فاروق قیصر
یہ سنہ 2000کی بات ہے میں نے اپنےایک دوست فیروزاحمد(شہید) کے ہمراہ فارورڑکہوٹہ کا سفر کیا، فیروزاحمد اپنےچندساتھیوں سمیت وادی پر خار میں اترنے کے لیےپرتول رہے تھے ۔ گرم مورچوں کی طرف رخت سفر باندھنے تک چند دن ان کے ساتھ ہی سرحدی علاقے کے قریب ایک مخصوص ٹھکانے پر ہی ٹھہرنا پڑا۔ وہاں مجھے ایک خوب روجوان سے ملاقات ہوئی جس کانام قیصر اقبال المعروف محمد اقبال تھا۔مسکراتا چہرہ ، ،دراز قامت ،چست وفولادی جسم کے مالک اس جوان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، میں نے اسے بہت ہی خوش اخلاق،خوش مزاج اورخوش گفتار انسان پایا۔ ان سے ملنے والاان سے متاثر ہوےُ بغیر نھیں رہ سکتا تھا ۔ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنائیت محسوس ہونے لگی ،پھر زندگی بھر ان کے ساتھ گزرے گوشگوار لمحےہمیشہ دل میں ایک حسین یاد کی مانند زندہ رہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا ۔کچھ لمحے، کچھ قہقہے، اور دوستوں کی سنگت،یہی تو ہیں زندگی کی سب سے خوبصورت یادیں۔ اکثرشام کے وقت ہم سب ساتھی ایک ہی جگہ جمع ہو کر بیٹھتے تھے، سرد شاموں کا موسم تھا،دوستوں کی جدائی کا احساس شام کے وقت کچھ زیاد ہ ہی جاگ جاتا تھا، دل عجیب سی بے چینی سے بھرجاتا تھا جسے دور کرنے کے لیے ہم باہر ایک چھپر تلے آگ سیکتے خوب گپ شپ کرتے تھے ۔ اقبال بھائی کی شمولیت سے اس محفل کا لطف دوبالاہوجاتا تھا،وہ مجاہدین کو بور ہونے نہیں دیتے انہیں خوش رکھنے کے لئے طنز و مزاح کی محفل ایسے جماتے تھے کہ وہ محفل عفران زار بن جاتی تھی۔۔ہر ساتھی کو اقبال صاحب کے ساتھ بے حد عقیدت تھی لحاظہ ہر نگاہ میں ان کی قدر ومنزلت تھی اوروہ بھی ہرساتھی کا اپنے شفیق بھائیوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔اس مخصوص جگہ پر اکثر وہ ساتھی موجود رہتے تھے جو اگلے محاذوں کی طرف جانے کے لئے کمر بستہ رہتے تھے ،چونکہ محمداقبال ان چند مجاہدین میں شامل تھے جو اس علاقے کے ان راستوں سے خوب واقف تھے جہاں سے مجاہدین کوسرحد عبورکرکے دوسری طرف میدان کارزار میں پہنچنا ہوتا تھا۔ اس لیے پارجانے والے مجاہدین سخت اور دشوار راستوں اور آنے والے حالات کے بارے میں آگاہی و رہنمائی کے لیے محمد اقبال سے ہی مشورہ کرتے تھے ۔


محمداقبال عمل کے پیکر تھے ،تنظیم کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے مجاہدین کے ہرگروپ کی حفاظت کے لیے نصف منزل تک ہی نہیں بلکہ سرحد عبورکرکے انہیں وادی کے نظم کے حوالے کرنے کی ذمہ داری بھی نبھاتے تھے۔ تنظیم کے حکم پر ہی انہوں نے راہبری و رہنمائی کے فرائض قریباٌ دس برس تک انجام دیتے ہوئے تحریک میں ایک نام پیدا کیا۔ اس عرصے میں جن مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا اسے حوصلے اور صبر کے ساتھ برداشت کیا اور کبھی بھی کوئی لغزش ان سے سرزد نہیں ہوئی۔تنظیم کو جب بھی لانچنگ کے حوالے سےآپ کے مشوروں کی ضرورت پڑی آپ نے ہر حکم پر سرتسلیم خم کیا اور ہمیشہ مفید مشوروں سے نوازا۔جتنے بھی ساتھیوں نے میدان کارزار میں جانے کے دوران آپ کے ساتھ سفر کیا وہ اکثر انہیں اچھے القاب سے یاد کرتے تھے ۔ یہ انکا ہنر تھا کہ دشوار گزار راستوں کو اور کانٹوں بھری راہ کو وہ اپنے خوش مزاجی سے گلزار بناتے تھے۔ مشکل لمحات میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔بارڈر کا سفر ہی ایسا ہوتا ہےجہاں دشمن ہروقت گھات لگائے بیٹھا ہوتا ہے ، غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ،ایک معمولی سی غلطی بڑے جانی نقصان سے دوچار کرسکتی تھی ،ہر مرحلہ صبر آزما ہوتا ہے لیکن ان سخت مراحل میں بھی اگر کوئی حکم بھی دینا ہوتا تو وہ نرمی سے ساتھیوں کو سمجھاتے تھے یوں ان کےساتھ کیا ہوا سفر یاد گار بن جاتا تھا۔ ،یہی وجہ تھی ساتھی محمد اقبال کےساتھ سفرکرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ انہوں نے دسیوں بارپرخار راستوں کا انتخاب کرکے خونی لکیر کو روند کر تنظیم کے چند زعماؤں سمیت درجنوں مجاہدین کو سرحد عبور کرکے اپنی منزل تک پہنچانے میں ایک کلیدی روال ادا کیا ہے اس کردار کو کبھی بھلایا نہیں جائے گا۔یہاں ایک ان ایک کارنامہ یاد آرہا ہے کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نےسرتوڑ کوشش کرکے لانچنگ کے لیےدشمن کی نظرو ںسے اوجھل ایک محفوظ راستے کودریافت کیا جس میں ایسی پناہ گاہیں بنائیں تھیں کہ مشکل صور ت میں اگر گروپ کو ٹھہرنا بھی پڑے تو کوئی روکاوٹ نہیں تھی ،ساتھی کچھ وقت سستانے کے بعد آسانی سے اگلے مورچوں کی رواں دواں ہوتے تھے۔وقت کی آلائشوں سے آزاد ہو کر پوری ٹیم نے کافی محنت سے ایک ایک چیز کی چھان پین کی ،کئی کئی ہفتے انہوں نے برف پوش بلند و بالاپہاڑوں پر گزاری جہاں دشمن ہر وقت چوکس رہتا تھا،خوف کے سائے ہر وقت سر پر منڈھلاتے رہتے تھے لیکن ان کی ہمت کبھی بھی پست نہیں ہوئی ،ان شاہین صفت مجاہدین نے غیریت مندی اور خودداری کا بھر پورمظاہرہ کرتے ہوئےہوشیاری کے ساتھ اپنا مسکن چٹانوں اور بلندیوں پر ہی بنایا تھا۔وہ آسمان کی نیلگوں کی وسعتوں اور چوٹیوں کو مسخر کرتے رہے اور اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہی گئے یہا ں تک کہ ایک برس کی محنت کے بعد کامیابی نے ان کے قدم چومے اور وہ اس محفوظ راستہ کو بنانے میں کامیاب ہوئے۔ بلند کردار ہمالیائی عزم رکھنے والی اس ٹیم کے ہر فرد کواگر پہاڑوں کا بیٹا کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں

حزب المجاہدین کے رہبری کے فرائض انجام دینے والے مجاہدین کی شہادتوں کا گراف جب بلند ہونے لگا توتنظیمی منصوبوں میں ایک منصوبہ یہ بھی شامل تھا کہ مجاہدمحمد اقبال اور اسکی ٹیم کی طرح ہر سرحدی علاقے میں تربیت یافتہ مجاہدین کا ایک گروپ موجودہو جو خود اپنے لیے راستے اور محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرے تاکہ خونی لکیر عبور کرنے کے دوران طویل اور دشوار گزار رسفر کو مجاہدین کے لئے کسی حد تک آسان ہو ۔اس حوالے سے حزب المجاہدین نے ایک کیمپ تشکیل دیا تھا جو مودودی ؒ کیمپ کے نام سے مشہور تھا۔اس کیمپ کی کمان شہید کمانڈربرہان الدین حجازی ؒ نے سنبھالی تھی جس میں محمداقبال کی طرح درجنوں مجاہدین کو سخت جان بنانے کے لیے اعلیٰ تربیتی مرحلوں سے گزار کر برف سے ڈھکےبلند و بالاپہاڑوں کو سر کرنے کے لیےہائی الٹیٹیوڈ (بلند پہاڑی مقامات)کورسزز،جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ جیسےنقشہ نویسی اور جی پی ایس نیویگیشن جیسے کورسزکروائے جاتے تھے تاکہ مجاہدین خودنقشوں کے ذریعے ان پرخطر سرحدں کو کسی بھی وقت کسی بھی مہم کے دوران آسانی سے عبورکرسکیں ۔