ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال اور کشمیر

شہزاد منیر احمد

معتبر اور قابلِ تقلید شخصیت اور نظریاتی قوم سالوں کی تربیت مانگتی ہے۔ محقیقین اور فلاسفرز نے نہیں معلوم کتنی ریاضت کے بعد کہا تھا کہ عمر گزرے تو کمال آتا ہے۔ زندہ اور عملی مثال آپ کے سامنے موجود ہے۔ محمد علی جناح کتنی مشقتوں اور نا مساعد حالات کی سان سے گذر کر ، کامیاب، مثالی اور ہندوستان کے مہنگے ترین وکیلوں میں شمار ہوئے اور ایک بہادر بے مثال سیاسی لیڈر ثابت ہوئے۔ محققین اور مورخین کو لکھنا پڑا کی ہندوستان میں محمد علی جناح نے تن تنہا وہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ جو آج تک بڑی بڑی قومیں بھی نہیں دے پائیں۔ دنیا کا نقشہ بدلا۔ غلامی میں جھکڑی بکھری ہوئی قوم کو ایک نظریاتی قوم میں بدل ڈالااور نظریاتی مسلمان ریاست(پاکستان ) دنیا کے نقشے میں شامل کرائی ۔

علامہ اقبالؒ نے کتنے برسوں زیر تعلیم رہ کر تعلیم پائی ۔ کتنی الہامی کتابیں پڑھیں ۔ فلسفہ پڑھا اور فلاسفرز سے ملاقاتیں کیں مذاکرات و بحث و مباحثے کئے ۔ ان کے نظریات کا postmortem کیا ۔ اپنے دین اسلام کی وسعتوں کو جان پرکھ کر شاعر مشرق ،حکیم الامت ، واقف اسرار و حکمت کے نام کی شہرت کمائی۔ علامہ اقبال کی محققانہ کاوشوں کو عملی شکل دینے کے لیے اللّٰہ نے انہیں اپنے جیسا ہی مخلص ، محنتی اور دیانتدار نظریاتی سیاسی لیڈر محمد علی جناح ملوا دیا۔ یوں علامہ محمد اقبال اور مسٹر جناح دونوں نے سیاسی عمل کے ذریعے ہندوستان سے مسلمان شہریوں کے لیے مملکت خدا داد حاصل کر لی ۔علامہ اقبال کے پانچویں خطاب میں ہمیں عالمی سطح پر تسلیم شدہ مفکرفلاسفر اور سیاح البیرونی کا تذکرہ ملتا ہے۔ علامہ اقبال نے البیرونی کی’’کتا ب الہند‘‘ کو بغور مطالعہ کیا تھا۔ جس میں البیرونی نے خطہ ہندوستان کے حالات و واقعات، رسوم و رواج ، ثقافت ، ہندو مسلم امتیاز کا مسئلہ پر بڑا غیر جانبدارانہ جائزہ بڑی تفصیل سے قلمبند کیا ہے ۔ گمان غالب ہے کہ علامہ اقبال نے ہندوستان میں دو قومی نظریہ ، البیرونی کی تحقیق اور اپنے برسوں پر مشتمل ہندوستان میں مسلمانوں پر مذہبی تعصب کی بنیاد پر ہندو اکثریت کا جبر دھونس اور ناروا سلوک ، اور لڑائی جھگڑوں کے واقعات ، ہندو پنڈتوں ، سیاست دانوں دیگر اکابرین کے ساتھ گاہے گاہے بے سود مذکرات کے نتیجے کی بنا کر قائم کیا گیا تھا۔ جو آگے چل کر ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کی الگ ریاسث قائم کرنے کے مطالبے کی شکل میں سامنے آیا ۔

