بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان خونی معرکے

مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ اورضلع کشتواڑ میں مجاہدین اور بھارتی کے درمیان خونریز معرکہ آرائیاں
کمانڈرعثمان بھائی شہید۔۔۔15بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ،ایک JCOسمیت18فوجی زخمی

وادی کشمیر میں کئی مقامات پر این آئی اے کےبھارتی فوج کے ہمراہ چھاپے۔۔۔درجنوں عام شہری گرفتار،متعدد جائیدایں ضبط

ہمایوں قیصر

16 جنوری 2026 ۔۔۔ مقبوضہ کشمیرکے ضلع جموں میں اکھنور روڈ پر امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نےاحتجاجی دھرنا دیا جسے منتشر کرنے کیلئے بھارتی پولیس نے وحشیانہ طاقت کا استعمال کیاجس کے نتیجے میں متعدد امیدوار زخمی ہوگئے۔ وادی کشمیرکےضلع سرینگر،بڈگام،پلوامہ اور دیگر علاقوںمیں نماز جمعہ کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے پرامن مظاہرے کیے گئےجن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ شرکاء نے پلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے جن پر ایران اور اس کی قیادت کے حق میں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقعہ پر عوام نے امریکہ اور اسرائیل کےخلاف فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔بھارتی پولیس اوربدنام زمانہ ایجنسی’این آئی اے‘نے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں ایک کشمیری سیاسی کارکن عبدالعزیز کی 10کنال اور 14مرلہ اراضی کو ضبط کر لیاہے۔
17 جنوری 2026 ۔۔۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کی جانب سے دخترانِ ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور نہیدہ نسرین کو ایک من گھڑت مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی عدالتوں کا وطیرہ ہی رہاہے کہ وہ منصفانہ عدالتی تقاضوں کو پوار کئے بغیر اور دفاع کا پورا موقع دئیے بغیر سزائیں سنانے میں مشہور ہیں ۔
18 جنوری 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت نے نام نہاد ترقی کے نام پر کشمیریوں کے معاشی مفادات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع پلوامہ اور شوپیان اضلاع میںمقامی آبادی کے کاشتکاروں کی مشاورت کے بغیر ریلوے لائن منصوبے پر کام شروع کیاہے۔ اس ظلم کے خلاف سیب کے کاشتکاروں نے متنازعہ ریلوے منصوبے کے خلاف ایک بار پھر شدید احتجاج کیا ۔یاد رہےاگر یہ منصوبہ نافذ کیا گیا تو علاقے کے کاشتکاروں کے پانچ لاکھ سے زائد سیب کے درخت تباہ ہو جائیں گے جسے کاشتکاروں کو کھربوںروپے مالیت کا نقصان ہوگا۔ ضلع ادھم پور میں بھارتی پولیس نے ایک خاتون کے خلاف موبائل فون پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) استعمال کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

19 جنوری. 2026۔۔۔ ضلع کشتواڑ کے چناب ویلی چھاترو علاقے میں مجاہدین نے بھارتی فوج کی پارٹی پر دستی بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک حوالدار گجندرسنگھ موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت دیگر آٹھ بھارتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں ۔بھارتی فوج کے زیرِانتظام ولیج ڈیفنس گروپ (وی ڈی جی) کے ایک رکن نے نوشہرہ علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کو جواز بنا کر بلااشتعال فائرنگ کی جس سے علاقے کے مسلمانوں میں کافی خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے اسلام آباد ضلع میں گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) کے جنگلات منڈی علاقے میں ایک نامعلوم خاتون کی لاش برآمد کرلی گئی ہے۔
20 جنوری 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نے کالے قانوں کے تحت سرینگر اور بڈگام کے علاقے میں حیات احمد بٹ، غلام قادر میر اور ان کے بیٹے عبدالقدیر میر، زبیر احمد بنگرو، بلال احمد بنگرو اور سجاد احمد بنگرو سمیت ایک درجن سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیاہے۔
