حامد میر
ہت کم پاکستانیوں کو یاد رہ گیا ہے کہ 1964ء میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی گئی تھی اور مشرقی و مغربی پاکستان سے جماعت کی مجلس شوریٰ و عاملہ کے پچاس ارکان کو گرفتار کرلیا گیاتھا جنرل ایوب خان کی حکومت نے گرفتار ارکان کے خلاف ایک چھ نکاتی چارج شیٹ تیار کی جس میں کہاگیا کہ جماعت اسلامی قیام پاکستان کے خلاف تھی یہ کہ جماعت اسلامی سرکاری ملازمین اور مزدوروں کی حمایت سے حکومت پر قبضہ کرکے پاکستان میں فسطائی نظام قائم کرنا چاہتی ہے یہ کہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم تعلیمی اداروں میں بدامنی اور فسادات پھیلا رہی ہے۔ یہ کہ ماھنامہ ترجمان القرآن اکتوبر 1963ء میں ایران کے شاہی خاندان پر حملہ کرکے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی اور یہ کہ جماعت اسلامی مسلح افواج میں بے اطمینانی پھیلا رہی ہے مولانا مودودی سمیت جن ارکان نے بہت تفصیل سے اس چارج شیٹ کا عدالت میں جواب دیا ان میں پروفیسر خورشید احمد بھی شامل تھے۔ انہوںنے اپنی کتاب ’’تذکرۂِ زنداں‘‘ میں اس کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔

مولانا گلزار احمد مظاہری کی جیل کہانی میں بھی پروفیسر خورشیداحمد کے بیان کا تفصیلی ذکر ہے کیونکہ انہوںنے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتایا کہ ان کے والد نذیر احمد قریشی آل انڈیا مسلم لیگ کے عہدیدار تھے اور خود خورشید صاحب نویں جماعت سے تحریک پاکستان میں شامل تھے انہوں نے ترجمان القرآن کو مولانا مودودی کا ذاتی پرچہ قرار دے کر جماعت اسلامی کی قانونی مشکلات آسان کردیں سب سے پہلے ڈھاکہ ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کیا اور پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے آر کارنیلئس سمیت پانچ رکنی بنچ نے جماعت اسلامی سے پابندی ختم کردی بعد ازاں جماعت اسلامی نے جنرل ایوب کے مقابلے پر صدارتی الیکشن لڑنے والی محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کرکے پاکستان کی مخالفت کے الزام کو ایک مذاق بنا دیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں پروفیسر خورشید احمد بھی پیش پیش تھے وقت بدلنے کے ساتھ پاکستانی سیاست کے اصول بھی بدل جاتے ہیں لہٰذا جماعت اسلامی اور پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ایک ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کرنے والے پروفیسر خورشید احمد ایک اور ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کی غیر جمہوری حکومت میں وزیر بن گئے۔ اسی دور میں وہ پہلی دفعہ سینیٹر بھی بنے لیکن پھر ھم نے انہیں ایک اور ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف پر سخت تنقید کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ پروفیسر خورشید کے ساتھ میری نیاز مندی کی وجہ سید علی شاہ گیلانی کے ایام اسیری کی کہانی ’’روداد قفس‘‘ بنی۔ پروفیسر صاحب انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے بانی اور روح رواں تھے۔ انہوں نے 1993ء میں ’’روداد قفس‘‘ اپنے دیباچے کے ساتھ شائع کی۔ گیلانی صاحب سے کبھی کبھار میرا فون پر رابطہ ہوجاتا تھا انہوں نے بتایا کہ ان کی درخواست پر پروفیسر خورشید احمد نے دیباچہ تحریر کیا لہٰذا اشتیاق پیدا ہوا کہ اس شخص کو ملا جائے جس سے سید علی شاہ گیلانی نے اپنی ’’روداد قفس‘‘ کا دیباچہ لکھوایا 1994ء میں نواز شریف کی تحریک نجات کےدوران مسجد شہداء لاہور کے سامنے جاوید ہاشمی پر پولیس تشدد کے خلاف ایک کالم سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب ناراض ھوگئے انہوں نے مجھے نوکری سے برخاست کرنے کا مطالبہ کیا میرے اخبار کی انتظامیہ نے لیت و لعل سے کام لیا تو حکم دیا گیا کہ اسے کہیں اور ٹرانسفر کردو لہٰذا مجھے اسلام آباد بھیج دیا گیا لاہور بدر ہونے کے بعد اسلام آباد میں جن شخصیات سے تعارف ہوا ان میں سے ایک پروفیسر خورشید احمد صاحب تھے پروفیسر صاحب بنیادی طور پر ماہر معاشیات تھے اور برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی سے انہوں نے اسلامی معاشیات میں پی ایچ ڈی کی تھی اختلاف رائے کابرا نہیں مناتے تھے اور اسی لئے ان کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا گیا قاضی حسین احمد صاحب کی طرح علامہ اقبالؒ کے عاشق تھے اور سید علی شاہ گیلانی صاحب کے ساتھ ان کے لگاؤ کی وجہ بھی علامہ اقبال تھے۔ فکری دیانت کا یہ عالم تھا کہ جنرل ضیاء الحق کی حکومت میںشمولیت کا کبھی دفاع نہیں کرتے تھے اور ببانگ دہل کہتے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل 1973ء کے متفقہ آئین پر عمل درآمد میں ہے۔ انہوں نے کتابیں توبہت سی لکھیں لیکن ’’آئین پاکستان انحرافات اور بحالی کی جدوجہد‘‘۔ ان کی سیاسی زندگی کا نچوڑ ہے ’’بلوچستان کی صورتحال مسائل اسباب اور حل‘‘ ان کی حقیقت پسندی کی آئینہ دار ہے ان کی آخری کتاب مسلم دنیا کے قائدین کےبارے میں ’’یادیں ان کی باتیں ہماری‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ 13 اپریل 2025ء کو سلیم منصور خالد صاحب نے پروفیسر خورشید احمد کے انتقال کی خبر دی تو میں اسی کتاب میں ڈاکٹر حمید اللہ کے متعلق ان کے مضمون میں دیئے گئے حوالہ جات کی مدد سے کچھ مواد تلاش کر رہا تھا مجھے پروفیسر خورشید احمد کے انتقال کی خبر پر یقین نہیں آیا۔ نجانے کیوں دل کوتسلی دی کہ ھوسکتا ہے کہ سلیم منصور خالد صاحب کو کسی نے غلط خبر بھیج دی ہو لیکن پھر سوچا کہ پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ کام کرنے والاکوئی اتنا غیر ذمہ دار نہیں ہوسکتا اس خبر پر یقین اس وقت آیا جب شاہد شمسی صاحب نے بھی تصدیق کردی ڈاکٹر حمید اللہ کی وجہ شہرت تاریخ حدیث پر ان کی تحقیق اور قرآن مجید کا فرانسیسی ترجمہ ہے لیکن ’’خطبات بہاولپور‘‘ میں وہ جس علمی مرتبے پر نظر آتے ہیں اس کا مقابلہ اس دور کے بہت کم علماء کرسکتے ہیں پروفیسر خورشید احمد کا کارنامہ یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر حمید اللہ کے کردار اور شخصیت کی وہ خوبیاں سامنے لائے جن سے مجھ جیسے طالب علم ناآشنا تھے ڈاکٹر حمید اللہ حیدر آباد دکن کی ’’دولت آصفیہ‘‘ کے اقوام متحدہ میں سفیر تھے 1948ء میں بھارت نے فوجی حملے کے ذریعہ حیدر آباد دکن پر قبضہ کیا تو ڈاکٹر حمید اللہ نے حیدر آباد لبریشن سوسائٹی بنا کر یورپ میں مزاحمت شروع کردی وہ تمام عمر یورپ ترکی اور پاکستان کی جامعات میں پڑھاتے رہے لیکن کسی ملک کی شہرت حاصل نہ کی ٹریول ڈاکومنٹس پر سفر کرتے تھے ایک دفعہ پروفیسر خورشید احمد نے اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر کے پروگرام میں بلایا تو ڈاکٹر حمید اللہ نے بڑے دکھ سے کہا کہ میں برطانیہ کی سرزمین پر قدم رکھنا پسند نہیں کرتا کیونکہ برطانیہ نے میرے آزاد ملک حیدر آباد کو بھارت کی غلامی میں دے دیا پروفیسر خورشید احمد کی آخری کتاب ایسے ہی درویشوں اور حریت پسندوں کے ذکر سے روشن ہےاس کتاب میں سید علی گیلانی اور افضل گرو کے علاوہ حسن البنا اور سید محمد قطب کی کہانیاں بھی ملیں گی اور عبدالقادر ملا کے علاوہ مطیع الرحمان نظامی کی بہادری کی داستانیں بھی پروفیسر خورشید احمد نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ 1972ء میں جماعت اسلامی کی شوریٰ کے اجلاس میں مولانامودودی نے امارت سے فراغت کا اشارہ دیا پروفیسر غلام اعظم کا نئے امیر جماعت بننے کا زیادہ امکان تھا لیکن انہوں نے اعلان کیا کہ میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے تھا لیکن اب میرا اصل میدان کارزار بنگلہ دیش ہے اور پھر وہ مشرق وسطیٰ چلے گئے وہاں سے برطانیہ گئے اور 1978ء میں بنگلہ دیش چلے گئے جہاں 1992ء میں سپریم کورٹ نے ان کی شہریت بحال کی پروفیسر خورشید احمد نے ایک سو سے زیادہ کتابیں تحریر کیں ملائشیا ترکی اور جرمنی کی یونیورسٹیوں میں ان کی شخصیت اور فکر پر پی ایچ ڈی کی جارہی ہے پاکستان میں ان کی زندگی اور جدوجہد ہمیں بتاتی ہے کہ آمریت اقتدار کے ایوانوں پر تو قبضہ کرسکتی ہے لیکن عوام کے دل و دماغ فتح نہیں کرسکتی ایک ڈکٹیٹر اور سیاستدان میں یہ فرق ہے کہ کوئی شاعر ڈکٹیٹر کے بارے میں یہ نہیں کہتا۔
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا






