یہاں نہ صرف جسم قید ہیں، بلکہ روحیں قید ہیں، خواب قید ہیں
امیدیں قید ہیں، آوازیں قید ہیں، سانسیں قید ہیں
مقبول بٹ شہید، افضل گورو اور امتیاز عالم شہید، یہ تین نام ہماری تاریخ کے وہ چراغ ہیں جن کی روشنی میں ہمیں اپنا راستہ تلاش کرنا ہے
سید عمر اویس گردیزی
فروری…ریاست جموں و کشمیر میں محض ایک مہینہ ہی نہیں ہوتا، ایک زخم ہوتا ہے، ایسا زخم جو کیلنڈر پر نہیں، وادی کے سینے پر کھلتا ہے۔ یہ وہ موسم ہے جس میں ہوا سرد نہیں، مجرم ہو جاتی ہے، جس میں برف سفید نہیں، کفن بن جاتی ہے، اور جس میں خاموشی عبادت نہیں، اجتماعی تدفین کا اعلان ہوتی ہے۔ اس مہینے سورج بھی طلوع نہیں ہوتا، کسی عدالتی فیصلے کی طرح نافذ ہوتا ہے، اور شام کسی غروب کا نام نہیں رہتی، بلکہ کسی بے نام قبر کی پہلی اینٹ بن جاتی ہے۔ یہاں رات صرف اندھیرا نہیں ہوتی، ریاستی ارادے کی توسیع ہوتی ہے؛ یہاں سناٹا سکون نہیں، خوف کا نظم ہوتا ہے؛ یہاں گلیاں راستے نہیں، احتمالی جنازوں کی تمہید ہوتی ہیں؛ اور یہاں دروازے لکڑی کے نہیں، تقدیر کے ہوتے ہیں، جو بند ہوں تو عمر کھلنے کا نام نہیں لیتی۔ اس سرزمین پر سانس لینا بھی کسی غیر تحریری قانون کے ماتحت ہے، اور جینا ایک ایسی اجازت کا نام ہے جو ہر صبح ازسرِنو منسوخ ہو جاتی ہے۔ یہ وہ جغرافیہ ہے جہاں موسم نہیں بدلتے، صرف قبریں بدلتی ہیں؛ جہاں بہار نہیں آتی، صرف وردیاں آتی ہیں؛ جہاں پھول نہیں کھلتے، صرف فائلیں کھلتی ہیں؛ اور جہاں اذانیں نہیں گونجتیں، صرف سائرن گونجتے ہیں۔ یہاں خواب آنکھوں میں نہیں اگتے، دیواروں پر لکھے جاتے ہیں، اور امید چراغ نہیں ہوتی، موم کی طرح پگھلتی رہتی ہے، حتیٰ کہ ہاتھ جل جائیں اور روشنی پھر بھی نصیب نہ ہو۔ماہ فروری کا یہ مہینہ کشمیر کے لیے کیلنڈر کا عام صفحہ نہیں، یہ لہو سے تر تاریخ کا وہ باب ہے جس کے ہر لفظ پر شہادت کی مہر ثبت ہے، جس کے ہر دن پر درد کی سیاہی سے آزادی کی تحریر لکھی گئی ہے۔ یہ مہینہ صرف موسموں کی تبدیلی کا نام نہیں، یہ وہ موسم ہے جس میں برف کے سفید کفن اوڑھے پہاڑوں کے درمیان، ماں کی گودیں اجڑتی ہیں، بہنوں کے سروں سے بھائیوں کا سایہ اٹھتا ہے، اور ماؤں کی آنکھوں میں ایسے آنسو جم جاتے ہیں جن کی حرارت سے پتھر بھی پگھل جائیں۔ یہ مہینہ مقبول بٹ شہید کا ہے، یہ مہینہ افضل گورو کا ہے، یہ مہینہ امتیاز عالم شہید کا ہے، تین نام، تین زندگیاں، تین قربانیاں، مگر ایک ہی خواب: آزادی، عزت، حق خودداری اور غلامی سے نجات۔یہ وہ نام نہیں جو تاریخ کی کسی کتاب کے فہرستِ مضامین میں دفن ہو جائیں، یہ وہ نام ہیں جو کشمیری ماؤں کے دلوں پر کندہ ہیں، جو بچوں کے سوالوں میں زندہ ہیں، جو نوجوانوں کے خوابوں میں دہکتے شعلوں کی طرح سلگتے ہیں، جو بزرگوں کی لرزتی ہوئی آوازوں میں سسکتی ہوئی داستان بن کر زندہ ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جو جب بھی لیے جائیں، تو الفاظ کانپنے لگتے ہیں، سانسیں بھاری ہو جاتی ہیں، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور دل یوں لگتا ہے جیسے کسی نے سینے میں دہکتا ہوا انگارہ رکھ دیا ہو۔ یہ تاریخیں تقویم کی لکیر نہیں، یہ کشمیر کی شہ رگ پر لگے وہ زخم ہیں جن سے آج بھی لہو رس رہا ہے، جن پر آج بھی مرہم نہیں رکھا گیا، جن پر آج بھی انصاف کی کوئی روشنی نہیں پڑی۔



