امریکی حکام ــ’’ سیف ایکزٹ ‘‘کی تلاش میں

چیف ایڈیٹر کے قلم سے

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے مشرق وسطیٰ کی سیاسی و معاشی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے اور عالمی طاقت کے توازن کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ تازہ ترین تجزیوں سے واضح ہے کہ یہ تصادم محض دو فریقوں کی محدود جھڑپ نہیں بلکہ ایک وسیع اسٹرٹیجک جنگ ہے جس میں امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتیں براہ راست یا بالواسطہ شامل ہیں۔ یہ جنگ خطے میں طویل مدتی سیاسی اور عسکری حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہے جہاں ہر فریق اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس تنازع کی جڑیں گہری ہیں۔ فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فضائی کارروائیاں شروع کیں جو ایرانی قیادت اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے والی تھیں۔ ان حملوں میں کئی اہم ایرانی شخصیات متاثر ہوئیں۔ جواب میں ایران نے اسرائیل اور علاقائی اہداف پر میزائل و ڈرون حملے کیے۔ یہ سلسلہ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور ابھی تک کوئی واضح اختتام نظر نہیں آ رہا۔ بعض تجزیہ کار ان کارروائیوں کو ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی توسیع سے جوڑتے ہیں جبکہ دوسرے اسے ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ خطے میں طاقت کے نئے توازن کی تشکیل کر رہی ہے۔ایران نے اس جنگ میں مضبوط اور لچکدار موقف اختیار کیا ہے۔ اس کی تزویراتی حکمت عملی، دفاعی تیاریاں اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول اسے عالمی دباؤ سے محفوظ رکھ رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر کے عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ ڈالاہے۔ اس ناکہ بندی سے تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں اور شپنگ و تجارت متاثر ہوئی۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو یورپ اور ایشیا سمیت عالمی معیشت میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ ایران کا یہ اقدام اس کی عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ معاشی مزاحمت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی فضائی مہم میں روزانہ سینکڑوں طیارے ایرانی اہداف پر بمباری کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں میزائل فیکٹریاں، لانچ بیسز، دفاعی سائٹس اور صنعتی تنصیبات نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی میزائل پروڈکشن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکا نے THAAD سسٹم کا بھاری استعمال کیا ہے۔ تخمینوں کے مطابق امریکا نے اپنے THAAD انٹرسیپٹرز کا تقریباً 40 فیصد حصہ چند ہفتوں میں استعمال کر لیا ہے۔ اگر جنگ کی شدت برقرار رہی تو یہ ذخائر جلد ختم ہو سکتے ہیں جو امریکا کے لیے بڑا چیلنج ہے۔اس کے باوجود ایران نے اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام کو نسبتاً محفوظ رکھا ہے۔ اس کے میزائل حملے محدود مگر مؤثر رہے ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے چند صنعتی اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جس سے اسرائیل کی فضائی دفاعی صلاحیت پر دباؤ پڑا ہے۔ اسرائیل نے اپنے انٹرسیپٹرز کی بڑی تعداد استعمال کر لی ہے۔ ایران کی حکمت عملی نے مخالف فریقوں کو ایک دلدل میں پھنسا دیا ہے جہاں طویل جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ اسے ماضی میں دو بار (جون 2025 اور فروری 2026) دھوکہ دیا گیا اس لیے اب وہ فولادی ضمانتوں کے بغیر کوئی امن معاہدہ قبول نہیں کرے گی۔ ایران چاہتا ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی نہ ہو بلکہ ایک جامع اور دیرپا سیاسی حل ہو جو اس کی سلامتی کی ضمانت دے۔اس جنگ کے پیچھے ذاتی اور سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ بعض تجزیہ کار اسے اسرائیلی وزیر اعظم کی ذاتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں جبکہ امریکا کی شمولیت کو جوہری پھیلاؤ روکنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔ یہ تنازع اب وسیع تر اسٹرٹیجک جنگ بن چکا ہے جس میں عرب ریاستوں اور یمن کے حوثیوں کا کردار بھی سامنے آ رہا ہے۔ حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں جو جنگ کے دائرے کو پھیلا رہے ہیں۔ کئی ممالک امن مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں مگر ایران نے امریکی تجاویز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات واضح ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے تیل کی قیمتیں آسمان کوچھو رہی ہیں۔ شپنگ کمپنیاں متاثر ہوئیں اور تجارت کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپ، ایشیا اور امریکا کی معیشتوں کو بھی غیر مستحکم کر رہی ہے۔ طویل جنگ کی صورت میں مہنگائی، توانائی بحران اور معاشی سست روی کا خطرہ ہے۔ ایران اپنی حکمت عملی سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل محدود نتائج کے لیے اپنی طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ایران کی مزاحمت نے مخالفین کو سیاسی اور اقتصادی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ امریکی حکام اب ’’سیف ایکزٹ‘‘ کی تلاش میں ہیں تاکہ سیاسی نقصان کم ہو۔ اسرائیل کی فضائی برتری کے باوجود ایران کی صنعتی اور دفاعی صلاحیت ختم نہیں ہوئی۔ ایران نے اپنے کلیدی پروگرامز کو محفوظ رکھا اور مخالفین کو پیچیدہ سیاسی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ یہ جنگ اب صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور عالمی طاقت کے توازن کی جنگ بھی ہے۔موجودہ مذاکرات اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایران اپنی شرائط پر قائم ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کا یہ تنازع کسی بھی لمحے بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کو فوری اور سنجیدہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ورنہ یہ کشیدگی طویل عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔مجموعی طور پر یہ جنگ خطے اور دنیا کے لیے اہم امتحان ہے۔ ایران نے اپنی دفاعی تیاری اور تزویراتی حکمت عملی سے مضبوط موقف قائم کیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل عسکری طاقت استعمال کر رہے ہیں مگر محدود کامیابی کے ساتھ۔ عالمی برادری اب سنجیدہ اقدامات کی طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ جنگ علاقائی سیاست کو تبدیل کر رہی ہے اور عالمی معیشت و طاقت کے توازن پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ اگر فوری جامع حل نہ نکلا تو یہ تنازع مزید پیچیدہ اور تباہ کن ہو سکتا ہے۔