شبِ قدر۔۔۔۔قدر و منزلت اور عظمت و اہمیت

خواجہ محمد شہباز

لفظ قدر کے معنی ہیںتقدیر ،تدبیر ،قیمت ،مقام ۔اسکی نسبت ایک عظیم کائناتی واقعہ سے ہے یعنی نزول قرآن وحی اوررسالت کا واقعہ ۔یہ بندوں کی زندگی کے لیے کئی وجوہ سے انتہائی اہم ہے ۔شب قدرانتہائی قدر و منزلت والی رات ہے، یہ تقدیر سازرات ہے ۔اس میں تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔اس لئے کوئی معمولی رات نہیں بلکہ قسمتوں کے بننے بگڑنے کی رات ہے ۔اللہ کا فرمان ہے :’’ہم نے اس قرآن کو شب قدر میںنازل کیا‘‘اور یہی اس شب کا سب سے بڑا راز ہے ۔یعنی نزول قرآن مجید۔قرآن مجید محض کتاب نہیں،ایک عظیم مشن ہے دنیا کی تقدیر بدلنے کے لیے۔ سورہ قدر کا موضوع قرآن مجید کی اہمیت اور قدر ومنزلت کو اجاگر کرنا اور آگاہ کرناہے ۔سورہ قدر کو قرآن مجید کی ترتیب میں سورہ علق کے بعد رکھنے سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ جس کا آغاز غارِ حِرا میں سورہ علق کے نزول سے ہوا،وہ رات کتنی اہم ہے کہ اس میںنہ صرف تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیںبلکہ جلیل القدر کتاب کا نزول بھی ہوا اور امام الانبیاء محمدالرسول اللہ ﷺ کی بعثت کا اعلان بھی ہوا۔شب قدر کی عظمت انسانی فہم وادراک سے بالاتر ہے ۔اللہ کا فرمان ہے ’’اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘یہ شب افسانوں اور طلسمی کہانیوں کی محتاج نہیںہے۔اسکی عظمت خودرب ِکائنات نے نے مقرر فرمائی ہے ۔یہ حدیث سے بھی ثابت ہے اور قرآن خودگواہ ہے ۔سورہ دخان آیت نمبر۳ میں اللہ کا ارشاد ہے :’’ہم نے اس بابرکت قرآن مجید کو بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیاہےکیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘‘شب قدر نورانی رات ہے اس رات کائنات کے اندرنور کا اضافہ کیا گیا،ہرسو سلامتی پھیلائی گئی ،انسانی ضمیر پر وحی کی روشنی ڈالی گئی ،زندگی منورو مبارک ٹھہری ۔وہ عقائد ،تصورات ،شریعت اور آداب سکھائے گئےجو امن و سلامتی کے ضامن ہیں۔شب قدر خیر و برکت والی رات ہے ،اس کی قدرومنزلت خود رب العالمین نے بیان فرمائی ہے :’’شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘ ۔تمام دنیائے کفر کو متنبہ کیاگیا کہ نادانو!جس وحی کو تم مصیبت اور بلاء سمجھتے ہو وہ وحی جس رات میں اتری وہ ہزار مہینوں سے زیادہ بابرکت ٹھہری ۔یعنی انسانی تاریخ کے ہزار ہا مہینے بھلائی کا وہ کام نہ کرسکے جو اس ایک رات میںہوا۔ذرا غور کیجئے جب یہ را ت اتنی بابرکت ٹھہری ،تو اس میں نازل ہونے والاقرآن مجید کتنا بابرکت ہوگا اور وہ انسانِ کامل ﷺ کتنے بابرکت اور عظیم ہونگے جس کےدلِ مبارک پر یہ قرآن اترا۔شب قدر ایک انقلابی رات ہے ۔اس رات نے اس کائنات کے اندر جو چھوڑا ہے ،ہزار ہا مہینوں نے اس کا عشر عشیر بھی نہ چھوڑا۔آثار،انقلابات ،مقصد ،مقام ،قدر اورمیزان۔شب قدر ملاقات کی رات ہے ۔آسمانی اور زمینی مخلوقات کی ملاقات۔اللہ کا ارشاد ہے :ترجمہ۔’’اس رات میں اللہ کے حکم سے حضرت جبریل ؐ اور فرشتے نازل ہوتے ہیں۔سلامتی کاہر حکم لیکر اترتے ہیں‘‘ ۔امن ،سلامتی ،رحم ،کرم ،بخشش ،انعامات اورانوارات کے احکامات لے کر اترتے ہیں اور ہر بندہ مومن سے ملاقات کرتے ہیں۔

