مقبوضہ کشمیرکےضلع ادھم پور میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ
ایک بھارتی فوجی اہلکار ہلاک، تین زخمی
وادی کے مختلف علاقوں میں بھارتی فو ج اور بدنام زمانہ بھارتی ایجنسیوں(این آئی اے )، (ایس آئی اے)اور (سی آئی کے) کی طرف سے چھاپوں اوربے گناہ کشمیریوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بدستورجاری ہے۔200نوجوا ن گرفتار،متعددجائیدادیں ضبط
ہمایوں قیصر
16 نومبر2025۔۔۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘‘(این آئی اے) نے نئی دلی سے ایک کشمیری نوجوان عامر راشد علی کو گرفتار کر لیا ہے۔ این آئی اےنے عامر راشد کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان پر نئی دلی میں حال ہی میں ہونے والے کار بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔جبکہ بھارتی ریاست گجرات کے علاقے فتح گنج میں مقبوضہ جموں و کشمیر کا رہائشی ایک 25 سالہ طالب علم جوپارول یونیورسٹی میں ایم بی اے سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا کو اپنی رہائشی گاہ پراسرار طورپر مردہ پایا گیا۔ ضلع کولگام کے وانی پورہ قاضی گنڈ علاقے میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں دو بیٹوں جاسر بلال اور نویل بلال کی گرفتاری پر ان کے والد بلال احمد وانی نے دلبرداشتہ ہو کرگھر میں خود کو آگ لگانے کے دوران شدید زخمی ہوا او ربعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ بھارتی فوج نے ضلع راجوری کے تھنہ منڈی علاقے بنگئی میں ایک مقامی محمد اکبر کے مکان کے قریب بارودی سرنگ کو ناکارہ بناتے ہوئے ان کے مکان کو شدید نقصان پہنچایا۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ اس طرح کے واقعات سے علاقے میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔
17 نومبر 2025۔۔۔نئی دہلی کے لال قلعہ دھماکے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری مزدور بلال احمد سانگو ولد غلام حسن سانگو جو کنگن کے علاقے بابا نگری وانگتھ کا رہائشی تھا کی لاش جائی وقوعہ سے برآمد ہوئی ہے ۔ یادرہےوہ 2019سے دہلی میں کام کر رہا تھا۔اہلخانہ نے بلال کو تصویروں سے پہچانا جو ان کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔ اہل خانہ نے حکام سے درخواست کی کہ انہیںبلال کی میت کو گھر لانے کی اجازت دی جائے۔
18 نومبر 2025۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقے میں دانستہ طور پربھارتی فوج کی گاڑی کی ٹکر سے ایک کشمیری خاتون شدید زخمی ہوگئی ہے۔
19 نومبر 2025۔۔۔ کائونٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) اوربھارتی فوج کے اہلکاروں نے شہر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران ایک ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا۔چھاپے کے دوران فوج نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر میں تعینات ڈاکٹر عمر فاروق بٹ اور ان کی اہلیہ شہزادہ اخترکو حراست میں لیا۔ فوجیوں نے ان کے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، بینک کی دستاویزات اور کتابیں بھی ضبط کر لیں۔سی آئی کے کے عہدیداروں نے شہزادہ اخترکی گرفتاری کا جواز پیش کرنے کے لئے ان پرتنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرنے والی خواتین کی تنظیم دختران ملت کے ساتھ روابط کا الزام لگایا۔
21 نومبر 2025۔۔۔ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار منوج کمار اپادھیائے ڈیوٹی کے دوران اچانک بیہوش ہوکر گرااور اسی دوران ہلاک ہو گیا ہے ۔
22 نومبر 2025۔۔۔انسانی حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ’’رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز ‘‘نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں معروف انگریزی روز نامے ’’کشمیر ٹائمز ‘‘کے دفتر پر بھارتی تحقیقاتی دارے ’’سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی ایس آئی اے ‘‘کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے اخبار اور اسکی ایگزیکٹو ایڈیٹر پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یاد رہے ایس آئی اے کی ٹیموں نے چند دن پہلے پولیس افسران ہمراہ جموں میں کشمیر ٹائمز دفتر کی تلاشی لی اور وہاں موجود دستاویزات اور کمپیوٹرز کو ضبط کر لیا، اس حقیقت کے باوجود کہ اخبار کے دفاتر 2021 سے استعمال سے باہر ہیں۔ضلع بانڈی پورہ کے گاؤں آلوسہ میں پراسرار آتشزدگی کے ایک بھیانک واقعے میں تین دکانیں تباہ، تین رہائشی مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ تین ہزار کے لگ بھگ سیب کے ڈبے خاکستر ہو گئے۔
