شہید سیف الاسلام

شہید سیف الاسلام: جہاد کشمیر کا ایک تابناک ستارہ

عبد الرشید ڈار

دست جفا سر ہیں یہ ارباب وفا کے۔ یہ الفاظ نہ صرف شاعری کے جملے ہیں بلکہ ان کی حقیقت ان مجاہدین کی زندگیوں میں نظر آتی ہے جو اپنے وطن کی آزادی اور ملت کے وقار کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ انہی ارباب وفا میں سے ایک نام ہے غلام حسن خان عرف انعام اللہ خان عرف سیف الاسلام۔ حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر کے طور پر انہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شہادت نے ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں جہاد کا ولولہ مزید بھڑکا دیا۔ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے سرکاری نوکری، تجارت اور خاندانی زندگی کو چھوڑ کر جہاد کا راستہ اختیار کیا اور بالآخر اپنی جان کی قربانی دے کر امر ہو گئے۔

غلام حسن خان 1946ء میں ضلع پلوامہ کی ایک چھوٹی سی بستی تاچھلو شوپیاں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد عبداللہ خان ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے گریجویشن کیا اور سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ علاقے میں وہ ایک نیک دل اور دیانت دار افسر کے طور پر مشہور ہوئے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ایک ایماندار تاجر کی حیثیت سے بھی لوگوں کے درمیان معروف تھے۔ ان کی زندگی آرام و سکون سے بھری ہوئی تھی، لیکن قسمت نے ان کے لیے کچھ اور ہی منصوبہ بنایا تھا۔دوران ملازمت ان کا تعلق جماعت اسلامی سے قائم ہوا۔ ان کی صلاحیت، قابلیت، محنت اور دیانتداری نے انہیں جماعت کے رکن بننے کا اعزاز بخشا۔ 1988ء میں جب کشمیر میں جہادی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو غلام حسن خان نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اس مقدس فریضے میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے جہادی صفوں میں قدم رکھا اور انعام اللہ خان کے نام سے کام شروع کیا۔ بعد میں انہیں سیف الاسلام کے جہادی نام سے پہچانا جانے لگا۔ ان کا مقصد بھارتی جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد اور کشمیر کی آزادی حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے ہزاروں نوجوانوں کو اس راہ پر رہنمائی کی اور جہاد بالسیف کا پیغام دیا۔ابتدائی دنوں سے لے کر 1997ء تک سیف الاسلام نے حزب المجاہدین کے پرچم تلے مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے مجاہدین کی مضبوط تنظیم تیار کی، دشمن کی فوج کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور بھارتی فورسز کو بڑے نقصانات پہنچائے۔ ان کی قیادت میں کئی کامیاب کارروائیاں ہوئیں جن سے بھارتی حکام کی منصوبہ بندی بری طرح متاثر ہوئی۔ خاص طور پر گورنر سکسینہ کی کائونٹر انسرجنسی پالیسی کو انہوں نے ناکام بنا دیا۔ ان کی عسکری حکمت عملی اور بہادری کی وجہ سے دشمن کی صفوں میں دہشت پھیل گئی۔
1997ء میں مرکزی قیادت کے حکم پر وہ بیس کیمپ آ گئے۔ اس وقت ان کے اہل خانہ پر بھارتی فوج نے شدید ظلم کیا تھا۔ انہیں اپنا گھر اور بستی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے چچیرے بھائی محمد ایوب خان کو گرفتار کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انٹروگیشن کے دوران ان کی آنکھیں نکال لی گئیں اور وہ شہید ہو گئے۔ ایسے مظالم کے باوجود سیف الاسلام کا عزم مزید مضبوط ہوا۔ بیس کیمپ میں انہوں نے کئی اہم ذمہ داریاں دیانتداری اور خوش اسلوبی سے انجام دیں۔