بھارتی متعصب عدالت کا ظالمانہ اقدام۔۔۔ آزادی پسندخاتون رہنما آسیہ اندرابی کو من گھڑت کیس میں عمر قید کی سزا سنادی
گاندربل علاقے میںبھارتی فوج کا جعلی مقابلہ۔۔ ۔۔۔ایک عام شہری ارشد احمد مغل شہید
مقبوضہ کشمیرمیںبھارتی فوج اوربدنام زمانہ ’’این آئی اے‘‘ کے مختلف علاقوں میں چھاپے ۔۔۔ درجنوں گرفتار،متعدد جائیدادیں ضبط
ہمایوں قیصر
16 مارچ 2026۔۔۔ ضلع سانبہ کے علاقے پنتھی میں قائم بھارتی فو ج کےکیمپ کے اندر ایک ہیڈ کانسٹیبل ہری بابو نے گلے میں رسی ڈال کر خود کوپھانسی لگا کر خودکشی کر لی ۔جبکہ ضلع پونچھ کے علاقے کرشنا گھاٹی میں بھارتی فوج کے اہلکارنائیک تلک سنگھ کو ڈیوٹی کے دوران اپنی پوسٹ میںپراسرار حالت میں مردہ پایاگیا ہے۔ جموں وکشمیر بھارتی قابض انتظامیہ نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میںشب قدر کے موقع پرکشمیری مسلمانوں کو عبادت سے روکنے کیلئے جامع مسجدکو مقفل کرکے عوام کو عبادت کرنے سے روک دیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ قابض حکام نے مسلسل ساتویں سال شبِ قدر کے موقع پر جامع مسجد کو بند کردیاہے جس کے باعث ہزاروں کشمیری مسلمان اس بابرکت شب میں عبادات کرنے سے محروم ہیں۔
17 مارچ 2026 ۔۔۔ کشمیری پنڈتوں کی تنظیم’’ پنن کشمیر‘‘ نے سیاسی مفادات کے لیے پنڈت برادری کا استحصال کرنے پر مودی حکومت کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنانے پر اپنے رہنما اجے چرنگو کو تنظیم سے نکال دیا ہے۔ چرنگو کوہندوتوا حکومت کی ایماءپرنکالاگیا ہے۔ انہوںنے ہندو ووٹوں کے لیے کشمیری پنڈتوں کا استحصال کرنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی حکومت کو سرعام تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
19 مارچ 2026 ۔۔۔ بھارتی پولیس نےضلع کٹھوعہ میں دو کشمیری نوجوانوںلیاقت علی اور مقبول احمد پر’’ جی پی ایس‘‘ ٹریکر نصب کرکےعدالتی ضمانت پر رہا کردیا۔ یادرہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی انتظامیہ نے جیل سے ضمانت پر رہا ہونے والے کسی کشمیری کیساتھ ٹریکر نصب کرنے کا حکم دیا بلکہ کئی نوجوانوں کیساتھ یہ ٹریکر لگائے جاچکے ہیں۔
21 مارچ 2026 ۔۔۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما میرواعظ عمر فاروق کوگذشتہ روز بھی نظر بند کر کے نماز جمعہ کیلئے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
22 مارچ 2026۔۔۔۔ بھارتی حکومت نے حال ہی میں جموں خطے میں کنٹرول لائن کے قریب پہاڑی علاقوں اور گھنے جنگلات میں اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) کے تقریباً 350 اہلکار اور بھارتی پیراملٹری بارڈر سیکورٹی فورسز (BSF) کی سات اضافی بٹالین تعینات کردی ہیں۔ ضلع سانبہ کے علاقے گوالاتالاب میں سابق سرپنچ جے رام شرما کے رہائشی مکان کے مین گیٹ کے قریب پراسرار دھماکہ ہوا۔دھماکے سے مین گیٹ اکھڑ گیا اوردیوار کے ایک حصے کو نقصان پہنچا، تاہم اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
23 مارچ 2026 ۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے انسانیت کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے جنگ سے متاثرہ ’’ایران ‘‘کے لوگوں کی امداد کے لیے سونا، نقدی اور قیمتی اشیاء عطیہ کردیں۔ مقبوضہ علاقے کے لوگوں نے قیمتی زیورات، گھریلو اشیاءیہاں تک کہ اپنے مویشی تک عطیہ کردئیے ہیں۔ ضلع بارہمولہ کے علاقے بوچھر اوڑی میں بھارتی فوج نے ایک مجاہد کو جھڑپ کے دوران شہید کرنے کا دعویٰ کیاہے۔
