مجاہدین اور بھارتی فوج کےدرمیان خونی معرکے

مقبوضہ کشمیر کے علاقے کشتواڑ ،سندر بنی اورنوشہرہ میں مجاہدین اور بھارتی فوج کےدرمیان جھڑپیں
وادی کے مختلف علاقوں میںبھارتی فوج کےچھاپے۔۔۔ 800سے زائد کشمیری نوجوان گرفتار

کمانڈر سیف اللہ سمیت چار مجاہدین شہید،متعدداہلکارہلاک و زخمی

ہمایوں قیصر

18 فروری 2026۔۔بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع چتور گڑھ کی میواڑ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباءکو ہند و تواغنڈوںنے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں چار طلباءزخمی ہو گئے۔ ہندو توا غنڈوں کشمیری طالبات کو بھی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ طلباءکا کہنا تھا کہ انہوںنے اپنے تحفظات یونیورسٹی انتظامیہ تک پہنچانے کیلئے ایک پرامن احتجاج کیا جس دوران ریاست بہار کے طلباءکے ایک گروپ جسے ہند وتوا تنظیم بجرنگ دل کے غنڈوں کے حمایت حمایت حاصل تھی ، نے ان پر حملہ کیا اور چار کشمیری طلباءزخمی کر دیے ۔خطہ جموں کے علاقے آر ایس پورہ میں بچوں کی جیل سے تین قیدیوں کے جن میں مبینہ طورپردوپاکستانی شہری محمد ثناءاللہ اور احسن انورفرار ہوگئے۔ جیل سے فرار ہونےکے بعد ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا۔ گرمائی دارلحکومت سری نگر میں ایک سڑک حادثے میںبھارتی فوج کے9 اہلکار زخمی ہو گئے۔ حادثہ احمد نگر کے علاقے ڈگ پورہ روڈ پر پر اس وقت پیش آیا جب سی آر پی ایف بنکر گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگئی اور ایک نہر میں جاگری۔ جبکہ سری نگر ہی کے علاقے باغی مہتاب میں ایک سڑک حادثے میں کم از کم تین بھارتی پولیس کانسٹیبلوں سمیت متعدد اہلکار زخمی ہوگئے ،حادثہ اس وقت پیش آیا جب پولیس گاڑی ایک لوڈ کیریئر سے ٹکرا گئی۔
19 فروری 2026۔۔۔ضلع جموں کے علاقے نگروٹہ میں واقع فوجی کیمپ میں ایک 24 سالہ فوجی اہلکار نے اپنی سروس رائفل سے خودکشی کرلی۔
20 فروری 2026۔۔۔۔بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں مزید تیز کرنے کیلئے پورے مقبوضہ علاقے میں سی آر پی ایف کے 43عارضی آپریٹنگ اڈے قائم کیے ہیں۔ ہر ایک اڈے پر 16سے25اہلکار تعینات ہیں ۔ سی آر پی ایف کی یہ عارضی اڑے جن میں سے 26وادی کشمیر اور 17جموں خطے میں قائم کی گئی ہیں۔ سرحدی علاقے نتھوا ٹبہ، سندر بنی میں مجاہدین نے ایک کارروائی کے دوران بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چاربھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر متعدد اہلکار زخمی ہوگئے ۔
22 فروری 2026۔۔۔ جموں خطے کے ضلع کشتواڑ میںمجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ایک خونی معرکہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کمانڈر سیف اللہ سمیت تین مجاہدین نے بہادری سے لڑتے ہوئےجام شہادت نوش کیاہے اور بعد ازاں بھارتی فوج نے ظالمانہ کارروائی کرکےلاشوں کو کیمیانی مادے کے ذریعے جلا دیا جسکے نتیجے میں وہ ناقابل شناخت ہوگئیں۔یاد رہےکشمیری نوجوانوں کی لاشوں کو کیمیائی مود کے ذریعے مسخ کرنے کایہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے سب سے بڑے نام نہادجمہوری ملک کی نام نہاد پیشہ وارانہ فوج اب تک مقبوضہ علاقے میں اس طرح کی سینکڑوں کارروائیاں کر چکی ہے۔ جموں وکشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ کے ہندوارہ علاقہ میں میں بھارتی فوج کا ایک کیپٹن امان کمار سنگھ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا۔
24 فروری 2026۔۔۔ ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہاڑہ میں بھارتی فوج کے ایک اہلکار اجیت سنگھ نے اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلاکر خودکشی کرلی ۔
26 فروری 2026 ۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “(این آئی اے) نے دو کشمیری نوجوانوں ضمیر احمد اور طفیل احمد کو سری نگر اور گاندربل کے اضلاع سے گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کرلیاہے۔ ان کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر دہلی لال قلعہ دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیاہے۔تاہم نوجوانوں کے اہلخانہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بلا جواز طور پر گرفتار کیا گیا ۔
