محمد احسان مہر
عالمی برادری نے 1948میں دوسری عالمی جنگ کے بعد تباہ حال دنیا کو جب نئے سرے سے جنگ و جدل سے پاک عدل و انصاف اور ترقی و خوشحالی کیلئے اور سب سے بڑھ کر باہمی احترام ، انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ جیسے ادارے کو قائم کیا تو کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ عالمی استعماری طاقتیں، اقوام متحدہ جیسے ادارے کو بھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن جس طرح عالمی طاقتوں نے دوسری جنگ عظیم کے تمام تر منفی اثرات امت مسلمہ کی جھولی میں ڈالے، بالخصوص خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کی شکل میں بالکل اسی طرح اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ ہی عالمی طاقتوں نے امت مسلمہ کے قلب پر دو زخم بھی چھوڑے فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ۔
فلسطین اور کشمیر کے مسائل مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور قانونی طور پر حل کرنے کی اگر سنجیدہ کوشش کی جائے تو یہ چند دنوں کی بات ہے۔ لیکن تمام تر تاریخی دستاویزات اور بین الاقوامی قوانین کی موجودگی لیکن پھر بھی اقوام متحدہ اور عالمی برادری 78سال سے ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ۔ دوسری طرف طاقتور مسلم ریاستیں مسائل حل کرنے کی بجائے باہمی چپقلش محلاتی سازشوں، باہمی دست گریباں اور اندرونی طور پر ہارڈ اسٹیٹ بننے کے چکر میں ملک میں ہی پاور شو کرنے پر بضد نظر آتی ہیں تو ایسے میں غزہ اور کشمیر کے مجرم امت مسلمہ کے لئے تباہی و بربادی کے نئے دروزے کھول رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو غزہ کی تباہی و بربادی کے بعد غزہ جنگ بندی معاہدے کوسبوتاژ کرتے ہوئے غزہ پر حملے کر رہا ہے۔ جس سے حماس اور امدادی کارکنوں کو ملبے سے شہداء اور زخمیوں کو نکالنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالثوں کو معاہدے کی حساسیت سے خبردار کر رہا ہے۔ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملے میں حماس راہنما کی شہادت کی اطلاعات کے بعد امریکی صدر کہہ رہے ہیں کہ ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔غزہ کی طرح کشمیر میںبھی نریندر مودی کی سر پرستی میں بھارت ظلم و بربریت کے نئے باب رقم کر رہا ہے۔ بھارت بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی اور کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا بھی مرتکب ہو رہا ہے۔


غزہ اور کشمیر کے یہ مجرم بڑی ڈھٹائی سے اپنے مکروہ عزائم پر کاربند نظر آتے ہیں۔ گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے خود ساختہ ایجنڈے دنیا کے امن و سلامتی کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔اسرائیل 1948سے ہی فلسطینی مسلمانوں کی زمین ہتھیانے اور ان کی نسل کشی میں مصروف ہے اور مصر اردن شام اور لبنان کے سرحدی علاقوں پر قابض ہے۔ گریٹر اسرائیلی عزائم مشرقی وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی ناکام کوشش ہے۔ نیتن یاہو کی عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں اور غزہ جنگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے عالمی عدالت انصاف انہیں جنگی مجرم بھی قرار دے چکی ہے۔
جنوبی ایشیاء میں بھارتی وزیر اعظم مودی خطے اور ہمسایہ ممالک میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے بھارت کے اندر مسلمان بلوائیوں کے تشدد کا شکار ہیں اور دوسری طرف بھارتی اقلیتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔بھارتی صوبہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا سرکاری ڈگری دینے کے دورا ن مسلمان خاتون کا نقاب نوچنا تعصب اور نفرت کی واضح علامت ہے۔ 78سال سے ریاست کشمیرکے مسلمان بھارتی قابض افواج کے ظلم و بربریت کا سامنا کر رہے ہیں۔ جذبہ حریت سے سرشار کشمیری مسلمان لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ہماری عفت مآب مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں، بھارتی ظلم و ستم کا بڑے حوصلے اور عزم کے ساتھ سامنا کر رہی ہیں۔ہزاروں کشمیری نوجوان لاپتہ اور سینکڑوں بھارتی عقوبت خانوں میں ٹارچر برداشت کر رہےہیں۔ سوال یہ ہے کیا عالمی برادری اور اقوام متحدہ غزہ اور کشمیر کے مجرموں کو عالمی امن تباہ کرنے کے لئے آخر کب تک کھلا چھوڑ سکتی ہیں۔۔۔؟
آسٹریلیا کے شہرسڈنی کے ساحل بونڈائی پر یہودی مذہبی تقریبات کے دوران ہونے والے حملے کے تناظر میں فرانس کے صدر میکرون نے کہا ہے کہ عالمی برادری نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ کوشش کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نفرت تعصب اور انتہا پسندی کی بنیاد پر کسی کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسی طرح تنازعات کی بنیاد پر انسانی زندگیوں پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن اگر حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے تو پھر غزہ اور کشمیر میں 78سال سے انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے عالمی دہشت گردوں کو لگام کون دے گا ؟عالمی برادری میں نئی گروہ بندی اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی کے ساتھ ہی دہشت گرد جدید ہتھیاروں اور نئے ٹولز کے ساتھ ریاستوں کے خلاف سر گرم عمل ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب کے انسانیت کی بقاء اور امن و خوشحالی کے لئے قدیم ترین تنازعات (غزہ اور کشمیر) کو حل کرنے میں سنجیدگی دکھائے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری اپنے مفادات کو پش پشت ڈال کر کھلے دل دماغ سے انسانیت کی فلاح وبقاء اورباہمی احترام کو مد نظر رکھ کر دیرینہ مسائل ، غزہ اور کشمیر کے تنازعات حل کرنے میں مزید تاخیر نہیں کریگی۔ بلا شبہ انسانیت ہی انسانیت کے کام آتی ہے۔
محمد احسان مہر







