سیدآیت اللہ علی خامنہ ای

سیدآیت اللہ علی خامنہ ای: نرم دم گفتگو گرم دم جستجو

شہباز بڈگامی

مزاحمت ہی زندگی ہے اور جس نے اس راز کو پالیا ،وہ بامراد ہوگیا۔ بلاشبہ سید آیت اللہ علی خامنہ ای اس کے عملی مصداق ٹھہرے ،جو چھیاسی برس کی عمر میں اپنے پورے خانوادے سمیت جن میں معصوم بچے اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں ،قربان ہوگئے۔انہوں نے اس تفریق کو ہمیشہ کیلئے مٹادیا،کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کیساتھ نورا کشتی کرتا ہے۔ وہ مزید کتنے برس زندہ رہتے۔البتہ جس راستے کا انہوں نے انتخاب کیا،اس میں موت کے بعد ہی حقیقی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔وہ ایک بار نہیں بلکہ باربار شہادت کی دعا مانگتے تھے۔اللہ تعالی نے ان کی یہ دلی مراد پوری کی ہے ۔ان کی شہادت نے پوری مسلم امہ کو بلالحاظ مسلک رنجیدہ اور دل گیر کیا ہے اور ہر آنکھ نم ہوچکی ہے۔البتہ سید آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے وقت کے فرعون کو مکمل طور پر ننگا کیا ہے۔ان کی شہادت نے اب اگر مگر اور چونکہ چنانچہ سے علی الرغم یہ واضح لکیرکھینچی ہے کہ حق پرست معاشی اور دفاعی طور پر کمزور ہی سہی انہیں شہادت کے راستے پر چلنے سے نہ پہلے روکا جاسکا،نہ اب روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی تاصبح قیامت انہیں روکا جائے گا۔حق پرست قلیل سہی مگر باطل کی خدائی انہیں قبول اور تسلیم نہیں ہے۔میدان بدر سے لیکر وادی کربلا تک یہ درس رہتی دنیا تک موجود اور باقی ہے۔31جوالائی 2024کومقتل میں تنہا کھڑی حماس کے قائد جناب اسماعیل ہانیہ نے تہران میں اپنی شہادت سے چند گھنٹوں قبل سید آیت اللہ علی خامنہ ای کیساتھ ملاقات میں اس بات کا اظہار کیا کہ لوگ چلے جاتے ہیں،نئے لوگ ان کی جگہ پُر کرتے ہیں،اصل مقصد تحریک کا جاری اور زندہ رہنا ہے۔پھر اسی مقتل میں ایک اور قائد جنا ب یحییٰ سنوارنے شہادت کو ایسے گلے لگایا کہ اپنے تو اپنے پرائے بھی عش عش کر اٹھے۔اب سید آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سرخرو ٹھہرے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر تھے اور ان کا شمار نہ صرف ایران کی سیاست میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم اور طاقتور شخصیت کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ ان کی زندگی کا سفر نہ صرف ایرانی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے، بلکہ اس میں اسلامی انقلاب اور اس کے بعد کی سیاسی تبدیلیوں کے بھی گہرے اثرات مرتب ہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے مشہور شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ شروع سے مذہبی خاندان کا پس منظر رکھتا تھا اور ان کے والد جواد خامنہ ای ایک مذہبی رہنما تھے۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابتدائی تعلیم مشہد کے ہی ایک مدرسے میں حاصل کی، جہاں انہوں نے ابتدائی دینی علوم پڑھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ عراق کے شہر نجف گئے، انہوں نے شیعہ فقہ کی اعلی تعلیم حاصل کی۔ یہیں پے وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے شاگرد بنے اور انہیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کاموقع میسر آیا۔ نجف میں وہ اسلامی تعلیمات اور دین کی گہری معلومات میں مصروف عمل رہے۔
1960 اور 1970 کی دہائی میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی آمریت کے خلاف ایک تحریک عروج پرتھی۔ اس تحریک میں آیت اللہ خامنہ ای نے بھرپور حصہ لیا اور وہ جلاوطنی میں رہنے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے حامی اور وفادار بن گئے۔ آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی کوششیں جاری تھیں، اور خامنہ ای اس انقلاب کے بنیادی نظریات اور اہداف کے پرزور حامی تھے۔شاہ ایران کی خفیہ پولیس، SAVAK، نے آیت اللہ خامنہ ای کو متعدد بار گرفتار کیا۔ ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں جیل میں ڈال دیا گیا، لیکن ان کی سیاسی جدوجہد ماند نہ پڑسکی۔ خامنہ ای کو چھ مرتبہ گرفتار کیا گیا اور انہیں اذیتیں بھی دی گئیں، مگر ان کے عزم و حوصلے کبھی مضمحل نہیں ہوئے۔ ان کی جدوجہد اس بات کا غماز ہے کہ انہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کیلئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔
1979 میں ایران میں بھرپور عوامی تائید سے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد شاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ یہی انقلاب ایران میں اسلامی جمہوریہ کا باعث بن گیا، جس کا مقصد ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ انقلاب کی قیادت آیت اللہ خمینی نے کی تھی، اور اس کے نتیجے میں ایران میں ایک نیا سیاسی نظام رائج پایا۔آیت اللہ خامنہ ای کو انقلاب کی تحریک میں حصہ لینے کیلئے اسلامی انقلابی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔ اس کونسل کا مقصد انقلاب کے بعد انتظامات اور اصلاحات کا جائزہ لینا تھا۔ 1981 میں آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بطورصدر انتخابات میں حصہ لیا اور وہ95 فیصد ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔ تاہم ان کی صدارت کا آغاز ایک خونریز واقعے سے ہوا۔ ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں آیت اللہ خامنہ ای شدید زخمی ہوئے اور ان کا دایاں بازو تقریبا ناکارہ ہوچکا تھا۔ یہ واقعہ ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس نے ان کے عزم و ہمت کو مزید مستحکم کیا۔

