راجہ ذاکرخان
دشت صحافت کے بے داغ صحافی، ملک پاکستان کا بڑانام متین فکری درخشاں روایات چھوڑ کر 24نومبر2025 ملک عدم روانہ ہوگئے،نمودونمائش سے کوسوں دوررہے،پاکستان کے چند بڑے صحافیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا مگر عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ کسی کو اس کا احساس تک نہیں دیتے کہ وہ کتنے بڑے آدمی ہیں ، صحافتی افق پر ابھرنے والے نئے صحافیو ں کے لیے ان کی زندگی مشعل راہ ہے،روزنامہ جنگ سے وابستہ رہے اور وہاں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ماہنامہ کشمیرالیوم اور جسارت سمیت دیگر اخبارات اور میگزین میں لکھتے رہے۔ابلاغ کے محاذ پر مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کی آوازبنے ہوئے تھے۔قبلہ اول اور کشمیرکی آزادی کا خواب نہ صرف سینے میں سجائے ہوئے تھے بلکہ اپنے قلم کے ذریعے کھل کر اس کااظہار بھی کررہے تھے۔
متین فکری جیسے کہنہ مشق صائب طرز صحافی،دانشور سے ملاقات اور ان کے محبت بھر ے رویے نے ایسے اثرات چھوڑے جو آج بھی تازہ ہیں۔راقم 1994میں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اسلام آباد میں قائم قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی کے لیے ابلاغ کے محاذ پر کام کرنے والے ادارے الاقصیٰ فاؤنڈیشن سے منسلک ہوئے،1993میں فلسطین کے صدر یاسر عرفات شہید اور اسرائیل کے دریان اوسلومعاہدہ ہوا تھا اس معاہدے کے حوالے سے زیادہ لکھنے کا موقع نہیں ہے صرف اتنا کافی ہے کہ فلسطین کی سب سے بڑی جماعت،حماس اس معاہدے کی سخت ناقد تھی اور حماس کے خیال میں اس معاہدے کے نتیجے میں فلسطینیوں کے لیے کچھ نہیں ہے بلکہ سارے ثمرات اور فوائد ناجائز اسرائیلی ریاست سمیٹے گی،یاسرعرفات نے مایوسی کے عالم میں یہ معاہدہ قبول کیا ہے فلسطینی اس معاہدے کو قبول نہیں کریں گے،یوں فلسطین میں اور عالمی سطح پر ایک کشمکش برپا تھی کچھ حمایت میں کچھ مخالفت میں لکھ اور بول رہے تھے۔راقم نے بھی لکھنے کا آغاز کیااور اس حقیقی آواز کو پاکستان کے سینئرصحافیوں تک پہنچانے کی شروعات کیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ایک پی ٹی وی ہوتا تھا ورچند اخبارات تھے سوشل میڈیااورپرائیویٹ چینلز نہیں تھے،اخبارات بھی محدو د تھے۔چند بڑے اخبارات ہی تھے جن کو لوگ پڑھتے تھے اور اپنی رائے بناتے تھے۔ا ن خبارات میں شائع ہونے والے تجزیات کو پالیسی ساز بھی پڑھتے تھے اور ان کے مطابق اپنی پالیسیاں تشکیل دیتے تھے۔


راقم کو ایک صحافی دوست نے بتایاکہ روزنامہ جنگ میں متین فکری صاحب ہیں جو رائٹ کو سپوٹ کرتے ہیں اورخاص کر فلسطین اور کشمیرکے حوالے سے بڑے حساس بھی ہیں اور اس محاذ پر کام بھی کرتے ہیں،میں نے قبلہ اول اور ساتھ اوسلومعاہدے کے نقصانات پر ایک لوازمہ تیا ر کیا اور لے کر متین فکری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا،ان کو بتایا کہ میں الاقصیٰ فاؤنڈیشن سے وابستہ ہوں اور یہ میں نے لوازمہ تیار کیاہے اور میں چاہتاہوں کہ یہ روزنامہ جنگ کے رنگین صفحے پر شائع ہوتاکہ پاکستان کے عوام اور پالیسی سازوں کو معلوم ہوکہ فلسطین میں کیا ہورہاہے؟ اور اوسلومعاہدہ کیاہے؟مجھے بہت محبت سے بیٹھایااور میری پوری بات سنی اور کہاکہ میں کوشش کرتاہوں کہ رنگین ایڈیشن میں پورے کا پورا شائع کروں،لیکن آپ کوپتہ ہے کہ ہراخبارکی اپنی پالیسی ہوتی ہے اور لیکن میں اس کے باوجود جنگ کے چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹرسے بات کرکے اس کوشائع کرانے کی کوشش کروں گا،میں اسلام آباد میں نیا تھامیرے سنیئرصحافیوں سے اس طرح کے روابطہ بھی نہیں تھے اس کے باوجود متین فکری صاحب نے مجھے محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں ان کا پرانا دوست نہیں ہوں ان کے رویے سے مجھے ایسے لگا کہ ان کے اندر فلسطین کی آزادی کا خواب مجھ سے کئی برس پہلے کاہے۔دوسرے دن میں نے دیکھا کہ جنگ اخبار کا رنگین پورا ایڈیشن فلسطین اور میری تحریرپر مشتمل ہے،اس زمانے میں اخبارت کے مالکان سے رنگین صفحے مفت لینا مشکل کام ہوتاتھا مگر متین فکری صاحب نے نہ صرف ایک دفعہ رینگین صفحہ لیابلکہ مجھے کہاکہ آپ فلسطین اور کشمیرپر اپنی تحریرمجھے بھیج دیاکر یں میں شائع کرادیا کروں گا۔اور ایسا ہی کرتے رہے۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ متین فکری سید مولانا مودودیؒ کی فکر سے ناصرف متاثر تھے بلکہ جماعت اسلامی کے بانیان میں سے تھے اور ان کا پاکستان میں بہت بڑا نام اور مقام تھا،روزنامہ جنگ سے ریٹائرڈ ہوکر بھی انھوں نے لکھنے اور پڑھنے کا کام جاری رکھااور ماہنامہ کشمیرالیوم سے وابستہ رہے، ساتھ روزنامہ جسارت سمیت دیگر اخبارات اور میگزین میں لکھتے رہے۔اچھی روایات کے امین سنیئرصحافی ایک ایک کر کے رخصت ہورہے ہیں،نئے آنے والے صحافی اپنے سینئرصحافیوں کی اچھی روایات کو لے کر چلیں تو صحافت صحافت رہے گی ورنہ پھر کثافت اور صحافت میں فرق کرنا مشکل ہوجائیگا۔اللہ تعا لیٰ مرحوم متین فکری کے درجات بلند فرمائے ۔آمین
راجہ ذاکرخان