22 جنوری 2026 ۔۔۔ضلع ڈوڈہ کےبھدرواہ ـچمبا روڈ پر کھنی ٹاپ کے مقام پر ایک فوجی آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی ایک بلٹ پروف گاڑی دوسو فٹ گہری کھائی میںجاگری جس کے نتیجے میں17 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دیگر دس اہلکار زخمی ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر کے گرمائی دارلخلافہ سرینگر کے پانتھا چوک میں واقع بھارتی فوجی کیمپ میںایک بھارتی فوجی اہلکارجاکشن دل کا دورہ پڑنے کے دوران ہلاک ہوگیاہے۔جموں کے خطے کی کوٹ بھلوال جیل میں قید 38سالہ محمد رفیق عمر ساکن سیالکوٹ ناقص خوراک،علاج اور ادویات کی محرومی کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ یاد رہے محمد رفیق کو چند برس قبل بھارتی فوج نے ورکنگ باؤنڈی کے قریب سے گرفتار کیاگیا تھا۔ ضلع کشتواڑ کی تحصیل چھاترو کے علاقے سنگھ پورہ میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان خونریز جھڑپ کے دوران بھارتی فوج کے دو اہلکار ہلاک جبکہ دیگر متعدد اہلکار زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعدبھارتی فوج نےعلاقے سون نار اور چھترو علاقوں سامبا، کٹھوعہ، ادھم پور ، جموں شہر کے مضافات میں واقع علاقوں بھٹنڈی اور راجیو نگر اورریاسی اضلاع میں محاصرے کے دوران عام شہریوں کی جامہ تلاشیاں لیں اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کردیاجس سے ان علاقوں میں کافی دہشت اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
23 جنوری 2026۔۔۔ضلع کٹھوعہ کے علاقے بلاور مجاہدین اور بھارتی فوج کے مابین ایک جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں مجاہد کمانڈر عثمان بھائی نے دلیری سےلڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا۔
25 جنوری 2026ء۔۔۔ بھارتی فوج نے یوم جمہوریہ کے تقریبات کی حفاظت کی آڑ میں مقبوضہ علاقے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوراں خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو سخت ہراساں کیا اور قیمتی گھریلو اشیاء کی توڑ پھوڑ کی۔جبکہ بھارتی فوج نے چھاپوں کے دوران مختلف اضلاع سے سینکڑوں افراد کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا ہے۔
26 جنوری2026۔۔۔ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈار علاقے میں بھارتی فوج کا ایک اہلکارجیتو بہرا ڈیوٹی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔ ضلع کشتواڑ کے علاقے چترو میں مجاہدین نے ایک کارروائی کے دوران بھارتی فوج کی ایک ٹولی پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک وزخمی ہوگئے۔ ضلع راجوری میں لائن آف کنٹرول کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک بھارتی فوج کا ایک اہلکار شدید زخمی ہو گیاہے۔ ضلع سامبا کے رام گڑھ کے علاقے ماجرا میں ایک فرضی جھڑپ کے دوران بھارتی فوج نے ظالمانہ کارروائی کرکےایک عام شہری کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کردیا۔اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔بھارتی سرکار نےقتل کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مارا جانے والاشخص درانداز تھا، تاہم مقامی لوگوں نے بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید ہونے والانوجوان ایک عام شہری تھا۔
28 جنوری2026 ۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے سرینگر علاقے میں بھارتی فوج کا ایک اہلکارحوالدار ہری ناتھ رام سی آر پی ایف ہیڈ کوارٹر میںپُراسرارطور پر مردہ پایاگیاہے۔
