محمد شہباز بڈگامی
ملک محمد عبداللہ بھی اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔ ان اللہ و انا الیہ راجعون۔
وہ مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔وہ بلاشبہ تحریک اسلامی اور جدوجہد آزادی کشمیر کا اثاثہ تھے۔تحریک اسلامی اور تحریک آزادی کشمیر ان کا کل اوڑھنا بچھونا تھا، اور اسی کی آبیاری کرتے کرتے جان جان آفرین کے سپرد کردی۔وہ نمود و نمائش کے نہ قائل تھے اورنہ ہی وہ اس سحر میں کبھی مبتلا ہوئے۔ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ وہ جہاں قلم کے شہکار تھے،وہیں جب بولتے تھے،تو ان کے منہ سے جیسے پھول جڑتے تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ انہیں ان دونوں مضامین پر مکمل دسترس حاصل تھی تو بے جا نہ ہوگا۔البتہ وہ خاموش طبیعت کے مالک بھی تھے۔وہ نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو تھے۔وہ حق پر ڈٹنے والے شخص بھی تھے،اور کوئی وقتی ابال انہیں حق سے روگردانی مائل بہ آمادہ نہیں کرسکا۔ 1997اور 2003میں بڑے تنظیمی بحران واضح مثالیں ہیں،وہ نہ صرف تمام تر مخالفتوں کے باوجود تنظیم بلکہ اپنے قائد جناب سید صلاح الدین احمد کیساتھ چٹان کی مانند کھڑے رہے۔یہ کردار ان کی شخصیت میں عزت افزائی کا بے پناہ اضافے کا باعث بنا۔وہ ڈنکے کی چوٹ پر بات کرنے کا ملکہ اور سلیقہ بھی رکھتے تھے،وہ موقع محل کی خوبیوں سے بھی آگاہ تھے۔وہ اپنے اور پرائیوں کی بات سننے کا بھرپور حوصلہ بھی رکھتے تھے اور پھرتاریخی حوالوں سے بھرپور جواب بھی دیتے تھے۔ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔کسی موضوع پر گفتگو کرنے سے قبل اس پر مکمل تیاری بھی کرتے تھے،تاکہ موضوع کیساتھ انصاف کیا جاسکے۔ سرزمین جموں وکشمیر کے ایک اور مایہ ناز فرزند جناب شیخ تجمل الاسلام بھی اسی صفت کے مالک تھے۔بلاشبہ ملک صاحب نابغہ روز گار شخصیت تھے۔

ملک محمد عبداللہ نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کی آزادی، عزت،حرمت اور حقوق کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی پہنچان جہاں ایک دین دار شخصیت کی تھی ،وہیں وہ سیاسی افق کے طور پر بھی خوب ابھرے ۔انہوںنے مادر وطن کی آزادی کیلئے بڑی قربانیاں بھی دیں۔ملک محمد عبداللہ کا تعلق آلوسہ بانڈی پورہ سے تھا، جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے شمالی علاقے کا ایک مشہو ر و معروف گائوں ہے۔ ان کی پیدائش 1952 کی دہائی میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے حاصل کی۔ بعدازاں ڈگری کالج سوپور سے گریجویشن مکمل کی ۔البتہ بچپن ہی سے وہ دین و دنیا کے عصری علوم میں گہری دلچسپی رکھتے تھے، خاص طور پر قرآن و حدیث اور اسلامی فقہ میں۔ ان کی زندگی میں مکمل توازن تھا۔جس کا اثر ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں دکھائی دیا۔1990 کی دہائی میں بھارتی مظالم کا مقابلہ کرنے کیلئے جہاں لاکھوں ہزاروں لوگوں نے آزاد کشمیر کی طرف ہجرت کی،وہیںبھارت کی جانب سے مقبوضہ جموںو کشمیر میں مظالم کی شدت میں اضافہ ہواتھا۔بھارتی افواج نے کشمیری عوام کے خلاف بڑے پیمانے پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کیا۔ جس میں نہ صرف سیاسی رہنمائوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ عام شہریوں کو بھی بھارتی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔
جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر کے گھرانے اور افراد بطور خاص نشانہ تھے۔ملک صاحب امیر تحصیل بانڈی پورہ بھی تھے،وہ 1987میں مسلم متحدہ محاذ کے جھنڈے تلے انتخابات میں بھی حصہ لے چکے تھے اور دس ہزار کے قریب ووٹ بھی ان کے حق میں پڑچکے تھے۔جو ان کی حمایت اور کامیابی کی واضح دلیل تھی،چونکہ بھارت جمہوریت کا نعرہ تو لگاتا ہے،لیکن مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی جمہوریت کا انتم سنسکار ہوچکاہے،لہذا ملک صاحب بھی 1987کے انتخابات میں جیتنے کے باوجود ہارنے والوں میں شامل تھے۔یہ بھی ان کا ایک جرم تھا۔وہ بھی 1990کے وسط میں کنٹرول لائن عبور کرکے آزاد کشمیر پہنچے۔وہ چونکہ تخلیقی انسان تھے۔1991,92میں جب تحریک آزادی کشمیر کو صوتی محاذ پر اجاگر کرنے کی ضرورت آن پڑی ،تو نظر انتخاب ملک صاحب ٹھہرے۔ان کی قیادت میں چھ افراد پر مشتمل ایک متحرک اور پڑھی لکھی ٹیم نے ریڈیو صدائے حریت جموں وکشمیر کی داغ بیل ڈالی،جس میں شہید مجاہد کمانڈر مسعود احمدتانترے بھی شامل تھے۔،ملک صاحب کے تبصرے اور تجزیئے بے مثال ہوتے تھے۔وہ دشمن کے انگ انگ پر چوٹ مارنے کے ماہر اور اس فن سے بخوبی واقف تھے۔کئی بار ریڈیو کشمیر سرینگر سے ان کے تبصروں اور تجزیوں کا نام لیکر جواب دینے کی کوشش بھی کی جاتی رہی تھی۔تحریک آزادی کشمیر کے بطل حریت امام سید علی گیلانی ؒنے ایک موقع پر ملک صاحب کے تبصرے پر اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کیا تھا۔جسے ان کی موضوع پر مکمل دسترس کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔1992کے آخر میں مجھ ناچیز کو مذکورہ ادارے میں ہی بطور ان کا شاگرد بننے کا موقع میسر آیا۔ انہوں نے میری انگلی پکڑ کر مجھے سکھایا اور پڑھایا ۔ورنہ مجھے قلم بھی پکڑنا نہیں آتا تھا،لکھنا یا بولنا تو دور کی بات۔ان کا یہ احسان میںآخری سانس تک نہیں بھولوں گا،جس کا مجھے شدت کیساتھ احساس اور میں بطور فخر اس کا ذکر کرنے سے کبھی نہیں ہچکچایا۔ ان کے خاندان کیساتھ میرا اچھاتعلق بھی انہی خطوط پر استوار ہے۔جو کبھی ماند نہیںپڑا۔
ملک محمد عبداللہ اپنی سیاسی فکر اور نظریئے میں یکسو تھے، اور وہ کشمیری عوام کے حقوق کی خاطر اپنی آواز آخری سانس تک بلند کرتے رہے۔ملک محمد عبداللہ نہ صرف ایک سیاسی رہنما تھے بلکہ ایک عالم دین بھی تھے۔ قرآن و حدیث ان کے دل و دماغ میں رچا بسا تھا ۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ بستر مرگ پر بار بار اپنے دونوں ہاتھ کانوں کی لو کیساتھ لگا کر نماز پڑھنے کی پوزیشن بناتے اور پھر آنکھیں کھول کر آس پاس کا مشاہدہ بھی کرتے۔ یہ منظرہم نے کئی مرتبہ دیکھا،جب 31دسمبر2025کے آخری دن میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ان کی عیادت کیلئے ایم ایچ راولپنڈی گیا تھا،جہاں ان کے چاروں بیٹے، بیٹی اور داماد موجود تھے۔پھر یکم جنوری 2026بروز جمعرات کی صبح ملک صاحب داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

