۔26 جنوری بھارتی یوم جمہوریہ اور مقبوضہ کشمیر

بشارت علی بارو

بھارت اس سال78واںیوم جمہوریہ منا نے جارہا ہے ۔ برصغیر کی تقسیم کا مرحلہ 14اگست 1947ء کو مکمل ہوا ۔ بھارت نے15اگست کو یوم آزادی کا دن منایا اس وقت اس کے پاس اپنا آئین نہیں تھا۔ بھارتی آئین کا پہلا مسودہ 6نومبر 1947ء کو متعلقہ کمیٹی کی طرف سے اسمبلی میں پیش کیا گیا ۔ اسمبلی نے آئین کے انگریزی اور ہندی زبانوں کے حتمی مسودے پر 26 جنوری1950 ء کو دستخط کئے اور بھارتی آئین اسی روز نافذ کیا ۔ اس دن کے انتخاب کی وجہ26 جنوری1930 ء کا دن قرار دیا جاتا ہے جب کانگریس نے ہندوستان کی آزادی کے طور پر اس دن کو منایا تھا۔ آئین کے بعد بھارتی عوام کو اپنی حکومت کے چنائو کا اختیارمل گیا۔ اسی دن بھارت کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے گورنمنٹ ہاوس کے دربار ہال میں حلف اُٹھایا اور آورن اسٹیڈیم جا کر بھارتی ترنگا لہرایا اس دن سے بھارتی اسے یوم جمہوریہ کے طور پر مناتے آرہے ہیں ۔ اس روز سرکاری طورپر چھٹی ہوتی ہے اور مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ اہم سرکاری عمارتوں اور قومی یاد گاروں پر بھارتی ترنگا لہرایا جاتا ہے ویسے تو پورے بھارت میں 24سے29 جنوری تک اس دن کے حوالے سے مختلف شو زمنعقد کئے جاتے ہیں لیکن سب سے بڑی تقریب کا بند وبست دہلی میں 26جنوری کو کیا جاتا ہے۔

کشمیری بھارتی یوم جمہوریہ کو ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں جن کی آزادی بھارت نے سلب کر رکھی ہے ان میں سرفہرست کشمیری ہیں جو ایسے ہی کسی دن کے منتظر ہیں جب وہ اپنا یوم کشمیر اور یوم آزادی منارہے ہوں گے جس دن کشمیر کی حسین وادیاں اور آبشاریں ،برف پوش پہاڑ اور پھول ان کے ساتھ ملی اور قومی نغموں میں اپنے سریلے راگ شامل کر رہے ہوں گے، جب وہ بھارت کو کسی ایسے دن کو مناتے ہوئے دیکھتے ہیں توان کے دلوں پر جو گزرتی ہے ، اسے وہی محسوس کر سکتے ہیں ۔ بھارت میں سرکاری سطح پر سب کچھ ہوتا ہے لیکن بھارتی عوام کی ایک بڑی تعداد کو ابھی تک حقیقی آزادی اور نہ اس کا پھل مل سکا ۔بھارت میں آج بھی 50کروڑ سے زیادہ افراد خط کو افلاس ، لسانی ، اورنسلی طبقوں کو جبراََبھارت کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، درجنوں علیحدگی کی تحریکوں کو دبانے کے لئے سیکورٹی اداروں کے لشکر ان پرتعینات ہیں ۔مقبوضہ جموں و کشمیر ایسے متعدد امتیازی قوانین نافذہیں۔ جو بنیادی انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلریشن اور شخصی آزادیوں کےخلاف ہیں ۔جمہوریت کی بنیادی روح اس وقت کچل جاتی ہے جب ایک ہی ملک میں ایک طرف یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے اور دوسری طرف کچھ لوگوں پر ڈریکونین لامسلط کر رکھے ہوں ۔کشمیر یوں کو غائب کرنے اور قتل کرنے کے لائسنس دئے گئے ہیں ۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلریشن آرٹیکل 3کےخلاف ہے بلکہ ریاست اور فرد کے درمیان معاہدہ عمرانی سے روگردانی کے مترادف ہے۔ قانون کا بنیادی مقصد کمزور انسانوں کو طاقتور سے تحفظ دینا ہے لیکن کشمیر میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ، جہاں طاقتور کو کمزوروں پر ظلم کرنے کو قانونی تحفظ حاصل ہے کشمیر کی 78سالہ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں کشمیریوں کو قتل کرنے کے الزام میں ایک درجن اہلکاروں کو بھی سزا دی گئی نہ ہی بھارتی ضمیر پر کو ئی خلش ہے کہ وہ اس نا انصافی اور بربریت کا کوئی جواز پیش کرسکے۔

1987کے بعد تو بھارتی تشدد میں بے پناہ اضافے سے انسانیت کی روح تڑپ اُ ٹھی تھی۔ سوپور جو کشمیر کا کاروباری اور تجارتی مرکز ہے 1993 میں تحریک آزادی کو دبانے کے لئے جب بھارتی فوجی درندوں نے جس بے رحمی اور سفاکی کا مظاہرہ کیا ہے اسے یاد کر کے آج بھی سوپور کے باسی کانپ اُٹھتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک درندہ صفت فوجی جانور وں،دکانوں اور مکانوں سے اُٹھنے والے آگ کے شعلوں میں ایک آٹھ سالہ بچے کو اپنی سنگین پر چڑھا کر پھینکا تو دیکھنے والے بے اختیار چیخ اٹھے۔ بعد میں بننے والے کمیشن کی انکوائریوں اور عدالتی چھان بین کے بعد بھی اس فوجی کو سزا نہ دی گئی۔ لاقانویت اور ظلم کو آرمڑفورسزسپیشل پاورز ایکٹ 1990کے تحت روا رکھا جانا ہے جسے ہر سال یوم جمہوریہ منانے والی بھارتی پارلیمنٹ نے 1990میں منظور کیا تھا ۔اس قانون کو کسی نان کشمیر کمشنڈ آفیسر کو کسی شہری کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کرنے کے اختیار دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔کشمیر اور دنیا بھر میں جہاں بھی کشمیری ہیں بھارت کے یوم جمہوریہ کو اس موقف اور عزم کے ساتھ یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہ دنیا جمہوری اُصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور بھارت ایک جمہوری ملک نہیں برہمن بالادستی حکمران ہے جس نے سوا ارب انسانوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اس دن مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہرتال کی جاتی ہے بھارت کی طرف سے کشمیر کے شہروں اور قصبات میں بھارتی فوجوں کے لائولشکر بڑھا دیے جاتے ہیں تاکہ کشمیریوں کے مظاہروں سے یوم جمہوریہ کا مزہ کرکرانہ ہو جائے یہ کیسی جمہوریت ہے جو برہمن اپنے لئے پسند کرتے ہیں جبکہ کشمیر میں ظلم و جبر سے پُر امن لوگوں کو غلام بنا کر رکھا ہو ا ہے۔