سپریم لیڈر کی حیثیت اور رہبرآیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد، 1989 میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے سپریم لیڈر کے طور پر ایران کی قیادت سنبھالی۔ انہیں اسلامی علما کے 88 رکنی ادارے مجلس خبرگان نے نیا سپریم لیڈر منتخب کیا تھا۔ سپریم لیڈر کی حیثیت سے خامنہ ای نے ایران کی سیاسی، مذہبی اور عسکری دستوں کی قیادت سنبھالی۔جس کا فریضہ وہ شہادت اور خون کا آخری قطرہ بہانے تک انجام دیتے رہے۔سپریم لیڈر کے طور پر ان کے پاس ویٹو کی طاقت تھی اور وہ کسی بھی حکومتی معاملے میں حتمی فیصلہ کرنے کا آخری اختیار بھی رکھتے تھے۔آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران کی طاقت کا سرچشمہ عوام کی حمایت اور اسلامی اقدار میں ہے۔ ان کے اقتدار میں ایران نے اپنے داخلی امور میں بھرپو قوت اور فتوحات حاصل کیں، اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایک واضح موقف اختیار کیا۔ خامنہ ای نے اپنے دور اقتدار میں ایران کی حکومتی حکمت عملی اور عمل داری کو جدید طرز پر استوار کیا ۔ ان کے دور میں ایران نے اپنی دفاعی پوزیشن کو مستحکم کیا اور دنیا بھر میں اپنی فوجی طاقت کو بڑھایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایران کی معیشت کی ترقی کیلئے بھی کئی موثر اقدامات کیے، لیکن ان کے ناقدیں ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے ر ہے۔جبکہ رہی سہی کسرامریکی سامراج کی پابندیایوں نے پوری کیں۔انہی کی قیادت میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو بھی ترقی دی، جس کی وجہ سے عالمی استعمار امریکہ سید آیت اللہ علی خامنہ ای کی جان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ،یہاں تک کہ 28فروری کو ان کے کمپاونڈ پر ایک ٹن وزنی تیس بم ایک ساتھ گرائے گئے،جس میں وہ اور ایران کے دوسرے اعلیٰ حکومتی اور فوجی عہدیدار مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ ایران کی خارجہ پالیسی کو ’’مزاحمت کا جغرافیہ یا محور‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران کو عالمی سطح پر اپنے مفادات کی حفاظت کیلئے مزاحمت کرنی چاہیے۔ اس میں فلسطین، لبنان، عراق اور شام جیسے خطوں میں ایران کی سرگرم مزاحمت شامل تھی۔ایران کی ان پالیسیوں کو بعض عالمی طاقتوں نے تنقید کا نشانہ بھی بنایا، لیکن خامنہ ای نے ان پالیسیوں کو ایران کی خودمختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کیلئے ناگزیر قرار دیا۔وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے حق خودارادیت کے بھی بڑے حامی تھے۔ جس کا اظہار ان کی گفتگو پر مبنی ویڈیوز میں ان کی سیر حاصل گفتگو اور 05اگست2019میں مودی کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے خلاف ایرانی پارلیمنٹ میں متفقہ قرارداد کی منظوری ہے،جو اہل کشمیر کیساتھ ان کی بھرپور یکجہتی اور تحریک آزادی کی مکمل حمایت کا عکاس ہے۔1980 میں وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اہم دورے پر آئے تھے، اور پھر جامع مسجد سرینگر میں ایک تاریخی خطاب میں شیعہ سنی اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔جو ان کی بیرون ریاست مسلم امہ کیساتھ بہتر اور مثبت تعلقات کو ہم آہنگ اور مضبوط کرنے کا مظہر تھا۔ سید آیت اللہ علی خامنہ ای کے دورہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو مذہبی تاریخ میں ایک سنگ میل قراردیاجاتا ہے، جس سے مقبوضہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھرپور فروغ ملا۔
اگرچہ آیت اللہ خامنہ ای کی سیاسی حیثیت بہت طاقتور تھی، مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں سادگی کو پسند کرتے تھے۔ وہ اکثر مرکزی تہران میں واقع اپنے کمپاونڈ میں اپنی اہلیہ کیساتھ سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور ایران سے باہر کم ہی سفر کرتے تھے۔ ان کی سادگی اور عوام کیساتھ تعلقات نے انہیں ایک مقبول رہنما کے طور پر متعارف کرایا، حالانکہ ان کے سیاسی فیصلوں پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔لیکن وہ نرم مزاج اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔وہ شاعر مشرق،فلسفی اور مملکت خداداد کے خواب کو تعبیر میں بدلنے والے علامہ سر محمد اقبال کے بڑے پرستار اور دلداہ تھے۔وہ انہیں اقبال لاہوری کے نام سے پکارتے تھے۔فارسی زبان میں علامہ اقبال کی شاعری کوجو مقام اور اعزاز ایران میں حاصل ہے ،شاید ہی کہیں اور ہو۔

سیدآیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم عنصر ہے بلکہ اس میں کئی اہم ا سباق بھی پنہاں ہیں۔ ان کی جہد مسلسل، عزم و ہمت اور ایران کی ترقی کیلئے ان کی کائوشوں نے انہیں ایک عظیم رہنما کے طور پر دنیا کے سامنے متعارف کرایا ہے۔ ایران کی سیاست اور عالمی سطح پر ایران کے اثر و رسوخ میں ان کا کردار ہمیشہ ایک اہم موضوع رہے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت نے نہ صرف ایران کو ایک نئی سمت دی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم مقام دلوایا ۔جس کے کم لوگ مصداق ٹھہرتے ہیں۔یوں یہ بوڑھا شخص آخری بازی بھی اپنی مرضی کے عین مطابق جیت گئے۔ایسی نابغہ روز گار شخصیات صدیوں بعد جنم لیتی ہیں۔جس کی قومیں مقروض ہوتی ہیں،جس کا قرض چکانے میں صدیاں بیت جاتی ہیں،تب بھی سید آیت اللہ خامنہ ای جیسے مدبر،نظریہ ساز،زبان و ادب ،ثقافت ،معاشرت اورمذہبی اقدار کی حفاظت کی پیروی کرنے والے خال خال ہی
پیدا ہوتے ہیں۔ وہ جاتے جاتے بھی پوری قوم کو ایسے متحد کرگئے کہ جب یکم مارچ 2026 کو ان کی شہادت کی تصدیق کی گئی تو تہران کے گلی کوچے لوگوں سے اٹے پڑچکے تھے۔ایسے ہوتے ہیں قوم کے رہنما اور آغا۔جس نے یہ کہہ کر زیر زمین بنکر میں جانے سے انکار کیا کہ پہلے پوری قوم کیلئے زیر زمین بنکروں میں منتقل کا اہتمام کیا جائے تب ہی وہ زیر زمین بنکر میں منتقل ہوں گے۔
ان کی شہادت نے دنیا بھر میں یہود و ہنود کو تنہا کیا ہے کہ آج ٹرمپ دنیا کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے کبھی دھونس تو کبھی طعنوں کا سہارا لے رہا ہے مگر دنیا ٹرمپ کی دھمکیوں اور طعنوں سے بے پرواہ ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جارحیت سے خود کو الگ تھلگ کرچکی ہے۔مشرق وسطی میں امریکی اڈوں اور ان کی دوسری تنصیبات کی ایران نے اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ناقابل شکست سمجھے جانے والے صہیونی اسرائیل کا حشر نشر کیا گیا ہے اور پہلی بار دمونہ شہر میں قائم اسرائیلی نیوکلیئر سائٹ کو ایران نے میزائلوں سے براہ راست نشانہ بناکر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں اہل کشمیر نے ایران کی مدد کیلئے سونے، تانبے، نقد ، گاڑیوں،موٹر سائیکلوں اور جانوروں کے ڈھیر لگادئیے۔شعیہ سنی کی تفریق مٹ گئی ہے اور بھارت میں ایرانی سفارتخانے نے اہل کشمیر کے اس جذبہ ہمدردی کے پہلو کو سراہتے ہوئے ہدیہ تبریک پیش کیا اور کہا کہ اہل ایران اس غیر معمولی جذبے اور اسلامی اخوت کو کبھی نہیں بھولے گا۔یہ سہرا بھی سید آیت اللہ خامنہ ای کو جاتا ہے جس کی شہادت نے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں صہیونت کو لزرہ براندام کیا ہے۔اہل ایران اس غیر معمولی جذبے اور اسلامی اخوت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