3 جون 1947 کو ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کی آزادی اور طریقہ کار کا اعلان کیا۔اس منصوبے کے تحت برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان کی آزادی کا قانون منظور کیا ، جس کے تحت 15 اگست کو ہندوستان دو ریاستوں ( پاکستان اور بھارت ) میں تقسیم ہو گیا۔ یوں ریاست جموں و کشمیر کو مذکورہ اعلان (معاہدہ) کے تحت آزادی تو مل گئی مگر ایسے کہ جیسے ’’ آسمان سے گرا ، کھجور میں اٹکا‘‘ ۔چونکہ کشمیر علم سیاسیات کے مطابق ایک مکمل خود مختار ریاست تھی اور ہے ،اور مذکورہ بالااعلان آزادی کے تحت اسے یہ حق تھا اور ہے کہ وہ اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کرے کہ وہ اپنا سیاسی الحاق کس ریاست سے کرنا چاہتا ہے ۔ ریاست جموں و کشمیر اپنی تاریخ ، ثقافت ، تہذیب و تمدن اور جغرافیائی اعتبار سے ریاست پاکستان سے الحاق کرنا چاہ رہا تھا ، کہ ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کی گورنمنٹ کو زبردستی اپنی مسلح افواج کے دستے 27 اکتوبر کو سرینگر میں پہنچانے کا حکم دے کر ریاست کے راجا ہری سنگھ سے بھی جعلی معاہدہ الحاق پر دستخط کروالیے۔ جب کہ کشمیری عوام نے فطری مزاحمت کرتے ہوئے پوری ریاست میں احتجاجی مظاہرے شروع کر دیا۔ اس طرح اپنی جنگ آزادی کی جیت کی خوشیاں بھی نہ منا پائے تھے کہ ان پر جابر قوتوں ، طاقتور حلقوں اور دشمن ممالک نے وہی جنگ نئے نام ( تحریک حق خودارادیت کشمیر) سے مسلط کر دی۔1948 میں بھارت اور پاکستان میں باقاعدہ مسلح جنگ شروع ہو گئی۔ جنگ میں ہار دیکھتے ہوئے اپنا مقدمہ اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ نے اپنی نگرانی میں کشمیر میں استصواب رائے کرنے کا فیصلہ اور وعدہ کیا ، مگر کشمیریوں کی۔لگاتار اپنی کوششوں اور طرح طرح کی قربانیاں دینے کے باوجود اقوام متحدہ اس قضیہ کا فیصلہ نہیں کر رہی۔ ریاست جموں و کشمیر آزاد تو ہے مگر اس پرندے کی طرح جسے صیاد نے اس کے پر کاٹ کر اپنے صحن میں باندھ دیا ہو۔27 اکتوبر1947 کو کشمیر پر ہندوستان کا جابرانہ ، غیر آئینی ، غیر قانونی ، غیر اخلاقی قبضہ اور ڈھٹائی اور بے شرمی سے 26 جنوری کو اپنایوم جمہوریہ منانا کس قدر بھونڈا مذاق ہے اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ مارنے کے مترادف ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔بدنام جؤ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا ۔

علامہ اقبال نے کشمیر میں جنگ آزادی پر لکھا تھا۔۔۔

مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی
مری سرشت میں ہے پاکی و درخشانی
تو اے مسافر شب ، خود بن چراغِ اپنا
کر رات اپنی کو داغ جگر سے نورانی

علامہ اقبال کا یہ پیغام آج بھی ہم کشمیریوں کو اسی میعار کا ایمان بالیقین ، اسی سطح کی جرأت کردار اور شوق شہادت کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، جس میعار کے اصحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزہ بدر میں313 مجاہدوں نے کوئی 1300 سے زائد کافروں کا میدن جنگ میں نہ صرف بہادری اور مثالی کارکردگی سے مقابلہ کیا بلکہ ان کفار و مشرکین کو عبرت ناک شکست دے کر ثابت کر دیا کہ:-
اسلام زمانے میں، دبنے کو نہیں آیا
تاریخ سے یہ مضموں، ہم تم کو دکھا دیں گے
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اُتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دبا دیں گے
یہ سچ آج بھی دنیا دیکھ نہیں رہی کہ 27 اکتوبر 1947 سے ریاست جموں و کشمیر کے عوام بد ترین انسانیت کشی، عدم انصافی ، ہندوستان کی نو لاکھ سے زائد فوج کشمیریوں پر ظلم و ستم اور جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے ، انسانی بنیادی حقوق کی انتہائی ذلت آمیز پیمانے پر خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کشمیریوں کی جان و مال، عزت و حرمت ان کی شخصی آزادی بالکل غیر محفوظ کر دی گئی ہے مگر غیور کشمیری ، مرد و خواتین ، بوڑھے اور جوان سب جانوں کی قربانیاں پیش کر کے جابر و ظالم ہندوستان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ انہیں پاکستان کے بانی قائدین ، علامہ اقبال اور محمد علی جناح کے رہنما فرمان اور ھدایات یاد ہیں کہ ؛-
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی ۔
خصوصی گذارش:-
راقم بحیثیت کشمیری مہاجر پناہ گزین، کشمیری قائدین ، سیاسی لیڈران اور دیگر شخصیات سے عرض کرتا ہوں کہ بدلتے ہوئے حالات میں کسی طاقت یا طاقتور افراد کی باتوں میں نہ آئیں ۔ اپنی صفوں میں صرف کشمیر کی نسبت سے متحد رہیں۔ اگر آپ برادریوں ، نسلوں ، زبان اور علاقائی اکائیوں میں تقسیم ہو گئے تو اپ کا جنگی سفر اور بڑھ جائے گا ۔میری دعا ہے اللّٰہ کریم ،الہ العالمین آپ کو اپنے شہیدوں کی نسبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے صدقے حق خودارادیت کی جنگ میں کامیاب و کامران کرے ۔
آمین ثم آمین

شہزاد منیر احمد