کے ایس کشمیری
محمد اشرف صحرائی کا شمار مقبوضہ کشمیر کے ان نظریاتی اور پختہ عزم رکھنے والے رہنماوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ساری زندگی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے وقف کر دی۔ صحرائی صاحب کی شخصیت ایک مضبوط،نظریاتی اور غیر متزلزل رہنما کی تھی۔ وہ پرامن اور اصولی مزاحمت کے حامی تھے۔ ان کے نزدیک مسئلہ کشمیر صرف زمینی تنازع نہیں بلکہ کشمیری قوم کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف کھل کر بات کی اور دباو کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ وہ سید علی گیلانی کے قریبی ساتھی اور تحریکِ حریت جموں و کشمیر کے امیر تھے۔ ان کا کردار، سیاسی سفر، اور استقامت کشمیری تحریکِ آزادی کا روشن باب ہے۔محمد اشرف صحرائی 1944میں کشمیر کے علاقے ٹکی پورہ، لولاب ضلع کپواڑہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد اشرف خان تھا، مگر صحرائی کے لقب سے معروف ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی مدارس سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

محمد اشرف صحرائی کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے ہوا۔ 1960کی دہائی میں ہی وہ جماعت سے منسلک ہو گئے۔ اُس وقت کے کشمیرکے آخری وزیر اعظم غلام محمد صادق کو کشمیری مزاحمتی حلقوں میں بھارت کے ایجنڈے کا نمائندہ سمجھا جاتاتھا۔ 13مارچ 1965میں غلام محمد صادق کی معاشی پالیسیوں کے خلاف تقریر کرنے پر گرفتارکیا گیا محمد اشرف صحرائی پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں عوامی جذبات کو غلام محمد صادق اور بھارت کے خلاف ابھارا ہے، تقریبا 20 ماہ تک سری نگر کے مرکزی جیل میں حراست میں رہنے کے بعد رہا ہوگئے ۔
محمد اشرف صحرائی جماعت کے ریاستی ناظمِ اعلی بھی رہے(State General Secretary) جو جماعت کا ایک مرکزی عہدہ ہے۔ اس حیثیت سے وہ تمام ریاستی تنظیمی امور کے نگران تھے۔ جماعت اسلامی میں بعض اوقات انہوں نے قائم مقام سربراہ کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں، خاص طور پر جب اصل امیر قید میں ہوتا یا بیرونِ ریاست ہوتا۔جماعت اسلامی جموں و کشمیر میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ جماعت کے اندر ایک فکری و تنظیمی شخصیت سمجھے جاتے تھے، اور ان کی پہچان ہمیشہ ایک نظریاتی اور باعمل فرد کے طور پر رہی۔ صحرائی صاحب نے جماعت کی مقامی سطح پر قیادت کی، خاص طور پر کپواڑہ میں تنظیمی سرگرمیوں کو منظم کیا۔


