بہت ہی عظیم شخص تھا

قمبر نقوی

وہ شخص جو خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا سب سے طاقتور انسان بن چکا تھا، اسے امریکہ اور اسرائیل نے اس کی بیٹی کے گھر میں گھس کر شہید کر دیا، اور دنیا نے آنکھیں بند کر لیں۔علی لاریجانی کوئی معمولی سیاست دان نہیں تھے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے ایران کے جوہری پروگرام کو مغربی طاقتوں کے سامنے بیٹھ کر ڈیفینڈ کیا، جس نے پارلیمنٹ کی سربراہی کرتے ہوئے ایران کی اندرونی طاقت کو منظم رکھا، اور جس نے دہائیوں تک سپریم لیڈر خامنہ ای کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ایران کی ریاستی سوچ کو شکل دی۔ جب 28 فروری 2026 کو خامنہ ای اس دنیا سے رخصت ہوئے تو پوری دنیا کی نظریں لاریجانی پر تھیں کیونکہ وہی وہ شخص تھا جو ایران کی باگ ڈور سنبھالنے کی سب سے زیادہ پوزیشن میں تھا۔ مغرب سمجھ گیا کہ اگر یہ شخص مکمل اقتدار سنبھال لے تو ایران نہ جھکے گا، نہ بکے گا، اور نہ ٹوٹے گا۔

لاریجانی کی زندگی کا سفر بھی کسی ناول سے کم نہیں تھا۔ نجف، عراق میں پیدا ہوئے، جہاں علم اور انقلاب کی ہوا ایک ساتھ چلتی تھی۔ انہوں نے ریاضی اور فلسفے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی سربراہی کی، سیکیورٹی کونسل میں بیٹھ کر ایران کے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، اور پھر پارلیمنٹ کے اسپیکر بنے۔ یہ ایک ایسا انسان تھا جو ہر محاذ پر لڑا اور ہر محاذ پر کھڑا رہا۔ مغرب نے انہیں کئی بار خریدنے کی کوشش کی، دھمکیاں بھی دیں، پابندیاں بھی لگائیں، لیکن لاریجانی نہ جھکے۔ اور جو جھکتا نہیں، مغرب اسے مٹا دیتا ہے۔
اور پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔ جب مغرب کو میز پر کوئی جواب نہیں ملتا تو وہ آسمان سے جواب دیتا ہے۔ 17 مارچ 2026 کو شہید علی لاریجانی تہران کے علاقے پردیس میں اپنی بیٹی کے گھر گئے ہوئے تھے، یہ کوئی فوجی اڈہ نہیں تھا، کوئی میزائل سائٹ نہیں تھی، یہ ایک باپ کا اپنی بیٹی کے گھر جانا تھا۔ لیکن امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ بم گرا دیا گیا۔ شہید علی لاریجانی کے ساتھ ان کے بیٹے مرتضیٰ کو بھی شہید کیا گیا، ان کے نائب کو بھی، اور وہ محافظ بھی جو انہیں بچانے کے لیے لپکے تھے وہ بھی اس حملے میں شہید ہو گئے۔ ایک ہی حملے میں پوری نسل کو مٹا دیا گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ یاد کریں جنرل قاسم سلیمانی کو، جنہیں بغداد ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں شہید کیا گیا۔ یاد کریں اسماعیل ہنیہ کو، جنہیں تہران میں مہمان بنا کر شہید کیا گیا۔ یاد کریں سید حسن نصراللہ کو، جنہیں ان کے گھر کے نیچے بم دفن کر کے شہید کیا گیا۔ ہر بار نشانہ وہی بنا جو مزاحمت کا نشان تھا، جو جھکنے سے انکاری تھا۔ یہ اتفاق نہیں ہے، یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد ہر اس قیادت کو ختم کرنا ہے جو اپنی شرائط پر جینے کی ہمت رکھتی ہو۔