24 مارچ2026۔۔۔بھارتی عدالت نے سینئرخاتون حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو سیاسی بنیادوںپر قائم کیے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید جبکہ ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 14 جنوری کوغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کی دفعہ 20، 38 اور 39 کے ساتھ ساتھ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔یاد رہے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) نے آسیہ اندرابی پر نام نہاد نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام لگایا تھا۔ آسیہ اندرابی نے 1987 میں خواتین کی زیرقیادت آزادی پسند تنظیم دختران ملت کی بنیاد رکھی، وہ طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت سمیت کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔آسیہ اندرابی کواپریل 2018 میں این آئی اے نے گرفتارکیاتھاجبکہ ان کے شوہر عاشق حسین فکتو بھی گزشتہ تین دہائیوں سے جیل میں نظر بند ہیں۔ انہیں 2003 میں ایک من گھڑت قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔
26 مارچ 2026۔۔۔۔ کاونٹر انٹیلی جنس(CIK )کشمیر نے بھارتی فوج کے ساتھ مل کر سری نگر، شوپیاں اور گاندربل اضلاع کے مختلف علاقوں میں گھر گھر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران گھروں میں گھس کر مکینوںکو ہراساں کیااور قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کی۔بھارتی فوج نے ایک اور کارروائی کے دوران گاندربل کے علاقے کنگن میں شبیر احمد لون نامی شہری کے گھر پر چھاپہ مارا۔ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شبیر احمد کشمیر کی آزادی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
27 مارچ 2026۔۔۔۔بھارتی حکام نےمقبوضہ جموںو کشمیر سے تین درجن سے زائد کشمیری سیاسی قیدیوں کو مقبوضہ علاقے سے بھارت کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔ عالم دین اور سماجی کارکن محمود الحسن شاہ سمیت کم سے کم 46 سیاسی قیدیوں کو سرینگر سینٹرل جیل، کوٹ بھلوال جیل جموں منتقل کردیا گیا۔
ضلع بارہمولہ کے علاقے رفیع آباد میں بھارتی بدنام زمانہ ایجنسی این آئی اے نے کالے قانون کے تحت ایک کشمیری خورشید احمد کی 1کنال اور 12 مرلہ سے زائد اراضی ضبط کی ہے ۔بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ خورشید احمد آزادی پسند اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
28 مارچ2026۔۔۔ بھارتی فوج اور این آئی اے نے ایک چھاپے کے دوران ضلع بارہمولہ کے علاقے نادی ہل سوپور میں ریاض احمد لون ، اعجاز احمد لون اور مشتاق احمد شاہ کی اراضی ضبط کی ۔ ریاض احمد کی 2کنال 16مرلہ ، اعجاز احمد لون کی 10مرلہ جبکہ مشتاق احمد شاہ کی 2کنال اراضی کالے قانون ’’یو اے پی اے‘‘ کے تحت ضبط کی گئی۔ ضلع شوپیاں میں ہیڈکوارٹرپر تعینات ایک بھارتی فوجی اہلکارگیان چندڈیوٹی کے دوران پُراسرار طور پر ہلاک ہوگیا۔
29 مارچ 2026۔۔۔ ضلع بانڈی پورہ کے رہائشی نوجوانوں مدثر احمد خواجہ اور قیوم احمد جنہیں بھارتی پولیس نے2020 میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا،اس وقت ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں نظر بند ہیں،دونوں کو بانڈی پورہ کی عدالت نے چودہ 14سال کی سزا سنائی ہے۔گرفتار نوجوانوں کوآزاد ی کے حق میں سرگرمیوں کی پاداش میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ ضلع کپواڑہ میں ایک فوجی کیمپ کے اندرآپسی تصادم کے دوران فائرنگ سے تین بھارتی فوجی زخمی ہوگئے۔ فوجی کیمپ میں نائیک پون کمار نے اپنی سرکاری رائفل’’ INSAS ‘‘ سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین بھارتی فوجی نائیک پون کمار، نائیک ڈرائیور شکلا اے وی راٹھور دیال ،زخمی ہو گئےجبکہ سپاہی منیش کو بائیں کولہوں پر معمولی چوٹ آئی ہے۔ ضلع ریاسی کے مہور سب ڈویڑن میں محمد قاسم کی تین مرلہ اراضی ضبط کرلی۔بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ شخص آزادی پسند اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور جدوجہد آزادی کی حمایت کرتا ہے۔