تحریکِ حریت جموں و کشمیر ایک سیاسی و دینی جماعت ہے جو 2004میں سید علی گیلانی کی قیادت میں قائم ہوئی تحریک حریت جموں و کشمیر میں صحرائی صاحب کو جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ ،صحرائی صاحب، سید علی گیلانی کے ہمراہ رہے، تحریک حریت کے بانیوں میں شامل رہے۔ صحرائی صاحب نے تحریک حریت کو ایک اسلامی اصولوں پر مبنی تحریک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ان کی تحریریں، تقاریر اور پالیسیوں نے تنظیم کی فکری سمت متعین کی 2004سے 2018تک تقریباََ 14 سال تک جنرل سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی قیادت میں تحریک حریت نے بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، خودارادیت، اور آزادی کے لیے آواز بلند کی۔ اس دوران وہ ریاست بھر میں تحریک کے دفاتر، تربیتی کیمپس اور پالیسی رابطوں کے اہم ذمہ دار بھی رہے۔ جب سید علی گیلانی نے بیماری کی وجہ سے قیادت سے علیحدگی اختیار کی تو 23مارچ 2018کو صحرائی صاحب کو امیر تحریک مقرر کیا گیا۔ انہوں نے ہر سطح پر بھارت کے ظلم و ستم کے خلاف بے خوف آواز اٹھائی۔ دورانِ قیادت انہیں بارہا نظر بند کیا گیا۔ان کا بیٹا، جنید صحرائی، جموں و کشمیر کی تحریک میں شامل عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہوئے اور 2020 میں ایک معرکہ میں شہید ہو گئے ۔ یہ قربانی ان کے خاندانی عزم اور اس جدوجہد سے غیر متزلزل وابستگی کی دلیل ہے۔ اُس وقت شوشل میڈیا پر وائرل ایک مختصر سے کلپ کو دنیا نے دیکھا جس میں محمد اشرف صحرائی بیٹے کی خبر موبائل فون پر سننے پر اللہ کا شکر بجا لاتے ہوئے فون پر مخاطب کو ایک نظم سناتےہیں جس کا ایک مصر یہ ہے ’’خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ بالخیرہونا تھا‘‘ اور یوں صحرائی صاحب نے اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اور زیادہ ہمت سے کام لیا۔
مختلف اوقات میں سیاسی سرگرمیوں، پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت مجموعی طور پر انہوں نے سیاست اور احتجاج کی وجہ سے تقریبا سولہ سال مختلف بھارتی جیلوں میں گزارے۔ آخری بار19جولائی 2020کوپبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت بھارتی حکومت نے گرفتار کیا، بھارتی حکومت نے انہیں کوٹ بلوال جیل جموں منتقل کیا،اورپھر چند ماہ کے بعد کوٹ بلوال سے اُدھمپور جیل منتقل کیا گیا۔ تقریبا 10 ماہ بھارتی اذیت خانے میں انتہائی تکلیف میں رہے۔ دورانِ حراست ان کی طبیعت بگڑ گئی، مگر مناسب علاج نہ دیا گیا۔ جب اُن کی حالت انتہائی خراب ہوئی تو آخری وقت 4 مئی کو اُنہیں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگے ہوئے بے ہوشی کی حالت میں جموں کے ایک ہسپتال لیا گیا، لیکن وقت پر طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے 5مئی2021 کی صبح وہ انتقال کر گئے۔اُس وقت اُن کی وفات پر کشمیر ی عوام میں کافی غصہ پایا گیا۔ ان کی وفات کوکشمیری عوام اور کئی انسانی حقوق کی تنظیموں و اہل خانہ نے حراست میں قتل قرار دیا۔محمد اشرف صحرائی ایک بہادر، سچے اور نظریاتی لیڈر تھے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حق اور سچ کے لیے قربانیاں دینا بڑی بات ہے، اور جو لوگ اصولوں پر ڈٹ جاتے ہیں، وہ کبھی مر کر بھی نہیں مرتے۔محمد اشرف صحرائی کی زندگی سادگی، استقامت، اور جدوجہد سے عبارت تھی۔وہ ایک بااصول، بے لوث اور نڈر رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی کشمیری عوام کے مستقبل کے لیے وقف کر دی۔ ان کی وفات کشمیری تحریک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، مگر ان کا نظریہ اور پیغام آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے۔محمد اشرف خان صحرائی کا ویژن تھا سیاسی غلامی کا خاتمہ، مکمل آزادی کا حصول،اسلامی اقدار پر مبنی خودمختار ریاستِ کشمیر،بھارتی قبضے کے خلاف پرامن، مگر غیر مصالحتی جدوجہد۔محمد اشرف صحرائی تحریکِ حریت کے وہ ستون تھے جنہوں نے نہ صرف گیلانی صاحب کے نظریے کو دوام بخشا بلکہ قربانی، استقلال اور عمل سے اسے زندہ رکھا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قیادت، کردار اور نظریہ کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔وہ سچ بولنے والے، خوف سے آزاد اور قربانی دینے والے انسان تھے۔بارہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن کبھی اپنے نظریے سے پیچھے نہ ہٹے۔اُن کی زندگی و شہادت کا یہی پیغام ہے حق کا علم تھاما ہے تو جب تک سانس باقی ہے، ظلم کے خلاف لڑتے رہیں ،ظلم کے آگے جھک جانا، مرنے سے بدتر ہے ۔

انہوں نے اپنی اولاد کی قربانی (جنید صحرائی کی شہادت کے باوجود بھی اپنے موقف میں نرمی نہیں آنے دی۔ نہ آنکھیں نم ہوئیں، نہ قدم لڑکھڑائے، بلکہ زبان سے صرف ایک ہی بات نکلی:”یہ قربانی منزل کے قریب ہونے کی علامت ہے۔وہ خاموش رہنما تھے، مگر ان کے الفاظ میں آتش تھی اور عمل میں اخلاص۔بھارتی جیل میں طبی سہولتوں سے محروم رہ کر شہید ہونا، ان کی بہادری ایک آخری دلیل بن گئی۔آخرکار، وہ جیل ہی میں اپنی جان دے گئے مگر سچ تو یہ ہے کہ وہ شہید ہو کر کشمیر کی آزادی کی داستان میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔






