ایک اور عظیم روح پرواز کر گئی

ضیاء چترالی

عرب دنیا کا ایک اور نامور عالم اور فزکس کا ممتاز سائنس دان جنرل سیسی کے زندانوں میں خاموشی سے عالمِ بالاکی طرف پرواز کر گیا۔ نہ کوئی شور، نہ جنازے کا اعلان، نہ کوئی تعزیتی بیان، نہ علمی حلقوں کی وہ پذیرائی، جس کے وہ مستحق تھے، بس ایک خبر، جو سلاخوں کے پیچھے دم توڑتی ایک روشنی کی داستان سناتی ہے۔ڈاکٹر جلال عبدالصادق محمد جامعہ اسیوط کے شعبۂ طبیعیات کے سربراہ، ایک محقق، ایک معلم، عالمی سطح کے سائنسدان، ایک سنجیدہ مزاج استاد۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ درس و تدریس، تحقیق اور طلبہ کی تربیت میں گزرا۔

طبیعیات جیسے دقیق اور پیچیدہ علم میں انہوں نے برسوں تحقیق کی، مقالات لکھے اور نسلوں کو سائنسی شعور دیا۔ انٹرنیٹ پر ان کا تعارف تلاش کیجیے تو سیاست نہیں، بلکہ سائنسی جرائد میں شائع ہونے والی تحقیق، کانفرنسوں میں پیش کیے گئے مقالے اور یونیورسٹی کی علمی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں۔ ان کے تحقیقی مقالوں میں ZnO فلموں (زِنک آکسائیڈ) کے آپٹیکل خواص، الیکٹریکل خصوصیات اور تابکاری (گاما رے) کے اثرات جیسے فزکس کے جدید موضوعات شامل ہیں، جو مواد (Materials) اور آپٹیکل فزکس سے متعلق تحقیق کے اہم شعبے ہیں۔وہ کوئی جارح خطیب نہ تھے، نہ ٹی وی اسکرینوں پر نمودار ہونے والے سیاسی تجزیہ نگار۔ وہ لیبارٹری اور لیکچر ہال کے آدمی تھے۔

کتاب اور قلم کے درمیان جیتے تھے۔ طبیعی قوانین کی باریکیوں میں طلبہ کو کائنات کی حکمت سمجھاتے تھے۔ مگر 2013 کے بعد مصر کی فضا بدل چکی تھی۔ ملک پر صہیونی قوت بندوق کے زور پر قابض ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر جلال کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام کیا تھا؟ انسان تو کیا، کسی بھی ذی روح کو ادنیٰ درجے کا بھی کئی نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ نسلوں کی علمی آبیاری کی، لیکن ریاستی بیانیے کے مطابق وہ اخوان المسلمین سے وابستہ تھے۔ بس یہ الزام لگنے کی دیر ہوتی ہے، پھر آپ نوبل انعام یافتہ سائنسدان بھی ہوں، آپ کا خون نہ صرف حلال ہے، بلکہ عرب حکمرانوں کا مرغوب ترین مشروب بھی یہی لہو ہے۔24 نومبر 2013ء کو 1975ء سے جامعہ اسیوط میں پڑھانے والے اس بوڑھے پروفیسر کو ناکردہ گناہوں کے سبب سلاخوں کے پیچھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ عمر بڑھتی اور صحت گرتی گئی، مگر رہائی نہ ملی۔ برسوں کی اسیری، بیماری اور تنہائی سے بالآخر 9 فروری کے روز انہیں ہمیشہ کے لیے رہائی مل گئی۔ 71 برس کی عمر میں، ایک ماہر طبیعیات، ایک استاد، ایک محقق، نامور سائنسدان جیل کی دیواروں کے درمیان دنیا سے رخصت ہو گیا۔یہ سوال تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔۔۔کیا ایک عالم کا انجام یہی ہونا چاہیے؟ کیا درسگاہوں میں عمر گزارنے والے اساتذہ کو بڑھاپے میں زندان نصیب ہوں؟ اختلافِ رائے یا تنظیمی وابستگی خواہ وہ جس نوعیت کی ہو کیا اس کا جواب طویل قید اور طبی سہولتوں سے محرومی ہونا چاہیے؟ کہاں ہیں افغان خواتین کے لیے تعلیمی دروازے بند کیے جانے پر ماتم برپا کرنے والے؟ انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدار سب مر چکے ہیں؟ مولوی تو ٹھہرے بے کار پرزہ، لیکن کیا ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان بھی صرف اسلام پسند ہونے کی وجہ سے جینے کے حق سے محروم ہوجاتا ہے؟ڈاکٹر جلال عبدالصادق محمد اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کی علمی خدمات، ان کے تحقیقی کام اور ان کے شاگرد ان کی گواہی دیتے رہیں گے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے، ان کی خطاؤں سے درگزر کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