29 جنوری2026 ۔۔۔بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں ہندو توا غنڈوں نے ایک 16 برس کے کشمیری محنت کش شال فروش تابش احمد اوردانش احمد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایاجسکے نتیجےمیںدونوں شدید لہولہان ہوگئے ۔یاد رہے کہ اتراکھنڈ، اتر پردیش، ہماچل پردیش ہریانہ سمیت بھارتی ریاستوں میں کشمیری طلباء، تاجروں وغیرہ کو ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر نشانہ بنائے جانے کی کارروائیوں کا سامنا ہے ۔واقعے کے خلاف مقامی مسلمانوں نے وکاس نگر پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیااور مطالبہ کیا واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
30 جنوری 2026۔۔۔۔ بھارتی پولیس نے آزادی پسند تنظیم اتحاد المسلمین کے کارکنوں مجتبیٰ حسین وانی اور سید مظفر رضوی کے گھروں پر ضلع بارہمولہ کے علاقوں میر گنڈ اور گنڈ خواجہ قاسم میں چھاپے مارے اور تلاشی لی۔ پولیس اہلکاروں نے چھاپوں کے دوران مکینوں کو ہراساں کیا ، گھریلواشیاءکی توڑ پھوڑ کی اور موبائل فون، لیب ٹاپ اور اہم دستاویزات ضبط کر لیں۔
31 جنوری 2026۔۔۔ ضلع کشتواڑ کے علاقے ڈولگام میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ایک خونی معرکہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 9 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دیگر 14 فوجی زخمی ہوئے۔ فوجی آپریشن کے دوران مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کرنے سے روکنے کے لیے حکام نے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کررکھا ہے۔ بھارتی فوج نے مجاہدین کو گھیرنے اور نشانہ بنانے کے لیے جنگی ہیلی کاپٹروں، جدید ترین ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا، لیکن تمام تر وسائل کے باوجود مجاہدین ایک بار پھر دشمن کا محاصرہ توڑ کر بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
1 فروری 2026۔۔۔ضلع کشتواڑ کی تحصیل مڑواہ میںحزب المجاہدین سے وابستہ کمانڈر ریاض احمد جو گذشتہ سترہ برس سے بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار ہے کی والدہ محترمہ جانہ بیگم داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔یاد رہےبھارتی فوج نےان کے خاندان کو مسلسل کئی برسوں سےانتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا ۔کمانڈر ریاض احمد کے بھائی اور اس کے خاندان کے دوسرے افراد کو گرفتارکرکےجیل بھیج دیا گیا جہاں وہ گذشتہ چھ برسوںسے جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔بھارتی فوج نے کمانڈر کی والدہ سمیت گھر کے دیگر افراد کو باربار ہراساں کیا،انہیں بھارتی فوجی کیمپ میں پیشی کے لئے بلایا جاتارہا اور دھمکیاں دی جاتی تھی جس سے وہ ہمیشہ ایک انتشار والی کیفیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہورہی تھی اورانہیں مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے بیٹے سے سرینڈر کی اپیل کریں۔بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی خصوصی عدالت نے جموں میںسوف شالی کوکرناگ کے رہائشی جان محمد تیلی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جو اس وقت بھارت کی آگرہ جیل میں بندہے۔۔یادرہےجان محمد تیلی کو 10 فروری 2021 کو گرفتار کیا گیا تھاجس پر الزام ہے کہ وہ ہدایت اللہ ملک کا قریبی ساتھی ہے، اس نے اسے کرائے کے کمرے میں پناہ دی جو جموں و کشمیر میں مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

2 فروری 2026 ۔۔۔بھارتی پولیس نے راجستھان کے ضلع کوٹہ کےبھیم گنج منڈی کے علاقے میں مدرسوں کے لیے چندہ جمع کرنے کے الزام پر ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والےتین کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے ۔ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں ایک سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے دو بے گناہ شہریوں کو گرفتارکرلیا ۔ تینوں ایک مقامی گیسٹ ہاوس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