23 نومبر2025 ۔۔۔بھارت میں فرید آباد واقعے اور لال قلعہ دھماکے کی آڑ میں کشمیری ڈاکٹروں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کے بعد اب کشمیری صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کردیاہے۔ 20نومبر کو نئی دہلی کے زیر کنٹرول ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA)نے تاریخی اخبار’’ کشمیر ٹائمز‘‘ کے جموں کے دفتر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے دوران اے کے47کی گولیاں، پستول کی گولیاں اور گرینیڈکا لیور برآمدکرنے کا دعویٰ کیا۔ اخبارکی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ان پربھارت مخالف سرگرمیوںمیں ملوث ہونے اور انتشارپھیلانے کا الزام لگایاگیا۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں معروف انگریزی اخبار ’’کشمیر ٹائمز ‘‘کے دفتر پر چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقے میں پریس کی آزادی کو دبانے کی مودی حکومت کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
22 نومبر 2025۔۔۔۔سرینگر کے علاقے کرن نگرسے ایک عدم شناخت شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں ایک اور کشمیری مبشر احمدکی چار مرلہ جائیداد ضبط کر لی ہے۔ انکی زمین کی ضبطی کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
23 نومبر2025۔۔۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پولیس اور نئی دہلی کے زیر کنٹرول ریاستی تحقیقاتی ایجنسی ایس آئی اے نے نام نہاد’’ وائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک ‘‘کو ختم کرنے کی آڑ میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ایس آئی اے نے سرینگر کے علاقے بٹہ مالو سے ایک کشمیری شہری طفیل نیاز بٹ کو گرفتار کرلیا۔ قابض حکام نے طفیل کی گرفتاری کا جواز پیش کرنے کے لئے دعویٰ کیا کہ وہ اکتوبر کے وسط میں بنپورہ نوگام میں پوسٹرچسپاں کرنے میں ملوث تھا۔ضلع پونچھ کے مینڈھر سیکٹر میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار اگنیور دیپک سنگھ اپنی ہی رائفل کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔
24 نومبر 2025 ۔۔۔ ضلع بانڈی پورہ میں بھارتی فوج کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹرنگرمل دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔
25 نومبر2025۔۔۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی عدالت نے پلوامہ میں ایک کشمیری خاتون پیر طارق احمد شاہ کی اہلیہ نسیمہ بانوکا رہائشی مکان ضبط کر لیا ہے۔ این آئی اے نے پیر طارق احمد شاہ کی اہلیہ نسیمہ بانو کے تحصیل کاکہ پورہ میں واقع ساڑھے نومرلے کا مکان کو بھارت مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال کی آڑ میں ضبط کردیاہے۔
26 نومبر 2025 ۔۔۔۔بھارتی پولیس نے ضلع بارہمولہ میں مقامی مسلم ادارے’’فلاح الدارین ‘‘کے خلاف کالے قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔پولیس نے ادارے پر چھاپہ مار کو عملے کو بھی سخت ہراساں کیا۔ ضلع ادھم پور میں این آئی اے اور پولیس نے انتظامیہ کے حکم پر طارق حسین نامی شخص کا گھر ضبط کر لیا جس کی مالیت 70 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔
27 نومبر 2025۔۔۔بھارتی انتظامیہ نے صحافی ارفاز احمد کا گھر بھارتی انتظامیہ نے علاقے کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے لانے کی پاداش میں مسمار کر دیا ہے۔بھارتی پولیس اور این آئی نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران جموں میں واقع صحافی ارفاز احمد ڈانگ کا گھرمسمار کردیا۔یاد رہے یہ واقعہ اس وقت خبروں کی زینت بنا جب صحافی ارفاز نے اپنے گھر کو مسمار کیے جانے کی کارروائی پر براہِ راست رپورٹنگ شروع کر دی۔
29 نومبر 2025۔۔۔ ضلع پونچھکے علاقے کھاری میں تعینات بھارتی فوج کے جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) طالب حسین ایک پوسٹ پر دوران دیوٹی دل کا دورہ پڑا جس کے نتیجے میں وہ موقع پرہی چل بسا۔
30 نومبر2025۔۔۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے مساجد اور مدارس سمیت مذہبی اداروں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کے سلسلےکے دوران درجنوں مساجد اورمدارس میں گھس کر ان کا معائنہ کیا۔چھاپوں کے دوران ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر موادکا معائنہ کیا گیا ۔ مساجدکی کمیٹیوں اور مدرسوں کے بورڈز کو خدشہ ہے کہ یہ کارروائیاں اداروں پر جبری قبضے یا ان کوبند کرانے کا پیش خیمہ ہوسکتی ہیں۔
