شہید فردوس کرمانی کیلئے چند حروف عقیدت
ابو مسلم عبداللہ
ابتدائے آفرینش سے دنیا اس حقیقت کا مشاہدہ کرتی چلی آرہی ہے کہ اس کائنات میں بے شمار لوگ ماں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں ۔اپنی مہلت عمر پوری کرتے ہی اور پھر ایک ایسی دنیا کی طرف کوچ کرجاتے ہیں جو پردٔہ غیب میں ہے مگر ابدی اور پائیدارہے ۔ہر فرد بشر جو اس دنیا میں ایک انسانی پیکر کے ساتھ جودمیں آتا ہے وہ زندگی کے سردوگرم اور اتار وچڑھاؤانگیز کرنے کے بعد راہ عدم سنوارجاتا ہے ۔غرض زندگی آغاز ہے تو موت اس کا انجام ،مگر اختتام نہیں ۔بلکہ آگے ایک طویل اور کٹھن سفر شروع ہوجاتا ہے !
موت کو سمجھاہے غافل اختتام زندگی ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

آدمی حاکم ہو محکوم ،راعی وہ رعیت،مومن ہوکہ کافر،اللہ کا فرمانبردار ہوکہ باغی،ظالم ہوکہ منصف ،موت کا پیالہ سب کونوش کرنا پڑتا ہے ۔موت اٹل ہے۔اتنی اٹل کہ قرآن عظیم کے الفاظ میں ’’تم جہاں بھی ہونگے موت کا فرشتہ آپکو قابو کریگا، اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں بھی ہوں گے‘‘بظاہر فعل سب کے ساتھ ایک جیسا ہوتا ہے ۔زندگی کی پہلے سے طے شدہ مہلت ختم ہوئی تو موت کا فرشتہ اپنی ذمہ داری نبھانے کیلئے حاضر ہوجاتا ہے ،مگر عوامل،عواقب اور انجام کے اعتبار سے سب کا معاملہ یکساں اور یک رنگ نہیں ہوتا ۔فرمان الہٰی ہے ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو،بلکہ وہ زندہ ہیں ،تمہیں انکی اس زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی وہ ایک عارضی زندگی کے خول سے نکل کر دائمی اور پائیدار زندگی کے خلعتِ فاخرہ سے نوازے جاتے ہیں اور قرآن کی شہادت ہے کہ ایسے خوش نصیب اللہ کے ہاں رزق بھی پاتے ہیں ‘‘انکی حیاتِ جاویدانی کا عقلی ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایسے مرنے والوں کو کفن کے بجائے اپنے پہنے ہوئے لباس میں ہی زمین مین دفن کردیا جاتا ہے۔پھر میرے آقا ! رسول برحق ،سید المرسلین،امام المجاہدین محمد مصطفٰے ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’شہید قیامت کے دن اسی حالت میں دربار الہٰی سے اٹھائے جائیں گے،جس حالت میں انہوں نے اپنی عزیز جان ،جان آفرین کے حوالے کردی ہو۔‘‘سبحان اللہ کہ موت کے درمیان! شہید مرکر بھی امرہوجاتا ہے اور یہ ایسی موت ہیکہ جس پر عرش والا بھی رشک کرتا ہے اور فرش والے بھی !
جہاد آزادی کشمیر کے حوالے سے ایسی سعید روحوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو رضائے الہٰی کی طلب میں اپنی جان سے بھی گزر گئے۔ان سید روحوں میں انجینئر فردوس احمد شاہ کرمانی کانام بھی شامل ہے جو شہادت کے ساعت تک جہادی حلقوں میں گمنام رہے۔نمود ونمائش سے پاک صالح اور باصلاحیت وہنر مندجوان سال انجینئر کم وبیش آٹھ سال تک حزب المجاہدین کے قافلہ سخت جان کی جہادی سرگرمیوں میں اپناحصہ ڈالتے رہے اور اس حکیمانہ طریقے پر ڈالتے رہے کہ ان کی شہادت تک حریت کی بو سونگھنے والے فوجی کتے ان تک نہ پہنچ سکے ،شہید موصوف مکینیکل انجینئر تھے اور سرکاری ملازم تھے اور اس ملازمت کا مقصد تحریک دشمن عناصر کی توجہ ان کے اصل مشن سے ہٹانا تھا جس میں وہ کامیاب رہے۔آبی گذرسرینگر میں شہید محبوب شاہ کرمانی کے کاشانہ فقیرمیں جنم لینے والے شہید فردوس احمد شاہ کرمانی دینی فکر،مزاج ،سلیقہ اور جہادی سوچ فطرت اور وراثت میں ہی ساتھ لیکر آئے تھے۔تحریک اسلامی سے قربت نے اس گھرانے کی خداپرستی ،آخرت پسندی اور انسان دوستی کو اس قدر تقویت پہنچائی کہ شہادت حق کی امتحان گاہ میں دونوں باپ بیٹا سرخ رو ہوکر نکلے۔1996ء میں باپ محبوب شاہ کرمانی ٹاسک فورس کے قاتل ہاتھوں اس وقت مرتبہ شہادت پر فائز ہوجاتے ہیں جب آپ نماز فجر کی باجماعت ادائیگی کیلئے گھر سے نزدیکی مسجد شریف کی طرف جارہے تھے۔صرف چند ماہ کے بعد ۷مارچ 1997ء کو انجینئر فردوس احمد شاہ کرمانی باپ کی روایت قائم رکھتے ہوئے ہمہامہ کی قتل گاہ میں ان ہی ایس ٹی ایف کے سفاک ہاتھوں اذان فجر کی گونج میں رب اعلیٰ سے جاملتے ہیں۔ خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را
قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کرنے والے ان سید روحوں کے طفیل ہے تحریک جہاد کا بھر م اور دم خم قائم ہے اور قائم رہے گا۔یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا! یہ خون ملت مرحومہ کو نئی زندگی بخشے گا!اس مقدس لہو سے ہی خزاں رسیدہ گلستان میں بہار نو کی رودوڑے گی!
سرِ خاک شہید ے برگہائے لالہ می پاشم
کو خونش بانہالِ ملت ماساز گار آمد!
مگر ہم کیا کریں کہ بشر جو ٹھہرے جاوصدمات وحادثات اورحالات وواقعات سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکتے !شہید فردوس احمد شاہ کرمانی اپنی مراد پاگئے! کامیاب ہوئے! رب اعلیٰ کے قریب ہوئے!لیکن ہم ایک مخلص بھائی ،ایثار پیشہ دوست ،بے لوث مجاہد اور باصلاحیت کمانڈر سے محروم ہوئے۔کیا ہم اس صدمہ کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟کیا ہم اس بھاری نقصان کی تلافی کرسکتے ہیں؟کیا ہم میں اتنی ہمت، اتنا ایثار، ایسا جذبہ اور ان جیسی وارفتگی ہے کہ ہم ان سے عظیم مگر ادھورے مشن کو آگے بڑھائیں اور جان کی بازی لگا کر اس مشن کی تکمیل کریں؟
شہید ہم سے یہ کہہ رہے ہیں
لہو ہمارا بھلانہ دینا






