مفتی خالد عمران خالد
نماز سے قبل صفوں کی درستگی کے حوالے سے امام کا اعلان کرنا اقامت سے پہلے کہنا درست ہے یا اقامت کے بعد
سوال :نماز کےوقت اقامت سے پہلے یا اقامت کے بعد صفیں درست کروانے کےلیے عربی عبارت یااردومیں صفیں درست کروانا کا کہنا اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:اقامت شروع ہونے سے قبل اور اقامت کے بعد تکبیر تحریمہ سے قبل، دونوں طرح صفیں درست کرنے یا صفیں درست کروانے کے لیے عربی یامقامی زبان میں کچھ کلمات کہنا جائز ہے، البتہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ رسولِ کریم ﷺاور صحابہ کرام اقامت کے بعد تکبیر تحریمہ سےقبل صفوں کی درستگی کا حکم دیتے تھے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز قائم کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ انور ہماری طرف کرکے فرمایا: تم لوگ اپنی صفوں کو درست کر لو اور مل کر کھڑے ہو؛ اس لیے کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا
حضرت نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو درست فرمایا کرتے تھے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نکلے تو آپﷺنے ایک شخص کو دیکھا، اس کا سینہ صف سے آگے بڑھا ہوا تھا آپ ﷺنے فرمایا تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ پھوٹ ڈال دے گا تمہارے دلوں میں ۔صفوں کو سیدھا کرنا نماز کو پورا کرنے میں شامل ہے. سیدناعمر رضی اللہ عنہ سےرویت ہے کہ وہ ایک آدمی کو صفیں سیدھی کرنے کے لیے مقرر کرتے تھے اور اس وقت تک تکبیر نہ کہتے جب تک انہیں بتا نہ دیا جاتا کہ صفیں سیدھی ہوگئی ہیں۔ حضرت علی اور عثمان رضی اللہ عنہماسے رویت ہے کہ وہ دونوں بھی یہی کام کرتے اور فرمایا کرتے: برابر ہو جاؤ۔ اور حضرت علی فرمایا کرتے: اے فلاں آگے ہو جاؤ ! اے فلاں پیچھے ہو جاؤسیدنا عثمان ابن غفان رضیہ اللہ عنہ خطبہ جمعہ یا عیدین کے موقع پہ فرمایا کرتے تھے۔۔۔اے لوگو! جب امام کھڑا ہو خطبہ کے لیے تو سنو خطبہ کو اور چپ رہو کیوں کہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنادے۔ اور جب تکبیر ہو نماز کی تو برابر کرو صفوں کو اور برابر کرو مونڈھوں کوکیوں کہ صفیں برابر کرنا نماز کا تتمہ ہے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت تک تکبیرِ تحریمہ نہیں کہتے تھے جب تک کہ وہ لوگ صفیں درست ہونے کی خبر نہ دے دیتے جنہیں آپ رضی اللہ عنہ نے صفیں درست کروانے پر مقرر کیا ہوا تھا، چناں چہ جب وہ خبر دیتے اس وقت آپ تکبیر تحریمہ کہتے تھے ۔
مردوں کو ہلدی یا مہندی لگوانے کے حوالے سے کیا حکم ہے
سوال :مردوں کومہندی لگانا یاہلدی لگانا اور اس طرح کی رسومات کا انتظام کرنا اور مردوں کے ہاتھوں پر مہندی یا ہلدی لگانا کیسا ہے؟اور شادی کے مواقع پہ مہندی کا اہتمام کرنا؟
جواب:صورت مسئولہ میں مردوں کومہندی یا ہلدی لگانا جائز نہیں ہے،کیوں کہ اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے،اسی طرح لڑکی کومنہدی یا ہلدی لگانا تو بُرائی نہیں، لیکن اس کے لیے تقریبات منعقد کرنا اور لوگوں کو دعوتیں دینا، جوان لڑکوں اور لڑکیوں کا شوخ رنگ کے لباس پہن کر ایک دُوسرے کے سامنے جانا بے شرمی و بے حیائی ہے، ہلدی کی رسم جن لوازمات کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، یہ بھی جاہلیت کی رسم ہے، نیز ان رسموں میں کس قدر مال خرچ کیا جاتا ہے جب کہ قرآنِ کریم میں اسراف وتبذیر کی صراحۃً ممانعت وارد ہے ۔لہٰذا شادی کے موقع پر مردوں کومہندی لگانا جائز نہیں ہے،اور عورتوں کو شادی کے موقع پر مہندی لگانا ایک رسم بن چکی ہے،جسے اُبٹن کی رسم کہا جاتا ہے ،لہذٰا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور (لعنت فرمائی) ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