3 فروری 2026 ۔۔۔حزب المجاہدین سے وابستہ دیرینہ مجاہد قیصر اقبال المعروف محمد اقبال راولپنڈی میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔ مرحوم کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے بنڈزو سے تھا۔ قیصراقبال نےاکتوبر 1990ء میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آ گئے تھے۔ ان کے سوگواران میں ان کی بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
4 فروری 2026۔۔۔ ضلع اُودھم پور کی تحصیل بسنت گڑھ کے علاقہ مجالتہ میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ایک خونریز معرکہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دو مجاہدین ابو معاویہ اورمحمد الیاس نے جوانمردی سے لڑٹے ہوئے جام شہادت نو ش کرلیا۔ضلع رام بن میں سڑک حادثے میں ایک بھارتی فوجی سہان سنگھ ہلاک ہو گیا۔
5 فروری 2026۔۔۔ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار جتندر سنگھ جو ایک پوسٹ پر تعینات تھا ڈیوٹی کے دوران پرسرارطورپر ہلاک ہوگیاہے۔
8 فروری 2026۔۔۔ ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک مقامی پورٹر ذوالفقار احمد ساکن سلوتری پٹیاشدید زخمی ہو گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے ذوالفقار احمد کو بھارتی فوج نے جبری طور پر کام کرنے پر مجبور کیا۔ ذرائع کے مطابق ذوالفقار احمد ایک بارودی سرنگ زدہ علاقے میں قدم رکھ بیٹھا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ ضلع بڈگام کے علاقے ہمہامہ میں بھارتی انتظامیہ نے کالے قانون کے تحت ایک کشمیری عرفان احمد ڈارکا دومنزلہ مکان ضبط کرلیاہے ۔
9 فروری2026۔۔۔ ضلع کشتواڑ کی تحصیل چاتھرو کے علاقے دچھڑ میںمجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں مجاہد عادل احمد نے داد شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
11 فروری 2026 ۔۔۔ضلع کٹھوعہ کے ہیرانگر علاقے میں ایک بھارتی فوجی اہلکارپربھو ناتھ پُراسرار طور پر ڈیوٹی کے دوران مردہ حالت میں پایا گیا۔جبکہ ایک اور واقعہ میں ضلع ریاسی کے علاقے چسانہ میں ایک ہیڈ کانسٹیبل محمد فاروق کو بھی اپنے کرائے کے کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ضلع پونچھ کے علاقے بٹر نالہ میں ایک 16سالہ لڑکا غلطی سے بارودی سرنگ پر قدم پڑنے سے ہونے والے دھماکے نتیجےمیں زخمی ہو گیا ۔جبکہ ایک اور واقعہ میں ضلع بارہمولہ کے علاقے گلمرگ میں ایک فوجی بیرک میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھارتی فوج کا ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر شدیدزخمی ہوگیا۔
13 فروری2026 ۔۔۔ضلع راجوری کے علاقے نوشہرہ میں کنٹرول لائن کے قریب دوران ڈیوٹی ایک افسر سب انسپکٹر راج کمار نے اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی چلاکر خودکشی کرلی۔
14 فروری2026۔۔۔بھارتی قابض فوج نے بدنام زمانہ ایجنسی این آئی اے کے ہمراہ ایک کارروائی کے دوران ضلع شوپیا ن کے علاقے میمندر میں سرتاج احمد گنائی کا ایک منزلہ مکان ضبط کرلیا۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے دو کشمیریوں کو ایک جھوٹے مقدمے میں ضلع کپواڑہ کے رہائشیوں ظہور احمد پیر اور نذیر احمد پیر جنہیںستمبر 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا کو 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں گرفتارشدگان مجاہدین کو راشن اور پناہ گاہیں مہیا کرنے میں ملوث ہیں۔ضلع راجوری کے منجکوٹ علاقے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار ارشدیپ سنگھ اپنی سروس رائفل سمیت پُراسرار طور پر فرار ہوگیا۔
15 فروری 2026۔۔۔ بھارتی پولیس نے معروف آزادی پسند کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ شہید کے چھوٹے بھائی ظہور احمد بٹ جو لبریشن فرنٹ کے سینئرراہنمابھی ہیں کو عدالتی حکم پر رہائی کے فوراََ بعد دوبارہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے )کے تحت گرفتار کرلیا۔یاد رہے ظہور احمد 2018 سے زیر حراست ہیں اور بھارتی ریاست ہریانہ اور راجستھان سمیت مختلف جیلوں میں قید وبند کی زندگی گزاررہے ہیں۔