نو فروری کو افضل گورو شہید، گیارہ فروری کو مقبول بٹ شہید، اور بیس فروری کو امتیاز عالم شہید، تینوں کو دن دہاڑے قتل کیا گیا، پھانسی دید ی گئی ، تینوں کو عدالتوں، آئینوں، ضمیروں اور انسانیت کے منہ پر طمانچے مار کر شہید کیا گیا، اور تینوں کو اس جرم کی سزا دی گئی جو دنیا کی ہر زندہ قوم کا سب سے بڑا حق ہے۔ آزادی کا حق۔ یہ مضمون کسی رسمی تعزیتی کالم کا نام نہیں، یہ وہ نوحہ ہے جو کشمیر کی وادیوں میں بہتے لہو کی آواز سے جنم لیتا ہے، یہ وہ چیخ ہے جو تہاڑ جیل کی سلاخوں سے ٹکرا کر گونجتی ہے، یہ وہ فریاد ہے جو مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں دفن لاشوں کے سینوں سے اٹھ کر آسمان کو چیرتی ہے، یہ وہ سوال ہے جو اقوامِ عالم کے ایوانوں میں بیٹھے ضمیروں سے پوچھتا ہے۔۔۔آخر کب تک؟ کب تک کشمیریوں کو یوں ہی مارا جائے گا؟ کب تک ان کے بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے نہیں، کفن ہوں گے؟ کب تک ان کے گھروں کے دروازوں پر دستک نہیں، گولیوں کی آواز آئے گی؟ کب تک ان کی ماؤں کی دعائیں بیٹوں کو زندہ واپس نہیں، لاشوں کی صورت میں لوٹائیں گی؟ مقبول بٹ شہید، جو تختہ دار پر بھی آزادی کا پرچم لہرا گیا، یہ نام سنو تو لگتا ہے جیسے تاریخ کے کسی طوفانی باب کا آغاز ہو رہا ہو۔ یہ وہ شخص تھا جس نے غلامی کی زنجیروں کو صرف توڑنے کا خواب نہیں دیکھا، بلکہ انہیں اپنے لہو سے کاٹ کر دکھایا۔ وہ شخص جس کے لیے زندگی کا مطلب سانس لینا نہیں، بلکہ آزادی کی سانس لینا تھا، اور موت کا مطلب قبر میں اترنا نہیں، بلکہ قوم کو بیدار کرنا تھا۔ وہ شخص جس نے قید خانوں کو بھی تحریک کے مدرسے بنا دیا، جس نے سولی کے پھندے کو بھی احتجاج کی رسی بنا دیا، اور جس نے موت کے دہانے پر کھڑے ہو کر بھی زندگی کو جھکا لیا۔ مقبول بٹ کا بچپن برفانی وادیوں میں آنکھیں کھولتا ہے، جہاں فضا میں سکون کے ساتھ ساتھ غلامی کی خاموش چیخ بھی شامل تھی۔ وہ چیخ جو شاید ہر کشمیری بچے کے کانوں میں ماں کی لوریوں کے ساتھ گھل کر داخل ہوتی ہے، اور دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لیے جا بیٹھتی ہے۔ مقبول بٹ نے وہ چیخ سنی، مگر اسے دبایا نہیں، اسے لفظ دیا، اسے زبان دی، اسے نعرہ بنایا، اور پھر اسے تحریک بنا دیا۔ وہ عام نوجوان نہیں تھا، وہ سوال تھا، وہ احتجاج تھا، وہ انکار تھا، غلامی کے انکار کا نام۔ بھارت نے مقبول بٹ کو جرمِ آزادی کی سزا دی۔ عدالتوں میں وہ مقدمہ نہیں چلا، بلکہ کشمیری قوم کے حقِ خودارادیت کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ ثبوت نہیں تھے، انصاف نہیں تھا، ضمیر نہیں تھا، تھا تو صرف خوف، تھا تو صرف انتقام، تھا تو صرف یہ خواہش کہ ایک باغی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جائے۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جو آوازیں پھانسی گھاٹ پر خاموش کی جاتی ہیں، وہ قبروں سے گونجنے لگتی ہیں، اور جو جسم سولی پر جھولتے ہیں، وہ قوموں کے ضمیر میں سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔11 فروری 1984…یہ دن کشمیر کی تاریخ میں سیاہ حاشیے سے نہیں، سرخ حروف سے لکھا جانا چاہیے۔ یہ وہ دن تھا جب مقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ مگر سچ یہ ہے کہ اس دن تختہ دار پر مقبول بٹ نہیں تھا، اس دن تختہ دار پر بھارت کا انصاف تھا، بھارت کا ضمیر تھا، بھارت کا دعویٰ تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم کے بیٹے کو آزادی مانگنے کے جرم میں پھانسی دے دی جائے، اس دن پھانسی صرف ایک جسم کو نہیں، پورے نظام کو دی جاتی ہے۔ مقبول بٹ کو پھانسی دے کر اس کی لاش بھی ورثا کے حوالے نہ کی گئی۔ یہ ظلم کی وہ انتہا تھی جس میں موت بھی مکمل نہیں ہونے دی گئی۔ اس کی قبر بھی قید کر لی گئی، اس کی لاش بھی قید کر لی گئی، گویا بھارت یہ چاہتا تھا کہ مقبول بٹ کا وجود بھی قید رہے، اس کی یاد بھی قید رہے، اس کی داستان بھی قید رہے۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ لاشیں قید ہو سکتی ہیں، یادیں نہیں۔ قبریں بند ہو سکتی ہیں، نظریات نہیں۔ جسم دفن کیے جا سکتے ہیں، خواب نہیں۔ مقبول بٹ شہید نے موت کو شکست دی، کیونکہ وہ مر کر بھی زندہ رہا، وہ خاموش ہو کر بھی بولتا رہا، وہ دفن ہو کر بھی اٹھتا رہا۔ آج بھی کشمیر کی وادیوں میں جب کوئی نوجوان آزادی کا نعرہ لگاتا ہے، تو اس نعرے میں مقبول بٹ کی سانس شامل ہوتی ہے۔ جب کوئی ماں اپنے بیٹے کو ظالم کے سامنے جھکنے سے روکتی ہے، تو اس کی زبان پر مقبول بٹ کا حوصلہ ہوتا ہے۔ جب کوئی قیدی تہاڑ یا کسی اور جیل کی اندھی کوٹھڑی میں دیواروں سے سر ٹکرا کر بھی ہمت نہیں ہارتا، تو اس کے دل میں مقبول بٹ کا عکس ہوتا ہے۔ مقبول بٹ نے ہمیں یہ سکھایا کہ آزادی کوئی خیرات نہیں، یہ قرض ہے جو قومیں اپنے لہو سے ادا کرتی ہیں۔ اس نے ہمیں بتایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی جرم ہے، اور جرم کے سامنے خاموش رہنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔ اس نے ہمیں یہ درس دیا کہ زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں، بلکہ سر اٹھا کر جینا ہے، اور اگر سر اٹھا کر جینے کی قیمت موت ہو، تو وہ موت بھی زندگی سے بڑی ہوتی ہے۔
افضل گورو شہید: جسے عدالت نہیں، سیاست نے پھانسی دی، جی ہاں شہید کشمیر افضل گورو، یہ نام سنو تو دل میں عجیب سی ٹیس اٹھتی ہے، جیسے کسی نے زخم پر نمک چھڑک دیا ہو، مگر ساتھ ہی ایک عجیب سا فخر بھی محسوس ہوتا ہے، جیسے کسی نے سینے پر تمغہ رکھ دیا ہو۔ افضل گورو وہ شخص تھا جسے بھارت نے نہ صرف پھانسی دی، بلکہ اس سے پہلے اس کی انسانیت کو قتل کیا، اس کے حقِ دفاع کو قتل کیا، اس کے حقِ سماعت کو قتل کیا، اس کے حقِ انصاف کو قتل کیا، اور پھر بڑے اطمینان سے اس کے جسم کو بھی قتل کر دیا۔ مگر جس چیز کو وہ قتل نہ کر سکے، وہ تھا اس کا نام، اس کا درد، اس کی داستان، اور اس کی مظلومیت کی گونج۔ شہید افضل گورو کو 9 فروری 2013 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔ مگر اس پھانسی سے پہلے جو کچھ ہوا، وہ ایک فرد کا مقدمہ نہیں تھا، وہ پوری کشمیری قوم کے خلاف ایک عدالتی ڈرامہ تھا۔ ایک ایسا مقدمہ جس میں ثبوت کم اور دباؤ زیادہ تھا، جس میں قانون کم اور سیاست زیادہ تھی، جس میں انصاف کم اور انتقام زیادہ تھا۔ خود بھارت کی سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ افضل گورو کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، مگر یہ کہہ کر بھی اسے پھانسی دے دی گئی کہ ’’قوم کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنا ضروری ہے‘‘۔ یہ وہ جملہ تھا جس نے بھارتی عدلیہ کی تاریخ پر ایسا دھبہ لگا دیا جسے شاید صدیوں کی بارشیں بھی نہ دھو سکیں۔ آخر انصاف کب سے ہجوم کے ضمیر پر چلنے لگا؟ کب سے عدالتیں ثبوتوں کے بجائے جذبات پر فیصلے دینے لگیں؟ کب سے زندگی اور موت کے فیصلے قانون کے بجائے سیاست کے اشاروں پر ہونے لگے؟ اگر انصاف کا معیار یہ ہے کہ ہجوم کو مطمئن کیا جائے، تو پھر دنیا کی ہر عدالت کو بند کر دینا چاہیے، اور ہر چوک میں دار نصب کر دینی چاہیے، جہاں لوگ اپنی نفرتوں کے مطابق فیصلے سنائیں، اور زندگیاں یوں ہی جھولتی رہیں۔ شہید افضل گورو کی پھانسی بھی چھپ کر دی گئی، اندھیرے میں دی گئی، خفیہ طور پر دی گئی، اور پھر اس کی لاش بھی ورثا کے حوالے نہ کی گئی۔ یہ وہ عمل تھا جس نے اس پھانسی کو قتل بنا دیا، اور اس قتل کو ریاستی دہشت گردی کا عنوان دے دیا۔ کیونکہ جو ریاست اپنے شہری کو بغیر انصاف کے مارے، اور پھر اس کی لاش بھی اس کے خاندان کو نہ دے، وہ ریاست نہیں، جلاد بن جاتی ہے۔ افضل گورو شہید کی بیوی، اس کے بچے، اس کی ماں… ان سب کے لیے 9 فروری صرف ایک دن نہیں، یہ ایک عمر کا زخم ہے، ایک نہ بھرنے والا گھاؤ ہے، ایک نہ بجھنے والی آگ ہے۔افضل گورو کا جرم کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ کشمیری تھا، صرف یہ کہ وہ اس سرزمین سے محبت کرتا تھا جس پر اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، صرف یہ کہ وہ اس دھرتی کو آزاد دیکھنا چاہتا تھا جس پر اس کے باپ کی قبریں تھیں، صرف یہ کہ وہ اس وادی میں سانس لینا چاہتا تھا جس کی ہوا میں اس کے بچپن کی خوشبو تھی۔ اگر یہ جرم ہے، تو پھر کشمیر کا ہر بچہ مجرم ہے، ہر ماں مجرم ہے، ہر بزرگ مجرم ہے، ہر درخت مجرم ہے، ہر پتھر مجرم ہے، کیونکہ سب کے دل میں یہی خواہش دھڑکتی ہے: آزادی۔
اب بات کرتے ہیں امتیاز عالم شہید کی، جسے گولیوں نے خاموش کیا، مگر آواز نہ چھین سکیں، جی ہاں امتیاز عالم شہید… یہ نام شاید عالمی میڈیا کی سرخیوں میں زیادہ نہ آیا ہو، شاید عالمی اداروں کی رپورٹوں میں بڑے فونٹس میں نہ لکھا گیا ہو، شاید اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں اس پر قراردادیں نہ پاس ہوئیں ہوں، مگر کشمیر کی گلیوں میں، کشمیر کے گھروں میں، کشمیر کے دلوں میں، یہ نام آج بھی یوں زندہ ہے جیسے کوئی تازہ زخم، جیسے کوئی جلتا ہوا انگارہ، جیسے کوئی نہ بجھنے والی شمع۔ 20 فروری2023 وہ دن ہے جب تحریکی رہنما امتیاز عالم کو دن دہاڑے گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ موٹر سائیکل سوار قاتل آئے، گولیاں برسائیں، اور چلے گئے، جیسے یہ کوئی معمول کا واقعہ ہو، جیسے یہ کوئی حادثہ ہو، جیسے یہ کوئی خبر ہو جو اگلے دن کے اخبار میں کسی کونے میں دب جائے۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ کوئی معمول کا قتل نہیں تھا، یہ ایک پیغام تھا، یہ ایک دھمکی تھی، یہ ایک اعلان تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی بات کرنے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے، ان کے لیے آسمان چھین لیا گیا ہے، ان کے لیے سانس لینا بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔ سوال ہے کہ آخر امتیاز عالم کا جرم کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ حق کی بات کرتا تھا، صرف یہ کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، صرف یہ کہ وہ کشمیری عوام کے دکھ درد کو زبان دیتا تھا، صرف یہ کہ وہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتا تھا، صرف یہ کہ وہ انہیں یہ یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، کہ ان کے ساتھ کوئی ہے، کہ ان کی جدوجہد بے معنی نہیں، کہ ان کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہی جرم اسے مہنگا پڑا، اور یہی جرم اسے شہادت تک لے گیا۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ امتیاز عالم کو ’’ را ‘‘کے ایجنٹوں نے نشانہ بنایا۔ یہ کوئی اچانک واردات نہیں تھی، یہ کوئی اتفاق نہیں تھا، یہ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، یہ ایک منظم منصوبہ تھا، ایک سوچا سمجھا قتل تھا، ایک سیاسی پیغام تھا۔ کیونکہ جو ریاست اپنے مخالفین کو دلیل سے نہیں ہرا سکتی، وہ انہیں گولی سے خاموش کرتی ہے۔ جو حکومت سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی، وہ سوال کرنے والوں کو مار دیتی ہے۔ جو نظام انصاف فراہم نہیں کر سکتا، وہ انصاف مانگنے والوں کو قبرستان بھیج دیتا ہے۔ امتیاز عالم شہید کے والد کو بھی قابض بھارتی فوج نے شہید کیا تھا۔ یہ المیہ صرف ایک فرد کا نہیں، یہ ایک خاندان کا نہیں، یہ ایک نسل کا نہیں، یہ پوری کشمیری قوم کا المیہ ہے۔ ایک باپ شہید، پھر بھائی شہید ،پھر بیٹا شہید، یہ محض اتفاق نہیں، یہ ظلم کی وہ تسلسل ہے جو نسل در نسل منتقل کیا جا رہا ہے، تاکہ کشمیریوں کو یہ باور کرایا جائے کہ آزادی کا خواب دیکھنا بھی جرم ہے، اور اس جرم کی سزا موت ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے شہیدوں کی قبروں سے ڈر جائیں، وہ زندہ نہیں رہتیں، اور جو قومیں اپنے شہیدوں کی قبروں سے حوصلہ پاتی ہیں، وہ کبھی مرتی نہیں۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمّد یٰسین ملک بھی آج تہاڑ جیل کی دیواروں سے ٹکراتی ہوئی ایک زندہ چیخ بن چکے ہیں جو عالمی دنیا، پاکستان، اہلیان آزاد کشمیر کے ضمیر پر دستک دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، یٰسین ملک… یہ نام کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کا وہ استعارہ ہے جس میں حوصلہ بھی ہے، درد بھی ہے، امید بھی ہے، اور قربانی بھی ہے۔ وہ شخص جس نے بندوق کے بجائے دلیل کو چنا، جس نے تشدد کے بجائے سیاست کو چنا، جس نے نفرت کے بجائے امن کو چنا، جس نے موت کے بجائے زندگی کو چنا، اور پھر بھی اسے وہی سزا دی جا رہی ہے جو جنگجوؤں کو دی جاتی ہے، وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ انصاف نہیں، یہ انتقام ہے، یہ قانون نہیں، یہ ظلم ہے، یہ عدل نہیں، یہ جبر ہے۔ آج یٰسین ملک تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے، مگر اب این آئی اے کی جانب سے اس سزا کو موت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں، یہ کشمیر کی امن پسند جدوجہد پر براہِ راست حملہ ہے، یہ اس سوچ کو سزا دینے کی کوشش ہے کہ کشمیری بندوق کے بغیر بھی اپنے حق کی بات کر سکتے ہیں، یہ اس امید کو کچلنے کی کوشش ہے کہ سیاسی جدوجہد سے بھی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر یٰسین ملک کو موت کی سزا دی گئی، تو یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں ہو گی، یہ امن کے تصور کی موت ہو گی، یہ مذاکرات کے امکان کی موت ہو گی، یہ سیاسی حل کی امید کی موت ہو گی۔عالمی برادری کہاں ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ضمیر کہاں سو رہے ہیں؟ کیا انہیں کشمیر کی وادیوں میں بہتا ہوا لہو نظر نہیں آتا؟ کیا انہیں تہاڑ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تڑپتی ہوئی انسانیت کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟یٰسین ملک صرف یہ چاہتے ہیں کہ کشمیری پرامن جدوجہد چاہتے ہیں، وہ بات چیت چاہتے ہیں، وہ انصاف چاہتے ہیں، وہ حق چاہتے ہیں، وہ عزت چاہتے ہیں، وہ خودداری، خودمختاری چاہتے ہیں، مگر بھارت سفاکیت کی ہر حد چھو رہا ہے
