سال2025ء
فاروق قیصر
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کو اپنا فوجی تسلط جمائے ہوئے78 برس بیت گئے ہیں ۔تاریخ کشمیر کا ہر باب ایک سیاہ باب اور ہر داستان داستان خونچکاں ہے جسے انسانیت کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔جموں و کشمیر کے سبزہ زار ہوں ، کھیت و کھلیاں ہوں ،میدان ہوں یا برف پوش چوٹیاں ہرجگہ انسانی لہو سے رنگی گئی۔بھارتی افواج نے چنگیزیت کو مات دے کرآج تک پانچ لاکھ سے فرزندان کشمیر کاخون پانی کی طرح بہا کر کشمیری خاندانوں کی زندگیوں کے چراغ ہمیشہ کے لیے ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ کرگُل کر دئیے۔ صرف 37 سالہ مسلح جد وجہد کے دوران ہی ستانوے ہزار سے کے لگ بھگ کشمیری مسلمان شہید ہوچکے ہیں،جن میں دوہزار تین سو چھپن خواتین اور ایک ہزار کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔اس عرصے میں بھارتی فوج نے دو لاکھ کے قریب عام شہریوں کو مختلف بہانوں سے گرفتارکیا ،گیارہ ہزار سے زائد خواتین کی آبروریزی کی گئی ۔دس لاکھ سے زائد رہائشی مکانات کوخاکسترکیاگیاجبکہ جنگلات ،فصلوں اور پھل دار درختوں کو تباہ کرکے کشمیر کے محنت کشوں کو کھربوں کا نقصان پہنچایا ۔سال 2025ء میں مقبوضہ کشمیر میں قلیل مجاہدین کی جماعت نے وسائل نہ ہونے کے باوجود بھارتی افواج جو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہےکا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔



سال 2025میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان سو سے زیادہ جھڑپیں ہوئیں جن میںرپورٹ کے مطابق ضلع پلوامہ کے علاقےاونتی پورہ ترال میں حزب المجاہدین سے وابستہ مجاہدین اور بھارتی افواج کے درمیان ایک خونی معرکہ کے نتیجے میں تین مجاہدین کمانڈر محمد آصف المعروف زاہد ولد غلام محمد شیخ ساکنہ منگھامہ ترال پلوامہ، عامر نذیر المعروف غازی بابا ولد نذیر احمد ساکنہ کھاسی پورہ ترال پلوامہ، یاور احمد المعروف ابو ضرار ولد نذیر احمد ساکنہ لرو ترال پلوامہ نے خون کے آخری قطرے تک لڑ کر اپنا گرم گرم لہو اسلام و آزادی کے لئے نچھاور کیا اوراللہ کے حضور سرخرو ٹھہرے۔ان شہداء سمیت سال 2025ء میں58مجاہدین نے بھارتی فوج کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی گردنیں کٹوائیں اور ان کا لہو بھی لاکھوں شہداء کے لہو کے ساتھ مل چکا ہے ۔ان جھڑپوں کے دوران مجاہدین کی تیر بہدف کارروائیوں میںسات فوجی آفیسروں جن میں JCO کلدیپ چاندبھی شامل ہےسمیت88بھارتی فوجی ہلاک جبکہ تین آفیسروں سمیت89 زخمی ہوئے ہیں۔بھارتی فوج نے رپورٹ کے مطابق 90رہائشی مکانوں کو بارود لگا کردھماکہ سے تباہ کردیاجن پر انہیں شبہ تھا کہ یہ مکانا ت مجاہدین نے کمین گاہ کے طور پر استعمال کئے ہونگے۔ بھارتی فوج نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ظالمانہ کارروائیاں کر تے ہوئےسال 2025میںتین خواتین سمیت 37نہتےشہریوں کوبے دردی کے ساتھ شہید اور177کو زخمی کیاجبکہ بھارتی فوج اور عوام کے درمیان تصادم کے دوران درجنوں پولیس اہلکار زخمی اوردو بھارتی فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔سال 2025ء میں بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے حقوق اور قدرتی وسائل چھین لینے میں اور مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کو تبدیل کرنےکے لیے مقبوضہ علاقے میں ہزاروں بھارتی شہریوں اور دیگر غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں جبکہ بھارتی زمانہ بدنام ایجنسیوںNIA ،CIK,SIA,نے بھارتی پولیس کے ساتھ مل کر چھاپوں کے دوران کالے قانوں کے تحت آزادی پسند راہنمائوں سمیت 109کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کیں۔