2001ء میں حزب المجاہدین کی مرکزی کمانڈ کونسل نے ان کی عسکری صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں سالار اعلیٰ یعنی چیف آپریشنل کمانڈر مقرر کیا۔ اس وقت ان کی عمر پچپن سال تھی اور وہ شوگر کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ پھر بھی انہوں نے بلا چون و چرا حکم کی اطاعت کی۔ برف سے ڈھکی تیزہ ہزار فٹ بلند پہاڑی چوٹیوں کو عبور کرتے ہوئے وہ چند ساتھیوں کے ساتھ وادی لہو رنگ میں داخل ہوئے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے سیف الاسلام کے نام سے مجاہدین کی از سر نو تنظیم کی۔ نئی جوش و خروش کے ساتھ جہادی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ دشمن پر تقریباً روزانہ حملے ہونے لگے۔ بارودی دھماکوں اور فائرنگ سے بھارتی فورسز کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا۔ سیف الاسلام نے جہاد کشمیر کو اس کی اصل روح اور سمت دی۔ ان کی قیادت میں تحریک میں نئی جان پڑ گئی۔2 اپریل 2003ء کو چھانہ پورہ سری نگر میں ایک اہم مشن پر جاتے ہوئے کمانڈر سیف الاسلام بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد ہی بھارتی جلادوں نے ان پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا۔ ان کے جسم پر خنجر کے وار کیے گئے تاکہ وہ راز اگل دیں۔ خون کے فوارے چھوٹتے رہے۔ ان کا صبر و استقامت پہاڑ کی مانند تھا۔ جب دشمن نےدیکھا کہ ان سے کچھ نہیں نکلے گا تو انہوں نے اس بہادر مجاہد کی گردن پر چھری چلا دی۔ اس طرح پیرانہ سالی میں بھی سیف الاسلام نے اپنے رب کی رضا اور کشمیر کی آزادی کے لیے جان قربان کر دی۔ان کی شہادت کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ 3 اپریل کو ان کا جسد خاکی تاچھلو شوپیاں پہنچایا گیا۔ 4 اپریل جمعہ کے دن تیس ہزار سے زائد کشمیری عوام نے ان کا آخری دیدار کیا۔ اشک بار آنکھوں سے انہیں مزار شہداء میں دفن کیا گیا۔ پوری ریاست میں ہڑتال رہی۔ جگہ جگہ جلسے اور جلوس نکالے گئے۔ آزادی کے نعرے گونجتے رہے۔ بیس کیمپ مظفر آباد میں بھی ہزاروں لوگوں نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ حزب المجاہدین کے امیر سید صلاح الدین، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر حافظ ادریس اور آزاد کشمیر جماعت اسلامی کے امیر اعجاز افضل سمیت دیگر رہنماؤں نے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
شہید سیف الاسلام کے بڑے بیٹے شاہد افتخار خان نے اپنے والد کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھے ایک شہید کا بیٹا بننے کا شرف ملا۔ شہید زندہ ہوتا ہے اور اللہ کے ہاں سے رزق پاتا ہے۔ انہوں نے تمام شہداء کو سلام کیا جو اللہ کی رضا اور وطن کی آزادی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔ خاص طور پر ان ماؤں، بہنوں اور بھائیوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے بھارتی مظالم سہتے ہوئے بھی شہداء کا مشن جاری رکھا۔ ان کے والد نے ہمیشہ تحریکی مفادات کو گھر کے مفادات پر مقدم رکھا۔ بچوں کی فکر کی بجائے ملت مظلومہ کشمیر کی فکر کی۔ اسی فکر نے انہیں دنیا سے بے نیاز کر دیا اور بڑھاپے میں بھی میدان جنگ میں قدم رکھنے پر مجبور کیا۔
حزب المجاہدین کے امیر سید صلاح الدین نے شہید سیف الاسلام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت سے تحریک ایک عظیم اور باصلاحیت کمانڈر سے محروم ہو گئی۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ انہوں نے ابتدائے تحریک سے ہزاروں نوجوانوں کو جہاد کے لیے منظم اور مسلح کیا۔ میدان جنگ میں انہوں نے مجاہدین کو ولولہ انگیز قیادت فراہم کی۔ شہادت کے باوجود جہاد کا کارواں جاری رہے گا۔ ان سے پہلے شہید جعفر نعمانی اور شہید ابراہیم نے بھی اپنا لہو نچھاور کیا۔ یہ سب شہداء سینکڑوں بھارتی فوجیوں کو جہنم رسید کر چکے ہیں۔ ان کی بہادری اور جذبہ جہاد نے دشمن کو لرزا دیا۔