27 فروری 2026 ۔۔۔ مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے علاقے بٹہ پورہ میں قائم کیمپ میںکانسٹیبل منیش کمانے اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی مار کر خود کشی کرلی۔سرینگر میں قائم ایک خصوصی عدالت نے کالے قانون ”ٹاڈا “کے تحت سوپور کے رہائشی دو کشمیری حریت کارکنوں امتیاز احمد اور منظور احمد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ نئی دلی کے زیر کنٹرول سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی( ایس آئی اے) نے ان دونوں کے خلاف 3دسمبر 2022 کو عدالت میں فرد جرم دائر کی تھی۔
28 فروری 2026۔۔۔ این آئی اےکی خصوصی عدالت نےحزب المجاہدین کے چیف کمانڈر سید صلاح الدین احمد ،ڈپٹی سپریم کمانڈرغلام نبی خان عرف سیف اللہ خالد، شیر محمد عرف ریاض احمد اورناصر یوسف قادری کے خلاف وارنٹ جاری کردیے ہیں کے۔ عہدیداروں نے الزام لگایا کہ قادری کا تعلق حزب المجاہدین سے ہے اور وہ دہشت گردانہ پروپیگنڈہ اور بیانیہ پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں نظربند کردیا اورانہیں ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی برسی کے موقع پر خطبہ دینے سے روک دیاہے۔ یاد رہےیہ اجتماع روحانی نوعیت کا تھا اور اس کا مقصد اسلام کی ایک قابل احترام شخصیت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی اور میراث پر روشنی ڈالنا تھا۔
3 مارچ 2026۔۔۔ ضلع راجوری کے ٹنڈوال میں قائم سی آر پی ایف کیمپ میں بھارتی فوج کا ایک اہلکارپراسرارطور پرگولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔سرینگر کے علاقے راجباغ پولیس سٹیشن میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل محمدشفیع پراسرارطورپر بے ہوشی کی حالت میں دم توڑ گیا۔جبکہ ایک اور واقعہ میں ضلع راجوری کے علاقے ٹھنڈیکاسی میں حادثاتی طور پر آتشیں ہتھیار چلنے سے بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک اہلکار رام نواس زخمی ہو گیا۔
4 مارچ 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ایران پر امریکی ، اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی پاداش میں ضلع شوپیاں میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ ضلع کے علاقے سازن کیگام کے رہائشی جاوید احمد کھانڈے کے خلاف درج کیا گیا۔ جبکہ بھارتی پولیس نے ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز اپنے انسٹاگرام اکانٹ پر شیئر کرنے کی پاداش میں ضلع بڈگام کے علاقے چاڈورہ کھٹی پورہ میں بھی ایک شخص سہیل احمد بٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
7 مارچ 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پولیس نے ایران پر امریکی ، اسرائیلی جارحیت اور ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی پاداش میں سری نگر سے 800سے زائد نوجوانوں کوگرفتارکرلیا ہے۔ گرفتارکیے جانے والوں میں درجنوں خواتین بھی شامل ہیں۔ امریکی ، اسرائیلی جارحیت کے خلاف سرینگر کے زیڈی بل، لال چوک، شالہ ٹینک، نوگا، پارمپورہ، نگین، بمنہ ، پارمپورہ اور دیگر علاقوں میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
8 مارچ 2026 ۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں واقع ڈسٹرکٹ جیل ڈھنگری کے اندر بھارتی پولیس کی وحشیانہ کارروائی سے متعدد قیدی زخمی ہوگئے جس سے جیلوں میں نظربند کشمیریوں کو درپیش سنگین حالات کی عکاسی ہوتی ہے۔یادرہے اس طرح کے واقعات خاص طور پر کشمیری نظربندوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں جنہیں اکثرکالے قوانین کے تحت نظربند کیاجاتا ہے اور انہیں مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