1 دسمبر 2025۔۔۔مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ این آئی اے نے کالے قانون (آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ) کے تحت پلوامہ، شوپیاں اور کولگام سمیت مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ چھاپوں کے دوران مولوی عرفان احمد وگے، ڈاکٹر عدیل، ڈاکٹر مزمل اور عامر رشید سمیت کئی افرادکو گرفتار کیا گیا اور ان گھروںکی بھی تلاشی لی گئی۔چھاپوں اورمظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا جواز پیش کرنے کے لئے ان کارروائیوں کو دہلی دھماکہ کیس سے جوڑا جارہاہے۔
2 دسمبر 2025۔۔۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی قابض فوج نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما سمیت دو کشمیریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ بھارتی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے فوج اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سرینگر کے علاقے نشاط میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران جے کے ایل ایف کے رہنما شفاعت احمد کو گرفتار کرلیا۔سی بی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ شفاعت کو 1989 میں سابق بھارتی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوا سے متعلق 35سال پرانے کیس میں گرفتار کیا گیا ہےجبکہ بھارتی پولیس نے ضلع کپواڑہ کے علاقے ٹنگڈار میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک کشمیری دکاندار نصیر احمد باباکو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے نصیر کی دکان سے AK-47اور40سے زائد رائونڈ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔
3 دسمبر 2025 ۔۔۔ سری نگر کے علاقے خانیار نوپورہ میں پراسرار آتشزدگی کے ایک واقعے میں پانچ رہائشی مکان خاکستر ہوگ۔جبکہ ضلع اسلام آباد کے علاقے میںبھی تین گھروں کو پراسرار طور پر نذر آتش ہوئے ہیں۔ضلع بارہمولہ کے علاقے میں بھارتی پولیس نے تین طالب علموں ارسلان ،صادق اور مجیب اللہ کو گرفتارکرلیاہے۔
4 دسمبر2025۔۔۔ ضلع رام بن علاقے نچلانہ میں بھارتی فوج کا ایک صوبیدار رام سنگھر حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب ہلاک ہوگیا۔
5 دسمبر 2025۔۔۔گرمائی دارلحکومت سرینگر میں ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
6 دسمبر2025۔۔۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نےضلع پلوامہ کے علاقے لیتر میں محمد امین راتھر کی دکان پر چھاپہ ماراکتابوں اوردکان میں موجود اسلامی کتابیں ضبط کرلیں۔ واضح رہے بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابولااعلیٰ مودودی کی تصانیف سمیت متعدد کتابوں پر پابندی عائدکر رکھی ہے۔
9 دسمبر 2025 ۔۔۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے جموں خطے میں سینک اسکول نگروٹہ کے قریب ایک فوجی کیمپ میں ایک بھارتی فوجی اہلکارجی ڈی رویندر پرتاپ سنگھاچانک گر کر بے ہوش ہونے کے بعد دم توڑ گیا ہے ۔
11 دسمبر2025۔۔۔ گرمائی دارلحکومت سری نگر میں بھارتی فوج کے ایک اہلکار سوجیت کمار نے شہر کے علاقے نشاط میں تلاشی آپریشن کے دوران اپنی سروس رائفل سےخود پر گولی چلا کر خودکشی کرلی ہے۔ نئی دلی کے زیر کنٹرول تحقیقاتی ادارے ’’ سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی ‘‘ (ایس آئی اے ) نے سرینگر کے مضافاتی علاقے شالہ ٹینگ میں فیاض احمد بٹ کا تین منزلہ رہائشی مکان اور ایک کنال اراضی ضبط کر لی ہے ۔ جائیداد کی مالیت تقریبا ً 2کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔جبکہ بھارتی انتظامیہ نے ضلع ڈوڈہ کے گاوں منگوٹا میں زاہد حسین نامی ایک اور کشمیری کی جائیداد کالے قانون ،یو اے پی اے، کے تحت ضبط کر لی۔
11 دسمبر 2025۔۔۔بھارتی پولیس نے سوپور قصبے میں کئی حریت کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی لی۔ پولیس نے قصبے کے مختلف علاقوں میں آزادی پسند تنظیموں تحریک حریت اور مسلم لیگ کے اراکین ظفر اسلام، لطیف احمد کالو، محمد اشرف ملک اور فاروق توحیدکے گھروں پر چھاپے مارے ۔ چھاپوں کے دوران اہلخانہ کو ہراساں کیا گیا اور گھریلواشیاءکی توڑ پھوڑ کی گئ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارلحکومت سری نگرشہر کے علاقے نشاط میں بھارتی فوج کے ایک اہلکار سوجیت کمارنے تلاشی آپریشن کے دوران اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلاکرخود کشی کر لی ہے۔
