب سے لیکرافریقہ، ایشیاء ،یورپ تک پہنچے اور آج تمہارے گھر میں تمہارے دل پردستک دے رہے ہیں،اور ہم بھولے نہیں ۔ہمیں یاد ہے کہ امت مسلمہ کا ہر زخم تمہارے ہی ظلم وستم کی داستان ہے،پھر وہ فلسطین ہو یا کشمیر ،سقوط ڈھاکہ،لیبیاء،عراق،شام، افغانستان ،بوسنیاء،صومالیہ،اردن،لبنان،یمن ہر جگہ تمہاری ہی سازشوں کی نحوست نے پنجے گاڑھے ہیں۔لیکن تاریخ ہمیں بتا رہی ہے کہ قیصر وکسرٰی کی شان و شوکت ، روم وفارس کا رعب ودبدبہ،تاج برطانیہ اور سوویت یونین کا عروج ،سب تاریخ کا حصہ بن گئے ۔اور اب امریکہ، طاقتوربحری بیڑے، طیارہ برداربحری جہاز (ابراہم لنکن)کے بل بوتے پرعالمی بالا دستی کی خاطر مشرق وسطیٰ میں ایران کیخلاف اشتعال انگیز اقدامات سے جنگ کی آگ بھڑکا کراور (مذاکرات کا ڈھونگ) رچا کر تاریخ کا حصہ بننے جا رہا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مزاکرات ،موجودہ کشیدگی میں کمی اورمشرق وسطیٰ کے مستقبل میںکیا رنگ بھرتے ہیں ؟ امریکہ نے ایران پر مزید دبائو بڑھانے کیلئے جدید ترین جوہری توانائی سے چلنے والا USS(جیرالڈفورڈ)جہاز بھی مشرق وُسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف ہفتوں جاری رہنے والی بڑی فوجی کاروائی اور ممکنہ (جوابی حملہ) ردعمل سے بچنے کی تیاری کر رہا ہے۔تصادم کی اس فضاء میں بیک ٹو ڈپلومیسی
،سفارتکاری اور ایران کیساتھ معاہدے کی امید پر جنیوا میں ہونے والے مذاکرات جنگ کے بادل چھٹنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں یا نئے سرے سےصف بندی کا بہانہ لیکن حالات بتارہے ہیں کہ اسلام کے خلاف مکارانہ سوچ اور دہائیوں سے جاری مکرو فریب کا یہ دھندہ، سیاست کے نام پر عالمی طاقتوںکے مفادات کا تحفظ،نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروںکا انسانیت کیخلاف گھنائوناکھیل عالمی امن کے نام پرنہتے شہریوں اور مخالف ممالک میںتباہ کن بمباری،طاغوت کے سرغنہ کی پشت پناہی، عالمی اسٹیبلشمنٹ کا مکروہ چہرہ اور فرسودہ عالمی نظام کی بساط لپیٹنے اور عسکری غرور و تکبر کا پہاڑبڑا بحری بیڑہ اور امریکی ورلڈآرڈرکا غرور بحیرہ عرب کے پانیوں میںغرق ہونے میں یقینا، وقت بہت کم ہے ۔


محمد احسان مہر






