جنوری محض ایک تاریخ نہیں ۔۔ ایک زخم ہے جو آج بھی ہرا ہے

بھارت ہر سال 26 جنوری کو ’’یوم جمہوریہ‘‘ کے طور پر مناتا ہے، آئین، جمہوریت، سیکولرازم اور شہری آزادیوں کے دعوے دہراتا ہے، لیکن کشمیر کے لیے جنوری محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زخم ہے جو آج بھی ہرا ہے، ایک ایسا المیہ جو نہ صرف یادداشتوں میں زندہ ہے بلکہ مسلسل جاری ظلم کی صورت میں ہر دن دہرایا جا رہا ہے۔ جی جنوری 1990ءکا مہینہ ۔۔۔ جس نے کشمیر کی تاریخ کو خون میں نہلا دیا، اور ریاستی جبر کو ایک منظم، منصوبہ بند اور کھلی جارحیت میں بدل دیا۔یہ دور کشمیر کی تاریخ کا ایک انتہائی پرتشدد اور متنازعہ باب ہے۔ 19 جنوری 1990ء کو جگموہن ملہوترا نے بطور گورنر جموں و کشمیر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، اورپہلے ہی دن سے وادی میں ظلم و ستم کی ایک ایسی داستان رقم کرنے کا آغاز کر دیا، جس کی مثال حالیہ عالمی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ اصولی طور پریہ محض انتظامی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا آغاز تھا جس کا مقصد کشمیری عوام کی سیاسی، سماجی اور اخلاقی مزاحمت کو کچلنا تھا۔اس دور کی سب سے خطرناک اور تباہ کن پالیسی تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دینا تھا۔ اس مقصد کے لیے کشمیری پنڈتوں کے مسئلے کو دانستہ طور پر ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پنڈت برادری کو وادی سے نکال کر جموں کے ریفوجی کیمپوں میں منتقل کیا گیا، اور اس پورے عمل میں انہیں سرکاری اور فوجی گاڑیوں سمیت ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس جبری اور منظم انخلا کو بعد میں کشمیری مسلمانوں کے کھاتے میں ڈالنے کی بھرپور کوشش کی گئی، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔یہ ایک سیاسی چال تھی جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا، تحریک آزادی کو بدنام کرنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری مسلمان اور پنڈت صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے، مگر 1990ء میں ریاستی پالیسی نے اس ہم آہنگی کو دانستہ طور پر پارہ پارہ کر دیا۔ اس دور میںعوامی مظاہروں کو روکنے کے لیے کرفیو، فائرنگ، گھیراؤ، جلاؤ اور اجتماعی سزا کے تمام ہتھکنڈے آزما ئےگئے۔ میڈیا پر سخت سنسرشپ عائد کر دی گئی۔ ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو وادی سے باہر نکال دیا گیا تاکہ قتل عام کی خبریں دنیا تک نہ پہنچ سکیں۔ ریاست کا پورا سول ڈھانچہ مفلوج ہو کر رہ گیا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت کو برطرف کر کے اسمبلی تحلیل کر دی گئی۔ اس کے بعد پوری وادی میں طویل کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ جب بھی کرفیو میں چند گھنٹوں کے لیے نرمی کی جاتی، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آتے، آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے، اور جواب میں گولیاں کھاتے۔ پھر دوبارہ کرفیو لگا دیا جاتا۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والاظلم کا چکر تھا۔جگموہن نے 20 جنوری 1990ء کو گورنر کی حیثیت سے مکمل چارج سنبھالا اور 22 مئی 1990ء کو انہیں عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ ان 123 دنوں میں 74 دن مکمل کرفیو رہا، جبکہ مزید 18 دن سول کرفیو اور مسلسل احتجاجوں کی نذر ہوئے۔ ان دنوں بھارتی فورسز کو قتل عام کی عملی طور پر کھلی اجازت دی گئی۔ پرامن عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے کسی قسم کی اخلاقی، قانونی یا انسانی حد کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ گلیاں، چوراہے، بازار اور حتیٰ کہ جنازے بھی محفوظ نہ رہے۔ ان 123 دنوں میں ہزاروں کشمیری شہید اور زخمی ہوئے۔ سینکڑوں افراد عمر بھر کے لیے معذور کر دیے گئے۔ جنوری 1990ء کے بعد کشمیر میں جو کچھ ہوا، وہ اسی اصول کی عملی مثال ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، عصمت دری، پیلٹ گنز، اور مسلسل خوف نے ایک پوری نسل کو نفسیاتی مریض بنا دیا۔جنوری کی تلخ یادیں آج بھی ایک رستے ہوئے زخم کی طرح ہیں۔آج، جب بھارت26 جنوری یوم جمہوریہ مناتا ہے، توکشمیر میں یہ زخم پھر تازہ ہو جا تے ہیں۔ یہ یادیں محض ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ حال کی تصویر ہیں۔ وہی ظلم، وہی جبر، وہی پابندیاں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہتھیار بدل گئے ہیں، مگر نیت نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے جنوری 1990ء کشمیر کی تاریخ کا صرف ایک باب نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری داستان ہے۔ یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت کے دعوے بندوق کی نالی سے جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں، اور آزادی کی خواہش کو گولیوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔ کشمیر آج بھی سوال بن کر دنیا کے سامنے کھڑا ہے ۔ایک ایسا سوال جس کا جواب انصاف اور حق خودارادیت کے سوا کچھ نہیں۔