جیسے کہ میں نے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ تخلیق پسند تھے۔ انہوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں ۔ ان کی تحریریں موضوعات پر بھی گہری تحقیق کی حامل ہیں۔جن میںکشمیر کہانی لہو کہانی،حزب المجاہدین تحریک آزادی جموں و کشمیر کے افق پر،فتنہ دجال اور نجات کا راستہ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی تصانیف میں کشمیری مسلمانوں کی حالت زار اور بھارت کے جابرانہ اقدامات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کشمیری عوام کی آزادی کے حق میں اپنے مضبوط دلائل دیے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں۔جن کا پوری دنیا کو گواہ ٹھہرا کر اہل کشمیر کیساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔وہ شاعر بھی تھے،انہوں نے کشمیری اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری میں بھی اپنا لوہا منوایا۔وہ پاکستان ٹیلی ویژن PTV پر بھی مشاعروںمیں حصہ لیتے رہے۔
ملک محمد عبداللہ کا امام سید علی گیلانیؒ کیساتھ شروع دن سے بہت قریبی تعلق رہا۔2003میں تحریک آزادی کشمیر کے صوتی محاذ سے فراغت اور پھرسید علی گیلانی کے بطور نمائندہ ان کی نامزدگی عمل میں لائی گئی،جو ان کی ذات پر تنظیم کیساتھ ان کی نظریاتی اور ہمالیائی وابستگی کا کھلا ثبوت اور اظہار تھا۔ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ میں بطور سیکرٹری جنرل کافی عرصہ تک اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ گیلانی صاحب کے سیاسی بیانات اور خیالات کی کھل کر تائید کرتے تھے اور کشمیری عوام کے حق میں ان کی جدوجہد میں شریک کار بھی تھے۔ملک عبداللہ نے سید علی گیلانی کی رہنمائی میں تحریک آزادی کشمیرکی حمایت کو حرز جان بنائے رکھااور مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف اپنی توانا آواز بلند کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی اور نہ کبھی ہچکچائے۔ بعدازاں ان کی انہی صلاحیتوں کے استفادہ کیلئے انہیں ہمہ وقت مرکز میں تعینات رکھا گیا اور وہ مرکزی ناظم تعلیم و تربیت کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔2025میں وہ صحت کے مسائل سے دوچار ہوئے۔گوکہ وہ پہلے سے معدے اور گردے کے آپریشن کے مراحل سے گزر چکے تھے۔وہ جسمانی طور پر بہت کمزور ہوچکے تھے۔مگر وہ پرعزم تھے اور ان کے عزائم کبھی مضمحل نہیں ہوئے۔جو ان کا بڑا خاصہ اور وصف تھا۔
ملک محمد عبداللہ کے انتقال سے تحریک آزادی کشمیر ایک دین پسند شخص اور ہمدرد سے محروم ہوگئی۔ ان کی وفات کشمیری برادری کیلئے ایک علمی نقصان ہے۔ملک محمد عبداللہ کی وفات کے بعد مختلف سیاسی اور دینی شخصیات نے انہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ سیدصلاح الدین احمد نے ان کی نماز جنازہ کے موقع پر ان کیساتھ گزرے اوقات کو یاد کیا اور ان کی قربانیوں کو بے حد سراہا۔جناب سید نے کہا کہ ملک صاحب کی جدائی انتہائی تکلیف دہ ہے، اسلام کی سربلندی کی جدوجہد کی پاداش میں انہیں قید و بند کی صعوبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ آپ حزب کمانڈ کونسل کے رکن رہے اور تعلیم و تربیت کے سربراہ کی حیثیت سے مجاہدین کشمیر کی فکری و نظریاتی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ ایک نہایت خدا ترس، عبادت گزار، نیک سیرت اور ہمدرد انسان تھے۔جناب سید کی موجودگی میں مرحوم کی نماز جنازہ ان کے فرزند ملک تجمل الاسلام نے پڑھائی ،جو ہر لحاظ سے قابل فخر اور اس بات پر دلالت ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی فکر کی تربیت سے کسی طور پر بھی لاتعلق یا غافل نہیں تھے، مذکورہ فرزند کو میدان جہاد میں دشمن کیساتھ دو دوہاتھ کرنے میں جناب ملک صاحب نے ہی بھیجا تھا۔
