حضرت غلام نبی شائق ؒ۔۔شجر ہائے سایہ دار

شیخ محمد امین

حضرت غلام نبی شائق ؒ کا تعلق لولاب کلاروس سے تھا، وہی سرسبز و شاداب وادی جو اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ فکری، دینی اور مزاحمتی تاریخ کی ایک درخشاں علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ وہی وادی لولاب ہے جہاںحضرت انور شاہ کشمیریؒ جیسے جلیل القدر عالم دین نے آنکھ کھولی، جنہوں نے علم، اجتہاد اور دینی بصیرت سے برصغیر کی فکری تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کئے۔ یہی وہ لولاب ہے جہاںحضرت محمد اشرف صحرائیؒ نے جنم لیا اور جس نے اپنی پوری زندگی، بلکہ اپنے پورے خاندان کو تحریک آزادی کشمیر اور اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا۔ اسی مقدس سرزمین سے ڈاکٹر منان بشیر وانی ؒ جیسے فرزند وطن نے جنم لیا، جس نے اپنی تعلیم، شعور اور جان کا نذرانہ دے کر دنیا کو یہ سبق یاد دلایا کہ آزادی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ قربانی، استقامت اور یقین کا نام ہے۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ تاریخ کا تسلسل ہے کہ اسی وادی لولاب کی خاک سے غلام نبی اہانگر المعروف شائق صاحب ؒ جیسے عظیم انسان نے بھی جنم لیا۔ ایک ایساانسان جس نے علم، تربیت، جدوجہد اور کردار کے ذریعے اس دھرتی کی روایت کو آگے بڑھایا اور ثابت کیا کہ لولاب صرف حسن فطرت ہی نہیں، حسن فکر اور حسن قربانی کی بھی امین ہے ۔ ا یسے لوگ جب رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں بلکہ فکر، کردار اور جدوجہد کاایک روشن راستہ چھوڑ جاتے ہیں جس پر چلتے ہوئے آنے والی نسلیں چل کر اپنی منزل متعین کرتی ہیں۔ غلام نبی شائق ؒ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جن کی زندگی خاموش مگر گہری معنویت سے بھرپور تھی۔میں جب انہیں یاد کرتا ہوں تو میرے ذہن میں محض ایک نام نہیں ابھرتا بلکہ کئی رشتے، کئی پہچانیں اور کئی زاویے ایک ساتھ روشن ہو جاتے ہیں۔ وہ شجر ہائے سایہ دار ، ایک ایسے مربی اور مرشد جن کی صحبت انسان کو خود اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ وہ بے لوث محبت کرنے والے، محفل کی رونق، مزاج شناس، مخلص ناصح اور بذلہ سنج انسان تھے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی بھی تھی اور گہرائی بھی، اور ان کے عمل میں وہ استقامت تھی جو صرف نظریے سے وابستہ لوگوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ان کی شخصیت کو اگر کسی ایک مصرع میں سمیٹا جائے تو وہ بلا تردد علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔

نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

غلام نبی شائق ؒ نے اپنی دنیا خود بسائی اور اسے اپنے فکر و کردار سے سنوارا۔ وہ محض باتوں کے معمار نہیں تھے بلکہ ایک عملی انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم ادارہ نور الہدیٰ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی ہر اینٹ، ہر راہداری اور ہر کمرہ ان کی محبت، محنت اور اخلاص کی خوشبو سے معطر محسوس ہوتا ہے۔ یہ ادارہ ان کے لیے صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں تھا بلکہ ایک مشن، ایک خواب اور ایک ذمہ داری تھا۔ وہ استاد تھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے لیکن وہ تعلیم کو محض نصابی ضرورت نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک علم وہ تھا جوآدمی کو انسان بنائے، اور تربیت وہ تھی جو معاشرے کو سنوار دے۔ان کی صحبت نے مجھے اور بے شمار دیگر لوگوں کو وہ اسباق سکھائے جو کسی کتاب کے باب میں درج نہیں ہوتے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ ضبط کیا ہوتا ہے، اخلاص کس طرح عمل میں ڈھلتا ہے، اور خدمت خلق کس طرح انسان کو بلندی عطا کرتی ہے۔ وہ صرف عمارتوں کی بنیاد نہیں رکھتے تھے بلکہ دلوں میں تہذیب، شعور اور کردار کی بنیادیں استوار کرتے تھے۔ ان کی رہنمائی میں بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگی کی سمت پائی اور معاشرے کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ حاصل کیا۔