اب اہم سوال یہ بھی ہے کہ اڑھائی مرلے کی آزاد فضاوں میں تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کی صورت میں بنائی گئی آزاد کشمیر کی قیادت، کب تک خاموشی کی چادر اوڑھے رکھے گی؟ یٰسین ملک کی سزا پر آزاد کشمیر کی قیادت کی پراسرار خاموشی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر کشمیری ماں مانگ رہی ہے، ہر کشمیری نوجوان مانگ رہا ہے، ہر کشمیری شہید کی قبر مانگ رہی ہے۔ کب تک بیانات کی سیاست چلے گی؟ کب تک قراردادوں کی رسم ادا کی جاتی رہے گی؟ کب تک مذمتی بیانات کی فائلیں بھرتی رہیں گی؟ کب تک اخباری بیانات، پریس کانفرنسیں، سیمینارز اور ریلیاں ہی ہماری جدوجہد کا حاصل رہیں گی؟ اگر واقعی کشمیر کا درد ہمارے دل میں ہے، تو پھر ہم عالمی عدالتِ انصاف کیوں نہیں گئے؟ ہم اقوامِ متحدہ کے دروازے کیوں نہیں کھٹکھٹاتے؟ ہم عالمی میڈیا کو کیوں نہیں کشمیر لے جاتے؟ ہم عالمی فورمز پر بھارت کے جرائم کی دستاویزی شہادتیں کیوں نہیں پیش کرتے؟ ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کیوں وہ زبان نہیں بولتے جو ظالم سمجھ سکے؟
ہر سال 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ تقریریں ہوتی ہیں، سیمینارز ہوتے ہیں، کانفرنسز ہوتی ہیں، ریلیاں نکلتی ہیں، انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنتی ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں، ٹی وی پر پروگرام چلتے ہیں، اور پھر اگلے دن سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، جیسے کشمیر کا درد صرف ایک دن کے لیے ہوتا ہو، جیسے کشمیریوں کی لاشیں صرف ایک دن کے لیے گرتی ہوں، جیسے ماؤں کی چیخیں صرف ایک دن کے لیے آسمان کو چیرتی ہوں۔آخر کیوں ہم نے یکجہتی کو رسم بنا دیا ہے؟ آخر کیوں ہم نے حمایت کو فوٹو سیشن بنا دیا ہے؟ آخر کیوں ہم نے جدوجہد کو تقریر بنا دیا ہے؟ آخر کیوں ہم نے درد کو نعرہ بنا دیا ہے؟ آخر کیوں ہم نے شہادت کو خبر بنا دیا ہے؟ اگر واقعی ہمیں کشمیر سے محبت ہے، تو پھر ہمیں رسمی کارروائیوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہمیں کشمیر میں قید بھارتی جیلوں میں کشمیریوں کی آواز بننا ہو گا۔ ہمیں دنیا کو غیرت دلانی ہو گی۔ ہمیں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہو گا۔ ہمیں بھارت کی سفاکیت کو اپنے میڈیا کی سرخیوں میں تسلسل کے ساتھ جگہ دینی ہو گی، نہ کہ صرف مخصوص دنوں پر۔ ہمیں کشمیر کو ”نیشنل انٹرسٹ” بنانا ہو گا، صرف تقریروں میں نہیں، بلکہ پالیسی میں، سفارت کاری میں، میڈیا میں، تعلیم میں، اور قومی شعور میں۔ کوہالہ کے پل پر ہاتھوں کی زنجیر بنانے کے بجائے، پاکستان کی سیاسی قیادت، عسکری قیادت اور قومی قیادت کو بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ لائن آف کنٹرول کے قریب جانا چاہیے، وہاں کھڑے ہو کر دنیا کو وہ زخم دکھانے چاہئیں جو کشمیر کے جسم پر لگے ہیں، وہاں کھڑے ہو کر وہ قبریں دکھانی چاہئیں جو انصاف کے انتظار میں ہیں، وہاں کھڑے ہو کر وہ مائیں دکھانی چاہئیں جن کی گودیں اجڑ چکی ہیں، وہاں کھڑے ہو کر وہ بچے دکھانے چاہئیں جن کی آنکھوں میں مستقبل کے بجائے خوف ہے۔