12 دسمبر2025۔۔۔بھارتی پولیس نے کشمیری نوجوان عاقب احمد بٹ کو سرینگر کے بلیوارڈ روڈ پر واقع موتی محلہ میں تلاشی کی کارروائی کے دوران گرفتار کیا۔بھارتی پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ نوجوان موتی محلہ سے بلیوارڈ روڈ کی طرف جارہا تھا جب اس نے پولیس کو دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کی جس کے بعد اسے حراست میں لے لیاگیا۔ بھارتی پولیس نے ریاست اروناچل پردیش میں ایٹا نگر کے علاقے ابوتانی کالونی سے ایک کشمیری نوجوان صابر احمد میر کوگرفتار کیاہے۔ بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوان کو ایک زیر حراست کشمیری نذیر احمد ملک کی فراہم کردہ معلومات پر گرفتار کیا گیا ہے ۔ نذیر کو 22نومبر کو ریاست کے گائوں گنگا سے گرفتار کیاگیا تھا۔بھارتی پولیس نے گرفتاریوں کاغلط جواز پیش کرتے ہوئے دونوں نوجوانوں کو ایک جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث قراردیاہے۔مقبوضہ کشمیر کے شہرجموں میں ایک 21سالہ طالبعلم خالد شریف بٹ ساکن سوپور جو جموں کے جیول چوک میں ایک ہوٹل میں مقیم تھا، ہوٹل سے دور ایک مقام پر مردہ پایا گیا ہے ۔ نوجوان کے جسم پر زخموں کے نشانات موجود ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے ہندوتواتنظیموں بی جے پی/آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے ساتھ مل کر طالب علم اغوا کیااور اسے قتل کر کے اس کی لاش شہر کے نواحی علاقے وجے پور میں پھینک دی۔ طالب علم کے قتل پرعلاقے میں کہرام مچ گیا اور مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے نوجوان کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
13 دسمبر 2025۔۔۔ ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران بھارتی فوج نے ایک شہری مصعب نذیر کو گرفتار کر لیا۔شہری کی غیر قانونی حراست کا جواز فراہم کرنے کیلئے اس پر بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ مودی حکومت نے حریت رہنماؤں اور کاکنوں سمیت پانچ ہزار سے زائد کشمیریوںکو مختلف جھوٹے مقدمات میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کر رکھا ہے۔
14 دسمبر2025 ۔۔۔ضلع پلوامہ کے علاقے سون سامل میں نامعلوم افراد نے عبدالغنی بٹ کے 30سے زائد سیب کے درخت کاٹ پھینکے ۔عبدالغنی نے انتظامیہ پرزور دیاکہ وہ معاملے کانوٹس لیکر واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار کر کے انہیں سزاد ے۔یاد رہے کہ یہ مقبوضہ علاقے میں کسی شخص کے سیب کے درخت کاٹے جانے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ علاقے میں اسطرح کے واقعات اکثرپیش آتے ہیں۔ضلع راجوری تھنہ منڈی کے علاقے کھبلان میں ایک شہری محمد قاسم کو محض اپنے موبائل فون پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN)ایپلی کیشن استعمال کرنے پر گرفتار کیا ہے۔بھارتی ریاست اروناچل پردیش میں حکام نے تین کشمیری نوجوانوں کو جاسوسی کا جھوٹا الزام لگا کر گرفتار کر لیا ہے۔یہ کارروائی مغربی ضلع سیانگ کے قصبے آلومیں عمل میں آئی جہاں سے 26سالہ ہلال احمد ولد مرحوم محمدصادق میر کو گرفتارکیا گیا۔ قبل ازیں اروناچل پردیش کی پولیس نے11دسمبر کوضلع کپواڑہ کے شبیر احمد میر کو جبکہ22نومبر کو اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے نذیر احمد ملک کو ضلع ایٹا نگر کے گنگا گائوں میں کرائے کے مکان سے گرفتار کیا تھا۔
بھارتی فوج نے اپنی تازہ ظالمانہ کارروائیوں کے دوران سرینگر سمیت وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مربوط چھاپوں کے دوران تقریباََ 200نوجوانوں کو بطور بالائی ورکر کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ۔
15 دسمبر2025۔۔۔ ضلع ادھم پور کے علاقے مجلٹا میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج نے ظالمانہ کارروائی کے دوران عام شہریوں پر فائرنگ کی جسے ایک عام شہری بھی زخمی ہوگیا۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے پوتہ خان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک بھارتی فوجی حوالدارزبیر احمد اہلکارہلاک ہو گیا ہے ۔ جموں شہر کے بخشی نگرعلاقے میں نامعلوم افراد نے ایک حملے میں بھارتی پولیس اسٹیشن میں تعینات سب انسپکٹر نتن کھجوریا کو گاڑی میں سوار چار افراد نے روکااور تیز دھاروالے ہتھیار سے حملہ کیا جس سے وہ شدیدزخمی ہوگیا۔