غلام نبی شائق ؒکی زندگی محض تعلیم اور تربیت تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ ایک ہمہ جہت جدوجہد کی داستان تھی۔ وہ جماعت اسلامی کے رکن اور رکن شوریٰ رہے، جہاں ان کی خطابت اور عمل دونوں نمایاں تھے۔ وہ دلیل سے ہربات کرتے تھے اور بدترین مخالفین تک کو دلیل سے ہی قائل کرتےتھے۔ ان کی سیاست اقتدار کی نہیں بلکہ کردار کی سیاست تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اصل تبدیلی ایوانوں سے نہیں بلکہ انسان کے اندر سے آتی ہے۔ان کے ساتھ میرا تعلق محض فکری یا تنظیمی نہیں تھا بلکہ خالصتاً انسانی اور گھریلو نوعیت کا بھی تھا۔ وہ ہمارے گھر آتے جاتے تھے، ہمارے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔الحمدللہ میری تربیت میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ان کی شفقت میں ایک عجیب توازن تھا۔نہ وہ بے جا نرمی دکھاتے تھے اور نہ سختی، بلکہ اصلاح کا وہ انداز اختیار کرتے تھے جو دل میں اتر جا تاتھا۔غلام نبی شائق ؒ کو امام سید علی گیلانیؒ سے گہری محبت اور مجاہدین کشمیر سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔یہ محبت اور لگائو جذباتی نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی تھا۔ وہ تحریک آزادی کشمیر کو ایک جائز اور اخلاقی جدوجہد سمجھتے تھے، اور اسی وابستگی نے ان کی زندگی کو آزمائشوں سے بھر دیا۔ یہ محبت ان کے لیے جرم بن گئی۔

انہیں اپنے نظرئیےکی قیمت چکانی پڑی، گھر سے بے گھر ہونا پڑا، اور بے شمار دکھ سہنے پڑے۔ ان کے بھائی کو شہید کیا گیا، ان کے بھتیجے کو شہادت کا رتبہ نصیب ہوا، اور ان کا آبائی گھر خاکستر کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ محض اس لیے ہوا کہ وہ حق کی آواز بلند کرتے تھے اور ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے تھے۔شائق صاحب ؒکی زندگی کشمیر کی جدوجہد کا ایک روشن باب ہے، جہاں استقامت، قربانی اور وفاداری کی مثالیں بکھری ہوئی ہیں۔آج ان کی رحلت کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے واقعی سر سے ایک سایہ اٹھ گیا ہو۔ مگر یہ احساس عارضی ہے، کیونکہ ان کی تعلیمات، ان کی نصیحتیں اور ان کا طرز عمل آج بھی ہمارے دلوں اور ذہنوں میں زندہ ہے۔ وہ ہمیں بار بار یاد دلاتے تھے کہ زندگی کا اصل مقصد خود نمائی نہیں بلکہ خدمت ہے، اور کامیابی کا معیار شہرت نہیں بلکہ اخلاص ہے۔ ان کا وجود خود ایک درس تھا، اور ان کی خاموشی بھی ایک پیغام تھا۔ان کے جانے کے بعد یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ ان کے مشن کو فراموش نہ کریں۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ حقیقی قیادت وہ نہیں جو نعروں سے دل جیتے، بلکہ وہ ہے جو کردار سے دلوں کو مسخر کر لے۔غلام نبی شائق ؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فرد اگر سچا، مخلص اور ثابت قدم ہو تو وہ تن تنہا بھی ایک تحریک بن سکتا ہے۔بار با ر یہ کہنے اور اس حقیقت کا گواہ بننے کو جی چاہتا ہے کہ وہ ایک معلم بھی تھے، ایک مجاہد بھی، ایک مربی بھی اور ایک بے لوث دوست اور ایک قائد بھی۔ ان کی یاد محض ایک شخص کی یاد نہیں بلکہ ایک فکر کی یاد ہے، جو آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتی رہے گی۔اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منزل مراد حاصل کریں ۔آمین ےا رب العالمین

شیخ محمد امین