چیف ایڈیٹر کے قلم سے
بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا دعویٰ کرتا ہے، آج ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں فرقہ وارانہ سیاست نے جمہوری اقدار کو شدید متاثر کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ایک “سیاسی گینگ” قرار دیا ہے، جو نفرت اور فرقہ واریت کی علمبردار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی سیاست مکاری اور عیاری پر مبنی ہے، اور اس نے اقتدار کے غلط استعمال کے سوا کچھ نہیں کیا۔ اکھلیش یادو کا یہ الزام ہے کہ بی جے پی ملک کے جمہوری نظام کو تباہ کر رہی ہے، اور نئی نسل کو اندھیرے میں دھکیل رہی ہے۔ ایک ترقی پسند معاشرے میں منافقت اور توہم پرستی کی کوئی جگہ نہیں، لیکن بی جے پی کی حکومت کی وجہ سے بھارت غلط سمت کی طرف جا رہا ہے۔ تعلیم کے نام پر لوٹ مچی ہوئی ہے، بدعنوانیاں عروج پر ہیں، اور مودی حکومت کی پالیسیاں گمراہ کن اور خوفناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو غیر ملکیوں کے حوالے کر دیا ہے، اور بھارتی منڈیوں اور زمینوں پر بیرونی طاقتوں کی نظر ہے۔ بی جے پی نے معاشرے کے ہر طبقے کو مایوس کیا ہے، اور دانشوروں سمیت تمام طبقات شدید ناامیدی کا شکار ہیں۔یہ بیان محض سیاسی بیان نہیں بلکہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں اور امتیازی سلوک کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ہندوتوا غنڈوں نے ایک مسلم خاندان کو گھر خالی کرنے اور علاقے سے چلے جانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ ان غنڈوں نے مسلم خاندان کے گھر کو “جہاد ہاؤس” کا نام دیا، اور دھمکیاں دیں کہ گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک مسلم شہری علی حسن نے بتایا کہ 20 کے قریب ہندوتوا کارکن ان کے گھر آئے اور انہیں علاقہ چھوڑنے کی دھمکیاں دیں۔ یہ واقعہ مظفر نگر میں مسلمانوں پر دباؤ کی ایک مثال ہے، جہاں نام ظاہر کرنے کے احکامات کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے واقعات ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔اسی طرح مہاراشٹر کے ضلع ناسک کے قصبے مالیگاؤں میں پولیس نے محکمہ بجلی کے دفتر میں نماز ادا کرنے پر سات مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہندوتوا تنظیمیں آگ بگولہ ہو گئیں، اور بی جے پی رہنماؤں نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی اور نہ ہی سرکاری کام میں خلل ڈالا۔ وہ بجلی کی شکایت درج کرانے آئے تھےا ور انتظار کے دوران نماز کا وقت ہو گیاتو انہوں نے دفتر میں خالی جگہ پر مختصر نماز ادا کی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح روزمرہ کی مذہبی فریضےکو بھی جرم کی شکل دے کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہ صرف انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ ہیں۔ گائے کے ذبح کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں گائے کے محافظ گروپوں نے درجنوں مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ 2010 سے 2017 تک 28 افراد، جن میں سے 24 مسلمان تھے، کو قتل کیا گیا۔ حالیہ واقعات میں اگست 2024 میں ایک 72 سالہ مسلمان کو بیف لے جانے کے شبہ میں پیٹا گیا، اور ایک 19 سالہ ہندو طالب علم کو مسلمان سمجھ کر گولی مار دی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ہیومن رائٹس واچ نے 2015 سے 2018 تک 44 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں سے 36 مسلمان تھے۔مسلمان خواتین بھی اس نفرت کی زد میں ہیں۔ راستوں میں نقاب اتارنے کے واقعات عام ہیں۔ کرناٹک میں حجاب تنازعہ نے مسلمان لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کر دیا۔ 2022 میں اڈوپی کالج میں حجاب پہننے پر لڑکیوں کو کلاسوں سے روکا گیا، جو ملک بھر میں احتجاج کا باعث بنا۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب اتار دیا، جو عورت کی عزت اور آزادی پر حملہ ہے۔ یہ واقعات مسلمان خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کی مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوششیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر تو اس نفرت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا، جو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی تھی۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، انٹرنیٹ اور فون سروسز بند کر دی گئیں، اور صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایکسٹرا جوڈیشل قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد عام ہیں۔ کشمیر کو عملاََایک نوآبادیاتی علاقہ بنا دیا گیاہےجہاں مقامی آبادی کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی ہندوتوا سیاست نے خود بھارتی مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہے۔ نئی نسل کی ناامیدی اور بھارتی دانشوروں کی مایوسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت ایک غلط سمت میں جا رہا ہے،جس کے نتائج کسی بھی صورت بھارت کیلئے بہتر نہیں ہونگے۔






