ا،ل ،ر، اے محمد ؐ ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاوٴ، ان کے ربّ کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمُود ہےاور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے ۔اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لیےجو دُنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق)ٹیڑھا ہو جائے۔ یہ لوگ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔ ہم نے اپنا پیغام دینے کےلیے جب کبھی کوئی رسوُل بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، وہ بالادست اور حکیم ہےہم اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اُسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لااور انہیں تاریخِ الٰہی کے سبق آموز واقعات سُنا کر نصیحت کر۔ اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والاہو۔ یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا ’’اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔اور یاد رکھو، تمہارے ربّ نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔‘‘
سوررۃابراہیم آیت نمبر01 تا 07 تفہیم القرآن سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ
رمضان میں عبادت کی اہمیت
حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔
(بخاری)
روزہ روح کی پاکیزگی
حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیںکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔
(بخاری)
روزوں کی فضیلت
حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیںکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں‘‘ ۔ بندہ اپنی شہوت ، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے اور روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو ، اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔
(بخاری)






