خرم ، خورشید اور ظفر

کراچی کے تین نوجوان

عبیداللہ کیہر

تینوں حال ہی میں اپنے اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان کے الگ الگ صوبوں سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ معاشرے کو بدلنے کی نیت ان کے دل میں اور دینِ اسلام کیلئے کام کرنے کی قوت ان کی روح میں تھی۔ اس نیت اور اس جذبے نے جلد ہی انہیں معاشرے کے تین الگ طبقوں سے نکال کر ایک جگہ جمع کر دیا۔متوسط طبقے کا خرم مراد بھوپال سے آیا تھا، الہ آباد سے آیا ہوا ظفر اسحاق مسلم لیگ کے رہنما مولانا ظفر احمد انصاری کا بیٹا تھا اور نسبتاً خوشحال گھرانے کا فرد خورشید احمد دہلی سے آیا تھا۔

خرم مراد، ظفر اسحاق انصاری اور خورشید احمد کا یکساں مقصدِ زندگی جلد ہی انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم پر لے آیا، جو نئی آزاد اسلامی مملکت پاکستان میں اہم نظریاتی کام کر رہی تھی۔ بہت سے نوجوانوں کے بیچ یہ تین نوجوان زیادہ گہرے دوست بنے۔پھر خرم مراد این ای ڈی کالج کراچی میں سول انجینئرنگ کے طالب علم ہوئے، خورشید احمد کراچی یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات میں داخل ہوئے اور ظفر اسحاق انصاری بھی اسی یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے طالب علم بنے۔
ان تینوں نے مل کر کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کو مضبوط کیا۔ بعد میں خرم مراد اور خورشید احمد اسلامی جمعیت طلبہ کے مقبول ترین ناظمِ اعلیٰ اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری معتمدِ عام بنے۔پھر ان تینوں نے اعلیٰ تعلیم کیلئے سات سمندر پار کا رخ کیا۔ خرم مراد نے امریکہ سے سول انجینئرنگ میں ایم ایس کیا۔ خورشید احمد لیسٹر یونیورسٹی انگلینڈ میں داخل ہوئے اور ظفر اسحاق انصاری کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی چلے گئے۔ پھر یہ تینوں برطانیہ میں یکجا ہوئے اور لیسٹر میں اسلامک فاؤنڈیشن بنائی جو آج تک یورپ میں تبلیغ اسلام کیلئے بنیادی کام کر رہی ہے۔یہ تینوں دوست پیشہ ورانہ زندگی میں بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ خرم جاہ مراد دنیا کے مشہور انجینئر بنے اور توسیع مسجد الحرام میں چیف انجینئر کے طور پر کام کیا۔ خورشید احمد ماہرِ اسلامی معاشیات کے طور پر ابھرے اور اپنی نمایاں خدمات پر دنیائے اسلام کا اعلیٰ ترین اعزاز ”شاہ فیصل ایوارڈ“ حاصل کیا۔ ظفر اسحاق اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر بنے۔ تینوں دوستوں نے بلند پایہ علمی کام کئے اور کئی کتابیں تحریر کیں۔ خرم مراد اور خورشید احمد جماعت اسلامی کے نائب امیر بنے۔خورشید احمد ان تین دوستوں میں زندگی کے آخری مسافر تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا سفر آج مکمل کیا، جبکہ خرم مراد کا انتقال 1996ء میں اور ظفر اسحاق انصاری کا 2016ء میں ہوا تھا۔ خدا ان تینوں عاشقانِ پاک طینت کو جنت میں جمع کرے۔ آمین یا رب العالمین۔