30 مارچ 2026۔۔۔پولیس کے سپیشل سیل نے دارالحکومت نئی دہلی سے ایک کشمیری نوجوان کو گرفتار کر لیاہے۔ شبیر احمد لون نامی نوجوان کو بھارتی پولیس نے دارالحکومت کے علاقے غازی پور میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا۔دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ایڈیشنل سی پی پرمود کشواہ نے گرفتاری کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ گرفتار شخص گزشتہ سال نئی دہلی میںمیٹرو پوسٹر کیس میں ملوث ہے۔بھارتی پولیس کا دعویٰ ہے کہ شبیر سلیپر سیل کا رکن ہے اور اس نے متعدد مقامات پر بھارت مخالف پوسٹرز چسپاں کیے ہیں۔ضلع سانبہ کے علاقے سوپوال کیگجر بستی میں تلاشی کارروائی اور گھروں پر چھاپوں کے دوران مقامی لوگوں کے حملے میں بھارتی فوج کا ایک انسپکٹر اور ایک سب انسپکٹر زخمی ہو گئے۔
31 مارچ 2026۔۔۔۔ ضلع شوپیاں میں ایک بھارتی پولیس کانسٹیبل کو ساتھی اہلکار نے گولی مار کرقتل کردیاہے۔تفصیلات کےمطابق ضلع کے علاقے نورپورہ میں ایک پولیس کانسٹیبل نے ڈیوٹی کے دوران سرکاری بندوق سے ساتھی اہلکار کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا بعدمیں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
1 اپریل2026۔۔۔۔ گاندربل کے ارہامہ میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران بھارتی فوج نےجعلی مقابلے کا ڈرامہ رچاکر 29سالہ نوجوان راشد احمد مغل کو شہید کرلیاہے۔شہید کے اہل خانہ نےبھارتی دعوے کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ اس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ ایک بے گناہ شہری تھا۔اس واقعہ کے خلاف اہل علاقہ نے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ واقعہ میں شہید کا جسد خاکی لواحقین کو واپس کیاجائے اور واقعہ میں ملوث فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
2 اپریل 2026 ۔۔۔۔ بھارتی پولیس نے ایک ڈاکٹر اور انکی اہلیہ کے خلاف کالے قوانین کے تحت فرد جرم داخل کر دی ہے۔
’’کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر(سی آئی کے) ونگ نے ضلع کولگام کے علاقے بوگام کے رہائشی ڈاکٹر عمر فاروق اور انکی اہلیہ شہزادہ اختر کے خلاف فرد جرم کالے قوانین بھارتیہ نیائے(بی این ایس) اور یو اے پی اے‘‘ کی مختلف دفعات کے تحت بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی( این آئی اے) کی سرینگر میں قائم ایک خصوصی عدالت میں دائر کی ۔ڈاکٹر اور انکی بیوی پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور اس حوالے سے مواد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ شہزادہ اختر پر آزادی پسند تنظیم دختران ملت کے ساتھ وابستہ ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔یاد رہے ’’سی آئی کے‘‘ نے ڈاکٹر اور انکی اہلیہ کو گزشتہ برس نومبر میں گرفتار کیا تھا۔
6 اپریل 2026۔۔۔ضلع کپواڑہ کے لنگیٹ علاقے میں ایک بھارتی فوجی جے دیپ اپنی ہی سروس رائفل کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔
8 اپریل 2026۔۔۔قابض بھارتی حکام نے رام بن اور بانڈی پورہ اضلاع میں محکمہ تعلیم میں درجہ چہارم کے ملازم فرحت علی کھانڈے اور محکمہ دیہی ترقی کے ملازم محمد شفیع ڈار کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔حکام نے فرحت علی خان کو حزب لمجاہدین اور محمد شفیع کو لشکر کے ساتھ بطور سہولت کار کے کام کرنے کا الزام عائد کردیا ہے۔
9 اپریل 2026۔۔۔ ضلع گاندربل کے علاقے کنگن میں تھون کے مقام پر نہرسےایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد کرلی گئی ہے۔۔سری نگر کے علاقے پانتھا چوک میں ٹریفک پولیس کانسٹیبل پرویز احمد ڈیوٹی کے دوران ایک تویرا گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوگیا۔
12 اپریل 2026 ۔۔۔ضلع کولگام کے گائوں کہروات میں نامعلوم افراد نے پراسرار طورپررات کے وقت ایک محنت کش کاشتکار کےسیب کے400 درخت کاٹ دئیے جس سے مقامی کاشتکار وں میںغم و غصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے ۔ کاشتکاروں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ واقعہ میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے۔
11 اپریل 2026 ۔۔۔ضلع بڈگام کے علاقے شیخ پورہ سرسید آباد میں ایک شخص فیاض احمد بٹ کی لاش پُر اسرار حالت میں برآمد کرلی گئی۔
13 اپریل 2026۔۔۔ ضلع کٹھوعہ کے سرحدی علاقوں رام کوٹ ،پنج تیرتھی، بھینی نالہ، بروٹہ، اگلیدھر اور ملحقہ علاقوں میں تلاشی کی کارروائیوںکے دوران بھارتی فوج نے لوگوں کے گھروں میںگھس کر گھروالوں کو ہراساں کیا اور گھریلو اشیاء کی توڑ پھور کی۔
14 اپریل 2026 ۔۔۔ضلع رام بن میں ایک نوجوان کشمیری مسلمان کو بے رحمی سے قتل کر دیاگیاجس کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر احتجاج ی مظاہرے شروع ہوگئے اور مکمل ہڑتال کی گئی۔ 25سالہ تنویر احمد چوپان جموں سے اپنے آبائی گاؤں منڈکھل پوگل جا رہا تھا کہ کمرکوٹ کے علاقے میں بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے وابستہ ہندوتوا غنڈوں نے اسے روک کرتشدد کا نشانہ بنایا۔ نام نہاد گائو رکھشکوںنے نوجوان پر جان لیوا حملہ کیا اور اسے ایک نالے میں چھلانگ لگانے پر مجبورکیا۔ بعد ازاں اس کی لاش رامسو کے علاقے میں نالہ بشلری سے برآمد ہوئی۔ واقعے پرعلاقے کے لوگوں میں شدید غم وغصے کی لہر ڈور گئی اورلوگ احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئےاور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بھارتی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’این آئی اے‘ کی ایک خصوصی عدالت نے 2021 میں درج ایک جھوٹے کیس میں ایک کشمیری سمیت تین افراد کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سزا پانے والوں کی شناخت مقبوضہ جموں وکشمیر میںضلع بڈگام کے رہائشی توحید احمد شاہ اور لکھنو سے تعلق رکھنے والے مصیرالدین اور منہاج احمد کے طورپر ہوئی ہے۔ضلع پلوامہ کے علاقے لالہار میں غیر قانونی طورپر نظربند عبدالمجید بٹ کی 32لاکھ مالیت کے دو منزلہ مکان کو پولیس کے ہمراہ این آئی اے نے ایک چھاپے کے دوران ضبط کیا ہے ۔
15 اپریل 2026۔۔۔ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبے میں ایک سکول طالبہ کے ہراساں کرنے کے خلاف ایک مظاہرے کےدوران بھارتی پولیس نےچند طلبا سمیت16سے زائدکشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ نوجوانوں کو بھارتی فورسز نے قصبے میں رات بھرجاری رہنے والے گھر وںپر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا۔بھارتی پولیس نے احتجاج کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مظاہرے میں شامل طلبا کو شرپسند قرار دے کر کالے قانون کے تحت گرفتار کر لیا۔