کوہالہ تو آزاد کشمیر میں ہے، وہاں ہاتھوں کی زنجیر بنا کر دنیا کو کیا پیغام جانا ہے؟ دنیا وہاں نہیں دیکھ رہی، دنیا وہاں نہیں سن رہی، دنیا وہاں نہیں محسوس کر رہی۔ دنیا وہاں دیکھے گی جہاں ظلم ہو رہا ہے، جہاں خون بہہ رہا ہے، جہاں انسانیت چیخ رہی ہے۔ مقبول بٹ شہید، افضل گورو شہید اور امتیاز عالم شہید، یہ تینوں مختلف زمانوں میں، مختلف حالات میں، مختلف انداز میں شہید ہوئے، مگر ان کی جدوجہد ایک تھی، ان کا خواب ایک تھا، ان کا درد ایک تھا، ان کی منزل ایک تھی۔ یہ تینوں اپنی زندگی میں بھی جدوجہد تھے، اور اپنی موت میں بھی پیغام بن گئے۔ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں، یہ قربانی مانگتی ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ بتایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا خود ظلم ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ دکھایا کہ سچ بولنے کی قیمت گولی بھی ہو سکتی ہے، پھانسی بھی ہو سکتی ہے، جیل بھی ہو سکتی ہے، مگر خاموشی کی قیمت غلامی ہوتی ہے، اور غلامی کی قیمت روح کی موت ہوتی ہے۔ مقبول بٹ شہید نے تختہ دار پر کھڑے ہو کر بھی آزادی کا نعرہ بلند کیا۔ افضل گورو نے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر بھی ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ امتیاز عالم نے گولیوں کی بوچھاڑ میں بھی حق کی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیا۔ یہ تینوں ہمیں یہ سکھا گئے کہ اصل شکست موت نہیں، اصل شکست خاموشی ہے، اصل شکست سمجھوتہ ہے، اصل شکست خوف ہے۔ ان تینوں کی زندگیوں میں درد تھا، مشکلات تھیں، قید تھیں، اذیتیں تھیں، تنہائیاں تھیں، مگر اس کے باوجود ان کے دلوں میں امید تھی، ان کی آنکھوں میں خواب تھے، ان کی زبان پر سچ تھا، ان کے قدموں میں ہمت تھی، اور ان کے سینوں میں آزادی کی آگ تھی۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جب انسان کے اندر آزادی کا شعلہ بھڑک اٹھے، تو پھر کوئی جیل اسے قید نہیں کر سکتی، کوئی سولی اسے خاموش نہیں کر سکتی، کوئی گولی اسے ختم نہیں کر سکتی۔
کشمیر محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، یہ ایک زخم ہے، ایک ایسا زخم جو سات دہائیوں سے رس رہا ہے، جس پر ہر دن نیا نمک چھڑکا جاتا ہے، جس پر ہر رات نیا خنجر چلایا جاتا ہے، جس سے ہر صبح نیا لہو بہتا ہے۔ یہ زخم صرف کشمیریوں کے جسم پر نہیں، یہ انسانیت کے ضمیر پر ہے، یہ عالمی انصاف کے چہرے پر ہے، یہ اقوامِ متحدہ کے دعووں پر ہے، یہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں پر ہے، یہ دنیا کی جمہوریتوں کے نعروں پر ہے۔ کشمیر کی وادیوں میں بہتا ہوا لہو صرف کشمیریوں کا نہیں، یہ ہر اس انسان کا لہو ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے، جو آزادی پر ایمان رکھتا ہے، جو انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے، جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کو انسان ہونے کی شرط سمجھتا ہے۔ اگر آج کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے اور ہم خاموش ہیں، تو کل کہیں اور بھی ہو گا، اور وہاں بھی ہم خاموش ہوں گے، یہاں تک کہ ایک دن ظلم ہمارے دروازے پر دستک دے گا، اور ہمیں بھی کوئی سننے والانہیں ملے گا۔