ملک محمد عبداللہ کی وراثت ایک طاقتور اور بے لوث جدوجہد کی شکل میں زندہ رہے گی۔ ان کی تصنیفات، تقریریں اور تحریریں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کا کردار تحریک آزادی کشمیر میں ہمیشہ ایک رہنمائی فراہم کرنے والے کی صورت میں زندہ و تابندہ رہے گا۔ان کی زندگی عظیم قربانیوں سے مزین ہے۔انہوں نے اپنی قوم کی خدمت میں نہ صرف اپنی ذاتی زندگی قربان کی بلکہ اپنے دین، ثقافت اور عقیدے کی ترویج کیلئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ ان کی زندگی کی جدوجہدہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی قیادت صرف عوام کی خدمت کرنے سے ہی میسر آتی ہے، اور اس خدمت میں کسی بھی قسم کا لالچ یا ذاتی مفاد شامل نہیں ہوتا۔ ملک محمد عبداللہ کا نام ہمیشہ تحریک آزادی کشمیر میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔عجب شخص تھے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر کی جاری تحریک آزادی میں فروری کے مہینے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔اس مہینے میں سرزمین کشمیر کے دو بلند ہمت فرزند وں جناب محمد مقبول بٹ اور جناب محمد افضل گورو نے بھارت کی تہاڑ جیل میں بالترتیب 11فروری1984اور09فروری2013میں پھانسی کے پھندے کو چوم کر تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے۔محمد مقبول بٹ 1960 کی دہائی کے ایک سرکردہ کشمیری رہنما تھے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کے ظلم و جبرکے خلاف نعرہ مستانہ بلند کیا اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جان کی قربانی دی۔ 1966 میں بھارتی حکومت نے انہیں گرفتار کیا اور 1984 میں دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی۔ ان کی شہادت کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں ایک سنگ میل ہے۔محمدافضل گورو 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ حملے کے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیے گئے اور 2013 میں بھارتی حکومت نے انہیں پھانسی دے دی۔بھارتی سپریم کورٹ نے محمد افضل گورو کی پھانسی کو بھارتی عوام کے ضمیر کو مطمئن کرنے کا نام دیکر پوری دنیا میں اپنے لیے ذلت و رسوائی کا سامان کیا اور یہ بات تسلیم کی کہ یہ فیصلہ عوامی دبائو اور جذبات کی بنیاد پر کیا گیا، نہ کہ عدلیہ کی مکمل آزادی کے تحت۔یہ سنگ دلانہ فیصلہ آج بھی بھارتی سپریم کورٹ کا پیچھا کررہا ہے۔
وہیں ایک اور سپوت بشیر احمد پیر المعروف کمانڈر امتیاز عالم بھی ایک نمایاں مقام اور حیثیت رکھتے ہیں۔چیتے کا جگر رکھنے والاامتیاز عالم بھارت کیلئے خوف کی علامت تھے۔انہوں نے بے شمار معرکوں میں دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ۔جب دشمن ان کا مقابلہ کرنے میں بے دست و پا ہوگیا،تو ان کے والد بزرگوار کو پیرانہ سالی میں اپنے ہی گھر پر گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔دشمن کے اس بزدالانہ وار سے امتیاز عالم کے قدم تو نہیں ڈگمگائے ، البتہ دشمن نے ان کے خلاف کرائے کے قاتلوں کی خدمات حاصل کیں اور پھر 20 فروری، 2023 کو راولپنڈی میں نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد انہیں گولیاں مار کر شہید کیا گیا ۔ان کی دلیرانہ جدوجہد آج بھی کشمیری نوجوانوں کیلئے تحریک کا باعث ہے۔یہ تینوں رہنما تحریک آزادی کشمیر کے ہیرو ہیں، جنہوں نے اپنے خون سے اس جدوجہد کو زندہ رکھا، پروان چڑھایا اور آبیاری کی ۔ ان کی قربانیاں اہل کشمیر کے عزم کا اظہار ہیں اور ان کی یاد ہمیشہ کشمیری عوام کے دلوں میں تازگی کا احساس دلاتی رہے گی۔