حضرت کعب ؓ فرماتے ہیںکہ سدرۃ المنتہیٰ آسمانوں کے اوپر اس کنارے پر ہے جوجنت کےقریب ہے ۔جنت کے اوپر عرشِ مجید ہے ۔سدرۃالمنتہیٰ پر اتنے فرشتے ہیں کہ اللہ کے سوا ان کی تعداد کوئی نہیںجانتا۔ہر شاخ پر فرشتے ہیں اور وسط میں حضرت جبریلؑ ہیں۔شب قدر میں غروب آفتاب کے وقت اللہ کی طرف سے نداٗ آتی ہے کہ زمین پر اُتر جائو ۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کے مطابق حضرت جبریلؑ ستر ہزار فرشتے اور نور کے چار جھنڈے لیکر زمین پر اُترتے ہیں ۔ایک جھنڈا بیت اللہ پر ،دوسرا مسجد نبوی پر ،تیسرا بیت المقدس پر اور چوتھا مسجد طورِسینا پر نصب کرتے ہیں۔ پھر زمین میںہر طرف پھیل جاتے ہیں۔ہرمکان ،خیمہ ،کشتی ،پتھر غرض جہاں بھی مسلمان موجود ہو وہاں فرشتے پہنچتے ہیں۔سوائے جس گھر میںکتا ،خنزیر ،شراب نشی ،بدکاراور مجسمے ہوں وہاںنہیںجاتے ۔تسبیح و تقدیس کرتے ہوئے امت کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔دوسری روایات میںہے کہ آتش کدہ ،بت کدہ ،یہود و نصٰرٰی کے معبد،کچرا کنڈی اورگھنٹی والے گھروں یعنی مندورںمیںنہیںجاتے ۔وہ مومنوںکے ساتھ ملاقات کرتے ہیںجسکی علامت یہ ہوتی ہے کہ رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔دل نرم پڑتا ہے ،آنسو ٹپکتے ہیں۔(تفسیر ابن حاتم۔ج ۱۰ )
حضرت جبریل ؑ اور فرشتوں کا مومنوں کےساتھ ملاقات کاسلسلہ اور امت کے لیے مغفرت کی دعائوں کا سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے ،جیسے کہ اللہ کا ارشاد ہے :ترجمہ۔’’یہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک‘‘ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میںسے ایک رات ہے۔

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات ہے۔21،23،25،27یا29ویںرات۔‘‘طاق رات کاخاص تعین نہیںہے تاکہ ہرطاق رات اللہ کے نیک بندے شب بیداری کریں اور اللہ سے مغفرت ورحمت طلب کریں۔شب قدر انسانیت ،ضمیر ،گھر ،جماعت ،ملک و قوم کی سلامتی ہے ۔یہ حقیقی سعادت و عظمت والی رات ہے ۔جب تک یہ نور مسلمانوں کے اندر چمکتا رہایعنی قرآن ،اسلام ،نبوت اور شب قدرکانور ۔تب تک مسلمان جہاں بھی گئے نورِ حق کی ضیا پاشیاں کرتے رہے ۔مگر وائے!اپنی جاہلیت اور بدنصیبی کی وجہ سے غفلت طاری ہوئی ۔مسلمان اس نور سے ناآشنا ہوئے تودولت دنیا موجود ہوتے ہوئے انسان پریشان ،امن ،نیند ،سکوں اور اطمینان ختم ہوا ،بھروسہ اور اعتماد ختم ہوا ،انسان اپنے ہی بھائیوں کا قاتل ٹھہرا ،امن کے نام پر فساد چھاگیا۔اس سب کا صرف ایک ہی اور واحد علاج ہے ،رجوع الی اللہ ،رجوع الی الرسول ،رجوع الی القرآن۔مسلمان پھر شب قدر کے نور اور پیغام سے جڑجائیں تو سارے مسائل حل ہوں گے ۔ان شااللہ