اب ذرا ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں۔ یہ وہی مغرب ہے جو ہر تقریر میں ’’قانون کی بالادستی‘‘، ’’انسانی حقوق‘‘ اور’’سفارتی حل‘‘ کا درس دیتا ہے۔ یہ وہی مغرب ہے جس کا میڈیا فلسطین میں ہر بچے کی شہادت پر’’اسرائیل کا حق دفاع ‘‘کا راگ الاپتا ہے۔ لیکن آج جب ایک ملک کے عملی سربراہ کو اس کی بیٹی کے گھر میں جا کر شہید کیا گیا تو وہی میڈیا خاموش ہے کیونکہ شہید ہونے والے اس نظام کے دشمن تھے اور قاتل وہی تھے جن کا بل یہ میڈیا ادا کرتا ہے۔ یہ محض منافقت نہیں، یہ ایک سوچا سمجھا نظام ہے جو مخالف آوازوں کی موت کو خبر نہیں بننے دیتا۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس حملے کے بعد نہ اقوام متحدہ کا کوئی ہنگامی اجلاس بلایا گیا، نہ سلامتی کونسل میں کوئی قرارداد آئی، نہ یورپی ممالک نے سفیر طلب کیے، نہ کسی بڑے مغربی رہنما نے اسے قتل کہا۔ بس خاموشی، گہری اور مجرمانہ خاموشی۔ یہ وہی خاموشی ہے جو غزہ میں ہزاروں بچوں کی شہادت پر طاری رہی، یہ وہی خاموشی ہے جو افغانستان میں شادی کی تقریبوں پر بموں کے بعد چھائی رہی۔ جب طاقتور مارے تو دنیا سوئی رہتی ہے، یہی اس نظام کا اصل چہرہ ہے۔لیکن ایران نے خاموشی نہیں اختیار کی۔ شہادتوں کے باوجود تہران کی سڑکوں پر لاکھوں لوگ نکلے، نعرے لگے، اور ایک پیغام پوری دنیا کو دیا گیا کہ تم جتنے بھی شہید کرو، یہ قوم نہیں جھکے گی۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے مغرب کبھی نہیں سمجھ پایا اور نہ سمجھے گا کیونکہ جو قوم اپنے شہیدوں کو خوف کا نہیں، فخر کا باعث سمجھتی ہو، اسے بموں سے نہیں توڑا جا سکتا۔ شہید علی لاریجانی کا لہو ایران کی اگلی نسل کے لیے ایندھن بن گیا ہے، کمزوری نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ باقی دنیا کہاں ہے؟ ترکی، سعودی عرب، مصر، یہ سب ممالک جو اسلامی اتحاد کی باتیں کرتے ہیں، آج ان کی زبانیں کیوں بند ہیں؟ کیا انسانی خون صرف اس وقت قیمتی ہوتا ہے جب سیاسی فائدہ ہو؟ جب ایک ملک کے سربراہ کو اس کی بیٹی کے گھر میں شہید کیا جائے اور پوری دنیا چپ رہے تو پھر انسانی حقوق کی باتیں کھوکھلے نعروں سے زیادہ کچھ نہیں۔ شہید لاریجانی کا سوال صرف ایران سے نہیں، ہر اس انسان سے ہے جو آج انصاف کا دعویٰ کرتا ہے۔
تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے، وہ سب کچھ لکھتی ہے اور کچھ نہیں بھولتی۔ آنے والی نسلیں ضرور پوچھیں گی کہ جب ایک ملک کے سربراہ کو اس کی بیٹی کے گھر میں گھس کر شہید کیا جائے تو اسے جنگ کہتے ہیں یا دہشت گردی؟ اور اگر یہی کام کسی اور ملک نے کسی مغربی رہنما کے ساتھ کیا ہوتا تو کیا دنیا اتنی ہی خاموش رہتی؟ جواب سب جانتے ہیں۔ شہید علی لاریجانی اور شہید مرتضیٰ لاریجانی کا لہو آج اس دوہرے معیار کو بے نقاب کر رہا ہے جو دہائیوں سے قائم ہے، اور یہ لہو اس وقت تک پکارتا رہے گا جب تک دنیا اس سوال کا ایمانداری سے جواب نہیں دیتی۔چند ماہ قبل خزاں کی ایک دوپہر میں، میں ان کے گھر گیا اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوئی۔ ہمیں ان کی والدہ کے بارے میں بات کرنی تھی، مگر پوری گفتگو کے دوران ’’علی‘‘ ان کی زبان سے نہیں اترا۔وہ کہنے لگیں:’’جب علی گھر پر نہیں ہوتے تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے ہاتھ کٹ گئے ہوں! اور جب وہ گھر پر ہوتے ہیں تو گھر کے سارے کام خود کرتے ہیں۔ بغیر کہے ہی سودا سلف اٹھا لیتے ہیں، سبزیاں صاف کرتے ہیں، مرغی تیار کرتے ہیں اور برتن بھی دھوتے ہیں۔‘‘
یہ سن کر میں حیران رہ گیا کہ ایک ایسا شخص جو گھر سے باہر ایران کی قومی سلامتی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، وہ گھر میں یہ سب کام کیسے کر لیتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا۔۔۔علی چھ ماہ سے گھر نہیں آئے تھے۔ بارہ روزہ جنگ کے بعد تو انہیں عام زندگی گزارنے کی بھی اجازت نہیں رہی ایک ایسا شخص جس کے قتل پر عالمی طاقتوں نے انعام رکھ دیا ہو، درحقیقت ایک نہایت رومانوی مزاج رکھنے والا، نرم دل اور باوقار انسان تھا۔
ان کی اہلیہ فریدہ مطہرہ نے کہا۔۔۔علی نے کبھی پارلیمنٹ یا دیگر عہدوں سے تنخواہ نہیں لی۔ کئی سالوں سے ان کی آمدنی ایک یونیورسٹی پروفیسر جتنی ہی رہی، اور اس میں سے بھی وہ ہر ماہ کچھ حصہ سرکاری خزانے میں جمع کرا دیتے تھے تاکہ وہ خود کو مقروض محسوس نہ کریں۔انہوں نے بتایا۔۔۔جب ہم یہ گھر خرید رہے تھے تو ہمیں پیسوں کی ضرورت تھی۔ میری بیٹی نے کہا: ’ابو! آپ پارلیمنٹ کی بقایا تنخواہ کیوں نہیں لے لیتے؟‘ مگر علی نے انکار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ہم اس ملک کے بہت مقروض ہیں، مجھے کوئی حق نہیں بنتا۔
یہ باتیں ایک ایسے شخص کے بارے میں تھیں جس نے انقلاب کے آغاز سے ہی کبھی آرام نہیں کیا اور ہمیشہ ملک کے لیے محنت کرتا رہا۔انہوں نے مزید کہا۔۔۔علی کا خاندان ہمارے خاندان سے زیادہ خوشحال تھا، ان کے پاس شمال میں زمینیں اور مویشی تھے۔ مگر شادی کے بعد جو گھر ہمیں دیا گیا وہ اتنا چھوٹا تھا کہ میرے والدمرتضی مطہری کو دو صوفے اور دو قالین جہیز میں دینے پڑے تاکہ گھر بھرا ہوا لگے۔وہی صوفے اور قالین آج بھی ان کے گھر میں موجود ہیں، اور چالیس سال بعد بھی انہوں نے کوئی نیا فرنیچر نہیں لیا۔فریدہ کہتی ہیں۔۔۔۔ان چالیس سالوں میں، جب سے میرے والد شہید ہوئے، علی میرے لیے باپ بھی تھے، شوہر بھی، دوست بھی اور استاد بھی۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ ان کے سر کا ایک بال بھی کم ہو جائے۔
جب میں نے خبر پڑھی کہ علی لاریجانی شہید ہو گئے ، تو مجھے ان کے بارے میں یا انقلاب کے بارے میں فکر نہیں ہوئی، بلکہ میں فریدہ کے بارے میں سوچتا رہا اس عورت کے بارے میں جس کے والد ایک دن شہید ہوئے، اور کل اس کے شوہر، دوست اور استاد علی بھی شہید ہو گئے۔ اور اس کا بیٹا مرتضیٰ، جس کی آواز بہت خوبصورت تھی اور جو اذان بڑے پیار سے دیتا تھا۔مجھے یقین ہے کہ اس عورت کی ایک آہ بھی امریکہ اور اسرائیل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