9 مارچ 2026۔۔۔ضلع راجوری میں ایک اورحریت پسند کشمیری کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔ انتظامیہ نے ضلع کے علاقے منجکوٹ میں شفیق احمد کی سات مرلہ اراضی ضبط کرلی۔اگست 2019 میںدفعہ 370 اور 35A کی منسوخی اور مقبوضہ جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں ممتاز حریت رہنما اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے جنرل سیکرٹری مولانا عبداللہ طاری طویل علالت کے بعد اپنے آبائی علاقے شوپیاں میں انتقال کر گئے۔مرحوم کی نمازِ جنازہ میں سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کے علاوہ علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
10 مارچ 2026۔۔۔۔ ضلع راجوری کے نوشہرہ کے علاقے جھنگر میں کنٹرول لائن کے قریب مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک مجاہد نے جام شہادت نوش کرلیا ہے ۔ حکام نے محکمہ جل شکتی کے کارکنوں کو مبینہ طور پر “آزادی پسند “اور بھارت مخالف سرگرمیوں پر ملازمت سے برطرف کیاگیاہے ۔سرکاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ شوکت احمد زرگر، لیاقت علی بھگوان اور کوثر حسین بھگوان کو جنوبی کشمیر کے اسلام آباد اور کشتواڑ اضلاع سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت برطرف کر دیا گیا ہے۔
12 مارچ 2026۔۔۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ضلع پونچھ کے متعدد علاقوں میں چھاپے مارے ہیں ۔ این آئی اے کی ٹیموں نے ضلع کے محلہ کھورینار اور ہری سورنکوٹ کے علاقوں میں چھاپے مارے۔ یہ چھاپے عبدالعزیز اور منور حسین کے گھروں پر مارے گئے ۔ بھارتی ریاست راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباءکی نظربندی اور انہیں ہراساں کرنے کے خلاف سری نگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔طلباءکے اہل خانہ سمیت لوگوں نے بھارت میں کشمیری طلباءکو درپیش مشکلات اور امتیازی سلوک پر سخت احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ راجستھان میں بی ایس سی نرسنگ پروگرام میں داخلہ لینے والے مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباءکو اپنے نصاب کے حوالے سے سوالات اٹھانے پر عتاب کا نشانہ بنایا گیا اور دو دن تک حراست میں رکھا گیا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ ان پر شادی کے ایک تقریب کے دوران62سالہ کمل سنگھ جموال نے گولی چلادی۔ فاروق عبدللہ جموں کے علاقے گریٹر کیلاش میں شادی کی تقریب میں شریک تھے کہ پستول سے لیس کمل سنگھ ان کے قریب پہنچ کر گولی چلانے میں کامیاب ہو گیا تاہم گولی نشانے پر نہیں لگی ۔
13 مارچ 2026۔۔۔ضلع ڈوڈہ کے علاقے بھدرواہ میں بستی گاوں میں آلٹو کار بے قابو ہوکر دریا میں جاگری جسکے نتیجے میں اس میں سوار پولیس ہیڈ کانسٹیبل ذولفقار علی زخمی ہوگئے۔مقبوضہ کشمیر یوم القدس اور جمعتہ الوداع پر مختلف علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے بھارتی پابندیوں کو خاظر میں نہ لاتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کا شکار ایران کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرے کیے۔انتظامیہ نے مظاہروں کو ناکام بنانے کیلئے سخت پابندیا ںعائد کررکھی تھیں۔ تاہم لوگ پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر سری نگر، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل ، پلوامہ ، کرگل، لیہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں نماز جمعہ کے بعدسڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ایران پرجارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں نعرے لگائے۔انتظامیہ نے مسجد کی طرف جانے والے تمام راستے خار دار تاروں سے سیل کردیے اور اسکے دروازوں پر تالے لگا دیے۔انتظامیہ نے علاقے نوہٹہ میں واقع عظیم الشان مسجد کو جمعۃ الوداع کے موقع پر نماز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ضلع پونچھ کے علاقے میں ایک محاصرے کے دوران بھارتی فوج کا ایک آفیسر صوبیدار سندیپ کمار ڈھاکا ایک پہاڑی سے گر کر ہلاک ہوگیا۔