محمد احسان مہر
سچ جتنا جلد تسلیم کر لیا جائے یہ اتنا ہی بہتر ہوتا ہے،اور کوئی بھی قوم سچ کونظرانداز کر کے اپنے بہترمستقبل کی راہیں متعین نہیں کر سکتی،اور جب سچ جاننے کے باوجود،ہم اپنی روش برقراررکھتے ہیں تو پھر یہی سے بگاڑ پیدا ہوتا ہےاور اُس وقت غلط فہمی،خوش فہمی کا لبادہ اُوڑھ کرقوموں کو غلط راہ پر لے نکلتی ہے، پھر غیر متوقع طور پر خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، قومی سطح پر ہمیں بھی کچھ اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہے، دہائیوں سے عالمی مفادات جاننے اور عالمی طاقتوں کے کھیل کو پہنچاننے کے باجود ہم ان کے کھیل کا حصہ بنے رہے،اور عالمی طاقتوں کے وقتی مفادات کو اپنے ملی، قومی،علاقائی اورحتیٰ کہ جغرافیائی مفادات پر ترجیح دی، جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے،اور بدلے میں پاکستان کی بنیادی اساس اور بقاء کے ضامن پاک بھارت سندھ طاس معاہدہ اورکشمیر کامسئلہ جمود کا شکار۔۔۔ امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ مل کر (مذاکرات کے دوران) ایران پر حملہ بھی مشرق وسطیٰ میں کئی طرح کےکڑوے سچ بے نقاب کرے گا،اور دہائیوں سے عرب ریاستیں جس خوش فہمی میں مبتلا تھیں وہ ایک خوفناک حقیقت کا روپ دھار کراب اُن کے سامنے ایک بڑے خطرے کی شکل میں موجود ہے، مشرق وُسطیٰ کی صورتحال نے ایک بار پھر عالمی استعماری طاقتوں کے گھناؤنے کردار اور مفادات کے کھیل کوبے نقاب کیا ہے لیکن یہ اس کھیل کا آخری راؤنڈ ہے جو عالمی طاقتوں کے درمیان خلیج فارس میں کھیلا جا رہا ہے، یہ جنگ پھیل چکی ہے،یہ اب ہفتوں نہیں مہینوں جاری رہ سکتی ہے،اور اسے سمیٹتے ہوئے بھی وقت لگے گا،جنگ کے دوران ایران کی سفارتکاری اور حربی صلاحیت کو دنیا حیرانگی سے دیکھ رہی ہے۔

ایران ایک ساتھ دشمن کو مار بھی رہا ہے اور دنیا کو سمجھا بھی رہا ہے،کہ ہم خطے میں کسی ملک کیخلاف نہیں ہم امریکی اڈوں اور انکی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک مافوق الفطرت شخص،اسلام اور مسلمانوں سے بُغض وعنادرکھنے والی ناجائزریاست کے جرائم میں کس طرح اُس کے ساتھ کھڑا ہے، عالمی سطح پر جنگوں کو روکنے کے دعویدار نے پہلے غزہ تباہ و بربادکیا اور تقریباایک لاکھ فلسطینی مسلمانوں (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں)کو شہیدکیا، امریکہ نے اپنے (سابقہ) قبیح اورجارحانہ طرزعمل کو برقرار رکھتے ہوئے مخالف رجیم کو بدلنے میں ناکامی کی صورت میں ایرانی اقتدار اعلیٰ،سپریم لیڈررہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای،ان کے خاندان کے افراداور رفقاء کو مذاکرات کے دوران نشانہ بنا کر عالمی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی کی مثال قائم کی ہے۔ امریکی صدرنے ملکی مفادات(تیل کی خاطر)ونزویلا کے صدر(نکولس مادور) اور اُن کی اہلیہ کواغواء کیا ہے اور مشرق وُسطیٰ کے نام نہاد امن کے لیے ایران پر حملہ کر کے خلیجی ریاستوں کے مفادات کو جنگ کی آگ میں دھکیل کر فاش غلطی کی ہے، جس کا خمیازہ امریکی اڈوں کی تباہی کی صورت میں بھگتنا ہو گا، صدر ٹرمپ کے اسرائیل کیساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات عالمی طاقتوں کا جو تعارف پیش کر رہے ہیں وہ عالمی برادری کے لیے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں،یہی وجہ ہے کہ(نیٹو) یورپ اور اتحادی ممالک امریکی اقدا م کے خلاف کھڑے نظر آرہے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای شاعر مشرق علامہ اقبال سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے،وہ اسلام کی تاریخ،جنگ کی حکمت عملی کے ماہر، اور دشمن پر نفسیاتی اور اعصابی دباؤپر یقین رکھنے والی شخصیت تھے،علی خامنہ ای فلسطینی کاز کے پُر زور حمایتی تھے، فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کی تحریکوں کی کامیابی بارے ہمیشہ پُر عزم رہے، ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایک دن ضرور ہم مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کریں گے،لیکن شائید اس وقت میں موجود نہیں ہوں گا۔ حالت جنگ میں جھپٹنا، پلٹنااور پلٹ کر جھپٹناکے بجائے قوم کے اتحاد اورملکی وحدت کا سبق دینے کی خاطر اُنہوں نے دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا بہتر سمجھا،اور یقینی طور پر ان کی وطن سے محبت، بہادری اور لازوال شہادت نے ایرانی قوم کو ایک کم ظرف دشمن(سپر پاور) کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا کر دیا،وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایرانی ہمیشہ ڈٹ کر کھڑے رہیں گے،کبھی نہیں جھکیں گے،ایرانی قوم نے جنگ نہیں چُنی بلکہ انہیں جنگ میں گھسیٹا گیا ہے، جنگ ہم نے شروع نہیں کی لیکن اب اسے ختم کرنے کا اختیار ہمارے پاس ہے،اسرائیل اور امریکہ مل کرایران میں رجیم چینج لا سکے نہ اسے گھنٹوں کے بل بٹھا سکے۔
ایران پر اسرائیل اور امریکی غیر قانونی حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہےاور ایرانی جوابی ردعمل کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیلی دفاعی نظام کی تباہی کے ساتھ خلیجی ریاستوں کاجو نقصان ہوا ہے عالمی سطح پر اس کا ذمہ دار بھی امریکہ کو ٹھہرایاجا رہا ہے، شمالی کوریا کے رہنماء (کم جونگ ان)نے اسرائیل اور امریکہ کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے،چین اور روس نے بھی ایران پر حملے کی مذمت کی ہے اور سفارت کا ری اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ روس نے ایرانی افزودہ یورینیم کی کسی دوسرے ملک منتقلی کیلئے ممکنہ امریکی آپریشن کے خدشے کا اظہار کیا ہے، پاکستان میں بھی ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک پر جنگ مسلط کرنے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور حکومتی سطح پر سفارت کاری کے ذریعے جنگ کی آگ کو پھیلاؤ سے روکنے کی سر توڑکوشش کی جا رہی ہے،امریکی صدر ٹرمپ ایران میں رجیم چینج میں ناکامی اور عرب ریاستوں میں امریکی اڈوں پر تابڑتوڑ ایرانی حملوں کے بعدجنگ میں فتح و شکست کے متضاد بیانات کے ساتھ جنگ سے راہ فرار کی کوشش کر رہے ہیں، دوسری جانب ایران میں ملک دشمن عناصر کی گرفتاریوں کے علاوہ،عراق،شام،قطر اور یو،اے،ای جیسی ریاستوں میں بھی اسرائیلی اور امریکی خفیہ ایجنسی، موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ گرفتار ہوئے ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ اپنی سازشوں اور خفیہ کاروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کو باہم گُتھم گتھا کرا کر خودجنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں،لیکن امریکہ کا جنگ ختم کرنے کا اعلان کرنا، یہ اب اتنا آسان نہیں ہے،ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےایکس پرلکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے حقوق تسلیم کرنا، جنگ میں ہونیوالے نقصان کے معاوضے کی ادائیگی،خلیجی ممالک سے امریکی اڈوں کا خاتمہ اورمستقبل میں جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں ہیں،جبکہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ہم ایران میں پہلے سے زیادہ برا کر سکتے ہیں،ان حالات میں مستقبل میں ایران پر حملہ نہ ہونے کی ضمانت کون دے گا…؟ ایران کا موقف بالکل واضح ہے کہ امریکہ جنگ بندی کے وقت کو ایک نئے حملے کی تیاری کے لیے استعمال کرتا ہے۔لیکن یہ طے ہے کہ جب یہ جنگ ختم ہو گی تو بہت کچھ بدل چکا ہو گا،امریکہ کوخطے سے بوریا بستر لپیٹ کرایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ کسی نئے معاہدے کوحتمی شکل دینا پڑے گی،خطے معروضی حالات کے تناظرمیں مستقبل میں امریکی قیادت میں کوئی اتحاد بنتا بھی دکھائی نہیں دے رہا۔
