غازی نصیب الدین شہید

مسرور ڈار

دنیا میں سب مرتے ہیں، مگر حقیقی موت وہی ہے جس پر زمانہ افسوس کرے۔ ایسی موت خوش نصیب لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ تقدیر اپنی جگہ، مگر عزم زندگی کو بھی بدل دیتا ہے۔ غازی نصیب الدین ایسے ہی بلند حوصلہ شخص تھے جن کا شعار تھا۔۔جئیں تو غازی مر جائیں تو شہید۔۔۔ سحرؔہم کو نہیں قبول کوئی درمیان کی بات ۔وہ حزب المجاہدین کے ڈپٹی سپریم کمانڈر تھے۔ 6 مارچ 1997ء کو سرینگر میں ایک اہم نشست کے دوران انہیں اور ان کے ساتھیوں (منظور احمد خانؒ، فردوس کرمانیؒ، غازی الیاسؒ) کو گرفتار کر لیا گیا۔ غازی نصیب الدین سمیت ان عظیم مجاہدین کو خفیہ جگہ پر لے جایا گیا جہاں وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ انہیں چارپائی سے باندھ کر مارا پیٹا گیا، گرم لوہے کی سلاخوں سے داغا گیا۔ خون، چربی اور پسینہ ایک ہو کر گرتا رہا۔ وہ قرآنی آیات پڑھتے ہوئے خاموشی سے سب سہتے رہے۔ رات بھر ناکام رہنے کے بعد 7 مارچ 1997ء کو فوجی افسر نے ان کے سینے میں کئی گولیاں اتار دیں۔ کلمہ پڑھتے ہوئے ان تمام کی روح پرواز کر گئی۔غازی نصیب الدین کی لاش کو چھرگام اسلام آباد کے قریب سڑک کنارے پھینک دیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مقابلے میں مارا گیا۔ جب لوگوں نے لاش دیکھی تو پورے کشمیر میں سکتہ چھا گیا۔ دکانیں بند، کاروبار معطل۔ ہزاروں لوگ نیلو کولگام پہنچے۔ بھارتی فوج روک نہ سکی۔ حزب المجاہدین کے مجاہدین نے مختلف مقامات پر فوجی کیمپوں پر حملے کئے اور اپنے قائد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ غازی نصیب الدین کا اصل نام محمد یوسف تھا۔ اسلام آباد ضلع کے گاؤں نیلو کولگام میں پیدا ہوئے۔ والدین نے اچھی تعلیم دی۔ اکنامکس میں ماسٹرز اور ایم بی اے کیا۔ مولانا محمد امین نقشبندی اور شیخ غلام حسن جیسے رہنماؤں سے متاثر ہو کر جہاد کی راہ اختیار کی۔ اعلیٰ آسائشوں کو چھوڑ کر 1990ء میں بیس کیمپ گئے، سخت تربیت لی اور واپس آئے۔حزب المجاہدین نے انہیں ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمانڈر اسلام آباد بنایا۔ 1992ء میں ڈپٹی ڈویژنل کمانڈر، اور 1993ء میں ڈپٹی سپریم کمانڈر مقرر ہوئے۔ کم عمری میں ہی یہ منصب سنبھالا کیونکہ صلاحیت غیر معمولی تھی۔1991میںبی جے پی کا کنیا کماری سے سرینگر تک کا یاترہ قافلہ تتر بتر کیا جس کی حفاظت کی ذمہ داری بھارتی فوج نے لی تھی۔ غازی نصیب الدین کی قیادت میں مجاہدین نے اس قافلے پر حملہ کیا۔

قافلہ تتر بتر، مرلی منوہر جوشی رسوا ہو کر بھاگا۔نیشنل ہائی وے پر متعدد کامیاب آپریشنز؛ سینکڑوں فوجی ہلاک۔سرینگر، اسلام آباد، بارہمولہ، کپوارہ، ڈوڈہ کے علاقوں میں مسلسل متحرک رہے۔1995ء میں بٹہ مالو کریک ڈاؤن کے دوران مجاہدین کی کمان کی ایک مرتبہ سرینگر میں نشست کے دوران باہرفائرنگ شروع ہوئی، مگر غازی صاحب نے کہا”اجلاس ختم کرکے ہی نکلیں گے”۔ الحمد للہ اللہ نے اس مرد درویش کی لاج رکھی ۔میٹنگ ختم ہونے کے بعد سب محفوظ نکلے۔ اسی طرح شوپیاں عالم گنج میں 100 مجاہدین فوج کے گھیرے میں آگئے۔ غازی صاحب کو وائرلیس پر اطلاع دی گئی۔ انہوں نے تسلی دی ،ہمت دی اور یقین دلایا کہ ین شا اللہ سب بہتر ہوگا ا۔راتوں رات سینکڑوں مجاہدین کو جمع کیا۔ صبح چار بجے گھیرے میں لینی والی بھارتی فورسز پر حملہ ہوا۔انمیں کھلبلی مچ گئی۔بیسیوںفوجی مارے گئے، کرنل سمیت درجنوں افسران ہلاک ہوئے۔ 13 مجاہدین شہید ہوئے، مگر باقی محفوظ نکلے۔ان کیشہادت سے تنظیم کو بڑا نقصان ہوا، مگر جذبہ جہاد مزید بڑھ گیا۔ 10 مارچ کو وادی بھر میں ہڑتال رہی۔ انتقامی کارروائیوں میں مجاہدین کشمیر نے کپوارہ سے ڈوڈہ تک سینکڑوں فوجی ہلاک کئے ۔ ان کی جرات، مردانگی اور ثابت قدمی آنے والے مجاہدین کے لیے مثال ہے۔غازی نصیب الدین سیماب صفت مجاہد تھے۔ نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ حزب المجاہدین کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی شہادت نے نئے غازی پیدا کیے جنہوں نے مشن جاری رکھا۔ انشاء اللہ تحریک آزادی کامیاب ہوگی۔اے اللہ! غازی نصیب الدین اور ان کے ان دیگر ساتھیوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ تحریک جہاد کو نعم البدل دے۔ آمین!