اس سلسلے میں بہت سے مجاہدین اس کام کے لئے تیار ہوئے اور انہوں نے مجاہدین کے سفر کو آسان بنانے کےلیے نئے راستے کھولے ،کٹھن مراحل میں تنظیم کے لئے آسانیاں پیدا کیں ان ہی شیر دل مجاہدین میں محمد اقبال بھی شامل تھے جنہوں نے ضلع پلوامہ کے بنڈزو علاقے کے ایک دینی گھرانے میں 1971میں جنم لیا ،نوجوانی میں ہی دین کی طرف راغب ہوئے،دینی شعور پیدا ہوتے ہی فکری و عملی تربیت سےجڑگئے اورجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار مقبوضہ کشمیر کی سب سے بڑی مقامی تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی۔اکتوبر1990ء میں برف پوش چٹانوں اور سخت دشوارگزار راستوںسے گزر کر خونی سرحد کو عبور کرتے ہوئے آزاد کشمیر پہنچے ۔یہاںتنظیمی تربیت نے آ پ کی کردار سازی میں ایک اہم رول ادا کیا۔1995میں تنظیم کے حکم پر میدان جہاد میں عملاََ قدم رکھا اور میدان کارزار میں مقامی نظم کے تحت اپنی جہادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔میدان کارزار سے نظم کے حکم پر ہی دوبارہ بیس کیمپ تشریف لائے اور سرحدی علاقے فارورڈ کہوٹہ میں مجاہدین کی راہبری و رہنمائی کے فرائض کی ذمہ داری نبھانے کے لیے آپ ہی کا انتخاب کیاگیا ۔ آپ نےاس فرض کو جسطرح نبھایاوہ اپنی مثال آپ ہے۔آپ امرواطاعت کے پابند تھے ۔آپ نے تنظیم میں رہ کر ہمیشہ تنظیمی اصولوں کی پاسداری کی ۔آپ نہ صرف تنظیم بلکہ قوم کا قیمتی اثاثہ تھے ،آپ کی خدمات تحریک آزادی کشمیر کا ایک خوبصورت باب ہے ۔ایک ماہ قبل آپ سے ملاقات ہوئی دور سے دوڑکرآئے اور گلے ملے ۔آپ ہشاش بشاش نظر آرہے تھے۔اس وقت نہیں لگ رہا تھا کہ أپ کسی بیماری میں مبتلا ہیں ۔ حالانکہ آپ کو ایک موذی مرض کی تشخیص ہوچکی تھی جس کا علم بعد میں ہوا لیکن آپ کے کمال صبر کی داددینی ہوگی آپ نے مجھ سے اس کا اظہار تک نہیں کیا ۔صرف دو ماہ ہی گزرے تھے آپ کا علاج چل رہا تھا اس دوران بھی کسی کو نہیں بتاتے تھے کہ آپ کن سنگین حالات سے گزر رہے ہیں ،جو کچھ پیش آیا اس سے اللہ کی طرف ایک آزمائش سمجھ کر ہنسی خوشی قبول کیا ۔3فروری 2026ء کی تاریخ تھی ہم دفتر سے گھر کی طرف واپس آرہے تھے کہ راستے میں میرے ساتھ ہی بیٹھے حیدر بھائی کو ایک فون کال موصول ہوئی، وہ بات کررہے تھے اور اس کے چہرے کے تاثرات بدل رہے تھے ،لگ رہا تھا کہ کوئی کوہ غم ٹوٹنے والاہے ۔ان کی زبان سے بے اختیارانا لله و انا الیہ راجعون کے کلمات نکلےاور ساتھ ہی کہا کہ اقبال صاحب وفات پاگئے۔گاڑی میں بیٹھےد یگر ساتھی جن میں قاری مصعب الحق بھائی بھی شامل تھے اس خبر کوسن کرسکتے میں آگےاور سب کےدل پسیج سے گئے ۔یقین کرنا مشکل ہورہا تھاکہ کیا واقعی ہر ایک کو ہنسانے والا،ہردلعزز ،غمخوار ،سبھی کا یار ،زندہ دل انسان اپنے چاہنے والوں کوداغ مفارقت دے گیا۔۔مگر اللہ کوجو منظور ہو اسے بھلا کون ٹال سکتا ہے ۔آپ کے کارنامے ہی ایسے تھے کہ ہر ایک یہ داد دینے پر مجبور ہے کہ آپ واقعی اقبال کے شاہین تھے۔آپ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے تک جہاد کے راستے پر گامزن رہے ۔ہمیشہ تحریک آزادی کشمیر کی آبیاری کی اور آخری لمحے تک اسی جہادی کارواں کے ساتھ وابستگی رکھی اور اسی راہ میں چلتے چلتے اپنی جان جاں آفرین کے حوالے کی ۔آپ کی نماز جنازہ حزب المجاہدین کے امیر سید صلاح الدین احمد نے پڑھائی اور اس موقعہ پر آپ کی جہادی زندگی کےکلیدی کردار کر سراہتےہوئے آپ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جنازے میں نائب امیر حزب المجاہدین محمد سیف اللہ خالدسمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔آخری دیدار کرنے کے بعدقوم کے اس عظیم سپوت کواسلام آباد کے مقامی قبرستان میں نمناک آنکھوں کےساتھ سپردخاک کیاگیا۔