سابق امریکی عہدیدار (جان کیری) نے ایران کے ساتھ جنگ کو دہائیوں کا سب سے بڑا بحران قراردیا ہے،اور کہا ہے کہ ایران جنگ کے عالمی سطح پر تباہ کن اثرات ہوں گے اور امریکہ کا ایران کے ساتھ تنازع کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتا ہے،صرف 15دن کی جنگ کے بعدجارحانہ امریکی کاروائی دفاعی ردعمل میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہیں، ایران کے حملوں سے اسرائیل کے بلیسٹک میزائل انٹرسیپٹر زتیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایرانی میزائل اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم کی تین تہوں کو چکمہ دے کر کامیابی سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں،سابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ٹرمپ نے ایرانی رد عمل کا غلط اندازہ لگایا۔ٹرمپ کو بتایاگیا تھا کہ ایران اس بار مختلف رد عمل دے سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہر مز بند کرنے کا امریکی واویلا محض جھوٹ پر مبنی ہے،آبنائے ہُرمز کھلی ہے،یہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے آئل ٹینکرز اور جہازوں کے لئے بند ہے،کچھ جہاز خطرے کی وجہ سے گزرنے سے گریز کررہے ہیں ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں،ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کی آبنائے ہُر مز کھولنے میں فوجی مدد کے جواب میں فرانس،اٹلی،برطانیہ، جرمنی،جاپان،آسٹریا اوریونان نے صاف انکار کردیا ہے،جرمنی کے وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کو اپنے فوجی اہداف واضح کرنا ہوں گے، برطانیہ کے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہُرمز کو کھولنا کوئی آسان کام نہیں،ہم ایران کے ساتھ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہماری کوشش ہے کہ معاملات زیادہ نہ بگڑیں، کشیدگی کے خاتمے اور بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکرتے ہیں،لیکن انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے پر ایران کے ساتھ دیر پا امن کیلئے معاہدہ ناگزیر ہے، جبکہ ایران واضح کر چکا ہے کہ وہ مزاکرات سے نہیں ہچکچاتا،لیکن مزاکرات کی آڑ میں ملکی خود مختاری پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،ایران کا کہناہے کہ امریکی جرائم تاریخ پر ایک دھبہ ہیں۔ صدر ٹرمپ جب غزہ کے ملبے پر بورڈآف پیس کااعلان کر کے مشرق وُسطیٰ میں 3ہزار سالہ تنازع ختم کرنے کی بات کر تے ہوئے عالمی برادری کواپنی گراؤنڈ پر کھیلنے کی دعوت دے رہے تھے، علاقائی طاقتیں مشرق وُسطیٰ میں امریکی گراؤنڈ پراپنی بال کیساتھ کھیلنے کیلئے بساط بچھا رہیں تھیں، ان کا نقطہ بڑاسادہ اور واضح ہے،کہ اسرائیل کیساتھ آزاد فلسطینی ریاست کا مسئلہ علاقائی مسئلہ ہے، اور ایران کی میزائل صلاحیت اور جوہری توانائی کے حصول کی کوشش اندرونی خود مختاری اور ملکی دفاع کی ضامن، پھرامریکہ کو یہاں ٹانگیں پھنسانے کی کیا ضرورت ہے، لیکن امریکہ کسی گلی کے غنڈے کی طرح ایران کو دھمکانے اورجنگ میں اُلجھانے کے بعد جس بُری طرح سے پٹ رہا ہے،
وہ اس کی مدد کی اپیلوں سے صاف نظر آرہا ہے،لیکن سب اُس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں،یہ جنگ اب امریکہ کی اناء اور اسرائیل کی بقاء کا مسئلہ بننے جارہی ہے۔
رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سپریم نیشنل سکیورٹی علی لاریجانی اور دیگر کمانڈروں کی شہادت کے موقع پروزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نےایرانی،سیاسی،فوجی ڈھانچہ اور مزاحمت کی صلاحیت سمجھنے میں غلطی کی ہے،کسی فردیا شخصیت کی کمی،سیاسی افراتفری کا باعث بنے گی نہ دشمن کیخلاف جنگ کی حکمت عملی پر فرق پڑے گا امریکہ یہ جنگ جہاں تک لے کر جائے گا ہم اُسے نہیں چھوڑیں گے،شُہداء کی تعداد سے فرق نہیں پڑے گا،ایرانی قوم پہلے دن کی طرح سبق چکھانے تک دشمن کا پیچھا کرے گی
صدر ٹرمپ کے عالمی امن کے لئے تنازعات کاخاتمہ،جنگوں کو روکنے کے جھوٹے دعوے اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ یہ کڑواسچ؛ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ عالمی طاقتوں کے عالمی تنازعات ختم کرنے کے خوشنما ء دعوؤں کے پیچھے بھی مفادات کا کھیل اور مکروہ عزائم پوشیدہ ہوتے ہیں،حقیقت حال یہ ہے کہ اقوم متحدہ غزہ کے ملبے کے نیچے دفن ہو چکی ہے، عالمی برادری مفادات کے پیچھے بھاگ رہی ہے، بورڈآف پیس کی سانسیں ٹوٹ رہیں ہیں،اور عالمی تنازعات کا مستقبل جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والامعاملہ نظر آرہاہے۔
محمد احسان مہر