سید صلاح الدین نے مزید کہا کہ شہید سیف الاسلام سمیت تمام شہداء کا لہو ہم پر قرض ہے۔ اس لہو کی لاج رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ جب تک کشمیر بھارتی قبضے سے آزاد نہیں ہوتا، جہاد کا قافلہ جاری رہے گا۔ اگر دلوں میں جذبہ جہاد، اللہ پر بھروسہ، صفوں میں اتحاد اور اللہ کی طرف رغبت ہو تو اللہ کی نصرت اور فرشتے شانہ بشانہ ہوں گے۔ شہید سیف الاسلام کا سفر اب کمانڈر غازی نصیر الدین کی قیادت میں جاری رہے گا۔ کشمیر کی سرزمین پر آزادی کا سورج طلوع ہو گا ان شاء اللہ۔ اللہ ہم سب کو شہداء کے مشن کو مکمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔سیف الاسلام شہید کی قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ جس مقصد کے لیے شہداء نے اپنا لہو بہایا، اس کی حفاظت کرنا ہمارا مقدس فریضہ ہے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ جہاد کی راہ پر آخری سانس تک ڈٹے رہیں گے۔ یا تو آزادی حاصل کریں گے یا شہادت پائیں گے۔ اے شہید سیف الاسلام! آپ کے ہمالیائی عزم، حوصلے اور صبر و ثبات کو سلام۔ اس مٹی کو سلام جس پر آپ کا لہو گرا۔ ان ہواؤں کو سلام جن میں آپ کی آخری سانسیں تحلیل ہوئیں۔ اس مزار کو سلام جس میں آپ کا جسد خاکی مدفون ہے۔ان کی شہادت کے بعد کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک نیا جوش پیدا ہوا۔ لوگوں نے ان کی قربانی کو یاد رکھا اور جہاد کو آگے بڑھایا۔ حزب المجاہدین نے ان کے مشن کو جاری رکھا۔ ان کی زندگی ایک سبق ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی راہ میں نکلتا ہے تو وہ دنیاوی مفادات سے بالاتر ہو جاتا ہے۔ عمر، بیماری اور خاندانی ذمہ داریاں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ سیف الاسلام نے ثابت کیا کہ سچا مجاہد وہ ہے جو اپنی جان اللہ اور وطن کے لیے وقف کر دے۔ان کی پیدائش سے لے کر شہادت تک کا سفر ہمیں بتاتا ہے کہ ایک عام انسان بھی جب اللہ کے حکم پر چلتا ہے تو وہ عظیم بن جاتا ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے شروعات کی، پھر جہاد میں شامل ہوئے اور آخری سانس تک دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کی گرفتاری اور تشدد کی کہانی ان کے غیر معمولی صبر کی گواہ ہے۔ دشمن نے انہیں توڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ان کا خون آج بھی کشمیر کی آزادی کی آواز بن کر گونج رہا ہے۔شہید سیف الاسلام کی یاد میں کشمیری عوام آج بھی انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی شہادت کی برسی پر جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ نوجوان ان کی کہانی سن کر متاثر ہوتے ہیں اور جہاد کی راہ پر چلنے کا عزم کرتے ہیں۔ ان کی بیٹیوں، بیٹوں اور اہل خانہ نے بھی بڑے صبر سے مظالم سہے۔ ان کا خاندان آج بھی ان کے مشن پر فخر کرتا ہے۔آخر میں یہ کہنا چاہیے کہ شہید سیف الاسلام جیسی شخصیات تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام دے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کشمیر کی آزادی کا خواب ایک دن ضرور پورا ہو گا۔ اس دن تک جہاد کا کارواں چلتا رہے گا۔ خون جگر کے بغیر نقش ناتمام رہتے ہیں اور نغمہ خام رہتا ہے۔ سیف الاسلام نے اپنے خون سے یہ نقش مکمل کیا۔