ارشادِ خداوندی ہے۔۔۔ اور ( اپنے مال کو فضول اور بے موقع ) مت اُڑاؤ ، یقیناً بے جا اُڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے ۔ (بیان القرآن)
شادی کے مواقع پہ دلہن کو اعتکاف بٹھانا
سوال :ہمارے علاقے سکھر میں شادی کے مواقع پہ دلہن کو ایک کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے جس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟
جواب:ہمارے معاشرے میں ایک رسم ہے جسے ’’مائیوں بٹھانا‘‘کہتے ہیں۔ اس میں دلہن کو الگ کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے اور رشتہ دار عورتیں جمع ہو کر مختلف رسمیں کرتی ہیں، جیسے دلہن کو ابٹن لگانا، مٹھائیاں بانٹنا وغیرہ۔یہ رسم اسلامی نہیں بلکہ ہندوانہ (غیر اسلامی) رسموں سے لی گئی ہے۔اس میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہوتی ہیں جو شریعت کے مطابق ضروری نہیں، لیکن لوگ ان کو لازمی سمجھتے ہیں، جو غلط ہے۔اسی طرح شادی سے پہلے مہندی اور دیگر رسومات بھی اسی طرح کی غیر ضروری پابندیوں اور رسموں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ان مواقع پر عورتوں کا بے جا اجتماع بھی ہوتا ہے، جس میں بعض اوقات بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ایسی رسمیں جن کی بنیاد شریعت میں نہ ہو اور جنہیں لازمی سمجھ لیا جائے، ان سے بچنا چاہیے۔ شادی سادہ اور اسلامی طریقے سے ہونی چاہیے، نہ کہ غیر ضروری رسموں کے ساتھ
سوال :شادی سے کچھ دن پہلے لڑکے کو مہندی لگاتے ہیں اور ابٹن لگاتے ہیں؟
جواب: یہ رسم خلاف شرع ہے ،اس کو بند کرنا لازم ہے۔
سوال :مہندی لگانا اور اس کی رسم کاشرعی حکم کیا ہے ۔مارے ہاں یہ قدیم دستور چلا آرہا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو پھول پہناتے ہیں اور اسے مہندی لگائی جاتی ہے،ساتھ دوسری لڑکیاں بھی مہندی لگاتی ہیں،کیا عورتوں کے لیے مہندی لگانا اور پھول پہننا سنت ہے؟
جواب:عورتوں کے لیے مہندی لگانا مستحب ہے، مگر آج کل جو مہندی کی رسم کا دستور ہےکہ دوسری عورتوں کا بھی بڑا مجمع لگ جاتا ہے ،یہ کئی مفاسد کا مجموعہ ہے،
سوال :کسی لڑکے نے سنجیدگی کے ساتھ اپنی کزن سے سے کہا تم میرے بیوی ہو اور آئندہ بھی ہو گی اور وہ بھی کہہ دے تو کیا نکاح ہو گیا ہے
جواب:نکاح کے صحیح ہونے کی بنیادی شرائط یہ ہیں کہ مرد و عورت خود یا ان کے وکیل نکاح کی مجلس میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب وقبول کرلیں، مثلاََعورت کہے کہ : ”میں نے اپنے آپ کو تمہارے نکاح میں دے دیا“ اور مرد کہے کہ : ”میں نے تمہیں اپنے نکاح میں قبول کرلیا“، اور مرد اور عورت یا ان کے وکیل کے اس ایجاب وقبول کو دو مسلمان عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اسی مجلس میں سن لیں۔حاصل یہ ہے کہ نکاح کی مجلس میں ایجاب قبول کا ہونا اور اس کو شرعی گواہوں کا اسی مجلس میں سننا نکاح کی بنیادی شرائط ہیں، نیز نکاح میں مہر کا ہونا بھی ضروری ہے، البتہ اگر مجلس نکاح میں مہر متعین نہ ہو ا ہو تب بھی نکاح ہوجائے گا اور مہر ذمے میں لازم ہوگا۔نیز یہ ملحوظ رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں گواہوں کی موجودگی میں اعلانیہ نکاح کرنے کا حکم ہے، اسی وجہ سےمسجد میں نکاح کرنا اور ایسے وقت نکاح کرنا پسندیدہ ہے کہ جب مجمع زیادہ ہو، مثلاً جمعہ کے دن پسندیدہ ہے اور چھپ چھپا کر نکاح کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے، اگرچہ نکاح کی شرائط اور دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔
کیازکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے سونے کے ساتھ نقدی پربھی سال مکمل ہونے شرط ہے؟
سوال:میرے پاس تقریباً 3 تولے سونا ہے اور کچھ نقدی بھی ہے۔ سونے پر تو سال گزر چکا ہے، لیکن نقدی ہر مہینے جمع ہوتی ہے، اس پر سال نہیں گزرا۔ زکوٰۃ کیسے دینی ہوگی؟
جواب:جس دن آپ کے پاس پہلی بار اتنی رقم آئی کہ آپ صاحبِ نصاب بن گئیں، اسی دن سے زکوٰۃ کا سال شروع ہو جاتا ہے۔اگر اس دن کے بعد ایک قمری سال (اسلامی سال) گزر چکا ہے، تو آپ پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر ابھی سال پورا نہیں ہوا، تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔زکوٰۃ دینے کا طریقہ:اپنے سونے کی موجودہ قیمت معلوم کریں۔اس میں اپنی ساری نقدی (چاہے وہ بعد میں جمع ہوئی ہو) شامل کر لیں۔پھر کل رقم کا 2.5 (ڈھائی فیصد) زکوٰۃ ادا کریں۔اہم بات:ہر مہینے جمع ہونے والی رقم پر الگ الگ سال گننے کی ضرورت نہیں ہے۔جب آپ پہلی بار صاحبِ نصاب بنیں، اسی تاریخ سے ہر سال زکوٰۃ کا حساب ہوگا، اور بعد میں آنے والی رقم بھی اسی میں شامل ہوگی۔ایک ہی تاریخ مقرر کریں (جب آپ صاحبِ نصاب بنیں)، اور ہر سال اسی دن اپنی کل رقم اور سونے پر 2.5% زکوٰۃ ادا کریں۔
سوال:فاسق اور فاجر میں کیا فرق ہے؟
جواب:’’فاسق‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہے، شریعت کے بعض یا تمام احکامات کو پس پشت ڈال کر عملی کوتاہی کرے، اور جو کبائر (بڑے گناہوں) کا مرتکب ہو یا صغائر پر اصرار کرتا ہو۔اور فاجر سے مراد یہ ہے کہ وہ خلافِ شرع کاموں میں مبتلا ہوکر توبہ کا ارادہ کرتے ہوئے بھی توبہ نہ کرے۔ انجام کے اعتبار سے فاسق وفاجر معنی میں قریب قریب ہیں۔
عاقل بالغ لڑکی کانکاح کاحکم
سوال :عاقل بالغ لڑکی کےنکاح والدین بغیرمنکوحہ کی اجازت کا شرعاحکم کیا ہے
جواب:جیسے بالغہ لڑکی کو معلوم ہوا نکاح کردیا ہے ناراض ہو جائے تو نکاح نہیں ہوگا ۔ عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر جائز نہیں اگر لڑکی کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر لڑکی کا نکاح لڑکی کا باپ کسی جگہ کردے تو وہ نکاح لڑکی کی اجازت اور رضا مندی پر موقوف رہتا ہے۔ اگر لڑکی اس نکاح پر رضا مند ہو جائے تو نکاح صحیح ہوجاتا ہے اور اگر لڑکی اس نکاح پر رضامند نہ ہو تو وہ نکاح باطل ہو جاتا ہے۔ لڑکی کی رضامندی کے بغیر کیا ہوا نکاح تب باطل ہوگا جب لڑکی نے ظاہری رضامندی کا بھی اظہار نہ کیا ہو بلکہ انکار کیا ہو اور اگر لڑکی نے ظاہری رضامندی کا اظہار کردیا ہو
سوال:بعض علاقہ میں لڑکیوں کو پتہ تک نہیں ہوتا اور والدین اُن کا نکاح کرا چکے ہوتے ہیں، کیا بالغ لڑکی کا نکاح اس کا باپ بغیر اس کی اجازت کے کر سکتا ہے ؟
جواب:شریعت اسلامیہ نے بالغہ لڑکی کو اپنے نفس کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے اس لیے اگر کسی نے اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرا دیا تو وہ نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہو گا اگر وہ اجازت دے اور رضامندی کا اظہار کرے تو درست ہے ورنہ نہیں