مقبول بٹ شہید، افضل گورو اور امتیاز عالم شہید، یہ تین نام ہماری تاریخ کے وہ چراغ ہیں جن کی روشنی میں ہمیں اپنا راستہ تلاش کرنا ہے۔ یہ وہ ستارے ہیں جن کی رہنمائی میں ہمیں اندھیری راتوں میں چلنا ہے۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جن سے ہمیں یہ سیکھنا ہے کہ آزادی سستی نہیں ملتی، یہ مہنگی ہوتی ہے، اتنی مہنگی کہ اس کی قیمت زندگی ہوتی ہے، اور کبھی کبھی زندگی سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ مضمون کوئی عام تحریر نہیں، یہ ایک عہد ہے ،اس عہد کا کہ ہم ان شہیدوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ اس عہد کا کہ ہم ان کی قربانیوں کو رسمی تعزیتوں میں دفن نہیں کریں گے۔ اس عہد کا کہ ہم ان کی یاد کو صرف مخصوص دنوں تک محدود نہیں کریں گے۔ اس عہد کا کہ ہم ان کے خواب کو اپنی سیاست کا ایندھن نہیں، اپنی جدوجہد کا مقصد بنائیں گے۔ ہم مقبول بٹ کے تختہ دار پر کھڑے ہو کر بھی جھکنے سے انکار کو سلام کرتے ہیں۔ ہم افضل گورو کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر بھی سچ بولنے کو سلام کرتے ہیں۔ ہم امتیاز عالم کے گولیوں کے سامنے کھڑے ہو کر بھی آواز بلند رکھنے کو سلام کرتے ہیں۔ اور ہم یٰسین ملک کی تہاڑ جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندہ رہ کر بھی امید کو زندہ رکھنے کو سلام کرتے ہیں۔ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ کشمیر کی جدوجہد کوئی دہشت گردی نہیں، یہ حقِ خودارادیت کی جدوجہد ہے۔ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ کشمیریوں کی قربانیاں کوئی حادثہ نہیں، یہ تاریخ کی ضرورت ہیں۔ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ کشمیریوں کا لہو کوئی ضائع ہونے والاسیال نہیں، یہ آزادی کی روشنائی ہے جس سے مستقبل لکھا جائے گا۔ آخر میں، ہم دنیا سے یہ سوال کرتے ہیں، نہیں، ہم دنیا سے یہ سوال نہیں کرتے، ہم دنیا سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کو مزید آگ میں جھونکنے سے پہلے جاگو۔کشمیریوں کو مزید قبروں میں اتارنے سے پہلے جاگو۔ انصاف کو مزید سولی پر لٹکانے سے پہلے جاگو۔ انسانیت کو مزید قتل ہونے سے پہلے جاگو، کیونکہ اگر آج تم نے کشمیر کی چیخ نہ سنی، تو کل تمہاری چیخ بھی کوئی نہیں سنے گا۔ اور اگر آج تم نے کشمیر کے آنسو نہ پونچھے، تو کل تمہارے آنسو بھی کسی کے دل کو نہ ہلائیں گے۔
میرا یہ اس ماہ کا خصوصی مضمون ان شہیدوں کے نام ہے جنہوں نے ہمیں جینا سکھایا، مر کر بھی۔ یہ تحریر ان ماؤں کے نام ہے جنہوں نے بیٹے جنے، لاشیں نہیں۔ یہ کالم ان بچوں کے نام ہے جنہوں نے باپ کی انگلی نہیں، قبر کی مٹی تھامی۔ یہ نوحہ اس وادی کے نام ہے جس کے درختوں پر پھل نہیں، زخم اگتے ہیں۔ یہ چیخ اس سرزمین کے نام ہے جس کا نام کشمیر ہے، اور جس کا مقدر ابھی تک غلامی کی سلاخوں میں قید ہے۔ اے مقبول بٹ! اے افضل گورو! اے امتیاز عالم! تمہارے لہو کی خوشبو اب بھی وادیوں میں پھیلی ہوئی ہے، تمہارے خواب اب بھی ہماری آنکھوں میں جل رہے ہیں، تمہارے نام اب بھی ہمارے دلوں میں دھڑک رہے ہیں، اور تمہاری قربانی اب بھی ہماری رگوں میں آگ بن کر دوڑ رہی ہے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم جھکیں گے نہیں، ہم تھکیں گے نہیں،ہم رکیں گے نہیں، کیونکہ کشمیر صرف ایک زمین نہیں، یہ ایک امانت ہے، اور امانت میں خیانت کرنے والی قومیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی جاتی ہیں۔