بھارت نے مقبوضہ علاقے کومعاشی پسماندگی کی طرف دھکیلنے کیلئے15 سرکاری ملازمین کو جھوٹے الزامات عائدکرکے برطرف کر دیا ہے۔ بھارتی فوج کے ہاتھوںمحاصروں اور تلاشی کارروائیوں کے دوران57 ڈاکٹروں اور درجنوں صحافیوںجن میں عرفان معراج بھی شامل ہیںسمیت7488 کشمیریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ان محاصروں اور تلاشی مہموں کے دوران مجاہدین کے ساتھ بطور بالائی ورکر کام کرنے کے جھوٹے الزامات لکا کر بھارتی فوج نے26نوجوانوں کو گرفتارکرکے جیلوں میں ڈال دیا جہاں ان جیلوں کی کال کوٹھریوں میں پہلے ہی کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، مظفر احمد ڈار، غلام محمد بٹ، مشتاق الاسلام، امیر حمزہ، مولوی بشیر عرفانی، بلال صدیقی،ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم،ڈاکٹر حمید فیاض، ایڈووکیٹ زاہد علی، محمد رفیق گنائی، حیات احمد بٹ، عمر عادل ڈار، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، محمد شفیع شریعتی، فردوس احمد شاہ، فیاض حسین جعفری، محمد یاسین بٹ، ظہور احمد بٹ، عبدالاحدپرہ، شوکت حکیم، معراج الدین نندا، وحید احمد گوجری، محمود ٹوپی والا، فیروز عادل زرگر، دائود زرگر، نور محمد فیاض، اسد اللہ پر ے، خرم پرویز ،محمد احسن اونتو سمیت 5ہزار سے زائد کشمیری مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں بند ہیں ۔رپورٹ کے مطابق سال2025ء میں روز بہ روز بھارتی فوج پر ذہنی دبائو بڑھ رہا ہے، بھارتی فوج اور ان پر براجمان آفیسروںمیں تلخیاں عروج پر ہیں ،بھارتی فوجی اپنے آفیسروں کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہیں یہی وجہ ہےایک آفیسرسمیت20 بھارتی فوجی اہلکاروں نے اپنی ہی سروس رائفلوں سے خود پر فائرنگ کرکے خود کشیاں کیں اوراپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا۔خودکشیوں کےبدستور بڑھنے ہوئے رجحانا ت اس بات کی غمازہے کہ بھارتی فوج نفساتی طور پر کتنی مفلوج ہوچکی ہے ۔صرف انیس سال سے زائد عرصے کےدوران خودکشیاں کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد638تک پہنچ چکی ہے۔مختلف حادثات کے دوران10 آفیسروں جن میں ایک کرنل بھی شامل ہے سمیت 69بھارتی فوجی ہلاک جبکہ چار آفیسروں سمیت 88فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔سال2025 میں کے مختلف علاقوں سےایک خاتون اور دو بچوں سمیت 32لاشیں برآمد کرلی گئیں جن میں متعدد لاشیں گولیوں سے چھلنی ہوچکی تھیں جبکہ متعددنوجوان لاپتہ ہوگئے ہیںان لاپتہ ہوئے افراد کے گھر والوں کوان کے بارے میں کوئی واقفیت نہیں ہے کہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں کیا انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھاگیا۔ کشمیری قوم اپنے جائزحقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، ۔عالمی برادری ،عالمی طاقتوں اور اداروں کو مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم پر اپنی خاموشی توڑ دینی چاہیےاوربھارت کے ظالمانہ اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے راستہ ہموار ہوسکے اور کشمیر میں ظلم و بربریت کے سیاہ باب بھی ختم ہوسکیں۔






